ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت - قاضی شیراز احمد

خالق كائنات نے نسل آدم کو زمین پر اپنا نائب و خلیفہ بنا کر بھیجا۔اور ان کی ہدایت اور راہ نمائی کے لیے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ بھی تشکیل دیا۔یوم الست میں ہی انبیاء و رسل کی مقدس روحوں کو الگ کیا گیا۔ان کو مخاطب فرما کر خالق کائنات نے فرمایا کہ تمہارے سامنے ان تمام روحوں نے میری خالقیت اور رب العالمینی کو تسلیم کیا ہے۔

مگر جب یہ دنیا میں جائیں گے تو یہ عہد بھول جائیں گے۔یہ ابلیس اور نفس کے ہاتھوں گمراہ ہوں گے اور میری نافرمانی پر اتر آئیں گے۔مگر میں تم مقدس روحوں کو ان کی جانب یاد آوری،ہدایت اور وحدانیت کی دعوت کے لیے مبعوث کروں گا۔اے مقدس اروح پیغمبر آپ ان کو میری طرف بلاتے رہیں گے۔اور ان کو ان کا یہ عہد یاد دلاتے رہیں گے۔اس طرح انبیاء علیہم السلام کا یہ مقدس سلسلہ شروع ہوا اور ہر بنی اپنی اپنی قوم اور مقررہ وقت پر آتا رہا۔ انبیاء علیہم السلام کی تربیت کسی سکول،کالج،مدرسے یا یونیورسٹی میں نہیں ہوتی رہی بلکہ خود رب العالمین ان کے معلم تھے۔ روح القدس حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے ان مقدس رسولوں کی تربیت فرمائی گئی اور ان کو ہدایت اور راہ نمائی عطا ہوتی رہی۔رب کائنات کا ہر نبی و رسل مکمل و کامل اور ہر عیب سے پاک تھا۔

چونکہ ہم آخری امت ہیں لہذا ہماری جانب خالق کائنات کے فرستادہ رسول رب العالمین کے آخری الہامی پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم خالق کائنات کے سب سے مقدس و مکرم،سب سے پسندیدہ رسول و نبی ہیں۔آپ کو اپنے خالق کی جانب سے بے شمار انعام و اکرام اور معجزات سے نوازا گیا۔باقی تمام رسل کو جو معجزے عطا ہوئے وہ اکیلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گئے۔آپ کا تعارف عالم ارواح میں یوم الست کو تمام انسانی روحوں سے کرایا گیا۔سب سے پہلے انسان اور نبی حضرت آدم علیہ السلام نے بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی نوید سنائی۔ختم نبوت کا اعلان صرف رب کائنات کی آخری الہامی کتاب قرآن کریم میں یا حدیث رسول میں ہی نہیں بلکہ ہر نبی و رسل نے اپنی قوم کے سامنے اس کا اعلان کیا۔اور اپنی قوم کو بتایا کہ قرب قیامت رب العالمین کے ایک مقدس و برگزیدہ رسول آئیں گے۔جو بڑی رحمتوں والے ہوں گے۔

ان کی امت بڑی خوش بخت ہو گی۔یہاں تک کہ بعض انبیاء نے دعائیں مانگیں کہ ار ہمارے رب ہمیں اس آخری الہامی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے پیدا فرما۔ہر نبی و رسل اور اس کی امت یہ جانتی تھی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم رب کائنات کے آخری الہامی پیغمبر ہیں۔لہذا یہ صرف مسلمانوں کی انا کا مسئلہ نہہں اور نہ ہی کوئی تعصب کی جنگ ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت اور بنیادی عقیدہ ہے۔بنی اسرائیل جو اس وقت سب سے زیادہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے متعلق سازشوں میں مصروف ہیں وہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ پیغمبران بنی اسرائیل نے بھی یہ اعلان بارہا کیا کہ جلد ہی خالق کائنات کے ایک آخری الہامی پیغمبر آنے والے ہیں جس کے بعد رب کائنات نبوت کا دروازہ مکمل بند فرما دے گا۔یہی وجہ تھی کہ عیسائی و یہودی راہب انتظار میں تھے اور دعائیں مانگتے تھے کہ ان کو وہ زمانہ نصیب ہو جب وہ آخری الہامی پیغمبر اپنی نبوت کا اعلان فرمائیں۔اور یہ ان کی آواز پر لبیک کہیں۔مگر جب وہ آخری رسول نی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل سے منتخب ہوئے تو ان کے اندر بغض و حسد کی آگ جل اٹھی۔

اور ہر دور میں عقیدہ ختم نبوت پر نقب زنی کرنے لگے۔برصغیر میں جب تاج برطانیہ کا دور تھا اس زمانے میں انہوں نے ایک نئے فتنے کی بنیاد رکھی اور اس فتنے کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی جیسے رذیل اور کاذب کا انتخاب کیا گیا۔مگر اہل اسلام کے لیے یہ حملہ کوئی نیا نہیں تھا۔اس سے قبل بھی کاذبین نبوت پیدا ہوتے رہے اور ذلیل و رسوا ہو کر مرتے رہے۔کیونکہ آسمان کی جانب تھوکنے والے کی تھوک اس کے منہ پر ہی گرتی ہے۔قادیانیت ایک مذہب نہیں بلکہ ایک فتنہ ہے جس کو اہل اسلام کی گمراہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔یہ نہ ہی کوئی اقلیت ہیں یہ مرتد ہیں۔جو خود کو اسلام کے لبادے میں چھپاتے ہیں۔ان کی عبادت گاہ ا کوئی مخصوص نام نہیں اور نہ ہی کوئی الہامی کتاب ان کے پاس ہے یہ قرآن پاک کو ہی اپنی الہامی کتاب مانتے ہیں۔آئین پاکستان ان کو غہر مسلم کہتا ہے مگر یہ خود کو مسلمان کہتے ہیں۔اپنے عقیدے اور جماعت کو چھپاتے ہیں۔خود کو قادیانی ظاہر نہیں کرتے کیونکہ ان کو اپنے عقیدے اور جماعت سے نفرت ہے۔اور اس پر ان کو مکمل اعتماد نہیں۔

ہندوو مت جیسا گندہ اور غلیظ مذہب کوئی نہیں جہاں بت پرستی اور گائے کے پیشاب کو بھی مقدس مانا جاتا ہے۔مگر وہ بھی کھل کر اپنے مذہب کا پرچار کرتے ہیں۔مگد قادیانیت وہ گندہ اور غلیظ مذہب ہے جس کے اپنے ماننے والے اس سے اس قدر متنفر ہیں کہ اپنا مذہب چھپاتے ہیں۔مگر صرف دنیاوی لالچ اور مفادات کی خاطر اس فتنے کی حمایت اور اقتداء میں مصروف ہیں۔غلام احمد قادیانی نے پہلے خود کو حضرت مہدی علیہ السلام کہا پھر بعد ازاں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔آج کا دور جوکہ ترقی کی معراج کا زمانہ ہے اس دور میں بھی چند دنیا پرست اس کاذب اعظم کے ان ڈرامائی اعلانات کے باوجود اس کی تقلید کر رہے ہیں۔اور اس غلیظ عقیدے کو اپنا کر اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔مگر یوم حشر جب رب کائنات کے پانچ بڑے اور برگزیدہ رسول حضرت نوح علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ السلام،حضرت موسی علیہ السلام،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی رب کے رعب و جلال سے کانپ رہے ہوں گے۔وہاں قادیانی جیسے رذیل اور کاذب کی کیا حیثیت ہے۔

انسان صاحب شعور ہے اور آج کا دور ترقی کی معراج کا زمانہ ہے اور آج کے اگر کوئی کم عقل مرزا قادیانی جیسے رذیل اور کاذب جو مدرسوں میں حصول علم کا محتاج بن کر گیا اور پھر خود کتابیں لکھتا رہا اور انکی اشاعت کے لیے خیرات مانگتا رہا۔جو محروم چشم تھا۔اور سب سے بڑھ کے براعظم ایشیا کا رہنے والا تھا جہاں سے خالق کائنات نے کبھی کوئی رسول مبعوث نہیں فرمایا۔یہ کس طرح رب کائنات کا نبی ہو سکتا ہے۔غرض ہر پہلو سے اگر دیکھا جائے تو یہ فتنہ قادیانیت صرف اور صرف چند کم عقل اور کم عمل لوگوں کو گمراہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔باقی اس سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان قدس میں کوئی فرق نہیں۔جیسے سورج کے سامنے کسی کافر و منکر کے چراغ کی کوئی اہمیت نہیں۔جس طرح بدبو پر خوشبو غالب آکر رہتی ہے۔

اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور صفات پر ان کاذبین کے آنے اور جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔قیامت تک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان قدس پر لکھاری لکھتے رہے ہیں۔چھاپنے والے چھاپتے رہیں گے۔انسانیت اسلام کے نور سے روشن ہوتی رہے گی۔پانچ وقت موذن پوری دنیا میں رب کائنات کی رب العالمینی کا اعلان اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا اعلان کرتے رہیں گے۔باقی یہ چوہے بلوں میں گھس کر سازشیں بناتے رہیں گے اور سامنے آنے پر ذلیل و رسوا ہوتے رہیں گے۔

خوشبو ہے دوعالم میں تیری اے گُل چیدہ

کس منہ سے بیاں ہوں تیرے اوصاف حمیدہ

مضمر تیری تقلید میں دوعالم کی بھلائی

یہی میرا ایمان ہے یہی میرا عقیدہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com