فضائلِ اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم (حصہ دوم) - مفتی منیب الرحمن

(۱۸)’’حضرت ابوہریرہ اَلدَّوسی بیان کرتے ہیں: نبی ﷺ دن کے کسی حصے میں باہر نکلے، آپ مجھ سے بات کر رہے تھے نہ میں آپ سے بات کر رہا تھا، حتیٰ کہ آپ بنو قینقاع کے بازار میں آئے، پھر آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے صحن میں بیٹھ گئے، پس پوچھا: بچہ کہاں ہے،بچہ کہاں ہے،حضرت سیدہ نے انہیں کچھ دیر روک لیا، میں نے گمان کیا کہ وہ ان کو ہار پہنارہی ہیں یا نہلا رہی ہیں، آپ ﷺنے فرمایا: حسن بن علی کو بلائو، پھر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما چلتے ہوئے آئے اور ان کے گلے میں ہار تھا، پھر نبی ﷺ اور حضرت حسن بن علی دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے ،آپ نے دعا کی: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں ، سو تو بھی اس سے محبت فرما اور جو بھی اس سے محبت کر ے ، اُس سے محبت فرما، حضرت ابوہریرہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی اس دعا کے بعد میرے نزدیک سیدنا حسن بن علی سے زیادہ کوئی محبوب نہیں تھا، ( مسلم:2421)‘‘

،(۱۹) ’’حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا : رسول اللہ ﷺ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی زبان یا ہونٹ چوس رہے تھے’’صلوات اللہ علیہ‘‘ اور بے شک جس زبان یا ہونٹ کو رسول اللہ ﷺنے چوسا ہو ،اُس کو اللہ کبھی عذاب نہیں دے گا، (مسند احمد،ج: 4، ص:93)‘‘، (۲۰)’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن سے کہا: مجھے وہ جگہ دکھائیں جہاں آپ کو رسول اللہ ﷺ نے بوسا دیا تھا، حضرت حسن نے قمیص اٹھائی تو حضرت ابوہریرہ نے اُن کی ناف پر بوسا دیا،(مسند احمد،ج:2، ص:255)‘‘،(۲۱)’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ان دونوں (حسن اور حسین رضی اللہ عنہما) سے محبت کی ،اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا، (مسند احمد،ج:2،ص:440)‘‘۔

(۲۲)’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، پس جب آپ سجدے میں گئے تو حضرت حسن اور حسین اچھل کر آپ کی پشت پر بیٹھ گئے، جب لوگوں نے ان کو منع کرنے کا ارادہ کیا تو آپ نے اشارہ کیا کہ ان کو رہنے دواور نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھالیا، پس فرمایا: جو مجھ سے محبت کرتا ہے، وہ ان دونوں سے محبت کرتا ہے، (مسند ابویعلیٰ: 5017)‘‘،(۲۳)’’ نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جو میرے بعد میرے اہل کے لیے بہترین ہے، (المستدرک ،ج:3،ص:352)‘‘،(۲۴)’

’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی محبوب تر نہ ہوجائوں اور میرے اہلبیت اسے اس کے اہلِ خانہ سے محبوب تر نہ ہوجائیں اور میری اولاد اُسے اپنی اولاد سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجائے اور میری ذات اُسے اپنی ذات سے محبوب تر نہ ہوجائے، (المعجم الکبیر للطبرانی:6416)‘‘،(۲۵)’’رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اُن نعمتوں کی وجہ سے جو اُس نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کے سبب اور میرے اہلِ بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو ، (ترمذی:3789)‘‘، (۲۶)’’ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی ﷺ منبر پر فرمارہے تھے: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قرابت آپ کی قوم کو نفع نہیں پہنچائے گی، بیشک میری قرابت دنیا اور آخرت میں مجھ سے ملی ہوئی ہے اور اے لوگو! جب تم حوض پر آئو گے تو میں حوض پر تمہارا پیشوا ہوں گا،(مسند احمد:11591)‘‘۔

(۲۷)’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے میں اپنی امت میں سے اپنے اہلِ بیت کی شفاعت کروں گا، پھر جو ان سے زیادہ قریب ہوںاور پھر جو ان سے قریب ہوں، پھر انصار کی شفاعت کروں گا، پھر ان کی جو مجھ پر ایمان لائے اور انہوں نے میری اتباع کی، پھر اہلِ یمن کی، پھر باقی عرب کی، پھر اعاجم کی، (المعجم الکبیر للطبرانی:13550)‘‘، (۲۸)’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میں اپنی امت میں سے جس عورت کے ساتھ بھی نکاح کروں اور میں اپنی امت میں سے جس شخص کو بھی نکاح کا رشتہ دوں، میرے ساتھ جنت میں ہی رہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عطا فرمادیا، (المعجم الاوسط:5762)‘‘،(۲۹)’’ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جس شخص نے عبدالمطلب کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ بھی کوئی نیکی کی اور اس نے اس کو دنیا میں اس کا صلہ نہیں دیا تو کل جب وہ مجھ سے ملاقات کرے گاتو مجھ پر اس نیکی کا صلہ دینا واجب ہے، (المعجم الاوسط:1446)‘‘، (۳۰)’’ رسول اللہ نے ﷺفرمایا:جس شخص نے بھی میرے اہل بیت کے ساتھ کوئی نیکی کی تو میں قیامت کے دن اس کا بدلہ دوں گا، (الکامل لابن عدی،ج:6،ص:425)‘‘،(۳۱)’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میرے اہلبیت کی مثال سفینۂ نوح کی سی ہے ، جو اس میں سوار ہوا، نجات پاگیا اور جو اس میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوگیا(یعنی جس نے ان کی محبت واطاعت کو اپناشِعار بنایا ، وہ نجات پاگیا اور جس نے ان سے تعلق توڑا ، اس نے اپنی عاقبت کو برباد کیا)،(المستدرک : 151/3)‘‘،امام احمد رضا قادری فرماتے ہیں:

اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار، اصحابِ حضور

نجم ہیں اور نائو ہے، عِترت رسول اللہ کی

(۳۲) ’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہﷺ کوحج کے موقع پر دیکھا ، اپنی ناقۂ مبارکہ قَصوا پر سوارہوکر خطبہ دیتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! میں نے تم میں دو ایسی چیزیں چھوڑی ہیں کہ اگر تم نے ان کو مضبوطی سے تھام لیا توتم کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری اولاد میرے اہلِ بیت،( ترمذی:3786)‘‘،(۳۳)’’ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی ﷺ نے حضرت علی المرتضیٰ ،سیدہ فاطمۃ الزہرا اورحضراتِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو چادر اوڑھائی اور فرمایا: اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت اور خاص ہیں ،ان سے ناپاکی دور فرما اوران کو خوب پاک کردے،(ترمذی: 3871)‘‘،(۳۴)’’ رسول اللہ ﷺنیفرمایا: فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے ،جس نے اس کو ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا، (بخاری:3714)‘‘،(۳۵)’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:فاطمہ میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو چیز اس کو پریشان کرتی ہے ،وہ مجھے پریشان کرتی ہے اور جوچیز اسے ایذا پہنچاتی ہے، وہ مجھے ایذا پہنچاتی ہے، ( مسلم:2449)‘‘۔

(۳۶)’’ام المومنین حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں: نبی ﷺ کی تمام ازواجِ مطہرات آپ کے پاس موجودتھیں، سیدہ فاطمہ چلتے ہوئے آئیں، ان کے چلنے کا انداز بالکل رسول اللہ ﷺ کے مشابہ تھا، جب آپ ﷺنے ان کو دیکھا تو فرمایا: میری بیٹی مرحبا!، پھر ان کو اپنی ایک جانب بٹھالیااورسرگوشی کے انداز میں ان سے بات کی تو وہ بہت زیادہ روئیں ، جب آپ ﷺنے ان کی بے قراری دیکھی تو دوبارہ سرگوشی کے انداز میں ان سے بات کی ،اس بار وہ ہنسیں، میں نے سیدہ فاطمہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے اپنی تمام ازواج کے ہوتے ہوئے خاص طور پر آپ سے سرگوشی کے انداز میں بات کی تو آپ روئی تھیں ، پھر جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے تو میں نے اُن سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے آپ سے کیا فرمایا تھا، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے راز افِشاکرنے والی نہیں ہوں، حضرت عائشہ نے بتایا :

جب رسول اللہ ﷺ نے وصال فرمایا تو میں نے سیدہ فاطمہ سے کہا: میرا (ماں کی حیثیت میں) آپ کے اوپرجو حق ہے ، میں آپ کو اس کے واسطے سے قسم دیتی ہوں، مجھے بتائیں کہ آپ سے رسول اللہﷺ نے کیا فرمایا تھا، تو انہوں نے کہا: ہاں! اب میں بتادیتی ہوں، پہلی بار جب آپ نے مجھ سے سرگوشی کی تو آپﷺ نے فرمایا: جبریل میرے ساتھ ہر سال قرآنِ کریم کاایک مرتبہ دور کرتے تھے، اس سال انہوں نے دو مرتبہ دور کیا ہے اور اب میرا گمان یہی ہے کہ اَجل قریب آچکی ہے، پس تم اللہ سے ڈرو اور صبر کرو، میں تمہارے لیے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں، پھر انہوں نے کہا: مجھے روتے ہوئے آپ نے دیکھاتو میری بے قراری آپ سے دیکھی نہ گئی ،تومجھ سے دوبارہ سرگوشی کی اور فرمایا: فاطمہ! کیا تم اس سے راضی نہیں ہو کہ تم تمام مومنین کی عورتوں کی سردار ہو، انہوں نے بتایا: پس میں ہنسی اور یہ میری وہی ہنسی تھی جو آپ نے دیکھی تھی،( مسلم: 2450)‘‘، (۳۸)حضرت بریدہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو تمام عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں اور مردوں میں سب سے زیادہ محبوب اُن کے شوہر تھے، ( ترمذی:3868)‘‘۔

(۳۹)’’حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی، سیدہ فاطمہ ،سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم سے فرمایا: جس سے تم جنگ کرو گے ،میں اُس سے جنگ کروں گا اور جس سے تم صلح کرو گے ،میں اُس سے صلح کروں گا، (ترمذی:3870)‘‘،(۴۰)’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمام جہان کی عورتوں میں سب سے افضل مریم بنتِ عمران ، خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنتِ محمد ﷺ اور فرعون کی بیوی آسیہ ہیں، (ابن حبان:6951)‘‘۔

(۴۱)’’حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں: میں نے کسی کو نہیں دیکھا جس کا اندازِ گفتار سیدہ فاطمہ سے زیادہ رسول اللہ ﷺکی گفتار کے مشابہ ہو، جب وہ آپ کے پاس آتیں تو آپ کھڑے ہوجاتے، ان کو بوسا دیتے ، ان کو خوش آمدید کہتے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ بٹھاتے اور جب آپ سیدہ فاطمہ کے پاس تشریف لاتے تو وہ آپ کے لیے کھڑی ہوجاتیں اور آپ کے دستِ مبارک کو بوسا دیتیں اور آپ کا ہاتھ پکڑ لیتیں، ( ابودائود: 5217)‘‘۔ رسول اللہ ﷺ کا آپ کے آنے پر کھڑا ہونا ازراہِ شفقت ومحبت تھا اور سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا آپ کے لیے کھڑا ہونا تعظیم وتکریم کے لیے تھا۔

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے تیرہ احادیث مروی ہیں جو انہوں نے اپنے نانا اوراپنے والد سے روایت کی ہیں، (خلاصہ تہذیب الکمال، ج:1،ص:238)‘‘۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آٹھ احادیث مروی ہیں جو انہوں نے اپنے نانا سے ، اپنے والد سے ، اپنی والدہ سے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں، (خلاصۃ تہذیب الکمال،ج:1،ص:250)‘‘۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */