ایوانِ اقبال لاہور میں منعقدہ حالیہ ثقافتی تقریب نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات صرف سفارتی محاذ تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک دیرپا تہذیبی رشتہ بھی ہیں جو ادب، زبان اور مشترکہ تاریخی ورثے سے مضبوط ہوا ہے۔
مہمانِ خصوصی قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران لاہور مہران موحدفر اور مہمانِ اعزاز ڈی جی خانہ فرہنگ لاہور ڈاکٹر اصغر مسعودی نے اپنے خطابات میں اس تعلق کی تاریخی، فکری اور اخلاقی جہتوں پر روشنی ڈالی۔ایڈمنسٹریٹر ایوانِ اقبال، انجم وحید کی میزبانی میں منعقدہ اس تقریب میں سینئر صحافی و تجزیہ نگار سلمان غنی اور ڈاکٹر محمد سلیم راؤ نے بھی فکر انگیز تقاریر سے محفل کو ثروت بخشی۔ تقریب میں ایرانی ثقافت اور تاریخی مقامات کی تصویری نمائش نے شرکاء کی خصوصی توجہ حاصل کی جبکہ مختلف ادبی و تعلیمی حلقوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔قونصل جنرل مہران موحدفر نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ محمد اقبال کا فارسی کلام پاکستان اور ایران کے درمیان ایک مضبوط فکری و ثقافتی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ بات محض شاعری کی تعریف نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اقبال کی فارسی شاعری میں مسلم اُمہ کی خودی، توحید اور مزاحمت کے وہ اسلوب ملتے ہیں جو ایرانی ادبی و فکری روایت سے گہری ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر اصغر مسعودی کے مطابق فارسی زبان کا تسلسل اقبال کے فکری تسلسل سے جڑا ہوا ہے اور اسی تسلسل نے دونوں قوموں کو فکری ہم آہنگی عطا کی ہے۔لاہور اور ایران کی تاریخی عمارتوں میں معماری کا میل جول واضح دکھائی دیتا ہے۔ شاہی محلات، قدیم مساجد اور بازاروں میں ایرانی طرزِ تعمیر کے اثرات نمایاں ہیں، جو اس باہمی تہذیبی رسوخ کی مادی علامتیں ہیں۔
ادبی سطح پر حافظ شیرازی، سعدی شیرازی اور علامہ اقبال کا مشترکہ مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ خطے میں ثقافتی یکجہتی صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال کی ایک زندہ حقیقت بھی ہے۔سرکاری اور نیم سرکاری ریکارڈز کے مطابق 2018ء سے 2024ء کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کم از کم 30 ثقافتی اقدامات کیے گئے جن میں سیمینارز، تصویری نمائشیں اور ادبی محافل شامل تھیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فارسی ادب سے دلچسپی کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان اور ایران کی 909 کلومیٹر طویل سرحد دونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز اور مفادات سے جوڑتی ہے۔ افغانستان کی بدلتی صورتحال، سرحدی سکیورٹی اور قبائلی علاقوں کی سماجی ساخت دونوں ریاستوں کے لیے مشترکہ ایجنڈا ہیں۔ یہی جغرافیائی قربت سفارتی فیصلوں کو مقامی سطح پر فوری طور پر مؤثر بناتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک متوازن، فعال اور مؤثر سفارتی مکالمہ جاری رکھیں۔ سلمان غنی نے اپنے خطاب میں خطے کی سیاست کی تیزی سے بدلتی نوعیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا چاہیے۔
ان کے مطابق عالمی طاقت کے توازن میں اقتصادی اور سفارتی پہلو عسکری طاقت کے برابر اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔قونصل جنرل مہران موحدفر نے ایران کی حکمتِ عملی اور عوامی مزاحمت کے جذبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کسی سپر پاور سے خوف زدہ ہونے والی نہیں اور وہ مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے۔ عالمی تناظر میں امریکہ ایران کشیدگی نے خطے میں عدم استحکام، توانائی کی منڈیوں میں بے چینی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر 2019ء سے 2023ء کے دوران خلیجی تیل برداری میں مشکلات اور بعض بندشوں نے عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر ڈالا، جس کے اثرات خطے کی کمزور معیشتوں تک بھی پہنچے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار نہایت نازک اور اہم ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، توازن اور سفارتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران بھی پاکستان نے ایران کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھتے ہوئے تحمل، مذاکرات اور امن کی ضرورت پر زور دیا۔ ایرانی قیادت کی سفارتی حمایت، باہمی رابطوں اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ خواہش نے یہ واضح کیا کہ دونوں ممالک محاذ آرائی کے بجائے تعاون اور مفاہمت کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نہ صرف کشیدگی میں کمی کے لیے متوازن مؤقف اختیار کیا بلکہ خطے کے امن، اقتصادی استحکام اور عوامی مفادات کو بھی مقدم رکھا۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی حکمتِ عملی قومی مفاد، متوازن سفارتکاری اور علاقائی حقیقتوں کے مطابق ترتیب دے۔
پاکستان کو کسی بھی فریقیت سے گریز کرتے ہوئے ثالثی اور امن مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں جبکہ سرحدی نگرانی، مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ اور معاشی مواقع کی فراہمی کے ذریعے غیر قانونی نقل و حرکت اور بدامنی کے امکانات کو کم کرنا چاہیے۔ اسی طرح توانائی، تجارت اور ٹرانزٹ منصوبوں میں عملی پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنا سکتی ہے جبکہ علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر مؤثر سفارتی رابطے کشیدگی کو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے دائرے میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
تقریب میں پیش کی گئی تصویری نمائش اور ادبی مباحثوں نے واضح کیا کہ ثقافت نرم قوت کے طور پر کشیدگی کے لمحات میں بھی رشتوں کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر محمد سلیم راؤ نے کہا کہ اقبال اور ایرانی شعرا کا مشترکہ ادبی ورثہ خطے میں شعور اور وحدتِ فکر کو فروغ دیتا آیا ہے۔ادبی اور تعلیمی تبادلوں کے ذریعے نوجوانوں میں باہمی احترام اور مثبت تاثر کو فروغ ملتا ہے۔ ایک علاقائی سروے کے مطابق ثقافتی تبادلوں میں شریک نوجوانوں میں ہمسایہ ممالک کے بارے میں مثبت ذہنیت 25 سے 30 فیصد زیادہ پائی گئی۔تقریب میں شریک اساتذہ، طلبہ، دانشوروں اور شہریوں نے نمائش اور تقاریر کو سراہا۔
سلمان غنی کے خیالات نے علاقائی حقیقتوں کو اجاگر کیا جبکہ انجم وحید کی میزبانی نے ثقافتی مکالمے کو مؤثر انداز میں منظم کیا۔مقامی سطح پر ایسے پروگرام شہریوں اور علمی حلقوں میں باہمی فہم و الفت کو فروغ دیتے ہیں جس کے طویل المدت اثرات سیاسی اور سماجی سطح پر بھی مثبت صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔ایران اور پاکستان کا رشتہ ایک تہذیبی، تاریخی اور جغرافیائی حقیقت ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے لیے بہترین راستہ ایک متوازن، پُرامن اور قومی مفاد پر مبنی پالیسی ہی ہے جس میں ثقافتی اور اقتصادی تعاون کو خاص اہمیت حاصل رہے۔
ایوانِ اقبال کی یہ محفل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ادب، زبان اور مشترکہ تاریخ وہ بنیادیں ہیں جو مشکل حالات کے باوجود تعلقات کو مضبوط رکھ سکتی ہیں۔ اگرچہ خطے میں خطرات موجود ہیں، تاہم مستقل سفارتی مکالمہ، ثقافتی تبادلے اور عملی اقتصادی منصوبے امن کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں اور یہی وہ راستہ ہے جس پر گامزن رہنا ضروری ہے۔



تبصرہ لکھیے