نظریات کا اختلاف، رؤیت ہلال اور مسلم معاشرے کی بقا - سید حسنین گیلانی

انسان اشرف المخلوقات اس لیے ہے کہ اس کے پاس سوچنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت ہے۔
دنیا میں مختلف نظریات ہی کائنات کے مختلف رنگ ہیں اور یہی مختلف نظریات اس واحد سیارہ زمین کی بربادی کا سبب بھی ہیں۔ جہاں یہ اشرف المخلوقات آباد ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب علم اور تحقیق کا مقابلہ لاعلم اور بے یقینی سے ہوتا ہے۔ تب علم کا جواب انسانی متشدد رویے ہوتے ہیں اور یہی متشدد رویے کسی بھی اچھے یا برے نظریہ کو پسند یا ناپسند کرنے کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اور یہی انسانی رویے انسانوں کو تباہ کرتے ہیں اور دشمنیوں اور جنگوں کا سبب بھی بنتے ہیں۔

میں آج کی اس تحریر میں اپنے قارئین سے گزارش کروں گا کہ علم اور تحقیق کی عینک لگاکر اس کو پڑھیں، مجھے یقین ہے تشفی ہوگی اور حق واضح ہوجائے گا۔ اب ان نظریات کا ذکر کرتے ہیں، جن کی بنیاد پر کشمیر اور پاکستان کو آنے والے وقتوں میں بہت بڑی آزمائش کا سامنا ہوگا۔ ممکنہ دو اختلافات ہی اقوامِ عالم کی تباہی کا سبب رہے ہیں۔ پہلا سیاسی نظریاتی اختلاف اور دوسرا مذھبی نظریاتی اختلاف کا ٹکراؤ۔ اب ایک اور اختلاف ہوتا ہے الھام کا، غیر الھام کے خلاف۔ الھام کا غیر الھام سے اختلاف، لبرلز کا فاشسٹس کا مذہب اور مذہبی طبقات سے اختلاف ہے۔ آج کل پاکستان اسی آزمائش سے گذر رہا ہے۔

گذشتہ دنوں پاکستان میں رؤیت ہلال (Moon Sighting) کے مسئلہ پر وزیر سائنس و ٹیکنالوجی جناب فواد چوھدری صاحب اور چئیرمین رویت ہلال کمیٹی پاکستان جناب مفتی منیب الرحمن کا اختلاف ہوا اور اس اختلاف کی وجہ بھی مختلف نظریات کا ہونا ہے۔ دین اسلام کؤئی فرسودہ دین نہیں ہے کہ جس کے ساتھ کسی زمانے میں زندگی گزارنا ممکن نہ ھو۔ اسلام ایسا دین ہے جس نے ہمیں پیدائش سے لے کر تدفین تک زندگی کے ہر مرحلہ پر راہنمائی دی ہے۔ اب فواد چوھدری اور مفتی صاحب کے اختلاف نے پاکستان میں پڑھے لکھے مذہبی طبقات کو بھی ایک آزمائش میں ڈال دیا اور لوگوں نے علماء کی اجتہادی اور علمی صلاحیت کے نہ ہونے کے سبب دینی مسئلہ پر جانے انجانے میں اعتراضات شروع کردئیے ہیں۔ رویت ہلال کو قرآن و حدیث سے سمجھنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح یہ ضروری ہے کہ نماز کیسے پڑھنی ہے؟ کب پڑھنی ہے؟ اسی طرح اس مسئلہ پر قرآن و احادیث میں صراحت جب موجود ہے تو بطورِ مسلم سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف آنا چاہیے کہ ان کا کیا حکم ہے اس مسئلہ میں؟ قرآن پاک کی سورۃ انفال میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"جب اللہ اور اس کا رسولﷺ کسی بات میں فیصلہ کردیں تو تمہارے پاس کؤئی بھی اختیار باقی نہیں رہتا" اس لیے Moon Sighting پر جب اللہ اور اس کے رسولﷺ کی سٹیٹمنٹ موجود ہے پہلے، تو اس کا مطالعہ کرلیا جائے۔ پھر اس مسئلہ پر علماء اور مذھبی طبقات کے نقطۂ نظر سے اختلاف کیا جائے۔ محض اس نظریہ پر کہ مفتی کی آنکھ سے سٹیلائٹ زیادہ اچھا دیکھتی ہے، آپ مذہب کو مذاق نہیں بناسکتے۔ سائنس کی رٹ لگانے والوں کی نظر میں یہ تحریر ان کے لیے لمحۂ فکریہ ھوگی جو سائنس کو عقلِ کل سمجھتے ہیں۔ لبرلز اور دین سے بیزار اور چند نابلد شرفا کے یہ بھی گوش گذار کردوں کہ اسلام سائنس کو Moon sighting کے مسئلہ پر بطور Supporting evidence تسلیم کرتا ہے اور آج تک کؤئی ایک سسائنسی تحقیق بتادیں جس نے قرآنی بات کو غلط ثابت کیا ہو۔ میں ان علماء کی بات نہیں کررہا جو اپنی لاعلمی کی بنیاد پر دین کو مذاق بنارہے ہیں اور جلتی پر تیل کا کام ہمارا پڑھا لکھا طبقہ کرتا ہے جو دین کے اجتہادی مسائل سے نابلد علماء کو اور ان کی باتوں کو ہی دین سمجھتا ہے۔

آئیے قرآن سے دیکھتے ہیں کہ اللہ نے اس چاند کو کیسے بیان کیا ہے؟ سورہ بقرۃ کی آیت نمبر 189 "یسئلونک عن الاھلة" اس آیت میں لفظ ہلال کا استعمال کیا گیا ہے جسے Crescent کہا جاتا ہے۔ جبکہ سورة یسین کی آیت نمبر 39 میں فرمایا "والقمر قدرنہ منازل حتیٰ عاد کاالعرجون القدیم" اس آیت میں اللہ نے Phases of the moon کو بیان کیا ہے اب یہاں چاند کو قمر کہا گیا، اس کو سمجھنا ضروری ہے کہ قمر اور ہلال میں فرق کیا ہے؟ اس چاند کو ہلال آپ تب کہیں گے جب اس کا Altitude یعنی افق سے بلندی 5 Degree ہوگا۔جبکہ قمر اور بدر آپ تب کہیں گے جبکہ پیدائش کے تین دن بعد چکمتا ہوا آسمان پر دکھائی دے گا۔ اس لیے قرآن نے ہلال اور قمر کے الگ الگ الفاظ استعمال کیے ہیں۔

اب آئیے قرآن کے بعد اس رسولﷺ کے فرمان سے ان احکام کو دیکھتے ہیں جن کی کوئی بات اپنی طرف سے نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1906 اور صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1080 میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا"لا تصوموا حتی تروا الھلال ولآ تفطروا حتی تروہ فان غم علیکم فاقدرولہ"

"تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو اور اگر مطلع ابر آلود ھو تو گنتی (یعنی تیس دن) پوری کرو۔"

اب اسی طرح ایک اور حدیث صحیح بخاری میں 1909 صحیح مسلم میں 1081 موجود ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا "صوموا لرءویتہ وافطروا لروءیتہ" یعنی چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر عید کرو۔

اب آپ نے ہلال اور قمر کے فرق کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ہمارے نبیﷺ کے احکامات بھی پڑھ لیے جس میں یہ حل بتایا گیا ہے کہ انتیس رمضان کو چاند دیکھو، اگر نظر آئے تو عید، اگر بادل ہوں ‌تو آپ روزہ رکھیں۔ اب یہاں سے پاکستان میں ہونے والے اس اختلاف کی حقیقت کے لیے آپ قارئين کے ہاتھ میں ایک آئینہ دے رہا ہوں جو سائنسی آئینہ ہے کیونکہ سائنس کا علم ہی وہ واحد علم ہے جو اسلام کے ماننے والوں کو بے شمار معاملات میں مشکل سے آسانی کی طرف لایا ہے اور یہ حقیقت ہے۔مگر کیا Moon Sighting کی visibilityاور Birth of Moon اور اس کے بعد اس کے دکھنے کا اصل سائنسی مؤقف یہی ہے جس کو پاکستانی وزیر سائنس بیان کررہے ہیں؟ اس کو سمجھنا بے حد ضروری ہے، اگر سمجھے بنا ہم نے کوئی رائے قائم کردی جو اللہ اور اس کے رسولﷺ اور سائنسی تحقیق کے خلاف ہو تو ہم سب اللہ کے بھی مجرم ہوں گے اور تمام لوگوں کی عبادات کے بھی۔

یاد رکھیے یہود کاLunar Month یعنی قمری مہینہ Birth of Moon سے شروع ہوتا ہے۔جبکہ اسلامی کلینڈر Birth of Moon سے نہیں، بلکہ Moon Sighting سے شروع ہوتا ہے۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ اسلام سائنس کو Moon Sighting میں Supporting Evidence کے طور پر ہونے میں کوئی قدغن نہیں لگاتا لہذا ھم یہاں یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ وہ کونسے سائنسی محرکات ہیں جن کی بنیاد پر چاند کی رویت ممکن ہے۔

نمبر 1، چاند کی پیدائش اس وقت ہوجاتی ہے جب چاند سورج اور زمین Line Up ہوتے ہیں۔یہود سٹیلائٹ کے ذریعے سے Birth Of Moon سے ہی Lunar Month کا آغاز کرلیتے ہیں جبکہ اس وقت چاند سورج اور زمین کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو ٹیلی سکوپ یا آنکھ سے دیکھا نہیں جاسکتا۔ Space سے اگر آپ چاند کو سٹیلائٹ سے دیکھیں تو وہ آپ کو ہر وقت نظر آئے گا، کیونکہ چاند کا وجود قیامت سے پہلے ختم تو ہو نہیں سکتا۔

لہذا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام انسانوں کی ہدایت کا دین ہے اور Human صرف اسی Planet پر پائے جاتے ہیں۔ ہمیں چاند کی رؤیت زمین پر بسنے والوں کے لیے زمینی رؤیت کا ہی اعتبار ہوگا نا کہ Space سے دیکھے جانے کا۔ لہذا Possible Sighting کا پہلا سائنسی محرک یہ ہے کہ اس کا Altitude کم سے کم Minimum 5 Degree ہونا چاہیے۔ Altitude سے مراد افق سے بلندی ہے۔ اور دوسری بات اس کا Elongation یعنی کہ بعد عن الشمس Minimum 8 Degree ہو تو آپ اسے قرآنی پہلی آیت کے مطابق ہلال کہہ سکتے ہیں۔ صرف اس کے Altitude اور Elongation سے چاند نظر نہیں آئے گا۔ اگر ایسا ہو تو چاند درجۂ ہلال میں داخل ہوجاتا ہے۔ جس کو Crescent کہا گیا۔

اب یہ یاد رہے کہ چاند اس پہلے محرک پر آپ کو کسی بھی زمینی آلہ سے دکھائی نہیں دے سکتا۔

اب اس کا دوسرا محرک سمجھتے ھیں کہ چاند پھر دکھائی کب دے گا؟

نمبر 2، جب چاند کا Altitude 8 Degree سے زیادہ ہوجائے اور اس کی Elongation 12 Degree سے زائد ہو تو اس کو کہتے ہیں Possible Sighting امکان رویت۔ یعنی کہ اس کے دوسرے محرک کے پورا ہونے پر بھی یہ یقین سائنس کو نہیں ہے کہ چاند نظر آئے گا۔

نمبر 3، تیسرا مرحلہ چاند کی عمر کا ہے۔ Possible Sighting بھی تب ہوگا جب Age of Moon کم از کم 20 گھنٹے سے زائد ہوگی۔ تو امکان رویت ہے ممکن ہے آپ کو سکوپ پر نظر آجآئے یا انسانی آنکھ دیکھ سکے۔ مگر صرف اس کی عمر کا سٹیلائٹ سے دیکھ کر باقی اس کے Altitude اور Elongation اور Possible Sighting کو چھوڑ کر صرف اپنی ضد یا سیاسی ایوان میں وجود باقی رکھنے کے لیے ایک شرعی مسئلہ پر دین سے کھلواڑ کرنا انتہائی شرمناک اقدام ہے۔

اب اس کے چوتھے محرک کو سمجھنا ضروری ہے، تاکہ حق واضح ہوجائے اور سائنس کی مدد سے ایک شرعی فریضہ کی ادائیگی کماحقہ کی جاسکے۔

نمبر 4، Possible Moon Sighting کے لیے ضروری ہے کہ چاند روشن ہو۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ چاند کب روشن ہوتا ہے؟

جب سورج زمین اور چاند Line Up یعنی ایک لائن میں آجاتے ہیں تو چاند نظر نہیں آتا۔ کیونکہ وہ زمین اور سورج کے درمیان سورج کی روشنی میں چھپا ہوتا ہے۔ جونہی وہ اس لائن سے باہر نکلتا ہے جسے سائنس نے *Crescent Illuminationیعنی ارتکاز نور کا نام دیا ہے تب روشن ہوتا ہے۔ سائنس یہ کہتی ھے کہ اگر Crescent illumination 1% بھی ہو تو چاند Sunset کے بعد نظر آسکتا ہے۔ اب ہمیں تعصب، نفرت کی عینک اتار کر حقیقت پسند ہوکر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا حدیث میں جس چیز کو بیان کیا گیا ہے کہ اس کی رویت کا اعتبار ہوگا۔ اور رویت زمین سے ہوگی کیونکہ روزے انسانوں پر فرض کیے گئے ہیں
نا کہ آسمانی سیاروں کے لیے یہ حکم ہے کہ ہم زمین کے مدار سے باہر جا کر چاند دیکھیں اور فیصلہ یہاں سنائیں۔

اگر پاکستان میں ان چار اصولوں کی بنیاد پر عمل کرتے ھوئے چاند دیکھا جائے تو اہل پاکستان اس بہت بڑے نظریاتی اختلاف سے بچ سکتے ہیں اور قرآن و احادیث کے احکامات پر بھی عمل ہوجائے گا۔ ہمارے علماء کو بھی ہوش کے ناخن لینے چائییں کہ آپ اسباب کا انکار کیسے کرسکتے ہیں جبکہ آپ نے گھڑی، موبائل، ٹی وی، پرنٹنگ پریس، تصویر پر غیراسلامی فتوے لگائے اور پھر ان سے رجوع کیا اور وقت کے ساتھ اب آپ بھی انہیں چیزوں کا استعمال کررہے ہیں۔

میرے تمام ان بھائیوں سے گزارش ھے جو کسی بھی سیاسی وابستگی یا سوچ کی بنیاد پر یا کسی عالم کی لاعلمی کی بنیاد پر جو دین کی شرعی حدوں کا انکار کر دیتے ہیں اس میں احتیاط کیجیے۔ چاند مفتی صاحب دیکھیں یا فواد چوھدری صاحب، شرعی احکام اور سائنسی مدد لیے بغیر چاند کی رویت کا فیصلہ ہر دو اطراف سے غیر منصفانہ اور لاعلمی پر مشتمل ہوگا ۔میں نے دیکھا ہے کہ وزیر سائنس صرف چاند کی عمر اس کی Visibilty اور Altitude کی سائنسی حد کے بغیر ہی یہودی Birth of Moon کی بات پر اعتبار کرکے امت رسول اللہ کو تقسیم کررہے ہیں۔ علما کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں‌کہ آپ ترکی، الجزائر، سعودیہ اور یورپی ممالک کے اسلامک کلینڈرز کا مطالعہ فرمائیں اور اگر اس تحقیق کی کسوٹی کے مطابق آپ بھی سال ہا سال کی تحقیق کے کلینڈر بنانے میں کامیاب ہوجائیں جو کہ Maximum امکان رویت کے قریب ہو تو یہ بھی ایک اچھا اقدام ہوگا۔ دوسرے طبقے کو بھی خیال رکھنا چاہیے اگر علماء شرعی مسئلہ کو خالصتاً شرعی بنیادوں پر سائنس کی مدد سے حل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ان کی مخالفت میں دینی مسئلہ کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ رویت ہلال انسان کے لیے ہے اور انسان زمین پر آباد ہیں۔ اس کی رؤیت بھی زمین سے ہوگی جس کا احادیث نے ہمیں حکم دیا ہے۔ یاد رہے مسلمان کسی بھی مسلک کا ہو، اسے قرآن نے بنیان مرصوص کہا ہے کہ یہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہیں، لہذا نبیﷺ کا بتایا ہوا دین ہی کافی وشافی ہے اور اسی میں نجات بھی ہے، حقیقت بھی ہے اور سائنس بھی اس کے دائرہ کار سے باہر نہیں ہے اہل ایمان وعقل و دانش کے لیے۔ اللہ تعالیٰ اس شرعی مسئلہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی حاکمیت ہی تسلیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔