ہوم << فقیری کا نشہ- جاویدالرحمن قریشی
600x314

فقیری کا نشہ- جاویدالرحمن قریشی

ایک عجیب طرح کا، بہت پرانا سا بوڑھا وہاں بیٹھا تھا اور آنے والوں کو غور سے دیکھتا تھا۔ اس کے ساتھ دو اور آدمی بھی تھے اور کوئی گپ شپ جاری تھی کہ ہم بھی وہاں پہنچ گئے۔ دراصل، مجھے ایک دوست وہاں لے گیا تھا کہ وہاں ایک بابا جی ہیں جو ’مالٹے‘ کھلاتے ہیں۔

یوں تو ہمارے یہاں ہر بڑی عمر کے آدمی کو ’بزرگ‘ اور بابا کہا جاتا ہے، لیکن درحقیقت بابا ایک نام کے بجائے ایک ’عہدہ‘ اور منصب ہوتا ہے، جو اللہ کسی کسی کو دیتا ہے۔ اب یہ مت سمجھیے گا کہ میں بڑی عمر کے لوگوں کو بزرگ یا بابا کہنے کا مخالف ہوں۔ میں تو یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ بزرگ اور بابا کہنے اور ہونے میں بہرحال فرق ہے۔ جیسے ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، اور جیسے ہر ’تکا‘ تیر نہیں ہو سکتا، ایسے ہی ہر داڑھی والا ’صوفی‘ نہیں ہوتا، نہیں ہو سکتا، اور ہر بڑی عمر والا بزرگ یا بابا نہیں ہوتا، نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ہر پرانا سا بوڑھا فقیر بھی نہیں ہوتا۔ صوفی، بابا، بزرگ، فقیر وغیرہ بھی ہمارے یہاں ہر چیز کی طرح زیادہ تر ’دونمبر‘ ہی پائے جاتے ہیں، چناں چہ کہیں اگر کسی کو کوئی ایک نمبر مل بھی جائے تو یقین ہی نہیں آتا۔

خیر، ہم وہاں ایک بہت پرانے سے بوڑھے کے پاس کھڑے تھے، جو آنے والوں کا استقبال کرتا تھا۔ اس کے پاس پہنچ کر سلام دعا کی تو وہ بوڑھا مجھے بڑے غور سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا:
’بابا جی نال نئیں ملنا؟ وہ ادھر چلے جاؤ، پیچھے کی طرف۔‘

ادھر کچی زمین کا ایک بڑا سا قطعہ تھا، جس کے ایک طرف پرانی طرز کا برآمدہ بنا ہوا تھا۔ دو تین سیڑھیاں چڑھ کر اس کچی زمین والے احاطے میں داخل ہونا پڑتا تھا۔ داخلے کے مقام پر ایک بورڈ لگا ہوا تھا:
’جوتے اتار کر اندر داخل ہوں۔‘

میں ہچکچا رہا تھا کہ کون اس کچی زمین پر ننگے پاؤں چلے؟ اور ہاں، صرف مالٹے کھانے کے لیے بھلا کوئی ننگے پاؤں چل بھی سکتا ہے کیا؟ میرے دوست مجھ سے آگے بڑھ گئے تھے۔ مجبوراﹰ مجھے بھی جوتے اتار کر ان کا ساتھ نبھانا پڑا۔ جلد ہی وہ کچی زمین والا حصہ ختم ہوا، آگے پھر سیڑھیاں آ گئیں، جہاں سے راستہ نیچے کی طرف جاتا تھا۔ اور اسی نیچے کی طرف جاتے راستے پر چار پانچ نوجوان ہوا میں اڑتے ہوئے معرفت بھری باتیں کر رہے تھے۔

’چرس تو فقیری نشہ ہے، بابو! کیوں کہ یہ وہ نشہ ہے کہ جس کی وجہ سے آدمی کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ بس خود میں مگن ہو جاتا ہے اور یوں دوسرے لوگ اس نشئی کے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔‘

یہ رمز بھری بات سن کر میں سکتے میں آنے ہی والا تھا کہ ایک اور ایسی ہی آواز نے، یوں سمجھیں کہ، میرا سانس ہی بند کر دیا۔ فقیری نشے والا انکشاف سن کر دوسرا نشئی کہہ رہا تھا:
’جا اوئے چرسیا! تو آج تک یہ نہ سمجھ سکا کہ جہاں فقیری ہے، وہاں کوئی دوسرا نشہ کیسا؟ جسے فقیر نے فقیری کا نشہ پلا، چکھا دیا، اسے بھلا کسی اور نشے کی کیا حاجت؟ دراصل فقیری تو خود ایک بے مثال اور لاجواب نشہ ہے، بابو!‘

اب مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ وہ نشئی یہ باتیں نشے میں ڈوبنے سے پہلے کسی سے سن چکے تھے یا ان کے اندر کوئی ’فقیر‘ پیدا ہو رہا تھا، بہرحال ہم وہاں سے آگے بڑھ گئے۔

نیچے ایک اور پرانا سا ہال تھا، جس کے ایک طرف ایک چھوٹا سا حجرہ بنا تھا۔ اس حجرے میں وہاں کے بابا جی بیٹھتے تھے۔ حجرہ بند تھا۔ دروازے سے اندر جھانکا تو ایک بستر بچھا تھا اور دیواروں پر ان بابا جی کی مختلف انداز میں تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ یقین والے آدمی کے لیے وہ ایک جادو نگری تھی، لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک بے یقینی کے سمندر میں ڈبکیاں کھاتا ہوں۔ چناں چہ میرے اوپر اس جادو نگری کا کوئی خاص اثر نہیں ہو رہا تھا۔

میرے دوست شاید اس ماحول سے متاثر ہو رہے تھے، اور شاید وہ اس لیے متاثر ہوتے تھے کہ وہ بے یقینی ترک کر چکے تھے۔ کہیں سے اور کسی سے کچھ حاصل کرنے کے لیے یقین ایک بڑا کارآمد ہتھیار ہے۔ یقین نہ ہو تو حدودِ حرم میں مانگی ہوئی دعائیں بھی بے اثر جاتی ہیں، اور یقین ہو تو دعائیں قبول کرنے والا شہ رگ سے بھی نزدیک ہے۔ ادھر منہ سے بات نکلی، ادھر شہ رگ سے جواب آ گیا۔

اکثر لوگ اسی لیے مایوس ہوتے ہیں، ناامید ہوتے ہیں، شکوے کرتے رہتے ہیں، کیوں کہ انہیں خود پر اور خدا پر یقین نہیں ہوتا۔ آدمی اپنے اندر یقین پیدا کر لے تو بے شک ’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘، اور جب ایسا یقین پیدا ہو جائے تو پھر واقعی یہ پوچھا جاتا ہے کہ:
’بتا، تیری رضا کیا ہے؟‘

جب آدمی کو خود پر اور خدا پر یقین نہیں رہتا تو پھر اسے ٹھوکریں کھانے، گرنے، پٹنے، ذلیل ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ بے یقینی ہی وہ بیماری ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں دونمبر صوفی، بزرگ، بابے اور فقیر بڑھتے جاتے ہیں۔ دراصل، ان دو نمبر بابوں کو بھی تو یقین نہیں ہوتا نا! انہیں یقین نہیں ہوتا کہ ان کی پکڑ بھی ہو سکتی ہے۔ انہیں یقین نہیں ہوتا کہ کوئی انہیں بھی بے نقاب کر دے گا۔ انہیں یقین نہیں ہوتا کہ کوئی انہیں بھی ذلیل و رسوا کر دے گا۔ شاید انہیں یقین ہوتا ہو، لیکن وہ دین پر دنیا کو ترجیح دے بیٹھتے ہیں، چناں چہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی بھٹکا دیتے ہیں۔

جو اصلی والا بابا ہوتا ہے نا، وہ لوگوں کی دنیا بنانے نہیں بلکہ دین بنانے میں مدد کرتا ہے۔ وہ لوگوں کی دنیا بچانے کے بجائے دین بچانے کی محنت کرتا ہے۔ ایسے اصلی بابے صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی عقیدت و احترام کے حقدار اور تاجدار جانے اور مانے جاتے ہیں۔

وہاں کسی ’بابے‘ سے میری ملاقات نہ ہو سکی اور وہاں سے ننگے پاؤں باہر آتے میں یہی سوچ رہا تھا کہ کاش کوئی ایسا بابا مل جائے جو میری آخرت سنوارنے میں میری مدد کرنے والا ہو۔ اے کاش!

جوتے پہن کر اسی پرانے سے بوڑھے کے پاس ایک بار پھر ہم کھڑے تھے۔ وہ پوچھنے لگا:
’ادھر کوئی اور بھی تھا کیا؟‘

پھر خود ہی کہنے لگا کہ:
’سُوٹے شُوٹے لگا رہے ہوں گے وہ تو؟ حال آں کہ یہ ادھر دیکھیں، بورڈ لگا ہوا ہے جس پر واضح لکھا ہوا ہے کہ کسی قسم کا نشہ کرنا بالکل ممنوع ہے۔‘

سچی بات تو یہ ہے کہ صرف بورڈ لگانے سے کوئی جرم کبھی نہیں رک سکتا۔ اس کے لیے تو لوگوں کی تربیت اور سزا و جزا کا نظام سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ، فقیری کا نشہ (یاد رہے ’فقیری نشہ‘ نہیں بلکہ فقیری ’کا‘ نشہ) یقیناً اس سے مستثنیٰ ہے۔ یہ سختی سے نہیں بلکہ پیار سے پھیلتا ہے۔ لیکن جب فقیر خود نشئی ہو جائے تو وہ کسی اور کو کیا ہوش میں رکھے گا؟ ہاں، اگر وہ توحید کا جام پینے والا ہو تو مدہوش ہو کر بھی سب کو ہوش والا بنا دیتا ہے۔

صاحب! بابے کی تلاش جاری ہے۔ مالٹے کھانے کے سفر میں مجھے نہ تو مالٹے ملے اور نہ ہی بابا۔ البتہ، وہاں سے آتے ہوئے یہ سبق ضرور مل گیا کہ:
’جا اوئے چرسیا! تو آج تک یہ نہ سمجھ سکا کہ جہاں فقیری ہے، وہاں کوئی دوسرا نشہ کیسا؟‘

بابے کی تلاش کے سفر میں اور کچھ ملے نہ ملے، سبق ضرور ملتے ہیں۔ آج کے لیے یہی سبق ہے کہ آئندہ کہیں گئے تو مالٹے، امرود یا مونگ پھلی کھانے نہیں بلکہ صرف اور صرف بابے کی تلاش میں نکلیں گے۔ دعا کیجیے گا۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment