ایسی بھی کیا مایوسی؟ - فرح رضوان

رات اندھیری ضرور ہے، لیکن ہر سو پھیلے چھوٹے چھوٹے جگنوؤں کی کمی سے انکار اور کفران نعمت تو نہیں کیا جاسکتا۔ رات طویل سہی، اور سورج نکلنے میں کچھ وقت بھی لگتا ہے، لیکن پھر بھی، کوئی اپنے حصے کی شمع جلانے میں مصروف عمل ہے تو کہیں دیئے سے دیا جل رہا ہے۔۔۔ ہو رہا ہے نا؟ اس سے انکار تو نہیں نا؟ اس پر شکر بنتا ہے نا!

مانا کہ ہر سو ہی جھلستی نار ہے، لیکن نور کی قلت بھی تو نہیں ہے الحمدللہ۔۔۔ کوئی کہتا ہے، کاش موٹروے حادثہ سرے سے پبلک ہی نہ کیا جاتا۔۔۔ لاہور حادثے کا ہر صاحب دل پر گہرا اثر ہوا۔ میڈیا کے دور میں بات آخر کو کتنی چھپ سکتی تھی، لہٰذا سامنے آگئی۔۔۔ اگر نہ آتی تو اس شر میں سے خیر کیسے نکلتی! اور وہ انگنت ہاتھ جو مظلوم کی داد رسی کو اٹھے رہے، اشک بار آنکھوں، بھاری دل اور شدت سے دعاؤں کے ساتھ۔ اس کے ساتھ ہی مونہہ زور یا غیر حکیمانہ رویوں پر تنقید، دل گرفتہ الفاظ کی روک تھام کے ذریعے مدد جاری رہی۔ ان افراد کی تربیت جاری رہی جو غالبا دو سال کی عمر میں بولنا سیکھ چکے ہوں گے، لیکن اتنی عمر تک بھی یہ سیکھ نہ پائے کہ کب کیا بولنا ہوتا ہے۔۔۔

سب سے بڑھ کر من حیث القوم وہ احساس ندامت جو سچی توبہ کے لیے لازم ہے اور احساس ذمہ داری جو پھر سے جی اٹھا ہے۔۔۔ ضروری نہیں ہر بار محمد بن قاسم فوج لے کر ہی آئے تب اس سر زمین پر اسلام کے نفاذ کی راہ بنے، کیا خبر ایک ماں جو دیار کفر سے ہجرت کرتی یہاں دین کی طلب میں آئی، جو بظاہر ظلم اور شر کا شکار ہوئی، لیکن کیا معلوم کہ یہیں سے خیر کے بیج پھوٹ پڑیں۔ اب کم پڑھی لکھی مائیں سوال پوچھ رہی ہیں کہ باجی آپ لوگ ہمیں ضرور بتائیں کہاں سے سیکھیں وہ باتیں کہ ہمارے بیٹے کل کو اپنی طاقت کو دین کی مضبوطی اور کمزور کے تحفظ کے لیے استعمال کرسکیں۔

تو ذمہ داری بڑھ گئی ہے نا باجیوں کی کہ امانت ان کے سپرد کریں------ جی! یہ بات رہ گئی کہ اللہ چاہتا تو سرے سے یہ حادثہ بھی نہیں ہوپاتا۔۔۔ لیکن یہ آزمائش ایک کی نہیں، بلکہ متعدی ہے۔ انگت قریبی اور دور تک کے افراد کا کڑا امتحان ہے۔ اس وقت کہ اب کون کیا کرتا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد کتنے ہی دلوں میں چھپی کسک شور برپا کرتی ہے کہ دنیا میں تنہا، کمزور نہتے، معصوم، مظلوموں کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہے نا اور غالب بھی ہر شے پر قادر بھی تو پھر فی الفور اپنے کن کے ذریعے سے، اپنے فرشتوں کے ذریعے سے ظالم کو اندھا لنگڑا لولا تہس نہس، زمیں بوس کیوں نہیں کر ڈالتا؟

ہاں یہ سبھی خیال، یا سوال یا وسوسے سر ابھارنے تو لگتے ہیں،اکثر ذہنوں میں۔۔۔ اور یہ کوئی نئ بات بھی نہیں۔ ان سوالات نے تب بھی سر ابھارا تھا جب موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کرنے آئے جادوگر، اصل رب کو پہچان کر اس کے آگے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ فرعون انہیں عبرت کا نشان بنانے سولی چڑھا دیتا ہے، (بظاہر) مدد الٰہی نہیں آتی... نہ جادوگروں کے لیے نہ بی بی آسیہ علیھا السلام کے لیے، نہ تب جب بی بی سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا پر ظلم توڑا گیا، نہ تب جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔ (بظاہر تو مدد دکھائی نہیں دیتی) البتہ عقل قاصر ہے ایمان بالغیب کی عظیم مثالوں پر کہ ایک سے دس تک اذیت کی شدت کتنی۔ اگر پوچھا جائے تو ان اذیت ناک تکالیف کے باوجود ایمان پر جمے رہنا؛ صرف تنہا و یکتا رب کو، جسے دیکھا بھی نہیں ، کامل یقین کے ساتھ پکارے جانا بھی تو رب کریم کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا!کیا صرف اتنی دقت جو فجر میں اٹھتے، وضو کرتے یا نماز پڑھتے ایک کمزور سا مسلم محسوس کرتا ہے مگر گرتا پڑتا پڑھ ہی لیتا ہے، اللہ کی مدد کے بغیر اتنا بھی ممکن ہے؟

حادثات، سانحات، آفات کی مشقت کیوں آجاتی ہے؟ اللہ کی حکمت اس کی مرضی تو وہی جانے؛ لیکن ہمیں ایک سادہ سی بات قرآن کریم میں سمجھا دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے نیک بندوں کا امتحان مطلوب ہوتا ہے، یہ امتحان ہر فرد کا مختلف ہوتا ہے، جس میں جتنا سہ جانے کی وسعت ہو۔ کبھی شدید خوف، اور کرب سے آزمایا جاتا ہے، کبھی بھوک سے، کبھی نقصان سے کبھی جان سے تو کبھی تمام تر حکمت و محنت کے باوجود بھی سخت ناکامی سے۔ کیا عجیب بات ہے نا بندہ ناکام دکھائی دیتا ہے دنیا والوں کو مگر ”ذرا سے“ تسلیم و رضا والے رویے پر کہ ہم اللہ ہی کا مال ہیں، ہمیں اسی کے پاس لوٹنا ہے؛ عرش پر اس بندے کی کامیابی کا چرچا ہونے لگتا ہے۔ اس بات کی کیا کسی انسان کو اس دنیا میں خبر ہوتی ہے؟ جی بالکل ہر اس جی میں یہ بات پہنچ جاتی ہے جو جان چکا ہوتا ہے کہ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے۔ یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے۔ اور اسے بھی جسے بہت برے وقت میں یاد رہتا ہے کہ آگ کے الاؤ کو دہکانے والوں میں ابراہیم علیہ السلام کے اپنے باپ سر فہرست تھے۔۔۔۔ گو کہ وہ بنی آدم ہی تھے۔۔۔ ہاں بعض اوقات بنی آدم اپنی اولاد کے لیے بھی اس قدر شقی القلب ہوجاتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ بھی۔

اللہ تعالیٰ کے کچھ مقرب بندے براہِ راست امتحان دیتے ہیں، اور اللہ کی بھر پور مدد یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر حال میں ایمان پر جمے رہتے ہیں۔ خواہ شعلے کتنے ہی بلند ہوں، خواہ کچھ بھی ہوجائے۔ اور کبھی کبھی امتحان متعدی ہوجاتا ہے، جیسے جدا جب یوسف علیہ السلام ہوئے تو سالہاسال اذیت باپ بیٹے دونوں نے ہی کاٹی۔۔۔

سوال ہے کہ کیا خطا تھی ان کی؟ تو جواب مل جاتا ہے یہاں سے باقی تمام تر سوالات کا بھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو جیسے چاہتا ہے، آزمالیتا ہے۔ جتنے چاہتا ہے، ان کے درجات کو بلندی عطا فرماتا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کا امتحان صرف اتنا سا ہوتا ہے کہ بہت دور سے کچھ واقعات سن کر، دیکھ کر ہی دل چھوڑ بیٹھتے ہیں۔۔۔ یہاں بھی سادہ سا اصول موجود ہے کہ تین دن سوگ منایا جاسکتا ہے، اس کے بعد انسان خود کو نارمل زندگی کی طرف کھینچ لائے، کیونکہ غم کا تسلسل اور مایوسی کا رویہ انسان کی کمر توڑ کر رکھ دیتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو قوی مومن پسند ہے۔ خواہ وہ قوی اعصاب ہوں ،ایمانی ،روحانی یا جسمانی صحت۔

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */