وہ جمعہ کا دن تھا۔ صبح سویرے کام کی جگہ جانے سے پہلے میں نے نمازِ جمعہ کے لیے طہارت و صفائی کا اہتمام کیا، صاف ستھرے کپڑے زیبِ تن کیے اور حسبِ معمول کام کی جگہ کی جانب روانہ ہو گیا۔
جمعے کا دن عام دنوں سے قدرے مختلف ہوتا ہے، اور اس دن کی ہیبت باقی دنوں پر بھاری معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال، چونکہ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں طویل ہوا کرتی ہیں، اس لیے وقت کا اندازہ ہی نہ ہو سکا۔ جب میں نے گھڑی دیکھی تو معلوم ہوا کہ نمازِ جمعہ میں تقریباً ایک گھنٹہ باقی رہ گیا ہے۔
میں کام کی جگہ سے سیدھا گھر آیا۔ کھانا کھانے کے بعد محلے کی جامع مسجد کی جانب چل پڑا۔ راستے میں ہر کوئی مسجد کی طرف رواں دواں تھا۔ عام دنوں کی نسبت جمعے کے دن ہر مسلمان اس کوشش میں ہوتا ہے کہ اس کا بدن پاک ہو، کپڑے صاف ہوں، اور وہ مسجد جا کر باجماعت نماز ادا کرے۔
بہرحال، مسجد جاتے ہوئے میرا ایک دوست بھی ساتھ ہو لیا۔ ہم جامع مسجد پہنچ گئے۔ اگرچہ ہم کچھ دیر سے پہنچے تھے، مگر وہاں جا کر دیکھا کہ مسجد کا اندرونی حصہ نمازیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مسجد کے آخری حصے کی ایک صف میں مجھے اور میرے دوست کو جگہ مل گئی۔
امام صاحب خطبہ دے رہے تھے اور مسجد میں ہر طرف سکوت طاری تھا۔ مسجد پہنچتے ہی ایک عجیب سی کیفیت مجھ پر طاری ہو گئی، جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یوں تو پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرنا ضروری ہے، اور ہم کسی حد تک اس کی پابندی بھی کرتے ہیں، مگر اس دن کی کیفیت کچھ اور ہی تھی۔
خطبہ ختم ہوا۔ صف بندی کے بعد جب امام صاحب نے “اللہ اکبر” کی صدا بلند کی تو گویا میرے دل پر اللہ کے نام کی ایسی ضرب لگی کہ ایک لمحے کے لیے میرا دل رک سا گیا۔ پھر قرآنِ پاک کی تلاوت نے میرے دل کو اپنے روح پرور سحر میں جکڑ لیا۔
رکوع کے بعد جب میں سجدے میں گیا اور اپنی پیشانی زمین پر رکھی تو میرا دل موم کی طرح پگھلنے لگا۔ میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ حالتِ سجدہ میں جب میں نے اپنی جبین اس ذاتِ بابرکات کے حضور جھکائی تو اچانک چند اشعار میرے ذہن میں گونجنے لگے:
جو میں سربسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں؟
یہ اشعار میرے دل و دماغ پر حاوی ہونے لگے اور بار بار مجھے جھنجھوڑنے لگے۔ میں نے فوراً اپنے خیالات کو منتشر ہونے سے روکا اور اپنی پوری توجہ نماز پر مرکوز کر دی۔
نماز مکمل ہوئی۔ سب مسلمانوں نے ایک ساتھ سلام پھیرا، اور آخر میں میں نے اپنے لیے، اپنے والدین، بہن بھائیوں کی خیر و عافیت اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے دعا کی۔
کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ کیا ہم واقعی کامل ایمان والے ہیں؟ وہ کون سی برائیاں ہیں جو ہم میں موجود نہیں؟ بظاہر تو ہم اپنی پیشانی اسی ایک رب کے سامنے جھکاتے ہیں، مگر حقیقت میں ہم نے اپنے دلوں میں ہزاروں لاکھوں صنم پال رکھے ہیں۔
سجدہ تو ہم اسی ایک ذات کو کرتے ہیں، مگر ابلیس سے یارانہ بھی برقرار رکھتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی طاغوت ہمارے دلوں میں بستے ہیں، جن کی خوشنودی کے لیے ہم اپنے رب کو ناراض کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ہم میں ہزاروں خواہشیں ایسی ہیں جنہیں ہم نے اپنا معبود بنا لیا ہے، اور ان کی تکمیل کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔
ہم یہ کیوں بھول بیٹھے ہیں کہ زندگی کا ایک مقصد بھی ہے، اور وہ مقصد کیا ہے؟
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں، میں اسی لیے نمازی
واقعی، اگر دل صنم آشنا ہو تو ایسی نمازوں سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
دورنگی نہ دنیا میں کام آتی ہے اور نہ آخرت میں۔ انسان کو یک رنگ ہونا چاہیے۔ اس کے قول و فعل میں تضاد اس کی شخصیت پر گہرا منفی اثر ڈالتا ہے۔ انسان کو اپنے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کرنی چاہیے۔ تمام منکرات اور واہیات سے دور رہنا، اور خود کو ظاہری و باطنی دونوں اعتبار سے پاک رکھنا لازمی امر ہے۔
ایک ہی دل میں ایمان، نیکی کا جذبہ، عقیدۂ آخرت، اور دوسری طرف طاغوت، نفسانی خواہشات، ظلم اور کفر، یہ سب ایک ساتھ کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔
آج جب میں اس دن کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کیفیت میرے لیے معمولی بات نہیں تھی، بلکہ اس واقعے میں میرے لیے ایک ایسا پیغام تھا جسے میں نے پا لیا۔
چوں میگویم مسلمانم، بلرزم
کہ دانم مشکلاتِ “لا إلہ” را!
— علامہ اقبال
میں خود کو مسلمان کہتے ہوئے کانپ جاتا ہوں، کیونکہ مجھے “لا إلہ” کی مشکلات کا بخوبی علم ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ “لا إلہ” کہنے کے بعد کیسی کیسی آزمائشیں سامنے آنے والی ہیں۔
“لا إلہ” کہہ کر میں دنیا کے تمام باطل خداؤں کا انکار کرتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ اس اقرار کے بعد مجھ پر کون کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اور مجھے کن کن مرحلوں سے گزرنا ہے۔



تبصرہ لکھیے