ہوم << گناہوں کے اثرات، رزق میں برکت اور نیکی کی دعوت – محمد عدنان
600x314

گناہوں کے اثرات، رزق میں برکت اور نیکی کی دعوت – محمد عدنان

درسِ قرآن بعد نمازِ ظہر – ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔

فیصل مسجد اسلام آباد کے منبر و محراب سے ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے اپنے درسِ قرآن میں نہایت اہم اور فکر انگیز موضوع پر گفتگو فرمائی۔ آپ نے واضح کیا کہ انسان کی زندگی میں آنے والی بہت سی تنگیوں، محرومیوں اور مشکلات کا تعلق اس کے اعمال اور کردار سے ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بے شمار ہیں۔ لیکن گناہ انسان کو ان نعمتوں سے محروم کر دیتے ہیں جبکہ اطاعت، استغفار اور شکر گزاری رزق میں برکت اور خیر کا سبب بنتے ہیں۔

گناہوں کی وجہ سے رزق میں کمی
ابتداء میں آپ نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی سنن نسائی کی روایت بیان کی۔

حدیث مبارکہ
عَنْ ثَوْبَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:«إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ»
ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بے شک آدمی اپنے کسی گناہ کی وجہ سے اس رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ آج بہت سے لوگ رزق کی کمی، کاروباری مشکلات، گھریلو پریشانیوں اور مختلف محرومیوں کا شکوہ کرتے ہیں۔ لیکن اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کہیں ہمارے اپنے گناہ اور نافرمانیاں تو ان مشکلات کا سبب نہیں بن رہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے۔ مگر جب بندہ مسلسل نافرمانی کرتا ہے تو بعض اوقات وہ انہی نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے جو اس کی دسترس میں موجود ہوتی ہیں۔

استقامت اور فراوانی رزق
پھر آپ نے سورۃ الجن کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔

وَأَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُمْ مَّاءً غَدَقًا
ترجمہ:اور اگر وہ سیدھے راستے پر ثابت قدم رہتے تو ہم انہیں خوب وافر پانی پلاتے۔(الجن: 16)

مختصر وضاحت
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ یہاں “پانی” صرف پانی ہی نہیں بلکہ فراوانی رزق، خوشحالی، برکت اور اللہ کی نعمتوں کی علامت ہے۔ آج دنیا میں پانی کی قلت اور دیگر مسائل کا تذکرہ عام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی نعمت میں اضافہ کرنا ہرگز مشکل نہیں۔ لیکن جب بندے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو وہ خود اپنے اوپر تنگی کے اسباب پیدا کر لیتے ہیں۔

شکر گزاری نعمتوں میں اضافے کا ذریعہ
اس کے بعد آپ نے سورۃ ابراہیم کی مشہور آیت بیان فرمائی۔

لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ
ترجمہ:اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے(ابراہیم: 7)

مختصر وضاحت
آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو بندہ نعمتوں کی قدر کرتا ہے۔ زبان سے شکر ادا کرتا ہے اور اپنے اعمال سے اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں میں اضافہ فرما دیتے ہیں۔ لیکن جو شخص ناشکری اختیار کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔

استغفار کے حیرت انگیز فوائد
پھر ڈاکٹر صاحب نے حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی قوم کو دی جانے والی نصیحت کا ذکر کیا۔

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۝ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ۝ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا
ترجمہ:میں نے کہا اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا اور تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کر دے گا۔(نوح: 10-12)

مختصر وضاحت
آپ نے فرمایا کہ استغفار صرف گناہوں کی معافی کا ذریعہ نہیں بلکہ رزق، بارش، مال، اولاد اور زندگی کی برکتوں کا عظیم خزانہ بھی ہے۔ جو لوگ کثرت سے استغفار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے خیر و برکت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔

نیکی کو معمولی نہ سمجھیں
ڈاکٹر صاحب نے سامعین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ نیکی کے کسی عمل کو کبھی حقیر نہ سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں چھوٹا عمل بھی اخلاص کے ساتھ کیا جائے تو بہت بڑا بن جاتا ہے۔ نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کرنی چاہیے اور ہر وہ عمل اختیار کرنا چاہیے جو اللہ کی رضا کا سبب بنے۔

ذکر و اذکار اور نماز کی پابندی
آپ نے خصوصاً مسجد میں موجود نمازیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے اوقات کو ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن اور نیک اعمال میں صرف کریں۔ نماز کی پابندی مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مسجد کا حق یہ ہے کہ جب نماز کا وقت ہو تو مسلمان نماز کے لیے حاضر ہو۔ صرف خود نیکی کرنا کافی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دینا ضروری ہے۔ اپنے اہل و عیال، دوستوں اور معاشرے کے افراد کو نماز، تقویٰ اور نیک اعمال کی ترغیب دینی چاہیے۔

برائی کو روکنے کی ذمہ داری
ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کوئی شخص کسی کو برائی کرتے دیکھے تو اس کے لیے فکر مند ہو اور حکمت، محبت اور خیرخواہی کے ساتھ اسے روکنے کی کوشش کرے۔ ایک مسلمان صرف اپنی اصلاح کا ذمہ دار نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کا بھی مکلف ہے۔ اگر لوگ برائی کو دیکھ کر خاموش رہیں تو معاشرے میں گناہوں کا پھیلاؤ بڑھ جاتا ہے اور اس کے اثرات سب کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلامی معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ آخر میں ڈاکٹر صاحب نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچنے، کثرتِ استغفار کرنے، شکر گزار بننے، نمازوں کی حفاظت کرنے اور نیکیوں میں سبقت لے جانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اسے امن و استحکام کا گہوارہ بنائے۔ ملک کو درپیش تمام مشکلات اور آزمائشوں کا بہترین حل عطا فرمائے۔ ہر قسم کے شر، فساد اور فتنوں سے محفوظ رکھے اور جو عناصر اس ملک کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں انہیں ناکام و نامراد فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کا سچا خادم، نیکی کا داعی اور برائی سے بچنے والا مسلمان بنائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ