ہوم << کربلائے کشمیر-حماد یونس

کربلائے کشمیر-حماد یونس

بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی ، جن کی مسلم دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ مسلمانوں کے حقوق کی پامالی برسوں سے ان کا مشغلہ رہا ہے۔2019ء انتخابات سے پہلے انہوں نے اپنی سیاسی جماعت ، بھارتی جنتا پارٹی کا سیاسی منشور واضح کیا تو اس میں ایک نیا نکتہ بھی متعارف کروایا گیا۔ انہوں نے قانون کے آرٹیکل -370 اے کو ختم کرنے کا عندیہ دیا۔  برس ہا برس سے وہ اس حوالے سے نفرت انگیز بیانات دیتے آ رہے ہیں ۔ مگر یہ پہلی بار ہوا کہ  انہوں نے اسے قانونی طور پر جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی بلنڈر تھا۔

یہ آرٹیکل 370- اے ہے کیا چیز؟ آرٹیکل 370 -اے ، بھارتی قانون کی ایک شق ہے۔ یہ شق ، 1954 کے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت جاری ہوئی۔ اس کے مطابق ، ریاست جموں و کشمیر کو بھارت میں ایک الگ حیثیت اور مقام حاصل تھا۔ بھارت کے زیرِ انتظام ایک ریاست کی حیثیت سے ، اس کو چند غیر معمولی قانونی حقوق حاصل تھے ۔ اس کا ایک اپنا الگ پرچم تھا ، اپنا داخلی قانون تھا اور داخلی انتظامیہ کے اختیارات بھی سب سے الگ تھے۔ وفاق کے پاس بھارتی جموں و کشمیر کے صرف تین امور میں مداخلت کا اختیار تھا ، دفاع ، مالیات اور امور خارجہ ۔ کشمیر کے حقوق شہریت بھی سب سے الگ تھے ۔ یعنی کشمیر میں کسی دوسرے صوبے یا ریاستوں کے شہریوں کو شہریت یا ملکیت کے حقوق نہیں دیے جا سکتے تھے ۔ اسی طرح ، ریاست میں سرکاری ملازمتوں پر بھی صرف ریاست کے شہریوں کو ہی فائض کیا جا سکتا تھا۔

ان سب قوانین میں تبدیلی یا ترمیم کے لیے وفاق ریاستِ کشمیر کی اسمبلی کی توثیق کی پابند تھی۔ آئین کی شق  35-  اے کشمیریوں کے  منفرد شہری حقوق کو تحفظ دیتی تھی۔ مگر پھر 2019 میں مودی برسرِ اقتدار آئے ۔ اور ظاہر ہے کہ مودی جیسوں کے لیے قانون اور آئین یا بنیادی انسانی حقوق کی کیا حیثیت ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی پارلیمنٹ میں، جہاں بھارتی جنتا پارٹی اکثریت میں تھی ، اس 370 -اے کو کالعدم قرار دیا ، اور آئنی ترمیم کی۔
اندازہ کیجیے، جب بھارتی جنتا پارٹی اور مودی (یعنی گجرات کا قصاب) قانون ساز ہوں تو پھر یہی صورت حال ہو گی۔
بھارت کے ہی ایک میرٹھی  شاعر نے کہا تھا کہ
موالیوں کو نہ دیکھا کرو حقارت سے
نہ جانے کون سا غنڈہ وزیر ہو جائے

مگر مودی سرکار نے اس جانب دھیان نہیں دیا کہ ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے کسی بھی قانون میں ترمیم کے لیے خود جموں و کشمیر کی اسمبلی سے توثیق کروانا لازم ہے۔
مگر بھارتی حکومت، جس نے 74 برس سے اقوامِ متحدہ کی سفارشات اور احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک رکھا ہے ، اس کے لیے ایک صدارتی حکم نامے یا کسی ریاست کی صوبائی اسمبلی کی کیا حیثیت ہو گی! چنانچہ، مودی سرکار منظم حکمت عملی کے تحت کشمیر میں ہندوؤں کو آباد کر رہی ہے ، تاکہ کشمیر اور پاکستان کا یہ دعویٰ ختم ہو جائے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی واضح اکثریت ہے۔ دور دراز کے صوبوں سے ہندو لا لا کر کشمیر میں آباد کیے جا رہے ہیں ، ملازمتوں کے لیے کشمیر سے باہر کے لوگ مقرر کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان اس منظر پر سراپا احتجاج ہے ، عالمی سطح پر 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر قرار دیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت عالمی سطح پر بار بار آواز اٹھائی ہے ، مگر مہذب دنیا اور بھارت کے کانوں میں جوں بھی نہیں رینگ رہی ۔ رہی بات کشمیری مسلمانوں کی ، تو وہ ساڑھے سات دہائیوں سے پاکستان کا پرچم بلند کیے ، بھارت کا مسخ ترین چہرہ دنیا کے سامنے اجاگر کیے ہوئے ہیں ۔ لاکھوں شہدا کے امین یہ کشمیری، بھارتی آمریت کی بیعت سے انکاری ہیں ، اسی لیے کربلائے کشمیر کا منظر مہذب دنیا کا منہ چِڑا رہا ہے ۔
یعقوب یاور نے کہا تھا
سانس اُلجھی ہوئی، لڑکھڑاتے قدم، خوں بہ سر وجہِ افتاد کیا پوچھنا
جس کے چہرے پہ ویرانیاں نقش ہیں، اس سے بستی کی روداد کیا پوچھنا
کربلا  ہو کہ میدانِ ہندوستاں، حق پرستوں کی تقدیر پیکار ہے
سر بہتّر کٹیں یا ہزاروں کٹیں، جاں فروشوں کی تعداد کیا پوچھنا

Comments

Click here to post a comment