ابھی تو آزاد کشمیر کی معصوم عوام کی لاشوں پر کھیلنے والے اس بھارتی ٹائوٹ کی پہلی آڈیو آئی ہے ۔ آگے آگے کیا کچھ سامنے آنے والا ہے بس دیکھتے جائیں . پنجابیوں اور پاکستانیوں کے خلاف زہریلی سازشیں کرنے والے شوکت نواز میر:
کوئی پنجابی کشمیری شناختی کارڈ نہیں بنوا سکتا ۔۔۔
کوئی پنجابی کشمیر میں پراپرٹی نہیں خرید سکتا ۔۔۔۔۔
کوئی پنجابی کشمیر میں سرکاری نوکری نہیں کر سکتا ۔۔۔۔
کشمیری دریائوں سے صرف 15 فیصد بجلی بنانے والا پاکستان، کشمیریوں کی ڈیمانڈ پر انہیں 3 روپے یونٹ دیتا ہے ۔ اور پنجابی اس کا خمیازہ 60 روپے یونٹ سے 95 روپے یونٹ تک بھگتتا ہے ۔ اور بجلی چوری کا جتنا بڑا مرکز آزاد کشمیر کا اس کا مظاہرہ میں خود دیکھ چکا ہوا ہوں ۔ کشمیر کی تاریخ میں کشمیری حکومتوں نے آج تک اپنا جی ڈی پی پورا نہیں کیا۔ کشمیری بجٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وفاق کشمیر کو 150 ارب روپے یا اس سے زائد سبسڈی دیتا ہے ۔
اس کے باوجود
کشمیری پنجاب میں آ کر رہائش خرید سکتا ہے ۔
کشمیری پنجاب میں اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں ۔
کشمیر کا ٹوٹل انفراسٹرکچر پاکستانیوں کے ٹوورازم پر چلتا ہے ۔
کشمیریوں کا پنجاب سمیت پورے ملک میں سرکاری نوکری کا کوٹا ہے ۔
کشمیری پورے پنجاب سمیت پاکستان میں اچھی پرائیویٹ فرموں میں اچھے عہدوں کے ساتھ نوکریاں کر رہے ہیں۔
پنجاب 5 دریائوں کی سرزمین ، ملک کی 60 فیصد گندم اور چاول کی ضروریات پوری کرنے والا پنجابی 2600 روپے کا 20 کلو آٹا خریدتا ہے ۔ جبکہ کشمیری وہی آٹا 1200 سے 1600 روپے میں خریدتا ہے ۔ سب کچھ چھوڑ دیا جائے تو وفاق پاکستان نے 80 سالوں میں افواج پاکستان کے ذریعے ہزاروں جانوں کا نظرانہ پیش کیا ۔ آئی ایس آئی مردہ باد کے نعرے لگوانے والوں کو کیا معلوم کہ اگر افواج پاکستان کشمیریوں کے دفاع کے لئے اپنی افواج کا 55 فیصد بجٹ نہ لگاتی تو آج پاکستان کے اوپر ایک ڈالر کا بھی قرض نہ ہوتا ۔
جانوں کا نظرانہ تو چھوڑیں ، احسان فراموشوں کے لئے اس کی کیا حیثیت ۔ان سے صرف دفاع کا خرچہ مانگ لیں تو پاکستان کے قرض سے زائد کا خرچ وفاق پاکستان 80 سالوں میں تین بڑی جنگوں سمیت کمشیریوں کی مال و جان عزت کے تحفظ کے لئے خرچ کر چکا ۔ صرف کشمیریوں کی حق خود ارادیت اور استصواب رائے کے لئے ان کی آزادی کے لئے جموں کشمیر اور آزاد کشمیر میں جہاد کشمیر کر کے ریاست پاکستان نے کس کس قسم کے سفارتی و داخلہ نقصانات اٹھائے ۔ اس کے باوجود ہندوستان کے ٹکڑوں پر پلنے والا شوکت نواز میر نے آزاد کشمیر کی سڑکوں پر نعرے لگوائے ۔
” بھاڑ میں جائے پاکستان ”
تہمت لگا کر ماں پر جو دشمن سے داد لے ۔ایسے سخن(لاش) فروش کو مر جانا چاہیئے ۔ معصوم کشمیریوں کو تقسیم کر کے ان پر حکمرانی کے خواب دیکھنے والا ہندوستان اب تیاری پکڑ لے ۔ اور دیکھتے جائیں کہ اس کی پراکسی کو اب کیسے ننگا کیا جاتا ہے ۔ پاکستانیوں کے لئے آزاد کشمیر کا کشمیری بھی پاکستانی ہے ۔پاکستان کے علاقوں میں بسنے والا مہاجر کشمیری بھی پاکستانی ہے ۔ لاکھوں کشمیریوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والا یہ ڈکیٹ ۔ ان شاء اللہ رب العزت نے ذلت اس کا مقدر بنا دینا ہے ۔
ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ۔
سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق ، یسین ملک اور آسیہ اندرابی کے ان نعروں سے جموں و آزاد کشمیر گونجتا تھا اور آئندہ بھی گونجتا رہے گا ۔ ان شاء اللہ ۔



تبصرہ لکھیے