ہوم << ڈیجیٹل آئینہ: بکھرتا ہوا انسان- ڈاکٹر سیف ولہ رائے
600x314

ڈیجیٹل آئینہ: بکھرتا ہوا انسان- ڈاکٹر سیف ولہ رائے

شہر کی شام جب اپنے دھندلے سائے پھیلانے لگتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے اپنی رفتار کو ذرا تھام لیا ہو، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وقت رکا نہیں ہوتا، بس انسان کی گرفت اس پر کمزور پڑنے لگتی ہے۔ سڑکوں پر رواں گاڑیاں، روشنیوں سے جگمگاتے دکانوں کے شیشے، اور بے شمار چہروں کا ہجوم.

مگر ان سب کے درمیان ایک عجیب سی بے ربطی پائی جاتی ہے۔ ہر شخص موجود ہوتے ہوئے بھی مکمل طور پر موجود نہیں۔ جسم ایک جگہ ہے مگر ذہن کسی اور سمت میں رواں دواں ہے، جیسے ہر کوئی اپنے اندر ایک متوازی دنیا لیے چل رہا ہو جو دکھائی نہیں دیتی مگر مسلسل سرگرم رہتی ہے۔ یہی وہ منظر ہے جہاں جدید انسان کی نئی شناخت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ ایک ایسی شناخت جو جسمانی وجود سے زیادہ اس کے ڈیجیٹل عکس پر قائم ہے۔ یہ عکس کبھی اس کی پہچان بنتا ہے، کبھی اس کا تعارف، اور کبھی اس کی پوری شخصیت کا متبادل۔ انسان اب خود کو آئینے میں کم اور اسکرین میں زیادہ دیکھنے لگا ہے۔ اور اس تبدیلی نے خاموشی کے ساتھ انسانی شعور کے اندر ایک نئی تہہ تشکیل دی ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے مگر پوری طرح سمجھنا آسان نہیں۔

اسی شہر کے ایک نسبتاً تنگ سے کمرے میں ایک نوجوان بیٹھا ہے۔ کمرے کی دیواریں خاموش ہیں مگر اس خاموشی کو بار بار ایک ہلکی سی روشنی توڑ دیتی ہے جو اس کے چہرے پر پڑ رہی ہے۔ اس کے ہاتھ مسلسل حرکت میں ہیں، جیسے وہ کسی ایسے سمندر میں کنکریاں پھینک رہا ہو جس کی گہرائی کا اسے خود اندازہ نہیں۔ اس کی آنکھیں اسکرین پر جمی ہیں، مگر ان آنکھوں کے پیچھے ایک ایسی تھکن ہے جو جسمانی نہیں بلکہ ذہنی محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہنستا ہے، کبھی کسی پیغام پر ردعمل دیتا ہے، کبھی کسی تصویر کو دیکھ کر چند لمحوں کے لیے ٹھہر جاتا ہے، مگر ان سب کے باوجود یوں لگتا ہے جیسے وہ خود اپنی ہی موجودگی سے تھوڑا سا دور ہوتا جا رہا ہے۔

یہ محض ایک فرد نہیں، یہ ایک عہد کا نمائندہ ہے۔ ایک ایسا عہد جہاں انسان کی شناخت اس کے عمل سے کم اور اس کے اظہار سے زیادہ جڑی ہوئی ہے۔ اظہار بھی ایسا جو مسلسل ناپا جاتا ہے، دیکھا جاتا ہے اور ردعمل کی صورت میں واپس انسان تک پہنچتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر شخص ایک بڑے ہال میں کھڑا ہو اور ہر لمحہ اس کی موجودگی کا جائزہ لیا جا رہا ہو، اور وہ خود بھی اسی پیمانے کا حصہ بن چکا ہو۔ یہاں سے ایک عجیب تضاد جنم لیتا ہے۔ جتنا انسان جڑتا ہے، اتنا ہی اندر سے بکھرنے لگتا ہے۔ رابطوں کی تعداد بڑھتی ہے مگر تعلق کی گہرائی کم ہو جاتی ہے۔ گفتگو موجود ہے مگر اس میں وہ ٹھہراؤ نہیں جو کسی مکالمے کو زندگی بخشتا ہے۔ الفاظ ہیں مگر ان کے اندر وہ گرمی نہیں جو احساس کو منتقل کرے۔ ہر چیز موجود ہے مگر کچھ بھی مکمل نہیں۔

یہ نوجوان کبھی کبھی اسکرین سے نظریں ہٹا کر کمرے کی دیواروں کو دیکھتا ہے، جیسے وہ کسی گم شدہ شے کو تلاش کر رہا ہو۔ مگر اگلے ہی لمحے ایک نئی اطلاع اس کے ذہن کو دوبارہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ یوں اس کی سوچ ایک مسلسل ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزرتی رہتی ہے۔ کوئی خیال مکمل ہونے سے پہلے ہی کسی نئے خیال کے شور میں گم ہو جاتا ہے۔ ذہن ایک ایسے دریا کی مانند ہے جس کا پانی مسلسل بہہ رہا ہو مگر کسی ایک سمت میں مرکزیت اختیار نہ کر رہا ہو۔
یہ کیفیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتی۔ یہ آہستہ آہستہ پورے معاشرے کی فضا میں سرایت کر جاتی ہے۔ گھروں کے اندر موجود افراد جسمانی طور پر ایک ساتھ ہوتے ہیں مگر ذہنی طور پر الگ الگ دنیاؤں میں گم۔

ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے سے اس طرح دور ہوتے ہیں جیسے ان کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہو۔ ماں کی آواز ایک طرف رہ جاتی ہے، باپ کی باتیں کسی اور گوشے میں کھو جاتی ہیں، اور بہن بھائیوں کی ہنسی کسی غیر متعلق پس منظر کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی اسکرین میں بند ہے، جیسے ہر فرد نے اپنے گرد ایک نادیدہ دائرہ کھینچ لیا ہو جس میں کوئی اور داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں انسانی تعلقات اپنی روایتی شکل سے ہٹ کر ایک نئی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اب تعلق جسمانی قربت پر کم اور ڈیجیٹل موجودگی پر زیادہ منحصر ہو گیا ہے۔ کسی کے قریب ہونے کا مطلب اب اس کے ساتھ بیٹھنا نہیں بلکہ اس کے آن لائن ہونے کا انتظار کرنا ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر معمولی لگتی ہے مگر اس کے اندر ایک گہری سماجی تبدیلی پوشیدہ ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ ڈیجیٹل موجودگی انسان کے ذہن پر بھی اثر انداز ہونے لگتی ہے۔ ذہن جو کبھی مسلسل غور و فکر کا عادی تھا، اب وقفے وقفے سے بدلتے ہوئے محرکات کا محتاج بن جاتا ہے۔ ایک تصویر، ایک پیغام، ایک ویڈیو… سب کچھ لمحاتی طور پر توجہ حاصل کرتا ہے مگر دیرپا اثر چھوڑنے سے قاصر رہتا ہے۔ یوں انسانی توجہ ایک بکھرے ہوئے دھاگے کی مانند ہو جاتی ہے جسے دوبارہ کسی مضبوط ربط میں باندھنا مشکل ہو جاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں علم بھی اپنی صورت بدلنے لگتا ہے۔ علم جو کبھی طویل مطالعے، غور و فکر اور تدریجی فہم کا نام تھا، اب مختصر معلومات، فوری خلاصوں اور سطحی ادراک میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ذہن بہت کچھ جاننے لگتا ہے مگر بہت کم سمجھ پاتا ہے۔ معلومات کی کثرت فہم کی گہرائی کو دبا دیتی ہے۔ اور یہ کیفیت خاموشی کے ساتھ ایک فکری بحران کی بنیاد رکھتی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں ایک اور پہلو بھی ابھر کر سامنے آتا ہے۔ انسان کی توجہ اب صرف ذاتی معاملہ نہیں رہی بلکہ ایک معاشی قدر بن چکی ہے۔ ہر لمحہ کسی نہ کسی نظام کے لیے قیمتی ہے۔ ہر نظر، ہر کلک، ہر توقف ایک ایسے ڈیٹا میں تبدیل ہو جاتا ہے جو بعد میں انسانی رویوں کو سمجھنے اور انہیں سمت دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح انسان محض ایک صارف نہیں رہتا بلکہ ایک ایسے نظام کا حصہ بن جاتا ہے جو اس کی توجہ کو خاموشی سے اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے۔یہ کشمکش انسان کے اندر ایک مستقل بے چینی پیدا کرتی ہے۔ کبھی وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بہت کچھ جان رہا ہے، مگر ساتھ ہی یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ کسی چیز کی گہرائی تک نہیں پہنچ پا رہا۔

ہر چیز قریب ہے مگر مکمل طور پر قابلِ گرفت نہیں۔ یہ کیفیت ایک ایسی دوڑ کی مانند ہے جس میں انسان مسلسل چل رہا ہے مگر اسے اپنی منزل کا یقین نہیں۔اسی دوران اس کی شخصیت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔ وہ خود کو دوسروں کے ردعمل سے جوڑنے لگتا ہے۔ کسی تعریف پر وقتی طور پر بلند ہو جاتا ہے اور کسی خاموشی پر اندر سے بکھر جاتا ہے۔ اس کی خود اعتمادی ایک مستحکم بنیاد پر نہیں بلکہ مسلسل بدلتے ہوئے بیرونی اشاروں پر قائم ہو جاتی ہے۔ یہ غیر یقینی کیفیت اسے اندر سے مزید حساس اور کمزور بنا دیتی ہے۔پھر ایک مرحلہ آتا ہے جہاں انسان خود سے سوال کرنا شروع کرتا ہے، مگر اس سوال کا جواب اسے اپنے اندر نہیں ملتا۔

وہ باہر کی دنیا کی طرف دیکھتا ہے، دوسروں کے ردعمل میں اپنی پہچان تلاش کرتا ہے، اور یوں رفتہ رفتہ اپنی داخلی آواز سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ دوری واضح نہیں ہوتی، مگر مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔تاہم اس پوری تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ یہی دنیا علم تک رسائی کو غیر معمولی حد تک آسان بنا دیتی ہے۔ وہی اسکرین جو توجہ کو منتشر کرتی ہے، وہی دروازہ علم اور آگہی کے نئے راستے بھی کھولتی ہے۔ فاصلے سمٹ جاتے ہیں، معلومات عام ہو جاتی ہیں، اور نئے امکانات جنم لیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔اصل مسئلہ کبھی بھی ٹیکنالوجی نہیں ہوتا، بلکہ اس کا غیر متوازن استعمال ہوتا ہے۔

جب کوئی ذریعہ انسان کے اختیار سے زیادہ اس پر حاوی ہو جائے تو وہ سہولت سے زیادہ دباؤ بن جاتا ہے۔ اور یہی دباؤ رفتہ رفتہ انسان کو اس کی اپنی داخلی مرکزیت سے دور لے جاتا ہے۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا انسان اس نظام کا محض ایک حصہ ہے یا اس کا شعوری رہنما بھی ہو سکتا ہے؟ اگر انسان اپنی توجہ کو سمجھنے لگے، اگر وہ اپنے وقت اور احساسات میں توازن پیدا کر لے، تو یہی نظام ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ مگر اگر یہ شعور کمزور رہے تو یہی نظام ایک ایسی بھول بھلیاں میں بدل سکتا ہے جس میں راستے تو بہت ہوں مگر سمت کوئی نہ ہو۔

اسی کمرے میں بیٹھا ہوا نوجوان ایک لمحے کے لیے رک جاتا ہے۔ اس کی انگلیاں ساکن ہو جاتی ہیں۔ اسکرین کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی ہے، مگر اس کی آنکھوں میں ایک ہلکی سی خاموشی اتر آتی ہے۔ شاید پہلی بار اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ صرف دیکھ نہیں رہا بلکہ کچھ کھو بھی رہا ہے۔ کچھ ایسا جو لفظوں میں مکمل طور پر بیان نہیں ہو سکتا مگر اندر کہیں گہرائی میں موجود ہے۔باہر شہر اپنی رفتار سے چل رہا ہے۔ روشنیوں میں شور اپنی جگہ قائم ہے۔ مگر اس شور کے درمیان کہیں ایک خاموش سوال موجود ہے، جو مسلسل اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ اور یہ سوال ابھی جواب کا منتظر ہے.

مصنف کے بارے میں

نقطہ نظر

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment