علم ایک ایسی عظیم دولت ہے جو انسان کو شعور، آگہی اور کامیابی کی منزلوں تک پہنچاتی ہے۔ دنیا کی تمام مادی دولتیں وقت کے ساتھ ختم ہو سکتی ہیں، مگر علم کی دولت انسان کے کردار، فکر اور عمل کو ہمیشہ روشن رکھتی ہے۔ حصولِ علم کے لیے جو لوگ درسگاہوں کا رخ کرتے ہیں، وہ اپنے دامن میں علم و حکمت کے قیمتی موتی سمیٹ لیتے ہیں۔
زندگی دراصل ایک مسلسل سفر کا نام ہے اور اس سفر کو کامیابی، حسن اور خوبی کے ساتھ طے کرنے کے لیے علم کی دولت کا حصول ناگزیر ہے۔ فرمانِ رسولِ اکرم ﷺ ہے: “علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے”۔ اس فرمان کی روشنی میں علم کی اہمیت اور عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جن لوگوں نے حصولِ علم کی راہ اختیار کی، وہ اپنے کردار، فکر اور خدمات کی بدولت یگانۂ روزگار بن گئے۔ علم نے انہیں نہ صرف عزت و مقام عطا کیا بلکہ انسانیت کی رہنمائی کا ذریعہ بھی بنایا۔ عصرِ حاضر میں، جب انسان مختلف مسائل، بے چینی اور اضطراب کا شکار ہے، علم کی روشنی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ دینی تعلیم ہو یا دنیوی علوم، دونوں ہی انسان کی زندگی کے مختلف گوشوں کو روشن کرتے ہیں۔ علم انسان کو اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور اسے معاشرے کے لیے ایک مفید فرد بناتا ہے۔ مجھے ان لوگوں سے دلی محبت اور عقیدت ہے جو علم کی شمع روشن رکھتے ہیں اور جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں اتنا اضطراب اور بے قراری کیوں ہے؟ اس کا جواب ہمیں اپنے اندر جھانک کر تلاش کرنا ہوگا۔ جب معاشروں میں علم، اخلاق اور برداشت کی کمی پیدا ہو جائے تو بے سکونی جنم لیتی ہے۔ تعلیمی اداروں اور درسگاہوں میں علم کی دولت تقسیم کرنے والی ہستیاں دراصل معاشرے کے معمار ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی خدمتِ انسانیت کے لیے وقف ہوتی ہے۔ اساتذہ اور اہلِ علم اپنی سوچ، کردار اور محنت سے نسلوں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ ان کی فکر سے ایک مثبت انقلاب جنم لیتا ہے۔ ایسی عظیم ہستیوں سے محبت اور احترام ہی دراصل انسانیت کی معراج ہے۔ دل کے آنگن میں بسنے والے یہی لوگ معاشرے میں محبت، امن اور بھلائی کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ حصولِ علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، کیونکہ علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائیوں میں ہر قدم پر نئی حقیقتیں اور نئے راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم علم کی شمع کو تھام کر زندگی کے سفر کو کامیابی، کردار اور انسانیت کی روشنی سے منور کریں۔



تبصرہ لکھیے