ہوم << کیا انسان کائنات کا مرکز ہے؟ – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
600x314

کیا انسان کائنات کا مرکز ہے؟ – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

یہودی بائبل کا پہلا صحیفہ ’’پیدائش‘‘ کائنات کی تخلیق کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔ زمین و آسمان اور دیگر مخلوقات کے بعد انسان کی تخلیق کا ذکر آتا ہے۔ اس کے بعد انسان کے جنت سے زمین پر جانے کی بات آتی ہے۔ پھر انسان کی نسل پھیلتی ہے اور انسانوں میں اچھے اور برے لوگوں کی کشمکش شروع ہوتی ہے۔

اس کے بعد نوح علیہ السلام کے طوفان کا تذکرہ آتا ہے اور طوفان سے بچنے والوں میں سام، حام اور یافث کی اولاد کی بات ہوتی ہے۔ پھر سام کی اولاد میں بات ابراہیم علیہ السلام کی طرف آتی ہے۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں بات اسحاق علیہ السلام اور ان کے بیٹے یعقوب علیہ السلام کی طرف آجاتی ہے جنھیں’’اسرائیل‘‘ کا لقب ملا۔ یہاں سے بات یعقوب علیہ السلام کی اولاد ، یعنی بنی اسرائیل، کی طرف بڑھتی ہے جو یوسف علیہ السلام کے مصر میں اقتدار کے حصول اور پھر بنی اسرائیل کے مصر میں آنے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس پر پہلا صحیفہ ختم ہوجاتا ہے۔ دوسرا صحیفہ ’’خروج‘‘ تقریباً چار صدیوں بعد کی کہانی سے شروع ہوتا ہے جب مصر میں بنی اسرائیل پر فرعونوں کی جانب سے ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور پھر موسیٰ علیہ السلام سے خدا کا کلام ہوتا ہے۔

فرعون کے ساتھ کشمکش کے نتیجے میں بالآخر فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوجاتا ہے اور بنی اسرائیل مصر سے ہجرت کرکے’’سرزمینِ موعود‘‘ کی طرف سفر شروع کرتے ہیں۔ اس کے بعد بائبل میں اگلے ڈیڑھ ہزار سال کی جو تاریخ بیان ہوئی ہے ، وہ خدا، بنی اسرائیل اور سرزمینِ موعود کے محور پر قائم ہے۔ خدا کی جانب سے انبیاء آتے ہیں، وہ بنی اسرائیل کو خدا کا پیغام سناتے ہیں، بنی اسرائیل خدا کی مانتے ہیں تو ’’دودھ اور شہد‘‘کی سرزمین میں ان پر نعمتوں کی بارش ہوتی ہے؛ وہ خدا کی نافرمانی کرتے ہیں تو نعمتوں کا سلسلہ رک جاتا ہے اور ان کا فساد انتہا کو پہنچتا ہے تو انھیںسرزمینِ موعود سے نکال دیا جاتا ہے؛ پھر ان کی طرف خدا کی جانب سے انبیاء آتے ہیں ، جو انھیں توبہ کی تلقین کرتے ہیں، وہ پھر خدا کی طرف لوٹتے ہیں اور پھر انھیںسرزمینِ موعود کی طرف واپسی کا موقع مل جاتا ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے کائنات کی ساری قوتیں بس اسی فارمولے پر عمل پیرا ہیں؛ جیسے یہی کائنات کا مقصد وجود ہو، جیسے سورج کا طلوع و غروب اسی لیے ہوتا ہو، رات دن کا آنا جانا اسی لیے لگا رہتا ہے، بارش اسی لیے برستی ہے، فصل اسی لیے اگتی ہے، ژالہ باری اسی لیے ہوتی ہے، قحط سالی اسی لیے ہوتی ہے، جنگیں اسی لیے لڑی جاتی ہیں، خون اسی لیے بہایا جاتا ہے، غلام اور باندیاں اسی لیے بنائی جاتی ہیں، غرض سب کچھ بس اسی لیے ہوتا ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ اس کی چہیتی مخلوق، بنی اسرائیل ، اس کی پسندیدہ زمین کے ٹکڑے، بلاد الشام، میں سکونت پذیر ہوکر اس کی عبادت میں لگی رہے۔

اسی مقصد سے نوح علیہ السلام کے ساتھ میثاق کیا گیا ، پھر ان کی نسل میں ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ میثاق کی تجدید کی گئی، پھر یہ میثاق طور پر نزولِ تورات کے ساتھ انتہائے کمال کو پہنچ گیا۔ مسیحیوں نے یہودی بائبل کے متن کو تو تقریباً جوں کا توں قبول کیا (بعض جزوی تبدیلیاں اہم ہیں لیکن ان پر بحث کا موقع نہیں ہے)۔ تاہم انھوں نے اس متن کی تعبیر یکسر مختلف طریقے سے کی۔ سینٹ پال نے جب بنی اسرائیل سے باہر ’’غیر قوموں‘‘ کو مسیح کا پیغام پہنچانے کا فیصلہ کیا تو کہانی میں ’’ٹرننگ پوائنٹ‘‘آگیا۔ اب بائبل کا پیغام ایک خاص انسانی نسل ، بنی اسرائیل، کے بجائے پوری انسانیت کے لیے عام ہوگیا۔

کہانی کے ابتدائی حصے وہی رہے: کائنات کی تخلیق، انسان کی تخلیق، زمین پر انسان کی آمد، نوح علیہ السلام کا میثاق، ابراہیم علیہ السلام کا میثاق اور موسی علیہ السلام پر تورات کا نزول، لیکن یہ سب کچھ اب ’’عہدنامہ قدیم‘‘ قرار پایا۔ اب مسیح کی مصلوبیت کے ذریعے ایک ’’عہدنامہ جدید‘‘ ہوا جو صرف بنی اسرائیل تک محدود نہیں رہا بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہوا۔ جنت میں انسان سے سرزد ہونے والی غلطی کو اب ’’اصل گناہ‘‘ قرار دیا گیا جس کی پاداش میں انسان مسلسل تکلیفوں میں مبتلا رہا اور یہ گناہ اتنا مؤثر رہا کہ ہر انسان اس کے اثرات بھگتتا رہا.

اس سے خلاصی کی ، اس کے ’’کفارے‘‘کی ایک ہی صورت تھی اور وہ یہ کہ خدا خود اپنے بیٹے (نعوذ باللہ)کو انسانوں میں بھیجے ، وہ تکلیفیں اٹھائے اور پھر اسے مصلوب کیا جائے تو اس کی مصلوبیت انسانوں کی نجات کا باعث ٹھہرے! تمام مخلوقات میں بنی اسرائیل کی خصوصی حیثیت ہو، یا تمام مخلوقات میں انسان کی خصوصی حیثیت ہو، دونوں صورتوں میں یہود و نصاری میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ خدا کا کائنات میں اس خصوصی سیارے ، زمین، اور اس پر موجود مخلوق کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔ یہ بات اس نظریے کی بنیاد بن گئی کہ زمین کائنات کا مرکز ہے ؛ پھر آگے ایک فریق نے بنی اسرائیل کو ہی مرکز مانا، اور دوسرے نے انسان کو۔

جب مزید ڈیڑھ ہزار سال بعد مختلف عوامل کے نتیجے میں یورپ میں مذہب کے خلاف بغاوت ہوئی اور خدا کو علم کی بحث سے ہی خارج کیا گیا اور بائبل علم کا ماخذ ہی نہیں رہا، تو اس اہم موڑ پر گلیلیو نے کہا کہ سورج زمین کے گرد چکر نہیں لگارہا، بلکہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کے بعد زمین کائنات کی مرکز نہیں رہی، انسان کی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی اور خدا کو تو ویسے بھی گفتگو سے باہر قرار دیا گیا۔ اب کائنات ، زمین اور پھر اس زمین پر موجود جاندار و بے جان اشیا کے متعلق نئے نظریات تراشنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان نئے نظریات کی کثرت ، تنوع اور اختلاف کے باوجود ان میں قدر مشترک یہ موجود رہی کہ زمین اور انسان کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہے۔

اگلی چند صدیوں میں اس ’’تنویری‘‘ فکر کے نتیجے میں جتنے فلسفے وجود میں آئے ، جتنی سائنسی تحقیقات کی گئیں اور جن میں بہت سی باتوں کو آج ’’مسلّمات‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے، ان کی جڑ میں یہ بنیادی مفروضہ کارفرما ہے۔
سوال یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے اس مفروضے کی کیا حیثیت ہے؟
مسلمانوں کا تصورِ جہاں (worldview) کیا ہے؟ کن سوالات کے جوابات نے اس تصور کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے؟
کیا کائنات انسان کے لیے بنائی گئی ہے؟
کیا زمین و آسمان میں سب کچھ انسان کے فائدے کے لیے ہے؟
کیا اللہ کا ہر حکم انسان کی مصلحت کے لیے ہوتا ہے اور انسان کی مصلحت ہی اصل مقصود ہے؟

جہاں حکم معلوم نہ ہو، کیا وہاں اس بنیاد پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ اس میں انسان کا فائدہ ہے یا نقصان کی ؟
کیا اس طرح انسان کی اہمیت خدا سے بھی بڑھ نہیں جاتی؟
کیا خدا انسان کا بھلا چاہنے کیلئے ہے، یا انسان خدا کا فیصلہ ماننے کیلیے ہے؟

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔قبل ازیں سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داری بھی انجام دی۔ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment