ہوم << استاد محترم کی یاد میں – شیراز اویسی
600x314

استاد محترم کی یاد میں – شیراز اویسی

بھول گیا کہ کیا نام تھا لیکن مشفق و مہربان شخصیت دل و دماغ میں کندہ ہو گئی ۔

ابو جان کے بھی استاد تھے. سمرا ہائی سکول نزد حسن پروانہ روڈ پر جو ریکس سینما کے قریب تھا ،، میں ابو جان کے معلم تھے. جبکہ میں غالباََ چھٹی یا ساتویں جماعت کا طالب علم تھا تو ابو جان نے ان سے مجھے پڑھانے کی گزارش کی اور انھوں نے روزانہ مغرب کی نماز کے بعد ہمارے گھر لکڑمنڈی آنا شروع کر دیا . یعنی ابوجان کے استاد میرے بھی رہنما بن گئے .

پہلے دن آتے ہی نام پوچھا اور ہر کتاب کا پہلا صفحہ پڑھنے کو کہا اس سے یہ ہوا کہ جو لفظ غلط پڑھتا اس کی درستگی بھی کرتے اور ساتھ ہی اس کے پس منظر سے بھی آگاہ کرتے رہتے. مثلا
صلح حدیبیہ کیوں ہوئی؟
قائد اعظم نے چودہ نکات آخر کیوں پیش کیے؟
پودے جاندار کیوں ہیں؟
قومی ترانہ لکھنے والے حفیظ جالندھری کون تھے؟

اور انگلش کی گرائمر بھی درست کرتے. اس طرح یہ روز کا معمول بن گیا ۔ اس سے یہ ہوا کہ کہ میری صرف اردو اور انگلش ریڈنگ ہی بہتر نہ ہوئی بلکہ ہر موضوع پر سبق ذہن پر نقش ہوتا چلا گیا بلکہ اکثر کئی اسباق کو لے کر ہماری طویل ڈسکشن بھی ہونے لگی اور میں مزید پختہ ہوتا چلا گیا۔ کچھ عرصہ گزرا ، انگلش اور اردو اخبارات میں سے کسی خبر یا کالم کے پڑھانے کا آغاز کیا اور ساتھ ہی اس کی سیاق و سباق پہ گفتگو بھی معمول بن گیا اس طرح حالات حاضرہ اور سیاسی موضوعات سے بھی آشنائی مضبوط ہوتی چلی گئی ۔

اور پھر سب سے انوکھا کیا ہوا کہ ایک دن سائیکل پہ بٹھا کر ابوجان کو آگاہ کر کے ریکس سینما مووی دکھانے لے گئے ،، اس وقت ریکس سینما پہ زیادہ تر انگلش موویز ہی لگا کرتی تھیں. غالباً ریمبو سیریز کی کوئی مووی تھی. میں خوش کہ واہ بھئی شیراز ! موجیں ہو گئیں،مووی دیکھیں گے. لیکن کیسی موج ….. انھوں نے اسے بھی امتحان گاہ بنا دیا کہ بتاؤ ۔۔۔ اس نے فلاں سے کیا بات کی اس کو اردو میں ٹرانسلیٹ کرو اور میرا حال کاٹو تو بدن میں لہو نہیں .

کہ یار یہ کیسے استاد ہیں ، یہ کیسا ایگزامینیشن روم ہے. کرن سینما میں پرانی اردو مووی ہمراہی دکھانے لے گئے. جو دو دوستوں کے پرخلوص تعلق پہ مبنی تھی. اس میں بتانے بیٹھ گئے کہ 1965 کی جنگ کیوں شروع ہوئی ، اصل وجہ کیا تھی اور ایوب خان کے خطاب پہ سیر حاصل تبصرہ کیا. ایسا لگا سینما نہیں ، کمرہ جماعت میں لیکچر چل رہا ہو. خیر، سال ڈیڑھ کا عرصہ وہ میرے مہربان معلم رہے. سینکڑوں موضوعات پہ ،، بچے ،، سے ڈسکشن کی درجنوں موویز کو بطور ،، نصاب ،، دیکھا اور پھر پتہ لگا کہ بیماری کی وجہ سے آنے بلکہ پڑھانے سے بھی قاصر ہیں ۔ پھر میری ان سے ملاقات نہ ہو پائی کہ ابو جان سے ان کی وفات بارے معلوم ہوا ۔

ان کے ساتھ عرصہ رہنمائی مختصر تھا. لیکن انھوں نےمجھے جو اعتماد دیا ، مباحث کا سلیقہ دیا، پڑھنے اور سمجھنے کا شعور دیا، لکھنے اور دیکھنے کا وجدان دیا. اسے ہمیشہ کے لیے میری شخصیت کا حصہ بنا دیا. مشفق و مہربان ،، استاد گرامی. اللہ کریم کی رحمت کے سائے میں شادوآباد رہیں.

مصنف کے بارے میں

زوہیب زیبی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment