ہوم << سفید چمڑے والے انسان کے سیاہ کرتوت – عبدالغفار بگٹی
600x314

سفید چمڑے والے انسان کے سیاہ کرتوت – عبدالغفار بگٹی

اس سفید چمڑے والے انسان نے سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی تک پورے افریقہ کو اپنا غلام بناکر ایک منڈی سجائی اور ان سادھا لو انسانوں کو جانوروں کے ساتھ باندھ کر اپنی زمین کو ہموار کیا ۔ ان کے ذریعے اپنی بنائی ہوئی جاگیرداری نظام کو مضبوط کیا ۔ پورا افریقہ دو صدیوں تک جاگیرداری کی معاشی چکی میں پستا رہا۔

پھر جب اس سے فرصت ملی تو انہیں سفید چمڑے کے اپنے بنائے ممالک برطانیہ، فرانس، بیلجیم اور پرتگال نے 1880ء سے 1914ء تک “افریقہ کی تقسیم” کی جس سے 90 فیصد افریقہ ان کے قبضے میں آ گیا۔ لاکھوں افریقیوں کو جنگی سامان بنایا ۔ اس طرح سفید چمڑے والے انسان نے ڈیڑھ سو سال تک ایشیا اور افریقہ کو کالونی بنائے رکھا۔ایک محتاط اندازے کے مطابق برطانیہ نے ہندوستان سے تقریباً 45 ٹریلین ڈالر لوٹے۔ فرانس نے الجزائر سے قدرتی وسائل چوس لیے۔ دونوں عالمی جنگوں میں ان سفید فام طاقتوں نے کروڑوں انسانوں کی جانیں لیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پہلی جنگ میں 2 کروڑ، دوسری میں 7 کروڑ ہلاکتیں ہوئیں ۔

سرمایہ داری کا بانی بھی یہی “سفید چمڑے والا” انسان بنا، جس نے انسان کو لامتناہی دولت کی دوڑ میں دھکیل دیا۔ تیل اور گیس کی دریافت پر قبضے کے لیے ہر چال چلی۔ 1953ء میں ایران میں موسیٰ صدر شاہ کے خلاف بغاوت کروائی، 2003ءمیں عراق پر حملہ کرکے صدام کو ختم کیا۔عرب ممالک کے تمام تر تیل کے ذخائر اپنے قبضے میں لے لیے۔ پٹرول ڈالر معاہدہ کروایا ۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے بھی انہی کی دَین ہے ، جو تیسری دنیا پر قرضوں کا بوجھ ڈالے حکمرانی کررہے ہیں، پاکستان آج 130 بیلین ڈالر کا مقروض ہے ۔

فلسطین میں تین سالوں کے اندر اندر ستر ہزار معصوم بچوں کو بے دریغ قتل کروایا۔ اِس میں بھی اس سفید چمڑے والے انسان کا براہ راست ہاتھ ہے ۔ اب ڈیٹا بیسز اور سائبر ٹولز سے پوری دنیا کی حکومتیں کنٹرول کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سفید چمڑے والے انسان کی اپنی بنائی دنیا کو سامراج کہا جاتا ہے ۔ آج کل سامراج سارا زور ہمارے خطے پر ڈال رہا ہے ۔ مغربی اور جنوبی ایشیاء سامراج کی جنگ کا میدان بن چکےہیں۔ 28 فروری 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل نے مل کر تہران، اصفہان اور دیگر شہروں کے تیل مراکز کو حملوں کا نشانہ بنایا ۔

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو مار ڈالا ، تاکہ ایران کی تیل سپلائی روکی جائے اور عرب اتحادیوں کے ذریعے ڈالر میں فروخت بڑھے۔ اب تک یہ جنگ جاری ہے ۔ یہ سامراج کی پرانی چال ہے: تیسری دنیا کی سپلائی روکو، محصولات لگاؤ، حکومت بدلو، تیل پر قبضہ کرو۔ افغانستان اور بلوچستان سے معدنیات پر بھی سامراج کی نظر ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں 6 ٹریلین ڈالر کے تانبا، سونا، گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ اور کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماحول بنانے کا مقصد چین کی بیلٹ اینڈ روڈ کو روکنے کی ایک کوشش بھی ہوسکتی ہے ۔

امریکہ نے 2025ء میں دنیا بھر 100 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے ہیں۔اج کے دن 151 ملین ڈالر کے ہتھیار اسرئیل کو ہنگامی بنیادوں پر فروخت کرنے کی اجازت دی ہے ۔امریکن حکام کا کہنا ہے کہ ہمارے خطے میں جنگ کی وجہ مذہبی گروہوں کو کنٹرول کرنے کی ایک کوشش ہے جو اسرائیل پر حملے کر رہے ہیں۔ پاکستان کی سیٹیٹ پالیسیوں میں بھی واضح دو غلاے پن کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔اس جنگ سے دو روز قبل افغانستان پر حملہ کیا ،20 فروری 26ء کو سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کیا ، غزہ تعمیر ِنو کے لیے امریکی امن بورڈ میں شمولیت، 2025ء میں ٹرمپ کو نوبل نامزدگی، اور عرب فوجی تعلقات،یہ سب ایران سے یکجہتی توڑنے کے لیے اور امریکہ کے ساتھ بھارت کے مقابلے میں تعلقات بنانے کی ایک کوشش بھی ہے۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی 25-26 فروری کو اسرائیل کا دورہ، غزہ نسل کشی کی توثیق کی، اور اس کے ساتھ سرمایہ دارانہ بلاک سے اعلانیہ جُڑ گیا۔ ایران کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے۔مگر اقوامِ متحدہ میں اسے ویٹو تک محدود ہوتی نظر آرہی ہے ۔کیونکہ چین نے سلیف ڈیفنس والے پالیسی اپنائی ہوئی ہے،میرے خیال میں یہ سرمایہ داری بمقابلہ اشتراکیت کی جنگ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یورپی سامراجی قوتوں نے عراق، شام، لبنان، فلسطین، افغانستان، ویت نام، کوریا، الجزائر، لیبیا، یمن تباہ کیے،لاکھوں لوگوں کو مار دے ، وسائل لوٹے۔

اب نظر ایران، افغانستان اور بلوچستان پر ہے۔ پاکستان کی اشرافیہ اپنی شاہ خرچیوں کے لیے، امریکی امداد سے مہنگائی بڑھا رہی . 2026ء میں 25% افراط زر بڑھ چکی ہے. بنی نوع انسان کو سامراج اور اس کے سہولت کاروں کو اور ان کے پالیسیوں کو ایکسر مسترد کرنا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

عبدالغفار بگٹی

عبدالغفار بگٹی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، سماجی کارکن اور ادیب ہیں۔ ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے تعلق ہے۔ پروگریسیو رائٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں۔ بلوچستان کی سیاست و سماج پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment