بہت دنوں بعد پورا خاندان اکٹھا تھا۔ ایسے مواقع پر عموماً گھریلو موضوعات، ذاتی و اجتماعی دلچسپیاں، بچوں کی تربیت اورمستقبل کے منصوبے گفتگو کا موضوع ہوتے ہیں۔ مگر، آج سب کی توجہ ایک ہی واقعے پر تھی بلوچستان میں نوجوان ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب سے حملہ۔
سارے واٹس ایپ گروپس میں اسی کا ذکر ہے . اسی طرح کال کی دوسری طرف یہی موضوع۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اجتماعی طور پر کسی اور بات پر سوچنے کے قابل ہی نہیں رہا ذہن. کسی پر تیزاب پھینکنا ایک ہولناک جرم ہے، لیکن جب نشانہ ایک نوجوان ڈاکٹر ہو تو درد کی شدت اور بڑھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر بننے کے لیے برسوں کی محنت، قربانیاں، جاگتی راتیں اور لاتعداد خواب۔ اسلام نے انسانی جان اور عزت کو انتہائی محترم قرار دیا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل اور ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ پھر ایک ڈاکٹر، جو اپنی زندگی دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے وقف کرتا ہے، اس پر تیزاب پھینکنا کیا پوری انسانیت کو جھلسانے کے مترادف نہیں؟
یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ یہ ڈاکٹرز کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور عدم تحفظ کے ایک طویل سلسلے کی کڑی معلوم ہوتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی ڈاکٹرز کی کمی ہے۔وہاں طبی عملہ دشوار حالات میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ایسے واقعات پورے صحت کے نظام کے لیے سوال ہیں ۔پہلے ایسے سانحات اخبار کی ایک خبر یا ٹی وی کی ایک رپورٹ ہوتے تھے۔ اب سوشل میڈیا کے دور میں ہر خبر سیکنڈوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچتی ہے۔ ہر سکرین پر یہی دل دہلا دینے والی تصاویر، ہر گفتگو میں یہی دکھ ۔ ایک فرد کا دکھ پورے معاشرے کے ذہنی کرب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہم بار بار ایسے سانحات کے ذریعے اجتماعی صدموں سے دوچار ہو رہے ہیں۔
قانون سازی انصاف کا عمل سوالیہ نشان، متاثرہ طبقات خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ یہ حملہ صرف ڈاکٹر ماہ نور پر نہیں ہوا۔ اس نے ہزاروں نوجوان ڈاکٹرز کے دلوں میں خوف پیدا کیا ہے کہ کیا ان کا پیشہ محفوظ ہے؟ کیا ان کی محنت، صلاحیت اور خدمت انہیں تحفظ فراہم کر سکتی ہے؟
ہم نے مختلف ادوار میں وکلا کو نشانہ بنتے دیکھا، صحافیوں پر سخت وقت آتا دیکھا، کئی صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ آج ڈاکٹرز عدم تحفظ کا شکار ہیں کل کس کی باری ہوگی؟
سوال یہ نہیں کہ مجرم کون ہے۔ سوال یہ ہے کہ قانون کا خوف کہاں ہے؟
جب پورا معاشرہ ایک واقعے سے لرز اٹھے، جب ہر گھر میں اسی کا ذکر ہو، جب لوگ اپنے پیشوں اور مستقبل کے بارے میں خوف محسوس کرنے لگیں، تو یہ محض ایک فرد کا المیہ نہیں رہتا بلکہ ایک قومی مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہ اجتماعی درماندگی ہمیں آخر کہاں لے جائے گی؟
اللہ رب کریم ڈاکٹر ماہ نور کو جلد اور کامل صحت عطا فرمائے۔آمین.



تبصرہ لکھیے