ہوم << سپر پاور وار – عرفان علی عزیز
600x314

سپر پاور وار – عرفان علی عزیز

راہداری میں جمیز بڑی بے چینی سے ادھر اُدھر چکر لگا رہا تھا۔ اس کے بال پریشان کن حد تک بکھرے ہوئے تھے۔ آنکھیں سرخ اور کپڑے میلے کچیلے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ کئی دن سے اس نے آنکھ نہیں جھپکی۔

تھوڑی دیر بعد وہ بند دروازے کے پاس پہنچا اور اسے دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا۔ سامنے میز پر رکھے ایک چارٹ پر نظریں ٹکا لیں۔ چارٹ پر بہت سے اعداد کی ضرب و تقسیم کی گئی تھی۔

”ہم ہر صورت کامیاب ہو جائیں گے، جمی۔“

کمرے میں ایک نوجوان داخل ہوا۔ اس کا چہرہ ہشاش بشاش تھا۔

”تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“

”تمہیں اتنا یقین کیسے ہے، سارٹن؟“ جمیز نے آنے والے نوجوان کی طرف دیکھا۔

”ہم نے برسوں سے اپنے وطن کے لیے محنت کی ہے، اور عنقریب خوشی کی لہر پورے ملک میں دوڑے گی، اور ہمارا ملک ناقابلِ تسخیر ثابت ہوگا۔“ سارٹن نے جوش سے کہا۔

”ہم کسی صورت چینیوں سے دبنے والے نہیں ہیں۔“ جمیز نے کہا، ”چین پر ہماری برتری دنیا پھر دیکھے گی۔“

”اچھا بتاؤ، کام تیار ہے؟“ جمیز نے ایک منٹ کی خاموشی کے بعد پوچھا۔

”جی ہاں۔“

”تم یہی رکو، میں دیکھ کر آتا ہوں۔“

جمیز یہ کہہ کر باہر راہداری میں آیا۔ وہاں سے نکل کر ایک اور کمرے میں داخل ہوا۔ وہاں خاص لباس پہنا، جس پر تابکار شعاعیں اثرانداز نہ ہوسکتی تھیں، اور تیز قدم بڑھاتا ہوا نچلی منزل کی طرف جانے والی سیڑھیاں اترنے لگا۔

جب وہ بڑے ہال میں پہنچا تو ایک کمرے سے دبی دبی سسکیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

ایک گھنٹے بعد جمی اوپر آگیا۔

”سارٹن، نیچے جاؤ اور گرک سے کہو کہ ہر معاملے میں احتیاط کرتے رہیں، اور مشین کی دیکھ بھال تم خود کرتے رہنا۔“

سارٹن سنتے ہی نیچے چلا گیا۔ چنانچہ جمی نے لباس اتارا اور موبائل ٹیب پر کچھ لکھنے لگا۔

”ہیلو جناب، میں نے آپ کو اپنے مشن کے بارے آگاہ کیا تھا۔ میرا مشن فیصلہ کن مراحل میں ہے۔ مشن کے لیے میں نے اپنی بیوی کو منتخب کیا ہے۔ جلد ہی میں رپورٹ کروں گا۔“

°°°

اس شخص کا نام جمیز جارج تھا اور وہ اس تجربہ گاہ کا ناظمِ اعلیٰ تھا۔ وہ ملک کا نامور سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ صدرِ امریکہ کا سائنسی مشیر بھی تھا۔

ان دنوں امریکہ اپنی سپر پاور طاقت واپس لینے میں تلا ہوا تھا۔ ایشیائی ملک چین نے اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر دنیا میں سپر پاور کا لیبل حاصل کر لیا تھا۔ یہ امریکہ کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ جنگ کا خطرہ روز بہ روز بڑھتا جا رہا تھا۔ امریکی سائنسدان نت نئے طریقے دریافت کرنے میں لگے ہوئے تھے کیونکہ چین نے تھیوریم سے نکلے ہوئے ایک تابکار مادے کی مدد سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ایٹمی اسلحہ خانوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔

اب فتح و شکست کا انحصار ایٹمی اسلحے پر نہیں، انسانی طاقت اور تعداد پر تھا۔ چین آبادی اور رقبے میں امریکہ سے کہیں بڑا ملک تھا۔ امریکیوں نے پچھلے سو سال سے ضبطِ تولید کر کے اپنی آبادی حد سے کم کر دی تھی اور اب محسوس ہو رہا تھا کہ فوج کے لیے افراد کتنے ضروری ہیں، لیکن ملکی آبادی کم ہو تو فوج کہاں سے آئے؟

وقتی طور پر تو خیر جیسے تیسے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا گیا، لیکن حکومت سخت پریشان تھی اور سائنسدانوں پر زور دے رہی تھی کہ وہ کوئی ایسا طریقہ تلاش کریں جس سے ملکی آبادی میں فوری اضافہ ہو۔

فوج کو نئے سرے سے تربیت دی جا رہی تھی اور اسلحے کی فیکٹریاں شب و روز رائفلیں بنا رہی تھیں۔ یہ فرسودہ ہتھیار، جو آج سے کم و بیش نوے سال پہلے استعمال کیے جاتے تھے، دوبارہ کارآمد نظر آنے لگے تھے کیونکہ چین کے ساتھ پچھلی جنگ میں امریکہ کا سارا ایٹمی اسلحہ تباہ ہو چکا تھا اور فریقین نے ایک دوسرے کے ذخائر کو اس طرح بے کار کیا تھا کہ آئندہ پچاس سال تک ان میں سے کوئی بھی ایٹمی تجربہ نہ کر سکتا تھا۔

ایٹمی تجربے کی صورت میں خدشہ تھا کہ تھیوریم سے نکلنے والے اس خاص مادے کی وجہ سے، جسے تھیوریم ایس کہتے تھے، وہ خود تباہ و برباد ہو جائیں۔ تھیوریم ایس کے اثرات پچاس سال سے پہلے ختم ہونے والے نہ تھے۔

ان حالات میں جمیز کو صدرِ امریکہ کا سائنسی مشیر مقرر کیا گیا۔ اس وقت بھی وہ ایک ایسے تجربے کا آغاز کرنے والا تھا جو سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچا سکتا تھا۔

کئی ماہ کی شب و روز محنت کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ تھیوریم ایس کی مدد سے نوزائیدہ بچوں پر خاص اثرات ڈالے جا سکتے ہیں۔ یہ خاص اثرات کیا تھے، اس کا اظہار وہ وقت سے پہلے نہیں کرنا چاہتا تھا۔

قدم قدم پر دشمن کے جاسوس نگرانی کر رہے تھے اور ہو سکتا تھا کہ کوئی اس کے ارادے بھانپ کر چین کو اطلاع کر دے۔ اس صورت میں اس کی کامیابی مشکوک ہو جاتی۔

جنگ کے آغاز سے اب چین والے کئی مرتبہ تجربہ گاہ پر حملہ کر چکے تھے۔ ایک بار تو انہوں نے عمارت کو شدید نقصان بھی پہنچایا۔ جمیز کی درخواست پر چند ضروری ادویہ اور مشینیں راتوں رات دوسری جگہ منتقل کر دی گئیں۔

جس عمارت میں اب وہ کام کرتا تھا، وہ بظاہر بسکٹوں کی ایک فیکٹری تھی، جہاں ہر وقت کام جاری رہتا تھا تاکہ دشمن کے جاسوس یہ اندازہ لگانے میں کامیاب نہ ہو سکیں کہ اس قدیم عمارت کے تہ خانے میں امریکہ کی مرکزی ایٹمی تجربہ گاہ کا ایک حصہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس تجربہ گاہ میں صرف تین ارکان پر مشتمل بورڈ تھا، جو جمیز کی زیر نگرانی ایک حساس تجربہ کر رہا تھا۔ اس کام سے صدرِ امریکہ کو ذاتی دلچسپی تھی اور جمیز وقتاً فوقتاً صدر کو اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتا رہتا تھا۔

اس کام میں بہت رازداری برتی جا رہی تھی۔ جمیز اور اس کے دونوں نائب، سارٹن، ہر صبح مرکزی تجربہ گاہ کی پرانی عمارت میں جاتے اور اپنے کمروں میں جا کر اندر سے دروازے مقفل کر لیتے۔ پھر وہ ایک الماری میں سے بسکٹ بنانے والے مزدوروں کا لباس پہنتے اور اپنے کپڑے اتار کر الماری میں رکھ دیتے۔ باہر سے کوئی اس کمرے میں نہیں آ سکتا تھا اور عمارت کے گرد مخصوص پولیس کا پہرہ رہتا تھا۔

کمرے کے وسط میں ایک میز ہٹانے سے نیچے جانے والی سیڑھیاں نظر آتی تھیں۔ وہ اتر کر میز دوبارہ اصل جگہ لے آتے اور اس چور دروازے کی مدد سے عمارت سے باہر کچھ دور واقع ایک چھوٹے سے پارک میں پہنچ جاتے۔

پارک میں عمارت کا ملبہ ابھی تک پڑا تھا اور نیچے سے آنے والا راستہ بظاہر سیوریج کا گٹر دکھائی دیتا تھا۔ پارک سے نکل کر وہ سیدھے بسکٹ فیکٹری جاتے، چوکیدار سے اجازت نامہ لیتے اور اندر جا کر ایک وسیع و عریض کمرے میں رکھی دیو ہیکل مشین کی مرمت میں مصروف ہو جاتے۔

دروازہ اندر سے مقفل کرنے کے بعد اس مشین سے ہو کر وہ تہ خانے تک پہنچتے اور رات گئے تک کام میں مصروف رہتے۔ ان کے شب و روز اسی طرح گزر رہے تھے۔

جمیز اپنے مخصوص کمرے میں ایک کرسی پر براجمان تھا اور وہ موبائل ٹیب پر لکھنے میں مصروف تھا۔

”جنابِ صدر، یکم اپریل، بس انتظار ختم۔ جیسا کہ میں نے دعویٰ کیا تھا کہ عورتیں بچہ نو ماہ کی بجائے تین ماہ میں پیدا کرنے لگیں گی، اور میں نے اس پر محنت کی ہے۔

بچہ کیسا ہوگا؟ بچہ پیدا ہوتے ہی جلد نوجوان ہونے لگے گا، یہاں تک کہ کچھ گھنٹوں میں وہ مکمل جوان بن جائے گا۔ اس کا جسم فولاد جیسا سخت اور مضبوط ہوگا۔ ایٹمی حملہ، رائفلیں اور کوئی بھی کیمیائی مادہ اس پر اثر نہیں کرے گا۔

سب سے ضروری امر یہ ہے کہ مطیع بنانے کے لیے ضروری ہوگا کہ اسے تھیوریم ایس کی شعاعوں میں بٹھا کر سارا پروگرام ذہن نشین کرا دیا جائے، مثلاً وہ کون ہے، اسے کیا کرنا ہے۔ ایک بار جو اسے بتا دیا جائے گا، وہ ازبر کر لے گا۔

بعد ازاں وہ صرف اس شخص کی بات مانے گا جو تھیوریم ایس کی شعاعیں ڈالنے والے آلے کا مالک ہو۔ اس مقصد کے لیے چھوٹے پیمانے پر یہ آلے تیار کیے جائیں گے تاکہ متعلقہ فوجی افسروں کو دیے جائیں۔

اس کی زیادہ سے زیادہ عمر تین سال ہوگی۔ اس کے بعد خود بخود ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا کیونکہ اس کے جسم میں متضاد قوتیں کارفرما ہوں گی۔

جناب والا، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس تجربے کی مدد سے پیدا ہونے والا بچہ عام انسانی فطرت سے بہت مختلف ہے، لیکن یہ پہلا تجربہ ہے۔ بعد میں ہم تجربات کی مدد سے تاریک پہلوؤں پر قابو پا سکتے ہیں، عمر میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے اور دوسری خامیاں بھی دور ہو سکتی ہیں۔

خاص بات یہ ہے کہ شروع میں جو بچے اس طریقے سے بڑے کیے جائیں گے، انہیں میدانِ جنگ بھیجا جا سکتا ہے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ جنگ کا بہت جلد خاتمہ کر دیں گے اور ہمارا ملک فتح سے ہمکنار ہوگا۔

کیا میں امید رکھوں کہ جناب اپریل کی صبح 10 بجے یہ بچہ دیکھنے کے لیے تشریف لائیں گے؟ اپریل کی رات اپنی بیوی کو ٹی۔ای 301 اور ٹی۔ایم 17 کا غسل دوں گا اور بچہ جنم کے مراحل میں داخل ہوگا۔“

°°°

اپریل کی صبح بسکٹ فیکٹری کے تہ خانے میں بہت چہل پہل تھی۔ نشستیں صاف کی گئی تھیں اور میز پر مشروبات سلیقے سے رکھے تھے۔ ہال کو جھنڈیوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ یہ سارا کام جمیز نے سارٹن اور گرک کے ساتھ مل کر کیا تھا، کیونکہ یہاں اور کسی شخص کو لانے کا خطرہ مول لینا بہت مشکل تھا۔ اگلے روز میگی کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ کئی دن سے جمیز اس سوچ میں تھا کہ بچے کا نام کیا رکھے۔ آخر اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کا نام “وکٹری آف امریکا” (امریکا کی فتح) موزوں رہے گا، کیونکہ اس کی پیدائش سے امریکی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہونے والا تھا۔

۲ اپریل کو صبح دس بجے صدر امریکا بنفسِ نفیس وہاں آنے والے تھے، اس لیے جمیز ایک بار پھر اندازہ کرنا چاہتا تھا کہ ولادت کب ہوگی۔ اس کے اندازے کے مطابق یہ وقت صبح ساڑھے نو بجے کا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے صدر کو دس بجے آنے کی دعوت دی تھی۔ یہ اطمینان کرنے کے بعد کہ بچہ اسی وقت پیدا ہوگا، وہ مہمانوں کی فہرست پر غور کرنے لگا۔ صدر کے علاوہ اس نے ملک کے چوٹی کے چند سائنسدانوں کو بھی دعوت دی تھی۔ ان میں مرکزی تجربہ گاہ کے ناظم الامور اور وزارتِ دفاع کے سیکرٹری بھی تھے۔ بہر کیف، وہ دن بھر انتظامات میں لگا رہا۔

رات کو اس نے تابکار شعاعوں سے بچنے کے لیے مخصوص لباس پہنا اور ڈیوٹی روم سے ہوتا ہوا آپریشن روم میں پہنچا۔ وہاں اس کی بیوی میگی تین ماہ سے بستر پر لیٹی تھی اور صبح و شام اسے مختلف شعاعوں سے غسل دے رہے تھے۔ اس کے دائیں بائیں عجیب و غریب مشینیں تھیں جن میں حد سے بڑے بڑے شیشے اور آئنے لگے ہوئے تھے۔ میگی کا چہرہ زرد تھا اور وہ بے ہوش پڑی تھی۔ تین ماہ سے وہ نیم غنودگی کی حالت میں تھی۔ زرد اور نیلگوں روشنیوں میں وہ مصری ممی لگ رہی تھی۔ جمیز نے ہاتھ بڑھا کر چند بٹن دبائے اور وہ خاص شعاعیں، جو ابھی تک میگی کے جسم پر پڑ رہی تھیں، غائب ہو گئیں۔

اس نے جیب سے رومال نکال کر ایک محلول میں بھگویا اور میگی کی ناک پر رکھ دیا۔ میگی نے چند لمبے لمبے سانس لیے اور آنکھیں کھول دیں۔

“جمیز، میں کہاں ہوں؟ اور تم۔۔۔ تم؟”

“میگی، اطمینان رکھو۔ تم خیریت سے ہو۔ میرا تجربہ کامیاب رہا۔ صبح تم ماں بننے والی ہو۔ دنیا بھر کے اخبارات تمہاری تصویریں شائع کریں گے۔ ٹیلی ویژن، ریڈیو اور کرسٹا ویژن والے تم سے انٹرویو کریں گے۔ عوام تمہاری ایک جھلک دیکھنا اپنے لیے باعثِ فخر سمجھیں گے۔ تم دنیا کی واحد عورت ہو جو ایسے بچے کو جنم دے گی جس پر گولہ بارود کا کچھ اثر نہیں ہوگا۔ اگر ایٹم بم بھی اس کے عین اوپر گرا دیا جائے تو اس کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ سنا تم نے، میگی؟ راکٹ، میزائل، توپ، بندوق — کوئی چیز اسے ختم نہ کر سکے گی۔”

جمیز دیر تک بولتا رہا۔ شدتِ جذبات سے اس کی آواز بھرا گئی۔ میگی کچھ دیر اس کو دیکھتی رہی، پھر بے ہوش ہو گئی۔ جمیز نے لیور دبائے اور میگی پر ایک بار پھر شعاعیں پڑنے لگیں۔ جمیز نے پیار سے اس کے بال درست کیے اور ہونٹوں پر بوسہ لیا، اور پھر وہ باہر آ گیا.

°°

۲ اپریل، ساڑھے نو بجے صبح، جمیز کے نائب سارٹن نے، جو ڈاکٹر بھی تھا، اندر سے اطلاع دی کہ میگی ماں بننے ہی والی ہے۔ جمیز دوڑتا ہوا اندر گیا۔ بچہ پیدا ہو چکا تھا۔ اس کا رنگ لوہے کی طرح تھا اور جسم نہایت سخت۔ چہرے کے نقوش انسانی نقوش سے مختلف اور لنگور یا بن مانس سے مشابہ تھے۔ سارٹن ابھی تک میگی کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔

جمیز نے بچے کو اٹھانا چاہا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ تنہا یہ کام انجام نہیں دے سکتا، بچہ بہت وزنی تھا۔ اس نے گرک کو بلایا مگر وہ دونوں مل کر بھی اسے نہ اٹھا سکے۔ ادھر سارٹن اپنے کام سے فارغ ہو چکا تھا۔ تینوں باہر آ گئے اور اس مسئلے پر غور کرنے لگے کہ بچے کا وزن کیونکر کم کیا جائے؟

ایک اور نئی بات یہ سامنے آئی کہ “وکٹری آف امریکہ” پیدا ہوتے ہی عام بچوں کی طرح رونے کے بجائے مکمل طور پر خاموش تھا۔ سارٹن نے اسے ہلکا سا تھپڑ مارا تاکہ وہ روئے اور سانس کی آمد و رفت شروع ہو جائے، لیکن اس کے ہاتھ پر چوٹ لگی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا ہاتھ کسی فولادی شے سے ٹکرایا ہو۔ جمیز بہرحال بہت خوش تھا۔ لاؤنج میں آتے ہی بولا:

“آخر ہم کامیاب ہو گئے۔ وکٹری پر مار پیٹ کا اثر نہ ہوگا۔ میرا خیال ہے ہم میں سے ایک شخص کو وہاں رہنا چاہیے۔ باقی دو اس مسئلے پر غور کریں کہ وکٹری کی خوراک کیا ہونی چاہیے، کیونکہ آپ لوگوں نے دیکھ لیا ہے کہ اسے دودھ سے کوئی رغبت نہیں۔”

سارٹن نے اندر قدم بڑھایا ہی تھا کہ اندر کمرے سے میگی کی چیخ سنائی دی۔ وہ بولا:

“شاید وہ ہوش میں آ گئی ہے۔”

جمیز اور سارٹن تیزی سے اس طرف بڑھے۔ جب وہ اس کمرے میں پہنچے جہاں میگی لیٹی ہوئی تھی، تو یہ دیکھ کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کہ وکٹری، وہ بچہ جس کی آمد سے سائنس کی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ ہونے والا تھا، اپنی جگہ موجود نہ تھا۔ میگی پلنگ پر بے حس و حرکت پڑی تھی۔ اس کا سر اور چہرہ خون میں لت پت تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے لوہے کے گرز سے اس کا سر کچل دیا ہو۔ جمیز نے جھک کر نبض پر ہاتھ رکھا۔ میگی کی نبض ڈوب رہی تھی۔ اگلے ہی لمحے وہ مر گئی۔

جمیز نے چاروں طرف دیکھا۔ کونے میں وکٹری کھڑا تھا، لیکن اس حالت میں کہ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اس کا قد کم و بیش چھ فٹ تھا اور آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے۔ وہ بالکل عریاں تھا۔ جمیز کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک پیدا ہوئی۔ اس نے دونوں ہاتھ آگے بڑھائے اور اس کی طرف بڑھا۔

جمیز اور سارٹن تیزی سے باہر بھاگے۔ باہر نکلتے ہی جمیز نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور زنجیر چڑھا دی۔ وہ بھاگم بھاگ اسٹور پہنچے اور تھیوریم ایس کی شعاعیں پھینکنے والا آلہ تلاش کرنے لگے، لیکن انہیں کامیابی نہ ہوئی۔ اب تو ایک ہی راستہ تھا۔ اگر وہ کسی طرح اس عفریت کو تھیوریم ایس والے کمرے میں لے جائیں، تو اسے مطیع کیا جا سکتا ہے، کیونکہ شعاعوں کا غسل دیتے ہی وہ نوزائیدہ بچے کی طرح معصوم ہو جائے گا اور اس حالت میں اسے جس بات کا حکم دیا جائے گا، اسے پورا کرے گا۔ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھتا؟ اس کے قریب جانا موت کو دعوت دینے سے کم نہ تھا۔

جمیز بہت ہی پریشان تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وکٹری چند منٹ میں جوان کیسے ہو گیا، جب کہ اندازے کے مطابق اسے جوان ہونے کے لیے کم از کم ایک گھنٹے کا عرصہ درکار تھا۔ جمیز کو یہ بھی معلوم تھا کہ وکٹری طاقت کا مجسمہ ہے اور کوئی انسان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ نو بج کر چالیس منٹ ہوا چاہتے تھے۔ صدر امریکہ ٹھیک دس بجے یہاں آنے والے تھے۔ ان کے آنے سے پہلے وکٹری کو قابو کرنا ضروری تھا، ورنہ خدشہ تھا کہیں وہ انہیں نقصان نہ پہنچا دے۔

جمیز اسی سوچ میں گم تھا کہ لکڑی کے تختے ٹوٹنے کی آواز آئی اور اگلے ہی لمحے وکٹری ان کے سامنے کھڑا تھا۔ سارٹن نے دروازے کی طرف جانے کی کوشش کی، لیکن وکٹری نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا۔ سارٹن کے کندھے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس کے حلق سے ایک چیخ نکلی اور وہ فرش پر گر پڑا۔ اس سے پہلے کہ وہ اٹھتا، وکٹری نے اس کے سر پر اپنا وزنی پیر دے مارا۔ سارٹن کی کھوپڑی ٹوٹ کر بکھر گئی اور اس کا بھیجا باہر نکل آیا۔

اب وکٹری جمیز کی طرف بڑھا۔ جمیز نے قریب پڑی ہوئی لوہے کی سلاخ اٹھائی اور پوری قوت سے وکٹری کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر ماری۔ ایک ایسی آواز سنائی دی جیسے گھنٹی بجی ہو۔ وکٹری کا جسم فولاد کا بنا ہوا تھا۔ جمیز کا سر گھومنے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ وکٹری نے اس کی کمر میں ایک لات ماری اور باہر نکل گیا۔

لاؤنج میں کوئی شخص نہ تھا۔ گرک غالباً مہمانوں کے استقبال کے لیے اوپر جا چکا تھا۔ سیڑھیوں کے اختتام پر روشنی تھی اور بسکٹ فیکٹری کے انجن روم کا کھلا دروازہ صاف دکھائی دیتا تھا۔ وکٹری اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ جھومتا جھومتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

جمیز کو ذرا ہوش آیا تو درد سے اس کی چیخ نکل گئی۔ اس کی پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں اور ایک بازو ریزہ ریزہ ہو چکا تھا۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں اور دروازے کی طرف گھسٹنے لگا، لیکن چند قدم کا فاصلہ طے کر کے اس کی ہمت جواب دے گئی۔ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا:

“روکو، خدا کے لیے… کوئی اسے روکو۔ وہ ناقابلِ تسخیر ہے۔ وہ ساری دنیا تباہ کر دے گا۔ روکو، کوئی اسے…”
لیکن وہاں اس کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔ اوپر فیکٹری کے انجن روم میں سے توڑ پھوڑ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ جمیز درد سے کراہ رہا تھا۔ اچانک بڑے کھڑک سے دھماکہ ہوا۔ چند لمحوں بعد وکٹری پھر اس کے سامنے موجود تھا۔ اس کے پیچھے سے دو چینی مسکراتے ہوئے سامنے نمودار ہوئے۔

ایک چینی نے وکٹری کے شانوں پر ہاتھ رکھا اور جمیز کو مخاطب کیا:
“تم نے کیا سمجھا، یہ بے قابو ہو جائے گا؟ نہیں، یہ تو ہمارے اشاروں پر چل رہا ہے۔ یہ بسکٹ فیکٹری ہمارے کنٹرول میں پہلے ہی تھی۔ تم لوگوں کا مشن ہمارے سامنے ہو رہا تھا۔”

جمیز سمجھ چکا تھا۔ چین ایک بار پھر بازی لے گیا۔ وہ وکٹری کے ہمراہ غائب ہو چکے تھے۔
جمیز نے ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کی مگر جسم نے ساتھ نہ دیا۔ اس کی آنکھیں پتھرا گئیں اور وہ ایک بار کانپنے کے بعد ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

مصنف کے بارے میں

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment