موٹر ویز یقیناً غیر محفوظ ہیں! - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مجھے تقریباً ہر ہفتے موٹر وے پر اسلام آباد سے مردان اور مردان سے اسلام آباد آنا جانا پڑتا ہے اور میں ذاتی تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر علی وجہ البصیرت یہ کہتا ہوں کہ موٹر ویز غیر محفوظ ہیں۔ ان کے غیر محفوظ ہونے کے کئی پہلو ہیں:
مثلاً اگر آپ کی گاڑی خراب ہوجائے، چاہے خرابی کتنی ہی معمولی ہو، موٹر وے پولیس اور موٹر وے مکینکس آپ کی کوئی مدد نہیں کریں گے، بلکہ ان کا عمومی طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے تو آنے میں تاخیر کریں گے، تاکہ آپ اپنے دیگر ذرائع سے مدد لے سکیں اور انھیں تکلیف نہ کرنی پڑے۔

پھر اگر پولیس کو آنا بھی پڑے، تو وہ اولین کوشش یہ کریں گے کہ کسی ٹرک کو روک کر اس کے ڈرائیور کو قائل کریں کہ وہ آپ کی گاڑی کو ٹو چین کرکے موٹر وے ایگزٹ تک لے جائیں۔ ایگزٹ سے باہر نکلنے کے بعد آپ جانیں اور آپ کی کار! ہاں، اگر موٹر وے پولیس والا بہت مہربان ہوا، تو وہ ایگزٹ سے باہر قریب ترین مکینک سے رابطہ کرکے آپ کو قائل کرے گا کہ آپ اپنی گاڑی اس تک پہنچا آئیں (کیونکہ اس کے ساتھ کمیشن کا سلسلہ ہوتا ہے)۔ اس سے بھی زیادہ مہربان ہو، تو وہ اس مکینک کو کہے گا کہ وہ آپ کی گاڑی کو ٹو چین کرانے کےلیے اپنی گاڑی بھجوائے۔ یوں بظاہر آپ کو سہولت محسوس ہوگی لیکن درحقیقت اس کا کمیشن بڑھ جاتا ہے۔

اور اگر موٹر وے پولیس والا ذرا سیانا بندہ ہو تو وہ یہ سارا کام خود کرنے کے بجاے موٹر وے مکینک کو بلوائے گا۔ مکینک آئے گا تو، آپ چاہیں یا نہ چاہیں، اولین کام وہ یہ کرے گا کہ آپ کی گاڑی کا موبل آئل چینج کروائے اور بازار سے "بے رعایت"، بلکہ کہیں بڑھ کر قیمت، پر آپ کو خریدنے پر مجبور کرے۔

اس کے بعد وہ یہی کرے گے کہ آپ کی گاڑی کو قریب ترین ایگزٹ سے نکال کر، یا نکلوا کر، قریب ترین مکینک تک، جس کے پاس اس کا کمیشن کا کھاتہ چل رہا ہوگا، پہنچا آئے۔ اس کے بعد وہی کہانی۔۔۔

اگر قیام و طعام، یعنی سروسز ایریا، میں آپ کے ساتھ استحصال ہو، بیس روپے کی پانی کی بوتل پچاس روپے میں فروخت ہورہی ہو، تو آپ موٹر وے پولیس کو شکایت کرنے کی حماقت نہ کریں کیونکہ ان کا جواب ہوگا کہ یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔

اگر جی ٹی روڈ سے آپ موٹر وے کی طرف چل پڑے ہیں، تو خواہ ٹول پلازا پانچ کلومیٹر دور ہو اور درمیان میں یوٹرن نہ بھی ہو، تب بھی آپ کی گاڑی خدانخواستہ خراب ہوجائے، یا کوئی اور مسئلہ پیش آئے، تو موٹر وے پولیس والے آپ سے یہی کہیں گے کہ یہ علاقہ ہمارے اختیار سے باہر ہے اور ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔

یہ محض چند مسائل ہیں جو موٹر وے استعمال کرنے والے ہر شخص کے علم میں ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہیں۔
اس لیے جو کہتے ہیں کہ موٹر وے پولیس بہت اچھی ہے، ان سے کہیے کہ واقعی بہت اچھی ہے اور محض ننانوے فی صد پولیس والوں کی غلطیوں کی بنا پر سب کو برا نہیں کہنا چاہیے۔

موٹر وے کو محفوظ بنانے کےلیے اس کے پورے نظام کی ری سٹرکچرنگ کی ضرورت ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */