ہوم << شہادت عثمان غنی ، اسباب و وجوہات جامع اور مدلل و مستند احادیث کی روشنی میں – عرفان علی عزیز
600x314

شہادت عثمان غنی ، اسباب و وجوہات جامع اور مدلل و مستند احادیث کی روشنی میں – عرفان علی عزیز

1. شخصیت و تعارف عثمان غنی رضی اللہ عنہ
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تاریخ انسانی کے وہ خوش نصیب فرد ہیں جنہیں یکے بعد دیگرے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کی سعادت حاصل ہوئی ۔ اور آپ ذی النورین کے مبارک لقب سے مشہور ہوئے۔علماء محققین کے نزدیک دنیائے انسانیت میں سوائے آپ کی ذات کے کسی شخص کو کسی پیغمبر کی دو صاحبزادیوں سے تزویج کا شرف حاصل نہیں ہوا۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضور سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ام الحکیم البیضاء انکی نامی تھیں۔ ان بچپن کے حالات پردہ اخفاء میں مستور ہیں۔ آپ ہی وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے اپنی بے پناہ دولت اسلام کی ترویج و اشاعت اور جہادی خدمات کے لئے وقف فرمائی ۔ آپ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت شرم وحیا کی وہ بے پناہ دولت ہے جس کا اقرار خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے فرمایا۔ اور ”اصد قہم حیاء “عثمان کے گراں قدر جملے سے آپ کی عزت و عظمت کو چار چاند لگا دیئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں اسلام کے لئے عظیم الشان خدمات سرانجام دیں اور متعدد مواقع پر حضرت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ساختہ دعائیں حاصل کیں۔جن جنت کی بشارت بھی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد حضرات شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے دور خلافت میں آپ اُن کے مشیر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ تا آنکہ 24ھ میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہم کی شہادت کے بعد منصب خلافت پر فائز ہو کر آپ نے اسلام اور مسلمانوں کی عظیم خدمات سر انجام دیں۔ آپ کے دور خلافت کا نصف آخر دشمنانِ اسلام یہودیوں اور مجوسیوں کی سازشوں کی زد میں رہا اور بالآخر انہی سازشوں کے نتیجے میں آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں (18 ذی الحجہ 35 ہجری) شہید کردیا گیا۔ جس وقت شہادت کا جام پی رہے تھے آپ تلاوت قرآن میں مشغول تھے ۔ آپ چاہتے تو شورش برپا کرنے والوں کو مدینہ میں قتل کردیا جاتا۔مگر آپ مدینہ میں خون ریزی پسند نہیں فرماتے تھے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بنو امیہ کے خاندان سے تھے۔ ان کے والد عفان بن ابی العاص بن امیہ تھے۔اگرچہ آپ بنو امیہ میں سے ہیں ۔ بہترین بنی امیہ سے ، ان بنی امیہ سے نہیں جن کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ عناد رہا¹۔اخر تک مخالفت کرتے رہے۔بنی امیہ سے ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں آپ کا مرتبہ ایک اہمیت کا حامل رہا۔ قبول اسلام پر حضرت عثمان غنی کو چچا حکم ابن ابی العاص نے رسی سے باندھ کر زدوکوب کیا ۔لیکن آپ ثابت قدم رہے

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھے نمبر پر ہیں۔² سید نا عثمان غنی واقعہ فیل کے چھٹے سال یعنی ہجرت نبوی سے سینتالیس برس قبل پیدا ہوئے۔اس امت میں جب فتنے اٹھیں۔ اور مسلمان اپنی خلفشار میں کھو جائیں تو اس وقت حق ادھر ہوگا جدھر عثمان ہوں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فتنوں کا ذکر کیا۔تو سامنے عثمان گزرے فرمایا عثمان جدھر ہوگا حق ادھر ہوگا۔³ کعب بن عجرہ کہتے ہیں میں نے عثمان کا بازو پکڑا اور حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حق ہے۔ آپ سے پہلے مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ آپ کے دور خلافت میں جو تقریباً بارہ سال تک رہا سب مسلمان اتفاق و اتحاد سے رہے ۔ نہ کوئی مذہبی گروہ تھا نہ سیاسی گروہ۔ آپ کی خلافت کے آخر میں یہودیوں کی سازشوں سے سبائی پراپیگنڈہ نے زور پکڑا۔ آپ کے عمال حکومت پر طرح طرح کے الزامات لگائے۔ مسلمانوں میں اختلاف کا آغاز کردیا گیا۔ ہم مذکورہ بالا میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے اسباب و عوامل پر سیر حاصل گفتگو کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ

2.فتنوں کا آغاز کیسے ہوا؟
خلیفہ سوم، امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت تاریخ اسلام کا ایک انتہائی المناک اور اہم واقعہ ہے۔ اس سانحے کے اسباب پیچیدہ تھے، جن میں سیاسی، سماجی اور انتظامی عوامل شامل تھے۔ شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ برسوں سے پنپنے والی ان سازشوں کا نتیجہ تھی جو اسلام دشمن عناصر اور چند نافرمان گروہوں نے ایک منظم منصوبے کے تحت کی تھیں۔ انہوں نے خلیفہ کے عدل، نرمی اور اصلاحات کو عوام کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جس کا اختتام 35 ہجری میں آپ کی مظلومانہ شہادت پر ہوا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری حصے میں کچھ ایسے عناصر سرگرم ہو گئے تھے جن کا مقصد اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کرنا تھا۔

ان میں عبداللہ بن سبا نامی ایک شخص کا کردار بہت نمایاں سمجھا جاتا ہے، جس نے بظاہر اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ کیا، لیکن درپردہ مسلمانوں میں تفرقہ پھیلانے، حضرت عثمان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور لوگوں کو بغاوت پر اکسانے کا کام کیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر مختلف اوقات میں الزامات کا جائزہ ،شہادت عثمان کے اہم واقعات میں مروان بن حکم بن العاص اور عبداللہ بن ابی سرح کا کردار کتنا اہم ہے۔ عمار ابن یاسر ، طلحہ بن عبید اللہ اور زبیر بن العوام کی شخصیات کے بارے میں کیا کیا مشہور ہے۔ ہم اگلے باب میں تفصیلی جائزہ لیں گے۔

ان شاءاللہ تعالیٰ اسی پلیٹ فارم پر شہادت عثمان کے اصلی اسباب و وجوہات پر جامع اور مکمل تفصیلی جائزہ لیں گے ۔ یہ صحیح ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات پر اکابر اُمت کا ایک طبقہ حضرت علی کرم اللہ وجہه الکریم کو مسند خلافت پر متمکن کرانے کا آرزو مند تھا لیکن جب عبد الرحمن بن عوف نے حَکم ہونے کی حیثیت سے حضرت عثمان کو امیر المومنین بنانے کا فیصلہ صادر کر دیا۔ تو سب لوگوں نے صدق دل سے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور ان کی اطاعت و امداد کرنا اپنا دینی ملی فریضہ سمجھنے لگے۔ لیکن حضرت عثمان کے عہد خلافت میں حالات و کوائف نے کچھ ایسی رنگت اختیار کرلی کہ عامتہ المسلمین میں ذہنی خلفشار پیدا ہونے لگا۔ جو ترقی کرتے کرتے خلیفہ ثالث کے انداز حکمرانی سے بیزاری پیدا کرنے کی کیفیت پیدا کرنے پر منتج ہوا اور یہ بیزاری بالآخر مظاہروں، شورشوں، بغاوتوں اور فسادوں کی صورت اختیار کر کے نہایت ہی مکروہ حالات میں حضرت عثمان صلی اللہ کی شہادت پر منتج ہوئی۔

جن فتنوں کشمکشوں اور اختلافوں کی بنیادیں اس عہد میں رکھی گئیں۔ وہ مسلمانوں کی تاریخ کے بہت سے اوراق کو مسلمانوں ہی کے خون کی سرخیوں سے رنگین بناتی چلی گئیں۔ اس عہد کی گود میں پرورش پانیوالے فتنوں نے اسلام کی تاریخ کا دہارا ہی بدل دیا اور نہایت قلیل عرصے کی کشمکش کے بعد مسلمانوں کی قوم بھی جو نوع انسانی کو شرف انسانیت کی خلعت پہنانے کا بہت بڑا مشن لے کر اٹھی تھی اسی گردش ایام کی اسیر بن کر رہ گئی۔ جس میں دنیا کی دوسری قو میں نوع انسانی کے آغاز کے وقت سے لے کر آج تک مبتلا ہوتی چلی آئی ہیں۔ ان فتنوں اور فسادوں کے اسباب و علل کو پرکھنے کے لیے جو بعد میں پے در پے ظہور پذیر ہوئے ۔ ضروری ہے کہ عہد عثمان دی اللہ کے حالات و کوائف اور اس دور کے مسلمانوں کے رجحانات و خیالات کا جائزہ نظر غائر سے لیا جائے ۔ اس لیے ہم کسی قدر تفصیل کے ساتھ ان حالات کو بیان کریں گے۔ جو اسلام کی تاریخ میں فتن کا باب کھولنے کا موجب ہے۔

3. عثمان غنی کے رشتے دار کہاں تک مخلص تھے؟
سیدنا عثمان غنی نے مروان بن الحکم بن العاص کو اپنا کاتب اور منشی کاتب سیکرٹری مقرر فرمایا۔ ان حضرات میں سے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ، ولید بن عقبہ ، سعید بن العاص ، مروان بن الحکم³ آپ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ لہذا قدیم اور جدید سبائیوں نے انہیں اپنے اعتراضات کا ہدف بنایا اور ساتھ ہی سیدنا عثمان ﷺ کی شخصیت کو بھی مجروح کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ان لوگوں کو صرف اپنا قریبی رشتہ دار سمجھتے ہوئے گورنر بنایا گیا بذات خود ان حضرات میں کوئی خوبی نہیں تھی۔

لیکن تاریخ کے اوراق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ امیر المومنین سیدنا عثمان ﷺ نے ان حضرات کو ان کی قابلیت کی وجہ سے مختلف عہدوں پر فرمایا تھا نہ کہ قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے اور ان حضرات کی کار کردگی اور خدمات نے بھی یہ ثابت کر دیا کہ یہ واقعہ ان عہدوں کے مستحق اور سزاوار تھے اور انہوں نے اسلام اور اہل اسلام کے لیے وہ خدمات جلیہ سرانجام دیں جن کے لیے تاریخ کے صفحات تا قیامت ان کی خدمات کو سراہتے رہیں گے ان حضرات کی قابلیت کی وجہ ہی سے صحابہ کرام ﷺ نے جن کی موجودگی مین امیر المومنین ﷺ نے ان کو مختلف خدمات پر مامور فرمایا تھا، کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ مواقع پر ان حضرات کی قیادت و سیادت میں مختلف صحابہ نے نہایت خوش دلی کے ساتھ جہادی خدمات سر انجام دیں۔

چونکہ ان حضرات کے معترضین اپنی تنقید کا ہدف اور ان کی وجہ سے امیر المومنین سید نا عثمان ﷺ کو بھی مطعون کرتے ہیں لہذا ہم آئندہ صفحات میں ان حضرات کی خدمات اور چند فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں تا کہ معترضین اور عام لوگوں کو اس بات کا علم ہو جائے کہ یہ حضرات کوئی معمولی انسان نہیں تھے بلکہ نہایت اعلیٰ کردار کے مالک اور تارین میں اعلیٰ اور بلند مقام کے حامل تھے۔
(جاری ہے)

حوالہ جات :
1۔ مولوی عبد الحلیم شرر
2۔ تاریخ الخلفاء
3۔ ان اصحاب کا مکمل تفصیلی تعارف اگلے حصوں میں آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment