ہوم << فریب – پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
600x314

فریب – پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پچاس سالہ مشہور وکیل، لاہور سے تقریباً ایک سو کلو میٹر دور سے، پچھلے دو سال سے اپنی بیوی اور پانچ سالہ بچے کے ساتھ میرے پاس مسلسل آ رہا تھا۔ موصوف گفتگو کے آرٹ سے بخوبی واقف تھا۔ الفاظ کا چناؤ، لفظوں کی جادوگری، اور شائستہ اندازِ گفتگو اُس کی شخصیت کا خاصہ تھے۔ آپ دنیا کے کسی بھی موضوع پر اُس کے ساتھ گھنٹوں بات کر سکتے تھے۔ اپنی اسی زبان کی مہارت کی وجہ سے وہ وکالت میں بھی خوب کامیاب تھا۔

حیران کن بات یہ تھی کہ وہ پانچ شادیاں کر چکا تھا۔ یقیناً جوان لڑکیوں کو اپنی اسی چاشنی بھری گفتگو سے متاثر کرتا ہوگا۔ ایک بار میں نے اُس سے اتنی زیادہ شادیوں کے بارے میں سوال کیا تو وہ چالاکی سے بولا:

“جناب! میں عورتوں کا رسیا نہیں ہوں، بے اولادی کی وجہ سے اتنی شادیاں کیں۔ پانچویں بیوی سے جب اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا تو اُس کے بعد میں نے شادی نہیں کی۔”

ایک بیٹے کے بعد خدا نے دوسرا بچہ بھی نہیں دیا تھا۔ اسی سلسلے میں دونوں میاں بیوی میرے پاس آتے تھے۔ گفتگو کی جادوگری کی وجہ سے وہ میرے بھی قریب ہو گئے تھے۔ جب بھی موقع ملتا میری مدح سرائی کرتے، تصوف اور روحانیت پر گفتگو کرتے، اور اپنی سخاوت کے قصے سناتے۔ کبھی مسلسل آتے، اور کبھی مہینوں غائب ہو جاتے۔

آج بھی کئی مہینوں کے بعد آئے تھے، مگر آج نہ اُن کی آنکھوں میں وہ ذہانت اور چالاکی کی چمک تھی، نہ چہرے پر بھرپور زندگی گزارنے والے وکیل صاحب کی رونق۔ آج وہ تمام رنگوں سے خالی، بلیک اینڈ وائٹ تصویر بنے، لاچارگی، بے بسی، پریشانی اور ماندگی کا پیکر لگ رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک زندہ لاش میرے سامنے بیٹھی ہو۔

میں اِس ناخوشگوار تبدیلی پر بہت حیران تھا، کیونکہ مجھے ہمیشہ زندگی سے بھرپور لوگ پسند رہے ہیں، جو ہر حال میں ربِ کریم پر خوش اور صابر رہتے ہیں۔ شاکر لوگوں کے چہروں پر ایک خاص روحانی سکون آمیز تبسم ہوتا ہے، جو اُن کی باطنی خوشی اور اطمینان کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ زندگی کے نشیب و فراز میں بھی مسکرا کر مسائل کا مقابلہ کرتے ہیں۔

مگر آج وکیل صاحب ایک اجڑے گلشن کی تصویر پیش کر رہے تھے۔ جو شخص ہمیشہ استری شدہ سفید لٹھے اور سیاہ واسکٹ میں ملبوس ہوتا تھا، آج کئی دن پرانے سلوٹ زدہ کپڑوں میں بیٹھا تھا۔ شیو بڑھی ہوئی تھی، بالوں میں کلر بھی نہیں لگا تھا، اور وہ ایک دم بوڑھے نظر آ رہے تھے۔

وکیل صاحب کی اس قدر افسوسناک حالت نے مجھے فوراً اُن کی طرف متوجہ کر دیا۔ میں سب کو چھوڑ کر اُن کے پاس گیا اور پوچھا:

“وکیل صاحب! خیر ہے؟ آپ نے اپنی یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟ سب ٹھیک ہے نا؟ کوئی پریشانی یا مسئلہ ہے جو آپ اِس حالت میں میرے پاس آئے ہیں؟”

یہ سنتے ہی وکیل صاحب میرے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

“سر! میں لٹ گیا… برباد ہو گیا… میری کل متاعِ حیات لٹ گئی… میں کہیں کا نہیں رہا…”

وہ مجھ سے لپٹ کر یہ سب کہہ رہے تھے اور مسلسل روئے جا رہے تھے۔ جب وہ کچھ سنبھلے تو ہم دونوں جا کر اُن کی کار میں بیٹھ گئے۔

کار میں بیٹھتے ہی وہ دوبارہ دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ اب وہ اپنے آپ کو پیٹ بھی رہے تھے۔ میں حیران و پریشان اُن کی حالت دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آخر ایسا کون سا حادثہ پیش آ گیا ہے جس نے ایک مضبوط، طاقتور، ذہین اور چالاک انسان کو بے بس بچے کی طرح رونے پر مجبور کر دیا۔

میں نے اُنہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا:

“جناب! آپ پریشان نہ ہوں۔ کچھ نہیں ہوتا، اللہ سب بہتر کرے گا۔ آپ جس مسئلے پر رو رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اُس میں آسانی پیدا فرمائے گا۔”

وہ روتے ہوئے بولے:

“جناب! اچھا ہی تو نہیں ہو سکتا… میری پریشانی کا کوئی حل اِس دنیا میں موجود نہیں۔ اب میں بس گندی نالی کے کیڑے کی طرح سسک سسک کر جان دوں گا۔ دنیا بھر کے خزانے، دولت، جاگیریں اور بادشاہیاں بھی میری پریشانی ختم نہیں کر سکتیں۔ میرے غم کا پہاڑ میری سانس کی نالی پر لٹکا ہوا ہے۔ اب میں اِسی غم، دکھ، پریشانی، پچھتاوے اور بے بسی کے نیچے دب کر مر جاؤں گا۔ میری زندگی کے اچھے دن رخصت ہو گئے…”

وہ مسلسل مایوسی کی باتیں کرتے جا رہے تھے اور دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ میرے حوصلہ دینے والے الفاظ اُن کی سماعت سے ٹکرائے بغیر ہی فضا میں تحلیل ہو رہے تھے۔ میں خاموشی سے اُنہیں دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آخر ایسا کون سا غم ہے جس کا اِس دنیا میں کوئی علاج نہیں۔

جب وہ کچھ سنبھلے تو میری طرف دیکھ کر بولے:

“پروفیسر صاحب! میں آپ کے پاس آج مسئلے کا حل لینے نہیں آیا… بلکہ اقرارِ جرم کرنے آیا ہوں۔ شاید اِسی بہانے اللہ تعالیٰ میری آخرت بہتر کر دے، یا میرے انجام کو دیکھ کر کسی اور دھوکے باز لفظوں کے جادوگر کو سبق مل جائے۔”

وہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر بولے:

“جناب! میں بچپن سے بہت چالاک، ذہین اور شاطر تھا۔ الفاظ کی جادوگری خوب جانتا تھا۔ جوان ہوا تو وکالت میں داخلہ لے لیا۔ کلاس میں میرے ایک کلاس فیلو کو ایک لڑکی پسند آ گئی۔ لڑکی بہت شریف تھی۔ بہت کوشش کے باوجود بھی وہ نہ مانی تو دوست نے مجھ سے مدد مانگی کہ کسی طرح اُس لڑکی کو اُس کے پرائیویٹ کرائے کے گھر تک لے آؤ۔”

“اب میں میدان میں آیا۔ اُس لڑکی سے دوستی کی، اپنی لفظوں کی جادوگری سے جلد ہی اُس معصوم کو اپنے جال میں پھنسا لیا۔ وہ میری محبت میں گرفتار ہو گئی۔ میں دن کو رات کہتا تو وہ دن کو رات کہتی۔ وہ میرے اشاروں پر چلنے لگی۔”

“پھر ایک رات میں اُس بیچاری کو اپنے اُس ظالم دوست کے گھر چھوڑ آیا۔ وہ کئی دن اُس معصوم لڑکی کے ساتھ منہ کالا کرتا رہا، پھر اُس کی ویڈیو بنا کر اُسے چھوڑ دیا۔ ذلت برداشت نہ کرتے ہوئے اُس لڑکی نے خودکشی کر لی…”

یہ کہتے کہتے اُس کی آواز لرزنے لگی۔

“میں وکیل بن گیا۔ شادی کی، تو پتہ چلا کہ میرے اندر اولاد پیدا کرنے کے جراثیم ہی نہیں ہیں۔ پہلی بیوی چھوڑ گئی، پھر دوسری، پھر تیسری، پھر چوتھی شادی کی… مگر ہر بیوی چند ماہ بعد مجھے چھوڑ کر بھاگ جاتی۔”

“پھر میں نے ایک انتہائی غریب لڑکی سے شادی کی تاکہ وہ بھاگ نہ سکے۔ حیران کن طور پر اُس بیوی سے ایک بیٹا پیدا ہوا۔ میں سمجھا کہ حکیم کی دوائی نے کام کر دیا ہے۔”

وہ دوبارہ رونے لگے، پھر بمشکل بولے:

“لیکن ایک دن میں نے اپنی بیوی کو حکیم صاحب کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں پکڑ لیا۔ تب اُس نے اعتراف کیا کہ یہ بچہ بھی حکیم صاحب کا ہے۔ اُس نے کہا تھا کہ تمہارا شوہر کبھی باپ نہیں بن سکتا، وہ تمہیں ایک دن چھوڑ دے گا، اِس لیے میں نے بچے کی خاطر حکیم سے تعلقات قائم کیے…”

یہ کہتے ہی وکیل صاحب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

“پروفیسر صاحب! میں نے کسی کو دھوکہ دیا تھا، خدا نے مجھے سبق دے دیا۔ جب مجھے حقیقت کا پتہ چلا تو میں بیوی کو طلاق دے کر شہر چھوڑ آیا۔ اب دن رات شرمندگی، بے بسی اور دوزخ میں جلتا ہوں۔ میری سزا کا عمل دنیا میں ہی جاری ہو چکا ہے۔”

پھر وہ آنسو پونچھتے ہوئے بولے:

“جو انسان جوانی، طاقت اور گفتگو کے غرور میں کسی کو دھوکہ دیتا ہے، فطرت اور خدا اُسے ایک دن زندہ لاش بنا دیتے ہیں…”

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment