ہوم << قبائلیت یا جمود؟ ڈیرہ بگٹی کے مڈل مین نظام اور وڈیرہ کلچر کا تنقیدی جائزہ – عبدالغفار بگٹی
600x314

قبائلیت یا جمود؟ ڈیرہ بگٹی کے مڈل مین نظام اور وڈیرہ کلچر کا تنقیدی جائزہ – عبدالغفار بگٹی

کسی بھی علاقے میں جب طویل عرصے تک حالات غیر یقینی یا شورش زدہ رہیں ، تو وہاں کے سماجی رویے اور معیشت گہرے طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ بلوچستان، اور بالخصوص ڈیرہ بگٹی کی موجودہ صورتحال کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ خرابیاں صرف انتظامی کمزوریوں کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ اس کا اصل ذمہ دار وہ مخصوص نظام ہے جو ریاست اور عام شہریوں کے درمیان ایک مصنوعی دیوار بن کر کھڑا ہے۔

سنہ 2000ء کے بعد خراب ہونے والے حالات کا فائدہ اٹھا کر علاقے میں ایک مخصوص ‘مڈل مین’ طبقہ ابھرا۔ قبائلی عمائدین اور خود ساختہ معتبرین پر مشتمل ان لوگوں نے ریاست اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والے خلا کو اپنے ذاتی اور مادی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ یہ وہی طبقہ ہے جس کا معاشی گراف دو دہائی قبل انتہائی کم تھا، مگر آج یہ لوگ کروڑوں روپے کی گاڑیوں، اور اسلام آباد، کراچی و کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں ذاتی کوٹھیوں اور وسیع کاروبار کے مالک بن چکے ہیں۔

اس تضاد کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس مڈل مین طبقے میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ماضی میں قبائلی نظام اور روایتی جبر کے خلاف نعرے لگاتے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ خود اسی استحصالی نظام کا نیا روپ اختیار کرلیا ہے۔ انہوں نے مختلف ادوار کی حکومتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ان علاقوں کو، جہاں مقامی معتبرین اور روایتی جرگے فیصلے کرتے تھے (بی ایریاز)، انہیں پولیس اور تھانے کے نظام (اے ایریا) میں تبدیل کر کے اپنی سیاسی و انتظامی گرفت کو مزید مضبوط کر لیا۔ اس عمل کے دوران مقامی متبادل آوازوں اور شریف النفس معتبرین کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی، قبیلے کی اجتماعی اور مشترکہ زمینوں کو، جو کبھی باہمی یکجہتی کی علامت ہوا کرتی تھیں، انفرادی ملکیتوں میں بانٹ دیا گیا۔

جب مشترکہ مفاد کا تصور ہی ختم ہو گیا اور انفرادی مفادات حاوی ہو گئے، تو سیاست کا محور بھی بدل گیا۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہمیں ماضی کے نظام سے بھی کوئی ہمدردی نہیں تھی، مگر موجودہ نظام کے طرزِ عمل سے بھی شدید اختلاف ہے۔آج ڈیرہ بگٹی کا یہ نیا ‘وڈیرہ کلچر’ عوامی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مثال کے طور پر، گزشتہ سال پی پی ایل (PPL) گیس کمپنی کی جانب سے ملنے والی 50 تعلیمی اسکالرشپس کا بڑا حصہ مبینہ طور پر بااثر افراد کے بچوں اور ان کے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا گیا، جو اس وقت ملک کے مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ اصل مستحق طلبہ محروم رہ گئے۔

اسی طرح لیویز فورس میں بھرتیوں کے دوران ‘دفعہ دار رسالدار’ اور سپاہیوں کی اسامیاں بھی میرٹ کے بجائے پسند ناپسند کی بنیاد پر بانٹی گئیں اور ان اسامیوں کی مبینہ خرید و فروخت کے شواہد بھی سامنے آئے۔ حد تو یہ ہے کہ عوامی ریلیف اور رمضان راشن کی تقسیم میں بھی اقربا پروری کا مظاہرہ کیا گیا۔ گیس کمپنیوں کی یونینز اور وہاں چلنے والی گاڑیوں کے کنٹریکٹس پر مخصوص خاندانوں کا قبضہ ہے، جہاں عام شہریوں کو اسپیس دینے کے بجائے کمیشن کا نظام رائج ہے۔ یہ اشرافیہ ایک طرف تو سرکاری فنڈز اور مراعات سے مستفید ہو رہی ہے اور دوسری طرف ان کی حفاظت کے لیے سرکاری سیکیورٹی اہلکار مامور ہیں، جبکہ عام عوام بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں۔

اس مڈل مین نظام کی بے حسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت سوئی، پیرکوہ اور زین کوہ میں شدید گرمی کے موسم میں لوگ پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں کینسر کے کیسز خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں اور زہریلے پانی و زچگی کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث 2024 سے اب تک درجنوں خواتین جان کی بازی ہار چکی ہیں۔ سرکاری اسکولوں اور ہسپتالوں کا ڈھانچہ مفلوج ہو چکا ہے، مگر ان بااثر مڈل مین عناصر اور ان کے ہمنوا نام نہاد صحافیوں کو ان عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہاں ان کی زبانیں خاموش رہتی ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی شعور یافتہ نوجوان ان کے ذاتی مفادات، کرپشن یا سیاسی اجارہ داری پر سوال اٹھاتا ہے، تو یہ فوراً قبیلے اور روایات کا لبادہ اوڑھ کر اخلاقیات کا درس دینے لگتے ہیں۔

یہاں ایک اصولی موقف واضح ہونا چاہیے: اگر قبیلے کا کوئی روایتی معتبر کسی عوامی عہدے پر نہیں ہے اور نہ ہی عوام کے ٹیکسوں کا بجٹ استعمال کرتا ہے، تو اس پر تنقید کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ لیکن منافقت یہ ہے کہ جو لوگ خود کو قبیلے کا بڑا بھی کہتے ہیں اور ساتھ ہی عوامی و سیاسی عہدوں پر براجمان ہو کر کرپشن اور قانون کی پامالی کرتے ہیں، وہ تنقید کا نشانہ بنتے ہی خود کو قبائلی روایات کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔ یہ طبقہ اپنی پوزیشن کو تحفظ دینے کے لیے ہر اٹھنے والی آئینی اور پرامن شعوری آواز کو ‘ریاست مخالف’ رنگ دے کر پیش کرتا ہے تاکہ اداروں کو گمراہ کر کے ان آوازوں کو دبایا جا سکے۔ اس دباؤ اور کٹھن حالات کا تجربہ مجھے خود بھی پچھلے دو تین سالوں سے نوجوانوں کے حقوق کے لیے پرامن دائرے میں آواز اٹھانے کی پاداش میں کرنا پڑا ہے۔

اگر ہم اس کا تاریخی و فکری جائزہ لیں، تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بلوچستان میں قبائلی قیادت ہمیشہ مکمل موروثی نہیں تھی۔ 1839ء سے پہلے مختلف بلوچ قبائل میں نمائندے اکثر مشاورت اور قبائلی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر چنے جاتے تھے۔ مگر برطانوی سامراج نے “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کے تحت سرداروں کو غیر معمولی اختیارات اور مراعات دے کر اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا، جس سے یہ نظام عوامی نمائندگی سے ہٹ کر جاگیردارانہ طرزِ عمل میں تبدیل ہو گیا۔ اس لیے موجودہ وڈیرہ کلچر قدیم بلوچ روایت کا حصہ نہیں، بلکہ نوآبادیاتی اثرات اور طبقاتی مفادات کا مجموعہ ہے۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جاگیرداری اور قبائلی طاقت کا نظام صرف یہاں تک محدود نہیں تھا، بلکہ یورپ، ایشیا اور افریقہ میں بھی صدیوں تک رہا۔ مگر دنیا نے وقت کے ساتھ صنعتی انقلاب کے بعد جدید جمہوری نظریات کو قبول کیا، جہاں قانون افراد سے بالاتر ہے اور تعلیم و صحت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ قومیں صرف پرانی روایات کے سہارے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ علم، انصاف اور وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے شعور سے ترقی کرتی ہیں۔آج ڈیرہ بگٹی کا پڑھا لکھا، مڈل کلاس نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے بدلتی ہوئی دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ پچھلے 15-20 سالوں میں اس طبقے کی سوچ میں واضح تبدیلی آئی ہے، جو کل آبادی کا تقریباً 60 فیصد ہے۔

یہ نوجوان اب چیزوں کو فرسودہ روایتی چشمے سے دیکھنے کے بجائے میرٹ، روزگار، پینے کے صاف پانی اور صحت کی سہولیات کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کا صاف کہنا ہے کہ نوکری ہو یا کوئی بھی ترقیاتی فیصلہ—پہلے عوام کا مفاد اور میرٹ ہونا چاہیے، روایات بعد میں آتی ہیں۔ بگٹی قبیلے کو شاخوں اور برادریوں میں بانٹ کر جو استحصال کیا جا رہا ہے، اب اس تقسیم سے نکل کر ایک متحد قوم کے طور پر اپنے حقوق کے لیے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ بگٹی قوم کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک اس فرسودہ ‘وڈیرہ سسٹم’ اور مڈل مین نظام کا خاتمہ نہیں ہوگا، تب تک علاقے میں حقیقی ترقی اور پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

مصنف کے بارے میں

عبدالغفار بگٹی

عبدالغفار بگٹی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، سماجی کارکن اور ادیب ہیں۔ ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے تعلق ہے۔ پروگریسیو رائٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں۔ بلوچستان کی سیاست و سماج پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment