ہوم << درمیان میں کوئی جگہ نہیں ہوتی - حافظ یوسف سراج

درمیان میں کوئی جگہ نہیں ہوتی - حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج یا حیرت! انسان کی بوالعجبیاں بھی شاید ہی کبھی تمام ہو سکیں. افتاد طبع کی رنگا رنگیوں اور شرارت نفس کی نیرنگیوں کی دائمی آماجگاہ یہ انسان بھی کیا کیا عجائبات ہستی دکھاتا ہے. مار پندارِ ذات کا ڈسا یہ حضرت انسان کبھی تو وہاں سے بھی کھلا فریب کھاتا ہے کہ جس جگہ اور جس جہاں کو اس نے فریب کے مقابل اپنی آخری متاع اور حتمی پناہ گردان رکھا ہوتا ہے. تاریخ کا سبق یہ ہے کہ یہ دور اور یہ طور تو خیر ان پر بھی بیت گئے کہ جنھوں نے دماغ کی عمر خضر کسی ایک راہ کی جستجو میں کھپا ڈالی تھی اور زمانہ جن کے تیوروں سے زندگی کے ڈھنگ سیکھا کرتا تھا . دیکھنا چاہے تو کوئی امام غزالی کی داستان حیات کے آخری اوراق پر نظر ڈال دیکھے. جب فہم کے اکابر کا یہاں عالم یوں ہے تو پھر بھلا اس دام ہم رنگ زمیں سے وہ کیوں نہ فریب کھا جاتے کہ جن کی دانش کی کل پونجی حروف سیدھے کر لینے کی اک صلاحیت تھی اور بس !
قسم ہے اس ذات کی کہ حروف جس کی کن سے تخلیق ہو کے تخلیق کے اظہار کا دائمی ذریعہ ہوگئے، حروف کی ابجد کا طلسم بھی اس شخص پر کبھی کھل نہ پایا کہ جس نے شہنشاہِ کلام کے شہنشاہ کلام کو سید انسانیت ﷺ کی سیرت سے سیکھنے کی کبھی مرتب کوشش نہ کی. اپنی بگٹٹ دانش کی شتر بے مہاری میں نہیں، بلکہ دانش امت کی اجتماعی سلیقہ شعاری میں ایک مرتب اور جامع کوشش! محض سعی بھی گو یہاں کم مبارک نہیں مگر بھلا وہاں ادنی سعی پہ بھی کیا ناز کہ جہاں دماغ اور دل کو صدیوں تک دو زانو کیے رکھنے والے بھی عجز ہی کو اظہار کہہ کے پلو جھاڑ جائیں. تنوع اور تطور کی طلب انسانی جبلت ہی سہی ، یہ بھی مگر کیا کہ خود عقل ہی انسان کو دھوکہ دینے لگے؟ کوئی کہے، بن جڑ کے پیڑ اگانے اور بے درخت کو پھل لگانے کی خواہشات کو بھی، اے دانش مندو! دانش اور اعتدال ہی گنا جانا چاہیے؟
تجربہ کہتا ہے کہ فریب خارج میں ہوتا ہی نہیں. خوشنما لفظ دھوکہ دیتے ہیں اور خود انسانی نفس کا بہ انداز دگر بروئے کار آیا خمار و خبط اور تکبر و ترفع بھی، مراد پا لینا بھی کامیابی کا اک مظہر ہی ہے مگر منزل کا حصول ہی کامیابی کی اگر شرط اول اور دلیل واحد مان لی جائے تو کیا وہ نبی اور مصلح بھی ناکام ہی گنے جائیں گےکہ عمر بھر کے ریاض کے بعد بھی، ایک شخص بھی جن کی تائید اور توثیق میں کھڑا نہ ہو سکا؟ ہرگز نہیں اور جدوجہد کے فریب میں اس سے بڑا ارذل دھوکہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی کوتاہ قامت جدو جہد کو حصول منزل سے مشروط ہی سمجھ بیٹھے. سنیے، یہ کسی فرزانے کی دلیل ہے ہی نہیں کہ چراغ علم محض معاشرے کے منور ہوجانے ہی کے حتمی وعدے پر فروزاں کیا جائے گا. کیا اس لیے کہ چونکہ آئیڈیل کا حصول ہماری پست ہمتی کے باعث ناممکن ہے سو آئیڈیل ہی کو کاٹ کے کمتر کر لیا جائے یا سیاہ و سفید کے درمیان میں کہیں وقوف فرما لیا جائے؟ یا پھر سرے سے اعلی آدرشوں سے بالکلیہ انکار ہی کر دیا جائے؟ کاش دانش یہ بھی جان پاتی کہ ناکامی کے خوف سے آج تک کبھی کسی فرزانے نے پستی کو منزل نہیں کہا. وجاہت مسعود صاحب کا ہم سب ہو یا عامر ہاشم خاکوانی صاحب کی روشن دلیل ؛ بخدا دونوں ہی معاشرے کے متشکرانہ سلیوٹ کے مستحق ہیں کہ یہ لوگ دیانت داری سے جسے نجات اور راہ نجات سمجھتے ہیں بلا خوف خلق اور بلا خوف ناکامی یہ برابر اس کا اقرار اور اعلان کرتے پائے جاتے ہیں. یہ کسی درمیانی راہ کے گوشہ عافیت میں سر دے کے اپنی شہادت حق کو گم کر دینے کے روادار نہیں ہوتے.
خوب جان لیجیے کہ اہل دانش ہوں کہ اہل عزیمت،اہل فکر ہوں کہ اہل دماغ، گول مول کنج عافیت اور واضح شناخت سے دور درمیانی پناہ گاہ تخلیق کرنے کی جدت انسانی ضمیر کے ہاں کوئی وقعت نہیں رکھتی. جی ہاں! اس راہ میں کوئی درمیانی راہ سرے سے ہوتی ہی نہیں.
اور ہاں نسبتیں کبھی کوئی عار ہوتی ہیں اور نہ ادعا! ولدیتوں کی طرح نسبتوں کا اظہار بھی دلاوروں کا فخر بھی ہوتا ہے اور اپنے ہونے کا اظہار ، اقرار اور وقار بھی! زمانے نے آج تک صرف مشکوک اور منحنی لوگوں ہی کو اپنی نسبتوں کے اظہار سے خائف و خوابیدہ دیکھا ہے.
ممکن ہے کچھ اور تفصیل سے عرض کرنا پڑے. جی ہاں ممکن ہے ایسا ہی ہو. ان شاءاللہ