ہوم << دعا دیجیے - افشاں فیصل شوانی

دعا دیجیے - افشاں فیصل شوانی

ایک وقت تھا جب ہر کام نوکروں سے کروانے کا رواج نہ تھا۔ گھر کے بڑے، چھوٹے موٹے کاموں کے لیے بچّوں کو آواز دے لیا کرتے تھے. دادی سودا لے کر آئی ہیں تو کسی بچّے کو آواز لگا دی کہ بیٹا ذرا پانی پِلا دینا، امّی بازار کے لیےنکل رہی ہیں تو کسی بچّے کو کہہ دیا کہ ذرا چادر پکڑا دو بیٹا، بس ابھی آتی ھوں اور تو اور محلے کی کسی آنٹی نے آواز لگا دی کہ بیٹا جلدی سے دہی لا دو اور اُس وقت کے بچے تھے کہ بِنا سوال جواب کیے فوراً کام کر دیتے تھے اور بدلے میں کیا ہی خوبصورت انعام تھا جس کی اہمیت اُس وقت تو نہیں پتہ تھی مگر وقت نے اُس کی اہمیت بتا دی اور وہ تھی دُعا جو بےساختہ منہ سے سب بچوں کے لیے نکلتی تھی.
ایک گلاس پانی کے بدلے صدا خوش رہنے کی دُعا، اماں کے پیر دبا دیے تو صدا آباد رہنے کی دعا الغرض صبح شام، اٹھتے بیٹھتے نجانے کتنی دعائیں سمیٹ لیا کرتے تھے۔ اور پھر ایک وقت آیا کہ ان دعاؤں کی جگہ ایک چھوٹے سے لفظ نے لے لی اور وہ ہے Thank you . کسی نے کوئی بھی کام کر دیا، اگلے نے Thank you سے حساب چکا دیا. اب تو خیر سے بچوں کو کسی کام کے لیے آواز دینے کا بھی رواج نہیں رہا مگر کوئی نیک بخت اگر خود سے آگے بڑھ کر کوئی کام کر دے تو انگریزی میں اس کا شکریہ ادا کر دیا جاتا ہے۔
ہم نہیں کہتے کہ شکریہ ادا کرنا بری بات ہے مگر ہماری رائے ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ چاہت ہے کہ ان بچوں کو دعا دی جائے، وہی چھوٹی سی دعا صدا خوش رہو، آباد رہو، اللہ نصیب اچھا کرے، دودھو نہائو پھولو پھلو. ان لفظوں سے محبت اور اپنائیت جھلکتی ہے. اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ Thank you کہنے والے بڑے یا ماں باپ اپنے بچوں سے محبت نہیں کرتے مگر مجھے لگتا ہے کہ ان بچوں کو شکریہ سے زیادہ بڑوں کی دعاؤں کی ضرورت ہے ۔یہ پیاری دعائیں مجھے یقین ہے سنی جاتی ہوں گی اور قبول بھی ہوتی ہوں گی. بعض لوگ جزاک اللہ بھی کہتے ہیں، اور بےشک یہ بھی دعا ہے کہ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے مگر آپ ساتھ کہہ دیں کہ خوش رہو، بیٹی کو دعا دیں جب کبھی موقع ملے، کبھی جب وہ آپ کو پانی لا کر دے کہ آباد رہو خوش رہو.
آئیے یہ روایت پھر سے زندہ کریں کہ دعا دیں اور سب کو دیں، ان سیاستدانوں کو بھی کہ اللہ انھیں ہدایت دے یا ہمیں ان سے چھٹکارا آمین. اللہ آپ کو خوش رکھے اور آپ دوسروں کی خوشی کا باعث بنیں۔

Comments

Click here to post a comment