ہوم << قائدِ اعظم ثانی - حماد یونس

قائدِ اعظم ثانی - حماد یونس

1971 کی جنگ میں پاکستان کو سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ جَھیلنا پڑا۔ اس میں اپنوں کے جرائم اور قصور، دشمن کی چالوں سے کہیں زیادہ سنگین تھے، مگر مختصر احوال تو یہی ہے کہ بھارتی فوج نے پاکستانی فوج کو شکست دے دی!!!
اندرا گاندھی شادیانے بجاتی نظر آئیں کہ آج بھارت نے نظریہ پاکستان کو خلیجِ بنگال میں غرق کر دیا ہے!!!
90 ہزار سے زائد پاکستانی ، جس میں پاکستانی فوجی ، رضا کار اور محب وطن پاکستانی سویلینز بھی شامل تھے ، بھارت کی قید میں چلے گئے ۔ زخموں سے چُور قومی وقار کو مزید دھچکا تب لگا ، جب ستمبر 1972 میں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بھارتی ایٹمی قوت کو آزمانے اور ٹیسٹ کرنے کا حکم جاری کیا اور 1974 میں پہلا کامیاب تجربہ بھی کر دیا گیا ۔ اس تجربے کا نام smiling budha رکھا گیا ، یعنی ، مسکراتے ہوئے گوتم بُدھ ۔۔۔

اس وقت ڈاکٹر عبد القدیر خان کہاں تھے؟؟؟
ڈاکٹر عبد القدیر خان نے مغربی جرمنی کے دارالحکومت مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی
، ہالینڈ کی ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور بیلجیم کی کیتھولیئک یونیورسٹی لُوون سے میٹالرجیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کی۔
انہیں ہالینڈ کی ریسرچ لیبارٹری میں ایک بہترین ملازمت مل گئی تھی ، جہاں ہزاروں ڈالرز ماہانہ ان کو تنخواہ مل رہی تھی ۔
پھر انہوں نے ایک منظر دیکھا ۔
16 دسمبر 1971 میں جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار پھینکے، اور ملک دو لخت ہو گیا۔ یہ منظر پوری دنیا میں دکھایا گیا اور کرنل صدیق سالک نے اپنی کتاب، "ہمہ یاراں دوزخ" میں اس منظر کا عنوان رکھا، "ہتھیار بر زمین شو"
یعنی "surrender "
صدیق سالک بھی ان ہتھیار پھینکنے والوں میں سے ایک تھے۔
اس منظر کو دیکھ کر چپ چاپ آنسو بہانے والے تو بہت پاکستانی تھے مگر ڈاکٹر عبد القدیر خان وہ واحد پاکستانی تھے جو حقیقتاً کچھ کرنے پر قادر تھے ۔
چنانچہ 1974 میں جب بھارت نے اپنا کامیاب ایٹمی تجربہ کیا تو ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ہالینڈ میں پاکستانی سفارت خانے سے بات کی کہ وہ پاکستان کو ایک ایٹمی قوت بنا سکتے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ان کی بات غور سے سنی اور انہیں پاکستان تشریف لانے کی دعوت دی۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپنی ہزاروں امریکی ڈالرز کی تنخواہ کو ترک کیا اور چند سو پاکستانی روپوں پر اپنے ملک کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا بیڑہ اٹھا لیا ۔
،پاکستان میں خان ریسرچ لیبارٹریز کے نام سے ایک تحقیقاتی ادارہ قائم کیا گیا ، جس کے ڈائریکٹر اور سب سے بڑے سائنس دان کی حیثیت سے ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بہت عرصے تک اپنی خدمات انجام دیں ۔ اس دوران ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ پہلی مشکل تو ایٹمی قوت کے حصول کے لیے درکار مواد کا موجود نہ ہونا تھا۔ دوسری جانب عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے مختلف ممالک پر یورینیم کی افزودگی پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔ تیسرا اور حقیقتاً سب سے بڑا مسئلہ تھا پاکستان کے دشمنوں کے عزائم۔چنانچہ اسرائیل اور بھارت نے کئی بار پاکستانی ایٹمی نظام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیل نے سات جون 1981 کو عراق کے نامکمل ایٹمی پروگرام کو فضائی حملے کے ذریعے تباہ کر دیا اور اگلے مرحلے میں اس کا ہدف خان ریسرچ لیبارٹریز اور پاکستانی ایٹمی پروگرام کی بربادی تھا ۔چنانچہ بھارت اور اسرائیل نے 2 بار کہوٹہ میں خان ریسرچ لیبارٹریز پر حملہ کرنے کی کوشش کی مگر عالمی دنیا میں پاکستان کے دوستوں نے اس سازش کی خبر بروقت پاکستان تک پہنچا دی ۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اغوا کرنے کی کوشش بھی کی گئی اور ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا گیا ۔
دوسری جانب عالمی سطح پر ڈاکٹر عبد القدیر خان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے ، مثلاً یہ کہ انہوں نے پاکستانی ایٹمی پروگرام ہالینڈ سے کاپی کیا ہے اور اسی قسم کے مضحکہ خیز خیالات مگر یہ سب سازشی نظریات پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل کو روک نہ سکے اور 28 مئی 1998 کو بد ترین عالمی و امریکی دباؤ کے باوجود پاکستان نے اپنے کامیاب ایٹمی تجربات مکمل کیے اور پاکستان کے دشمنوں اور بدخواہوں کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے۔ آج اگر پاکستان کا دفاع نا قابلِ تسخیر ہے تو اس کا سب سے بڑا سبب یہی ایٹمی پروگرام ہے ، اسے امریکہ ، بھارت اور اسرائیل اسلامی بم کا نام دیتے ہیں ، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ با ضابطہ طور پہ پاکستان ایٹمی صلاحیت سے لیس واحد مسلم ملک ہے۔
اس بارے میں کوئی رائے نہیں کہ آج اس دور میں بھی قائد اعظم کے علاوہ کوئی دوسری شخصیت ہے جس کے سب پاکستانی احسان مند اور ممنون ہیں تو وہ صرف ڈاکٹر عبد القدیر خان ہیں ۔
اگرچہ ہم ان کا قرض نہیں ادا کر سکتے نہ ان کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی کا کفارہ ادا کرنا ممکن ہے مگر ہم اپنے پاک وطن کے لیے مقدور بھر کاوش و کوشش کر کے اپنے حصے کی شمع ضرور جلا سکتے ہیں ۔

Comments

Click here to post a comment