دفتر میں لنچ کا وقت ہوا تو میں نے فورا کمپیوٹر لاگ آف کیا اور کیفے ٹیریا کی طرف بھاگا۔ سخت بھوک لگی تھی۔ صبح کا ناشتہ بھی صرف دو سلائس اور چائے کے ایک کپ کے ساتھ ہی کیا تھا۔ ناشتہ صبح کا ہی ہوتا ہے لیکن نجانے کیوں ہمیشہ لکھنے والے “صبح کا ناشتہ” لکھنا ہی پسند کرتے ہیں۔
لیکن اس تھیوری کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں ابھی میں آپ کو اپنے لنچ کی روداد سنا رہا تھا۔
ہماری کمپنی کا کیفے بہترین معیار کا ہے جس میں کمپنی ملازمین کو انتہائی معمولی ادائیگی پر اعلی معیار کا بوفے پیش کیا جاتا ہے۔ اور بوفے کا مطلب آپ جانتے ہیں۔ پشتو محاورے کے ترجمے کے مطابق یہ گھوڑا ہے اور یہ گھوڑے کا میدان ہے ،والا معاملہ ہوتا ہے۔
میں تیزی سے کیفے میں داخل ہوا۔ کیفے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ٹرے والے ریک سے ٹرے اٹھا کر میں شروع ہوا۔ سب سے پہلے سوپ والی میز تھی میں نے باؤل لبالب بھر لیا صحت بخش غذا جو ہوئی۔
اس کے بعد سلاد والا سیکشن تھا جہاں بارہ اقسام کا سلاد سجا تھا .میں نے سب آئٹمز اپنی پلیٹ میں سجا کر پہاڑی سی بنا لی۔ اس کے بعد کولڈ ڈرنکس کارنر سے ٹھنڈا ٹھار کولڈ ڈرنک کا کین بھی اپنی ٹرے میں رکھ لیا۔ گرما گرم چکن بریانی کی پلیٹ مٹن قورمہ اور روسٹ کا ایک ٹکڑا بھی ٹرے کی زینت بنے کہ وہی تو اصل کورس تھا۔
میٹھے میں فروٹ ٹرائفل کی کٹوری بھی کسی نہ کسی طور ٹرے میں پھنسا ہی لی۔ فروٹ باسکٹ سے ایک موٹے تازے سیب کی بھی جگہ بنانا ضروری تھا کہ وہی بات ذہن میں تھی جو کہتے ہیں کہ ایک سیب روز کھاؤ تو ڈاکٹر وغیرہ سے دور رہا جا سکتا ہے۔
یہ سب چیزیں ٹرے میں سجا کر بلکہ پھنسا کر میں نے ہال میں نگاہ دوڑائی۔ کونے والی میز پر میرے سب پاکستانی دوست میری ہی طرح کی ٹرے سامنے دھرے حسب معمول گرما گرم سیاسی بحث مباحثے میں مشغول تھے۔ میں بھی ادھر چلا آیا۔ ہمیشہ کی طرح دو ٹیموں کا میچ چل رہا تھا ایک نواز شریف کی حامی اور دوسری عمران خان کی۔ ارد گرد اردو پنجابی نہ جاننے والے دیگر قومیتوں کے کولیگ اپنے اپنے ہال میں مست تھے جبکہ ہماری میز پر قومی و ملی مسائل کے حل پیش کیے جا رہے تھے بیڈ گورننس کا رونا رویا جا رہا تھا۔ کرپشن تو ویسے بھی سب کے نزدیک سب برائیوں کی جڑ ہے ہی۔
کوئی کہہ رہا تھا کہ ہمارے مسائل کی اصل وجہ وسائل کا غلط استعمال ہے۔ کسی کے نزدیک بیڈ گورننس بنیادی وجہ تھی۔ سب اپنے اپنے طور پر انتہائی درد مندی سے ملک سے باہر ہونے کے باوجود ملک کی محبت میں گھلے جا رہے تھے۔ حکومت کو یہ کرنا چاہیے وہ کرنا چاہیے۔ سمندر پار پاکستانیوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں کہ وہ زیادہ سکلز رکھتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ. میں بھی گھمسان کے اس رن میں پڑ گیا۔ سوپ کے پیالے سے آغاز کیا اور ساتھ ہی اپنی تقریر کا بھی۔ ایک چمچ سوپ کا اور دو حرف حکومت کی کارکردگی پر۔ بھوک زیادہ ہونے کے باعث چند چمچ سوپ پی کر میں نے چھوڑ دیا کہ بریانی ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ اور بریانی اگر دیار غیر میں میسر ہو تو اس کی ناقدری کرنا کسی طور بھی کرپشن کے کیس سے کم نہیں۔
چند چمچ بریانی کے حلق سے نیچے اتار کر قورمہ کا خیال آیا کہ اس کی خوشبو بھی عمران خان کے جلسوں کی طرح اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ ابھی میں اپوزیشن کی بداعمالیوں کا کچھ ہی ذکر کر پایا تھا کہ بریانی سے قورمہ کی طرف منتقل ہونا پڑا۔ ساتھ ساتھ سلاد کے ٹکڑے بھی منہ میں ٹھونس لیتا تھا سنا تھا سلاد یہ سب کچھ ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ میرے دیگر دوست بھی میری طرح شکم پری میں مصروف تھے ساتھ ساتھ حکومتی نا اہلیوں کا رونا بھی رو رہے تھے ہر ایک کے لہجے میں وہ دردمندی تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اگر ان صاحب کو حکومت کا موقع دے دیا جائے تو سارے مسائل منٹوں میں حل ہو سکتے ہیں۔ سب ایک سے بڑھ کر ایک انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے کے اور وسائل کے بہترین استعمال کے گر ایک دوسرے سے شئیر کر رہے تھے۔
اس پر جوش گفتگو میں ہم اتنے مگن تھے کہ پتا ہی نہ چلا کب شکم سیر ہو گیا اور کھانے کو بڑھنے والے ہاتھ رکنے لگے۔ پہلے ایک نے ہاتھ روکا پھر دوسرے نے اور پھر سب آہستہ آہستہ کھانے کی ٹرے پرے دھکیلتے ہوئے اٹھنے لگے۔
میں بھی پر ہو چکا تھا سو میں بھی اٹھا۔ اٹھتے اٹھتے اچانک جو نظر میز پر پڑی تو دیکھا سب کی پلیٹوں میں آدھ کھایا کھانا پڑا تھا۔ کوئی پلیٹ بھی صاف نہ تھی کہیں بریانی کے چاول بچے تھے کہیں سلاد کی پلیٹ جوں کی توں پڑی تھی کسی کے سوپ کا پیالہ بھرا یونہی رکھا تھا تو کوئی سویٹ ڈِش کو آدھا چکھ کر اٹھ چکا تھا۔ دفعتا ذہن میں ایک خیال کوندا کہ جو لوگ ایک کھانے کی پلیٹ کو مینیج نہیں کر سکتے جو خود اپنے جسم کی بھوک کا فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کتنا کھانا درکار ہے. وہ کس منہ سے ملکی وسائل کی غلط تقسیم اور بیڈ گورننس پر اعتراض کرتے ہیں۔
خود تو ہم اس قابل بھی نہیں کہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ ہمیں کتنی بھوک ہے اس کے مطابق کھانا پلیٹ میں نکالیں مگر تقریروں میں گھنٹوں مینیجمنٹ پر لیکچر جھاڑ سکتے ہیں گویا کھانے کی پلیٹ میں ہی طوفان برپا کر سکتے ہیں۔ یہی منظر ہر شادی کے کھانے پر بھی دیکھنے کو ملتا ہے. جس کے ہاتھ ڈِش کا چمچہ آ جائے وہ بلا دھڑک اپنی پلیٹ کو لامحدود بھرتا چلا جاتا ہے. یہ سوچے بغیر کہ اس کو کتنی ضرورت ہے، اور پھر آدھے سے ذیادہ خوراک کوڑے کے ڈھیر تک جا پہنچتی ہے.
ایسی قوم کو ایسے ہی حکمران جچتے ہیں جو وسائل کی جائز تقسیم اور ترجیحات کے درست تعین کی صلاحیتوں سے نا آشنا ہوں ایسے میں غصہ کیسا!



تبصرہ لکھیے