حضور اکرم صلّی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلّم سے منسوب جبہ جو قندھار میں موجود ہے اور تین حکمرانوں کی کہانی بھی ہے. جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں اس عباء کو اپنی حکمرانی کی سند اور طوالت کے لئے استعمال کیا .
احمد شاہ درانی جسے احمد شاہ ابدالی بھی کہا جاتا ہے وہ 1722ء کو ہرات میں پیدا ہوا. اس نے1747ء سے لے کر 1772 ء تک پچیس سال افغانستان پر حکومت کی اسے موجودہ جدید افغانستان کا بانی کہا جاتا ہے. افغانی عقیدت و محبت سے اسے احمد شاہ بابا بھی کہتے ہیں . اس کی سلطنت دریائے آمو سے بحیرہ عرب تک پھیلی ہوئی تھی جسمیں ایران کا بیشتر حصہ تقربیاً سارا سنڑل ایشیا اور دہلی اور کشمیر گلگت تک کا علاقہ شامل تھا. وہ نادر شاہ افشار کا بڑا وفادار اور چہیتا جرنیل تھا 20 جون 1747ء کو نادر شاہ کے حفاظتی عملے نے خراسان کے شہر قوچان میں سوتے وقت اسے قتل کر دیا. نادر شاہ پر قاتلانہ حملے کی خبر سن کر احمد شاہ درانی اپنے ابدالی سرداروں کے ساتھ موقعہ واردات پر پہنچا تو اسے نادر شاہ کی سر بریدہ لاش پڑی ملی.
اس نے نادر شاہ کی انگلی میں موجود شاہی مہر والی انگوٹھی اتاری نادر شاہ کے بازو بند میں بندھا کوہ نور ہیرا نکالا اور اپنے قبیلے کے ساتھ قندھار لوٹ آیا. جہاں اس نے پہلی مرتبہ آزاد افغانستان کی بنیاد رکھی افغانستان بھر سے آئےایک بڑے لویہ جرگہ نے اسے افغانستان کا حکمران تسلیم کر لیا . اس کا پایہ تخت قندھار تھا. جب وہ 1772ء میں فوت ہوا تو اسے قندھار میں دفن کیا گیا ،جس پر بعد میں ایک خوبصورت مقبرہ تعمیر ہوا. اس مقبرے سے ملحق عمارت کو خرقہ شریف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے .جہاں روایات کے مطابق حضور اکرم صلّی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلّم کا عباء یا خرقہ رکھا گیا ہے.
یہ خرقہ احمد شاہ ابدالی 1768 ء میں بخارا سے لے کر آیا تھا جو اسے بخارا کے امیر مراد بیگ نے تحفہ میں دیا تھا . بعض روایات کے مطابق جب احمد شاہ نے بخارا فتح کیا تو اس عباء کی زیارت کی خواہش ظاہر کی مراد بیگ اس اندیشے کی بناء پر متعامل ہوا کہ احمد شاہ فاتح ہے. کہیں اس پر قبضہ نہ کر لے لیکن احمد شاہ نے اسے یقین دلایا اور دور میدان میں نصب ایک چٹان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حلف دیا کہ عباء اس چٹان کے پار نہیں لے جایا جائے گا . جب جبہ اس کے سامنے لایا گیا تو اس نے ادب سے اسے بوسہ دینے کے بعد حکم دیا کہ چٹان کو اکھاڑ کر ہاتھی پر لاد دیا جائے اور قندھار کی طرف کوچ کیا جائے اور چٹان کے پیچھے خود بھی عازم قندھار ہوا.
قندھار پہنچ کر اس نے اس چٹان کو ایک میدان میں نصب کیا اور ایک مسجد بنوا کر عبا ء کو اس میں محفوظ کر دیا . یہ چٹان آج بھی موجود ہے . وہ افغانستان میں اس جبے کا پہلا متولی تھا اور اسی حوالے سے عوام کے اندر اس کے لئے عقیدت و محبت کا بے پناہ جذبہ بھی پیدا ہوا .اور لوگ اسے احمد شاہ بابا کے نام سے بلانے لگے. مرنے کے بعد وہ اسی مسجد کے پہلو دفن ہوا. مجھے 1993 میں احمد شاہ ابدالی کے مزار اور اس سے ملحقہ مسجد اور خرقہ شریف کی عمارت دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی . پچھلے 250 سال سے ایک ہی خاندان اس عباء کا متولی ہے اور اسے خرقہ شریف کی عمارت کے اندر ایک ٹرنک میں محفوظ رکھا جاتا ہے . اور بہت ہی خاص مواقع پر اس کی نمائش کی جاتی ہے .
جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تو 1996ء میں ملا عمر نے احمد شاہ درانی کے مقبرے کے سامنے بنے چبوترے پر کھڑے ہوکر ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے اس عباء کو ٹرنک سے نکال کر چوما .اور پھر ہوا میں لہرا کر اپنی حکومت کا اعلان کیا . سارا میدان “امیر المومنین” کے نعروں سے گونج اٹھا . اور یوں گویا ملا عمر نے احمد شاہ ابدالی اور حضور اکرم صلّی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلّم سے اپنی نسبت کا اظہار کیا . اور قندھار کو طالبان کا دارلحکومت قرار دیا . صدیوں کے بعد پہلی مرتبہ عام لوگوں کو اس عباء کی زیارت کا موقعہ ملا . خرقہ شریف کے موجودہ متولی قاری شوالی کے مطابق اس کی زندگی میں ملا عمر سے پہلے صرف دو لوگوں کو اس کی زیارت کا شرف حاصل تھا .
ایک افغانستان کا آخری بادشاہ ظاہر شاہ
اور دوسرا پیر احمد شاہ گیلانی
افغانستان پر امریکی فوج کے قبضے کے بعد سترہ جون 2018ء میں اشرف غنی قندھا ر گیا اور اس عبا ء کی زیارت کی. اور اس عباء کے حوالے سے طالبان کو اس کی حکومت تسلیم کرنے اور افغانستان میں امن قائم کرنے کی درخواست کی ، جسے طالبان نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ جب تک افغانستان میں ایک بھی غیرملکی موجود ہے. جنگ جاری رہے گی اور اشرف غنی امریکیوں کی غلامی کرنے کی بجائے طالبان کے شانہ بشانہ آزادی کی جنگ میں حصہ لے . افغانستان کے خرقہ شریف کی کہانی دراصل ان تین حکمرانوں کی کہانی بھی ہے جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں اس عباء کو اپنی حکمرانی کی سند اور طوالت کے لئے استعمال کیا .



تبصرہ لکھیے