ہوم << اسلام میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی اہمیت و اجر – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

اسلام میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی اہمیت و اجر – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

دینِ اسلام ایک ایسا کامل اور پُرامن دین ہے جس میں جبر و سختی نہیں بلکہ آسانی، رحمت اور راحت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے کنار ہے اور معمولی سی نیکی پر بھی اس کی عنایات بندۂ مومن کی طرف متوجہ ہو جاتی ہیں۔

جب کوئی انسان اپنے رب کے حضور سرِ تسلیم خم کرکے اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور اخلاص کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ اسی لیے اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی بھی نیکی کو معمولی سمجھ کر ترک نہ کیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر نیک عمل کی قدر ہے اور اس کا اجر محفوظ ہے۔اسلام ہماری زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ دین ہمیں حسنِ اخلاق، خیر خواہی، عدل و انصاف اور باہمی تعاون کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال کی قدر و قیمت ان کے ظاہری حجم سے نہیں بلکہ نیت اور اخلاص سے متعین ہوتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

“پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔” (سورۃ الزلزال)

اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ قیامت کے دن چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی ضائع نہیں ہوگی اور معمولی سمجھے جانے والے گناہوں کا بھی حساب لیا جائے گا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“ہر روز جب سورج طلوع ہوتا ہے تو انسان کے ہر عضو پر صدقہ لازم ہوتا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان صلح کرا دینا صدقہ ہے، کسی کو سواری پر بٹھا دینا صدقہ ہے، اچھی بات بتا دینا صدقہ ہے، نماز کے لیے اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔”(بخاری و مسلم)

ایک اور روایت میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تمہارا اپنے بھائی کے لیے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔” (ترمذی)

یہ احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ اسلام میں نیکی صرف بڑے اعمال تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے معمولی کام بھی اگر اخلاص کے ساتھ کیے جائیں تو عبادت بن جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے معمولی نیکی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے صدقے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔” (بخاری)

اسی طرح سلام میں پہل کرنا، کسی پیاسے کو پانی پلانا، بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا، بیمار کی عیادت کرنا اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ایسے اعمال ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اے سعد! کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس میں محنت کم اور ثواب زیادہ ہو؟ پانی پلایا کرو۔” (المعجم الکبیر)

اسلام صرف انفرادی عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اجتماعی بھلائی اور مظلوموں کی مدد پر بھی زور دیتا ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
“اور تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار اور حمایتی مقرر فرما۔”

رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ کمزوروں، مسکینوں، یتیموں اور مظلوموں کی مدد کی تلقین فرمائی۔ اسی طرح کسی بھی معاشرے کے امن و استحکام کے لیے عدل و انصاف بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
“اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو۔”(سورۃ الانعام)

سورۃ المائدہ میں ارشاد ہوتا ہے:
“اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور حق کے ساتھ گواہی دینے والے بنو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“بیمار کی عیادت کرو، جنازے میں شریک ہو، چھینکنے والے کو جواب دو، مظلوم کی مدد کرو اور دعوت قبول کرو۔”(بخاری)

اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔”

صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی مدد کیسے کریں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اسے ظلم سے روک دو، یہی اس کی مدد ہے۔” (بخاری)

اسلام باہمی تعاون، اخوت اور محبت کا درس دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مومن، مومن کا آئینہ ہے اور مومن، مومن کا بھائی ہے۔” (مشکوٰۃ المصابیح)

ایک اور حدیث میں فرمایا:
“مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔” (ابو داؤد)

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایسی دیوار کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ “(مسلم)

اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مومنوں کی مثال باہمی محبت، رحم دلی اور شفقت میں ایک جسم کی مانند ہے۔ جب جسم کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔” (بخاری)

آج امتِ مسلمہ مختلف مسائل کا شکار ہے۔ معاشی بدحالی، تعلیمی پسماندگی، فرقہ واریت اور اخلاقی زوال جیسے مسائل ہمارے سامنے ہیں۔ ان تمام مشکلات کا حل باہمی تعاون، اخوت اور خیر خواہی میں مضمر ہے۔ اگر ہم تعلیم، تربیت، روزگار اور فلاحی کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو امتِ مسلمہ دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتی ہے۔اسلام کا پیغام محبت، ہمدردی، تعاون اور بھائی چارے کا پیغام ہے۔ یہ دین صرف انفرادی اصلاح کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ایک ایسے مثالی معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے کام آئیں، ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹیں اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔

اگر ہم معمولی نیکیوں کو بھی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دینا شروع کر دیں تو ہمارے دل نرم ہوں گے، معاشرے میں محبت اور خیر سگالی کو فروغ ملے گا اور امن و سکون کی فضا قائم ہوگی۔ بسا اوقات کسی کی معمولی مدد، ایک اچھی دعا یا چند محبت بھرے الفاظ اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب بن جاتے ہیں اور انسان کے لیے جنت کا راستہ ہموار کر دیتے ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ کسی بھی نیک عمل کو حقیر نہ سمجھیں۔ جب چھوٹا سے چھوٹا عمل بھی اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے تو وہ دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دینِ اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، اپنے خوف اور محبت سے ہمارے دلوں کو منور کرے، مخلوقِ خدا کی خدمت، سچائی، عدل و انصاف اور معمولی نیکیوں کو بھی اخلاص کے ساتھ انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔