چند دن قبل دار العلوم کراچی کا ایک فتوی سامنے آیا جس میں قرار دیا گیا تھا کہ کرپٹو کرنسی’مال‘ نہیں ہے۔ اس فتوی کی اہمیت یہ ہے کہ اسے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب جیسے جلیل القدر فقیہ کی تائید بھی حاصل ہے۔ اس فتوی کے بعد اس موضوع پر زور و شور سے بحث جاری ہے کہ کرپٹو کرنسی کو مال کیوں نہیں کہا جاسکتا؟
کئی لوگ کرنسی اور مال کے تعلق پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں اور بعض نے یہ رائے بھی بڑی شدّ و مدّ کے ساتھ ظاہر کی ہے کہ کسی چیز کو کرنسی یا مال قرار دینا ایک معاشی مسئلہ ہے، نہ کہ شرعی۔ یہ آخری رائے ظاہر کرنے والے لوگ چند بنیادی قانونی حقائق کو یکسر نظر انداز کررہے ہیں۔ مثلاً آج اگر سونا اور چاندی کے بطور ’کرنسی‘ استعمال کرنے رواج باقی نہیں رہا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ 1889ء میں انگریز سرکار نے ’دھاتی سکوں کے قانون‘ کے ذریعے تانبے، کانسی یا کسی بھی دھات کے سکے بطورِ’زر‘ جاری کرنے کا اختیار ’مرکزی حکومت‘ کے لیے محفوظ کردیا تھا۔ نیز اس سے قبل 1881ء میں انگریز سرکار نے ’قابلِ انتقال وثیقہ جات کا قانون‘ جاری کرکے’پرو نوٹ‘، ’تبادلے کے بل‘ اور ’بینکاروں کے چیک‘ کے ذریعے مالیت کے منتقل کرنے کے نئے طریقے رائج کرلیے تھے۔ یہ دونوں قوانین آج بھی پاکستان میں نافذ ہیں۔ ان کے ساتھ 1956ء کے ’بینک دولت پاکستان کے قانون‘ کی دفعہ 24 دیکھیے جس نے قرار دیا کہ جس ’وعدے کی دستاویز‘میں ’حاملِ ہذا کو مطالبے پر ادا کرنے‘ کا وعدہ کیا گیا ہو، اسے جاری کرنے کا اختیار صرف بینک دولت پاکستان کے پاس ہے۔
ان دو امور، یعنی دھاتی سکے بطور ’زر‘ جاری کرنے کا اختیار مرکزی حکومت کے لیے اور ’حاملِ ہذا کو مطالبے پر ادا کرنے کے وعدہ کی دستاویز‘ بینک دولت پاکستان کے لیے محفوظ کردینے، کے نتیجے میں ہی سونے چاندی کے سکوں کا رواج ختم ہوگیا ہے اور ’کرنسی نوٹ‘ کو ’زر‘ کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ اب کوئی فرد، ادارہ، حتی کہ صوبائی حکومت بھی سونے چاندی کو بطور ’زر‘ رائج نہیں کرسکتی، نہ ہی کسی فرد یا ادارے کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ بینک دولت پاکستان کے جاری کردہ کرنسی نوٹوں کو بطور ’زر‘ قبول کرنے سے انکار کرے۔ معاشیات کی نصابی کتب میں طلبہ کو بتایا جاتا ہے کہ دھاتی سکوں کے استعمال میں بہت سارے مسائل تھے جس کی بنا پر لوگوں میں ان رسیدوں کے استعمال کا رواج شروع ہوا جو سناروں نے ان کو سونا یا چاندی رکھوانے کے عوض دیے تھے اور بعد میں انہی رسیدوں کو بطورِ زر قبول کرنے کا رواج ہوا۔ یہ ادھوری سچائی ہے۔
پوری حقیقت یہ ہے کہ بینکاروں اور سناروں کی جاری کردو رسیدوں کو ریاستی جبر کے ذریعے لوگوں میں رائج کیا گیا اور لوگوں سے یہ اختیار چھین لیا گیا کہ ان رسیدوں کے بجائے اصل زر، یعنی سونا یا چاندی، ادا کرنے کا مطالبہ کریں۔ اس ضمن میں 1870ء کی دہائی میں امریکی سپریم کورٹ کے چند نظائر کی بڑی اہمیت ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے پہلے تو یہ قرار دیا تھا کہ اگر کسی شخص نے کسی دوسرے کو سونا دیا تھا اور بعد میں وہ شخص اسے سونے کی رسید لوٹا دے جو کسی بینکار نے جاری کی ہو، تو اس سے قرض ادا نہیں ہوگا جب تک سونا ہی ادا نہ کیا جائے۔ اس پر بینکاروں کی جانب سے شدید ردّ عمل سامنے آیا اور انھوں نے بھرپور لابنگ کرکے امریکی صدر کو اس پر مجبور کیا کہ وہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد تبدیل کردے۔ پھر ایک اور مقدمہ سپریم کورٹ میں لایا گیا جس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ بینکاروں کی رسید ادا کردینے سے ادائیگی کی آئینی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے۔
یہ نظائر امریکی آئینی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور آج بھی جامعات میں امریکی آئین کے نصاب کا حصہ ہیں۔ تاہم ہمارے ہاں کے بعض کج فہم اس فتوی کا مذاق اڑاتے ہیں جو پچھلی صدی میں بعض مفتیانِ کرام نے جاری کیا تھا کہ بینک نوٹ کے ذریعے زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ محض رسید ہیں، نہ کہ مال۔ درحقیقت مفتیانِ کرام اسلامی قانون کا اصول بتا رہے تھے کہ مال کی رسید کو مال نہیں کہا جاسکتا۔ بیسویں صدی کے نصفِ آخر میں پہلے تو ریاستوں نے کرنسی کو سونے سے علیحدہ کرکے ڈالر کے ساتھ منسلک کردیا اور پھر جب امریکا نے ڈالر کو بھی سونے سے علیحدہ کردیا، تو اس کے بعد کرنسی کی سونے کی رسید والی حیثیت بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد تو قانوناً یہ ’وعدوں کی ادائیگی کے وعدے‘ ہیں۔ مثلاً اگر آپ بینک دولت پاکستان کو سو روپے دے کر ’ادائیگی کا وعدہ‘ پورا کرنے کے لیے کہیں، تو وہ جواب میں آپ کو سو روپے کا ایک اور نوٹ، یا پچاس روپے کے دو نوٹ، یا دس روپے کے دس نوٹ دے گا، اور اس میں ہر نوٹ پر یہی وعدہ ہوگا کہ آپ کو اتنے روپے ادا کیے جائیں گے۔ یہ روپے، یا ڈالر یا کوئی بھی کرنسی، دراصل مزید ’وعدے ادا کرنے کے وعدے‘ ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان ’وعدے ادا کرنیکے وعدوں‘کو ’زر‘کی حیثیت سے قبول کرنے کا رواج کیسے ہوا؟
اس کے جواب میں ’ریاست کی ضمانت‘ کی بات کی جاتی ہے۔ کسی زمانے میں یہ جواب جزوی طور پر درست تھا، لیکن اب یہ مکمل طور پر غلط ہے۔ جب تک ان نوٹوں کو سونے کی رسید کی حیثیت حاصل تھی، تب تک واقعی ریاست نے ان نوٹوں پر سونا ادا کرنے کی ضمانت دی تھی، لیکن اس وقت بھی پوری حقیقت یہ تھی کہ ریاست نے ان نوٹوں کو بطورِ’زر‘ قبول کرنا لازم کیا ہوا تھا اور امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ ان نوٹوں کے ذریعے ادائیگی قبول کرنے سے انکار کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔ تاہم اب جبکہ سونے کی رسید والی حیثیت بھی ختم ہوگئی ہے، تو ان نوٹوں کی بطورِ’زر‘ حیثیت صرف ریاستی جبر کے ذریعے قائم ہے۔ چنانچہ جب مثال کے طور پر ریاست نے پانچ روپے کے نوٹ ختم کردیے، تو اب کسی بھی شخص کو پانچ روپے کے نوٹ کے ذریعے ادائیگی قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور اس نوٹ کی حیثیت محض کاغذ کے ایک ایسے پرزے کی رہ گئی ہے جس پر چند الفاظ اور اعداد لکھے گئے ہیں۔
البتہ ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ ذاتی شوق کی وجہ سے یا تاریخی ریکارڈ رکھنے کی غرض سے اسے خریدنا چاہیں۔ اس بحث کی روشنی میں ’کرپٹو کرنسی‘کو’مال‘ نہ ماننے اور اس کے ذریعے ادائیگی کو غلط قرار دینے کے فتوی کا فہم آسان ہوجاتا ہے کیونکہ فی الحال’کرپٹو کرنسی‘ کے پیچھے ریاستی جبر تو کیا، ریاستی ضمانت بھی نہیں ہے۔ مارچ 2026ء میں پارلیمان نے ’ورچول اثاثوں کا قانون‘ منظور کرکے اس راہ پر پہلا اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ اس قانون کا تجزیہ کریں گے، لیکن اس سے پہلے اس بنیادی اہمیت کے حامل سوال پر غور ضروری ہے، جو پتہ نہیں کیوں موجودہ بحث میں نظر انداز کردیا گیا ہے، کہ’مال‘ یا کوئی بھی قانونی تصور وجود میں کیسے آتا ہے؟



تبصرہ لکھیے