درس حدیث
مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
مقام: فیصل مسجد اسلام آباد
وقت: بعد از نمازِ ظہر
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، نبینا محمدٍ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
حدیثِ مبارکہ
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللّٰهِ الْأَمَانِيَّ
ترجمہ:عقلمند اور دانا شخص وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے۔ جبکہ عاجز اور نادان وہ ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا رہے اور اللہ تعالیٰ سے محض امیدیں وابستہ کیے رکھے۔(سنن الترمذی)
گزرنے والا سال اور محاسبۂ نفس
معزز سامعینِ کرام!
آج 1447 ہجری کا آخری دن ہے۔ گویا رسول اللہ ﷺ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی ہجرت کو ایک ہزار چار سو سینتالیس سال مکمل ہو چکے ہیں اور کل سے 1448 ہجری کا آغاز ہو جائے گا۔ وقت کی رفتار ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے۔ سال گزرتے جاتے ہیں مہینے اور دن بیتتے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری زندگیاں کس سمت میں جا رہی ہیں؟
کیا ہم نے کبھی رک کر اپنے اعمال، اپنے کردار، اپنی عبادات اور اپنے معاملات کا جائزہ لیا؟
نبی کریم ﷺ نے اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ اپنے عیوب پہچانے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے اور آخرت کی تیاری میں لگا رہے۔
نبی کریم ﷺ کا بے مثال کردار
رسول اللہ ﷺ کو نبوت ملنے سے پہلے ہی پورا معاشرہ “الصادق” اور “الامین” کے لقب سے جانتا تھا۔ لوگ اپنے قیمتی اموال اور امانتیں آپ ﷺ کے سپرد کرتے اور آپ کی دیانت داری پر کامل اعتماد کرتے تھے۔ لیکن جب آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور نبوت کا اعلان فرمایا تو بہت سے سردار اور بااثر لوگ مخالفت پر اتر آئے۔ اس کٹھن وقت میں چند مخلص اور وفادار ہستیاں آپ ﷺ کے ساتھ کھڑی رہیں۔ ان میں سب سے پہلے آپ ﷺ کی عظیم زوجہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا تھیں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں آپ ﷺ کا ساتھ دیا۔
اسی طرح کم عمری میں اسلام قبول کرنے والے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور آپ ﷺ کے سب سے قریبی رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے ہر مرحلے میں آپ ﷺ کی نصرت اور حمایت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ
مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے پہنچایا۔
یہی وہ نفوسِ قدسیہ تھے جنہوں نے دین کی خاطر قربانیاں دیں اور یہی سلسلہ نسل در نسل چلتے ہوئے آج ہم تک پہنچا کہ ہم اللہ کے رسول ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھتے ہیں اور آپ ﷺنے اپنی محبت اور وفاداری کا اعلان کرتے ہیں۔
مکہ کی آزمائشیں اور مدینہ کی کامیابیاں
رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں نبوت کے اعلان کے بعد تیرہ سال انتہائی سخت آزمائشوں، تکالیف اور مخالفتوں کے درمیان گزارے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مدینہ میں بھی مختلف مشکلات پیش آئیں، جنگیں ہوئیں، سازشیں ہوئیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غلبہ عطا فرمایا اور اسلام پوری قوت کے ساتھ پھیل گیا۔
حجۃ الوداع کا تاریخی منظر
دسویں ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار (1,24,000) صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عظیم اجتماع میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟
کیا میں نے اللہ کا دین تم تک پہنچا دیا؟
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیک زبان عرض کیا۔
نَعَمْ، قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ
جی ہاں! آپ نے پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کر دی اور خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔
اس پر رسول اللہ ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر فرمایا۔
«اللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اللّٰهُمَّ اشْهَدْ»
اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔
ہماری ذمہ داری
آج ہمیں بھی ہر کام کرتے وقت یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں ہمارا کوئی عمل سنتِ نبوی ﷺ کے خلاف تو نہیں؟
کہیں ہماری گفتگو میں کوئی ایسی بات تو نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنے؟
وعظ و نصیحت کرتے وقت کیا ہم اپنے الفاظ کا خیال رکھتے ہیں؟
تحریر لکھتے وقت کیا ہم شریعت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہیں؟
دیکھتے، سنتے اور بولتے وقت کیا ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کو سامنے رکھتے ہیں؟
مومن کی زندگی کا ہر لمحہ جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے۔وہ اپنے ہر قول و فعل کو قرآن و سنت کے میزان پر پرکھتا ہے اور اسی میں اپنی کامیابی تلاش کرتا ہے۔
دعا
اے اللہ!
1447 ہجری کے اس آخری دن ہم تیرے حضور دستِ دعا دراز کرتے ہیں۔ یا اللہ! اس گزرے ہوئے سال میں جو نیک اعمال ہم نے کیئے انہیں اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرما۔یا اللہ! جو کوتاہیاں، لغزشیں، گناہ اور خطائیں ہم سے ہوئیں، اپنے فضل و کرم اور رحمتِ کاملہ سے معاف فرما دے۔ یا اللہ! آنے والے سال 1448 ہجری کو ہمارے لیے خیر، برکت، سلامتی، امن، ایمان اور تقویٰ کا سال بنا دے۔یا اللہ! ہمیں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہر قسم کی برائی، گناہ اور نافرمانی سے محفوظ فرما۔
یا اللہ! ہمیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت کی سعادتیں نصیب فرما۔ ہماری دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرما اور ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سچی محبت، کامل اتباع اور شفاعتِ عظمیٰ نصیب فرما۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
اللہ تعالیٰ اس درس کو سامعین و قارئین کے لیے نفع بخش اور ذریعۂ ہدایت بنائے۔ آمین۔



تبصرہ لکھیے