مقرر:ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
معزز نمازی حضرات!
ہمارے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺاپنی امت کی اصلاح، تربیت اور ہدایت کے لیے نہایت حکمت و محبت کے ساتھ مختلف مثالیں اور تعلیمات بیان فرمایا کرتے تھے۔آپ ﷺ کی ہر تعلیم ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنی زندگی کو *اللہ تعالیٰ* کی رضا کے مطابق گزارنے کے خواہش مند ہیں۔نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ایک نہایت اہم سوال فرمایا کہ تم میں سے کون ایسا ہے جو اپنے مال کو اپنے بعد کے لیے سنبھال کر رکھتا ہے؟
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنے مال کو اپنے بعد کے لیے رکھتا ہو۔ اس پر نبی کریم ﷺنے مال کی حقیقت واضح فرمائی کہ انسان کا حقیقی مال وہ ہے جو اس نے اپنی زندگی میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ کر دیا یا اپنی ضرورت میں استعمال کر لیا جبکہ جو مال پیچھے چھوڑ گیا وہ اس کا نہیں رہا بلکہ وارثوں کی طرف منتقل ہوگیا۔یہ حدیث ہمیں دنیا کی دولت کے بارے میں ایک بہت بڑی حقیقت سمجھاتی ہے کہ انسان جس مال کو اپنا سمجھ کر جمع کرتا رہتا ہے۔ حقیقت میں اس مال کا وہی حصہ اس کے کام آنے والا ہے جو اس نے اپنی زندگی میں صحیح جگہ خرچ کیا۔ جو مال انسان اپنے پیچھے چھوڑ کر دنیا سے چلا جاتا ہے اس پر اس کا اختیار باقی نہیں رہتا۔
اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
ڈاکٹر صاحب نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اپنے گھر والوں، بچوں اور اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنا بھی بہت بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔ اسلام انسان کو اپنے گھر والوں سے بے اعتنائی کی تعلیم نہیں دیتا۔ بلکہ ان کی جائز ضروریات پوری کرنا بھی عبادت اور صدقہ قرار دیا گیا ہے۔البتہ گھر والوں پر خرچ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی حقیقی اور جائز ضروریات کو سامنے رکھا جائے۔ انسان اپنے بچوں کو وہ چیزیں فراہم کرے جن سے وہ خود بھی مطمئن ہو اور جن میں حلال و حرام کا لحاظ موجود ہو۔آج کے دور میں زندگی کا ایک نیا طرزِ عمل بنتا جا رہا ہے۔ کھانے پینے میں سادگی کے بجائے ہر وقت فاسٹ فوڈ اور ایسی اشیاء کی طرف رغبت بڑھ رہی ہے جن کے اجزاء، حلال و حرام اور صحت کے حوالے سے انسان کو مکمل اطمینان بھی نہیں ہوتا. ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی مشتبہ اور شکوک و شبہات والی چیزوں سے بچے اور اپنے بچوں کو بھی ان سے محفوظ رکھے۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا حقیقی سرمایہ کاری ہے
اسی طرح اگر *اللہ تعالیٰ* نے کسی شخص کو مال و دولت سے نوازا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ *اللہ* کے راستے میں حسبِ استطاعت ضرور خرچ کرے۔ اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو تلاش کرے جو واقعی ضرورت مند ہیں، یتیم ہیں، بیوہ ہیں، غریب ہیں یا کسی مشکل میں مبتلا ہیں اور *اللہ تعالیٰ* کی رضا و خوشنودی کے لیے ان کی مدد کرے۔انسان کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں جمع کیا ہوا مال ایک دن یہیں رہ جائے گا لیکن *اللہ* کی رضا کے لیے خرچ کیا ہوا مال آخرت میں اس کے لیے نفع بخش بن سکتا ہے۔اس لیے ہمیں اپنے مال کے بارے میں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ مال صرف جمع کرنے کے لیے نہیں بلکہ *اللہ* کی رضا، اپنی جائز ضروریات اور مخلوقِ خدا کی مدد کے لیے خرچ کرنے کے لیے بھی ہے۔یہی مال آخرت کا سرمایہ بن سکتا ہے اور یہی انسان کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اشرافیہ کی ظاہری شان و شوکت سے متاثر نہ ہوں
ڈاکٹر صاحب نے عوام الناس کو ایک اہم اور قابلِ توجہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں معاشرے کے ان لوگوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے جن کے پاس دولت کی فراوانی ہے اور جو شاہانہ طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔کسی کے پاس بڑی گاڑی، بڑا گھر، بے شمار دولت، پروٹوکول یا دنیاوی آسائشیں دیکھ کر اپنے دل میں احساسِ محرومی پیدا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس مال کا ذریعہ کیا ہے، اس میں حلال و حرام کی کتنی رعایت ہے اور اس مال کے بارے میں آخرت میں کیا جواب دینا ہوگا۔ایک مسلمان کو دوسروں کی ظاہری زندگی دیکھ کر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ فضول خرچی، نمود و نمائش اور شاہانہ زندگی کو کامیابی کا معیار نہیں سمجھنا چاہیے۔ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان کا دل *اللہ تعالیٰ* سے جڑا ہوا ہو، اس کا مال حلال ہو، اس کے اخراجات جائز ہوں۔ وہ اللہ کی مخلوق کے کام آئے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہو۔
اللہ کی عطا پر شکر اور زندگی میں صبر
ہمیں چاہیے کہ *اللہ تعالیٰ* نے ہمیں جو کچھ عطا فرمایا ہے اس پر دل سے شکر ادا کریں۔بسا اوقات انسان دوسروں کی آسائشیں دیکھ کر اپنی نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ حالانکہ *اللہ تعالیٰ* نے اسے بھی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے دل کو یہ سمجھانا چاہیے کہ *اللہ* نے جو دیا ہے، بہت دیا ہے۔ *اللہ تعالیٰ* ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا اور مشکلات میں صبر کرنے والا بنائے۔زندگی کی اصل خوشی زیادہ سے زیادہ دنیا حاصل کرنے میں نہیں بلکہ *اللہ تعالیٰ* کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے میں ہے۔
اپنی حاجات اللہ کے سامنے پیش کریں
ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسان کو اپنی ضروریات کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے جھکنا چاہیے۔ اپنی حاجات لوگوں کے سامنے رکھنے کے بجائے سب سے پہلے اپنے رب کے دربار میں حاضر ہو، اس سے مانگے، دعا کرے اور بار بار اسی کے سامنے اپنی ضرورت بیان کرے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے والا شخص دنیا کے حالات سے ٹوٹتا نہیں. کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا رب اس کے حالات سے باخبر ہے اور وہی اس کی حاجت پوری کرنے پر قادر ہے۔ہمیں چاہیے کہ اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کریں، نمازوں کی پابندی کریں، دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، حلال رزق اختیار کریں۔ اپنے مال کو صحیح جگہ خرچ کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔
خلاصۂ درس
اس پورے درس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دنیا کا مال انسان کا مستقل سرمایہ نہیں۔ بلکہ اصل سرمایہ وہ ہے جو انسان *اللہ تعالیٰ* کی رضا کے لیے آگے بھیج دیتا ہے۔اپنی جائز ضروریات پر خرچ کرنا، اپنے اہل و عیال کی کفالت کرنا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا، اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا اور حلال طریقے سے مال کمانا۔یہ وہ اعمال ہیں جو انسان کے لیے دنیا میں بھی برکت کا ذریعہ بنتے ہیں اور آخرت میں بھی نفع پہنچاتے ہیں۔لہٰذا ہمیں دوسروں کی ظاہری آسائشوں سے متاثر ہونے کے بجائے اپنے رب کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں مال کا غلام بننے کے بجائے مال کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور اپنی زندگی کو آخرت کی تیاری کے مطابق گزارنا چاہیے۔
دعائیہ کلمات
اللہ رب العزت ہمیں اپنے مال کی صحیح قدر و حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق عطا فرمائے۔ حلال کمائی کے ذریعے اپنے اہل و عیال کی کفالت کرنے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور *اللہ* کی راہ میں اخلاص کے ساتھ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی ظاہری چمک دمک، فضول خرچی اور نمود و نمائش سے محفوظ فرمائے۔ اپنے دیے ہوئے پر شکر کرنے والا اور آزمائشوں میں صبر کرنے والا بنائے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنی طرف پھیر دے، ہمارے اپنے ساتھ تعلق کو مضبوط فرمائے۔ ہماری تمام جائز ضروریات اپنے فضل و کرم سے پوری فرمائے اور ہمارے مال و جان میں برکت عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دونوں جہانوں کی سعادتیں نصیب فرمائے اور حضور نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے