ملک جواد علاقے کی ایک مشہور معروف سیاسی و سماجی شخصیت ہیں ان کے اندر عوام کا دکھ درد ہے یکم مئی کو انہیں یوم مزدور کی ایک تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا – ملک صاحب نے مزدور طبقے کے معاشی استحصال پر دھواں دار تقریر کی اور حکومت وقت سے مزدور طبقے کے مسائل حل کرنے پر زور دیا –
واپسی پر ملک صاحب کے ڈرائیور کچھ افسردہ سے نظر آئے ملک صاحب نے ان کی بے چینی کو محسوس کر لیا اور بولے “راجے کیا بات ہے کچھ افسردہ لگ رہے “-
“ساب جی اب تنخواہ میں گجارا نہیں ہوتا خرچے بڑھ گئے ہیں کچھ جیادہ تنخواہ دیا کریں “-
ملک صاحب بولے راجے تیرے پرانے ہونے کا لحاظ کرتا ہوں ورنہ ڈرائیور بہت ہیں- اگر کام کرنا ہے تو اسی تنخواہ پر کرنا پڑے گا- فون کی گھنٹی بجی ملک صاحب نے فون اٹھایا تو دوسری طرف سے انجمن یونین کے صدر ملک صاحب کو مزدر طبقے کے حق میں تقریر کرنے پر خراج تحسین پیش کر رہے تھے-



تبصرہ لکھیے