رشتوں کا احترام - محمود زیدی

کچھ رشتہ الله تعالى کی طرف سے بنے بنائے ملتے ہیں۔ کچھ ہم ترتیب دیتے ہیں۔مثلاً دادا ،دادی نانا، نانی چچا پھوپھی ماموں خالہ وغیرہ وغیرہ بنے بنائے رشتے ہیں۔
بیوی، بھابھی، ممانی، چچی، خالو، پھوپھا، بہنوئی،دیور، جیٹھ سالا ،سالی یہ سب اختیاری رشتہ ہیں۔

الله کے بنانے رشتوں کا احترام تو لازم ہے وہ خراب سے خراب حالات میں بھی ٹوٹ نہیں سکتے ۔ مثلاً کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کے میں آج سے تمہارا ماموں یا بھانجا نہیں لاکھ کہنے کے باوجود یہ رشتے قائم ہی رہےگا۔اختیاری رشتے قائم رکھنے کی کوشش ازحد ضروری ہے۔ یہ ختم کیئے جانے پر ختم ہوجاتے ہیں۔ جیسے میاں بیوی کا رشتہ۔ اس کے ختم ہونے سے کئی رشتے ختم ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ممانی، چچی، تائی خالو، پھوپھا، سالا، سالی ،دیور، جیٹھ وغیرہ وغیرہ۔

اس تحریر کا مقصد یہ یاددہانی ہے کہ نہ صرف میاں بیوی کا رشتہ بہت نازک ہے بلکہ اس سے جڑے بہت رشتے داؤ پر لگے ہوتے ہیں۔زمانے کی رفتار نے بہت سے رشتے دھندلا دیئے ہیں۔ ہماری ترجیحات بدلتی جارہی ہیں۔ایک زمانہ تھا کہ مہمان کی آمد باعث رحمت سمجھی جاتی تھی۔ میزبان اور مہمان کی گفتگو نہ صرف بچے شوق سے سنتے تھے بلکہ اس پر عمل کرنے کو کوشش کرتے تھے ۔ بعد میں گھر میں پکا سادہ کھانا مہمانوں کو پیش کردیا جاتا تھا۔ نہ کسی نے خصوصی اہتمام کی کوشش کی نہ مہمان نے گھر پہنچ کر کوئی تبصرہ کیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بناوٹی پن آتا گیا۔ کھانے کا اہتمام بڑھتا گیا مگر رشتوں کا احترام گھٹنے لگا۔بات یہیں تک نہ رکی۔ میل جول بھی مفادات کو سامنے رکھ کے کیا جانے لگا۔ مرتبہ اور حیثیت کے حساب سے قرابت داری ہونے لگی۔ ظاہر ہے اس صورت میں ملنساری اور محبت رخصت ہوئے ۔جدیدیت کے نام پہ گھر کے بڑے بچوں کے دوست کہلانے لگے۔ آزادئ رائے کے نام پر بچوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ جو دل چاہے ماں باپ سے کہہ دیں تو ادب و آداب میں کچھ کمی تو ضرور ہوگی۔خاندان کے کم حیثیت بزرگوں سے کترانا بچوں کو ان سے دور کرنے کا باعث بنا۔

صرف اچھی حیثیت والے عزیزو اقارب سے میل جول نے بچوں کو ان سے قریب تو ضرور کردیا مگر ان کو لا شعوری طور پر مادیت پرست بنادیا۔نتیجتاً ایک دادا ،نانا کی اولادوں نے بھی اپنی ترجیحات خود طے کرلیں۔ اگر کوئی عم زاد تعلیم اور مرتبہ میں باقی سے کم تر ہے تو اس ملنا کم یا ترک کردیا گیا۔ہمارے بڑوں نے ہمیں تعلیمی اداروں میں ضرور بھیجا مگر تربیت کی مکمل ذمہ داری اپنے ہاتھ میں رکھی۔محلے و خاندان کے بزرگوں اور عمر سے بڑے لوگوں کا احترام کرنا سکھایا گیا۔

ہمارے بزرگوں کے پاس وقت کی برکت تھی۔ وہ بچوں کے لیئے وقت نکالتے تھے ان سے بات کرتے تھے۔ وہ اپنےطرز عمل سے بچوں کی تربیت کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے بزرگوں کا ذکر محبت سے کیا کرتے تھے۔ ان کے آجانے پر اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ ان کے سامنے باادب رہتے تھے۔ خود گفتگو سے پرہیز کرتے تھے اور ضرورت پڑنے پر ادب سے جواب دیتے تھے۔یہ کوئی سینکڑوں سال پرانی باتیں نہیں ابھی چند عشروں پہلے کا قصہ ہے۔ یہ ابھی بھی واپس آسکتا ہے۔ ہماری یہ تہزیب کھوئی نہیں صرف دھندلا گئی ہے۔

آئیے بچوں کو بتائیں کہ تمہارے 'کزنز' نہیں تمہارے بہن ، بھائی ہیں۔ان کی خوشی تمہاری خوشی ہے ان کی ناکامی تمہاری اپنی ناکامی ہے۔اگر یہ زندگی کے کسی میدان میں کامیاب نہیں تو دراصل تم خود کامیاب نہیں۔ان کی ہار پر افسردہ ہونا ہے خوش نہیں۔میاں بیوی کو یہ طے کرنا ہے کہ خاندان کے تمام بچے ان کے بچے ہیں۔ ان سے محبت کریں۔ ان کی رہنمائی کریں۔قانون قدرت ہے جب آپ کسی کیلئے اچھا سوچتے ہیں تو آپ کیلئے سب اچھا ہونے لگتا ہے۔اگر ہم آج رشتے نہ بچا پائے تو ہمارا آنے والا کل ہم سے اس کا حساب مانگے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */