تیرے میلے ہاتھوں کی لکیروں کا مقدر صحرائی
جیسے گاؤں کی کوئی سرد سیاہ رات
قحط اور افلاس میں کوئی روٹی باسی نہیں هوتی ۔ غربت کائنات کے کشکول میں گرا سب سے زیادہ کھنکنے والا سکہ ھے۔ وہ بھی درست کہتا تھا جس کے ترکے میں صرف امن کا پرچم تھا کہ کسی غریب کی سوچوں کے کوہ قاف پر کبھی خوشحالی کی پریاں نہیں اُترتیں۔
کیسا المیہ ھے بلکتی بھوک بنیے کے اناج سے بھرے گودام میں کسی بیوہ کے بوسیدہ سیاہ لباس کی طرح ہمکتی رہتی ھے مگر منبر ومحراب من و سلوی کی مثالوں اور شرابِ طہور کی نویدوں سے مہکتے رہتے ہیں بے حسی اور خود غرضی حد سے بڑھ جائے تو حاکم وقت ایسا سماج ترتیب دیتا ھے جس میں انسانوں کو تومقفل کر دیا جاتا ھے اور پاگل کتوں کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ھے مفلسی ایک لفظ ہی نہیں یہ روگ کی تفہیم ھے غربت مردہ زباں کا وہ زندہ لفظ ھے جو مفلس کو نیم مردہ کر دیتا ھے یہ غلامی کے اُس رویے کا نام ھے جس میں دیا روشن کرنا بغاوت تصور کیا جاتا ھے جس عہد میں غربت کا مداوا صرف موت هو جہاں ظلم اور فاقوں کا راج هو وہاں سماج اور قبرستان میں کوئی فرق نہیں ہوتا ایسے دور کو اپنے عُمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلاش ہوتی ھے ۔
انسان تو انسانیت سے بنتا ھے چہروں پر آدمی لکھ دینے سے کوئی انسان نہیں بن جاتا دلوں میں مال و زر کا لالچ رویوں میں سفاکی اور بے حسی آ جائے تو وہ وجود سے کفن اور کافور کی بو آنے لگتی ہے اور چہرے کتبے بن جاتے ہیں اور نہ جانے کیوں رم جھم برکھا سے نکھرے اور دُھلے کتبے بھی اُداس لگتے ہیں اور فانی دنیا کی داستان سُنا رھے ہوتے ہیں۔ لالچی انسان دوسروں کا حق غصب کرتے کرتے ذہنی طور پر چیونٹی بن جاتا ھے اور چیونٹی کے گھر میں اناج اس قدر بھر جاتا ھے کہ اکثر اوقات اُس کے اپنے رہنے کی جگہ بھی نہیں بچتی۔ لالچ کے بازار میں رشتوں کے کھوٹے سکے چلتے ہیں۔ لالچ کی رقاصہ ھے بھی کمال جاذبِ نظر اور لالچ تو جنت کابھی بڑا دلفریب ہوتا ھے ۔
حوا کی بے گناہ معصوم بیٹی روتی ہوئی معافیاں مانگتی رہتی ھے اور ’’پارسا‘‘ پتھر تلاش کر رھے ہوتے ہیں۔ یہ لالچ اور بھوک کا خوف ہی تو ھے جس نے بیشمار انسانوں کو غربت کے جہنم میں دھکیل دیا ھے اور جس نے محبت کے کھلیانوں کو نفرت کی آگ میں جھونک دیا ھے سہمے ہوئے خالی شکم کی آگ کا دُکھ وہی محسوس کر سکتا ہے۔ جس نے بھوک و افلاس کی ماری فاقہ ذدہ ماں کی لوری سُنی ہو اور جس کی ماں نے خود کھلونے بیچنے والے کی گلی سے آتی آواز کو سُن کر بچوں کو اونچی آواز سے باتوں میں اُلجھایا هو ۔ استعماریت کے نقشِ قدم پر چلتا یہ نظام ایک استحصالی معاشرہ ہی تشکیل دے سکتا ھے جہاں جُرمِ ضعیفی کی سزا غلامی اور مرگِ مفاجات ھی ہوا کرتی ھے ۔
جہاں دیا روشن کرنا بغاوت کہلاتا ہو اُن اندھوں کی بستی میں روشنی بھی اپاہج ہوتی ھے اور سوچ مفلوج۔ جس قوم میں زردار ہی صاحبِ دستار اور معتبر ٹھہرے جہاں قارون صاحب فہم و فراست کہلائے جہاں حیات کو گروی رکھ کر شکم کا جہنم بھرا جاتا هو جہاں جبر و استبداد کے دیو کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کے لیے زمین تنگ کر دی جاتی ہو پھر وہاں زمین خلائوں کا کفن پہن لیتی ھے دھرتی جنازہ بن جاتی ہے بارش کے اندر بارش ہونے لگتی ھے اور خوشیاں سنگسار کئے جانے والے شخص کو لگے اُس آخری پتھر کی طرح ہو جاتی ہیں جو بے روح جسم کو لگا هو ۔



تبصرہ لکھیے