بین الا قوامی کتاب میلہ یا انٹرنیشنل بک فیر۶- صبا احمد

کاغذ و قلم کی محتاج ھے کتاب

زندگی کی حقیقت ھے کتاب

٥دسمبر سے ٩ دسمبر ٢٠١٩ تک کراچی میں ایکسپورٹ سنٹر میں بین الاقوامی کتاب میلہ لگا ۔ ھمیں بھی جانے کا اتفاق ھوا ۔ھم اتفاق یوں کہیں گے ۔کہ اتفاقا” ھی معلوم ھوا اور ہمیں گاڑی میسر ھوٸ ۔ھم نے سوچا کیوں نہ اس پیشکش سے فاٸدہ اٹھایا جاۓ ۔ڈسکاٶنٹ کی آفر jبربنڈ کی سیل سے بھی زیادہ اھم ھوتی ھے۔ھم ہزاروں روپے کپڑوں اور کراری پر خرچ کرتے ھیں مگر ٢٠٠ کی کتاب خریدنے سے پہلے دس مرتبہ سوچتے ھیں ۔

بہرحال ٧دسمبر بروز ہفتہ ہم ایکسپوسنٹر پہنچے ۔ھال نمبر ١٢اور ٣ مں کتاپ میلہ تھا ۔ تینوں ھال کھچاکھچ بھرے ھوۓتھے ۔زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے حضرات ۔ھر عمر کے افراد موجود تھے بڑوں سے لے کر گود میں سٹالر میں دادا دادی ویل چٸیر میں استاتذہ طالبعلموں کے ساتھہ مختلف اسکولوں کے کالجوں اور یونیورسٹیز کے ۔دیکھہ کر خوشی بھی ھوٸ اور اطمینان بھی کہ کتاب سے دوستی رکھنے والوں کی کمی نہیں ھوٸ ۔انتر نیٹ ٤g اور ٥g کی موجودگی کے باوجود ۔ بچے کہانیوں کی کتابوں کی بجاۓکینڈی کرشن پب جی کارٹون اور ڈراٶنی مویز تو دیکھتے ھیں ۔مگر فاروق فرزانہ اور انسپکٹر جمشید کی کہانیاں اور جاسوسی ناول نہیں پڑھتے اشتیاق احمد کے جبکہ ہمارے دور کے اکثر بچوں نے ان رسالوں کے پڑھنے پر بڑی ڈانٹ کھاٸ۔ھے۔

اندھیرے میں چھپ کر موباٸل پر گیمز فیس بک یو ٹیوب انسٹراگرام اور وٹس اپ دیکھتے ھیں ۔وقت کا ضیا۶ اور بیناٸ کو خطرہ لا حق ۔اردو یا انگلش ناول اور سٹوری سے آپ دونوں مضامین میں عبور حاصل کرتے ھیں ۔جبکہ نیٹ پر صرف جھوٹ یا taktak پر ہماری نوجوانی نسل ناچ رھی ھے ۔مگر رنگین تصاور والی کتابیں پھر بھی بچوں کو اپنی طرف ماٸل کرنے میں کامیاب ھو ھی جاتی ھیں

ہال میں داخل ھوۓ تو تاچ کمپنی کا فرآن مجید کا سٹال ۭ حریم ادب ۭ ساتھی ۭ نو نہال اردو زبان ۭ مولانا مودودی کا لٹریچر ۭ پطرس بخاری کے مضامین قاٸد اعظم کے فرمودات ۭسوانح حیات اور علامہ اقبال کے شعری مجموعے کے علاوہ مرزا غالب ۭ میر درد ۭۭ مسدس حالی ۭ کے بھی نسیم حجازی ۭابن انشا۶ کے جاسوسی ناو ل ۭ رضیہ بٹ ۭ چغتاٸ ۭ نمرہ احمد ۭ اسلامی تاریخ تحقیق اور ساٸنس کی کتابیں ۭ انگلش ۭ شاعری ۭ ناول ۭمنٹوں ۭ امجد اسلام امجد ۭ فیض احمدفیض ۭ پروین شاکر ۭ احمد ندیم قاسمی ۭ ناول ۭکرشن چندر رساٸل اور لٹریچر قسطنطنہ پر اسلام کیسا دین ..! پر قیمت بڑی مناسب کے دیکھنے والوں نے بھی کتابیں خریدیں ۔ڈسکاٶنٹ کسی پر ٢٠ .٣٠ ٥٠ فیصد بھی تھا ھم نے ١٠٠٠ سے دس روپے کی کتاب بھی خریدی ۔کتے لوگ بیگ بھر بھر کر کتابیں لے کر گۓ نصاب کی آکسفورڈ کی بھی موجود تھی انٹر نیٹ پر بھی دستیابی ممکن ھو جاۓگی ۔ اس کی بھی اور ساٸنسی اسٹال پر ماڈلز تھے ربورٹ ۔ اچھا بلکہ توان5ٸ ملی مثبت سوچ پیدا ھوٸ نٸ نسل کے بارے میں نو میدی ھوئی .۔

اقبال کے شاھین سے نہیں ہے نا امید افبال اپنی کشت ویراں سے - ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ھے ساقی دین اسلام کا پہلہ حکم یا وحی ھی یہ ھے ۔ کہ ”پڑھہ اپنی رب کی نام سے “ ”علم حاصل کرنا ھر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ھے ۔“ قرآن جامع شکل میں ترتیب دیا کتاب کی صورت میں قلم کی قسم کھاٸ گی تو علم کی اہمیت اور قدرو قیمت کتنی ھے ۔اللہ ﷻ کی نظر میں ۔

کتاب کا تعلق علم سے سوچ کی داٸرے کو وسیع کرنا معلومات میں اضافہ ۔تبلیغ میں مدد دیتی ھے۔ قرآن جس میں سیاست ۭ معاشرت ۭ تجارت ۭ ثقافت ۭ تہزیب فلسفہ ۭفلکیات ساٸنس فزکس ۭکیمسڑی حیوانات نباتات ۭاور سوشلزم وجنرلزم سب ایک کتاب میں موجود ھے ۔کتاب آپ کی بہترین دوست ھے ۔تنہاٸ میں دوست خوشی اور طالبعلمی میں ۔آپ کے لیے سکون اور خوشی کا باعث بنتی ھے ۔پیلے ھر بس لاری ٹرین اور جہاز کے سفر کے دوران لوگ اخبار رسالے اور کتابیں پڑھتے نظر آتے تھے .جاپان میں لوگ کتاب اپنے بیگ میں رکھتے ھیں ۔جہاں فرصت کے لمحات ملے مطالعہ کرنے لگتے ھیں ۔اب موباٸل ہوتاہے ۔

لوگ علمی باتیں کرتے تھے ۔اب سیاست اور مہنگاٸ کی بات ہوتی ھے قصے کہانیاں یا ادبی گفتگو نہہیں میں نے فلاں شاعر کو پڑھا یا ساٸنسی تحقیق پڑھی کی مصنف کاناول یا مضمون پڑھا۔ سوشل میڈیا ٹی وی ڈرامہ کی بات ھہتی ھے ۔ کوٸ حدیٹ نہیں اگر ھے بھی تو تحیق شدہ نہیں کیونکہ نیٹ پر شر اور دجالی قوتیں شر پھیلا رھی ھیں ۔کتاب تصدیق کرتی ھے سچاٸ کی ۔کتاب رہنماٸ کا سر چشمہ ھے۔ کتاب سی محبت کریں ۔کتاب میلہ نے لوگوں کی شرکت نے ادب لکھنے والوں کی حوصلہ افزاٸ کی ۔

کتاب کی اہمیت کم نہیں ھوٸ اس g ٥ .. ٦g کے دور میں بھی ۔مغرب ممالک میں واۓ فاۓ بہت مہنگا ھے ۔ھر جگہ میسر نہیں ہماری طرح ہر بس جہاز ھوٹل میں مل جاتا ھے ۔کتاب ومطالعہ سے دوری اس کی وجہ سے ھے ۔ ۔علم روشنی ھے۔ذھن و دل کو روشن کرتا ھے ۔کتاب آپ جہاں چاھیں کھول کر پڑھ سکتے ھیں پورٹ ایبل نیٹ کی ضرورت نہیں ۔۔غرناطہ سپین جب ھلاکو اور انگریزوں نے فتح کیے ۔ ھر موضوع پر تحقیق کی کتابوں سے لا ٸبریریاں بھری پڑی تھیں جو انہوں نے پانی میں بہاٸیں ۔ انگریز وہ کتابیں اپنے ساتھہ لے آۓ ۔آج اس مواد سے ساٸنس ٹیکنالوجی میں ترقی کرکی چاند تک پہنچ گے ۔

مغل بادشاہوں میں شاہ جہاں کی پاس کافی تعداد میں کتابیں لاٸبریری میں تھیں ۔صرف عمارتیں تعمیر کرنے کے شوق نے دنیا آتھواں عجوبہ بناڈالا ۔آرٹیٹکچر کا کتاب سے علم کاتعلق ھے ۔کوریا ۭچین ۭ روس ۭانگلش اور فرانس کے مشہور راٸڑز کی کتابوں کے اردو میں متراجم کی ھوٸ کتابیں بھی بہت اچھی کاوشیں ھیں ۔تاکہ نوجوانی نسل دوسرے ممالک کے ادب سے بھی آگاہی ھو اور ھماری کتابوں کے ترجمعے دوسری زبانوں میں کی جاٸیں کتاب ابلاغ کا بہترین ذریعہ ھے ۔

لفظوں کی لڑیاں پروٸیں جملے

جذبات ان میں درد بھرتے

کاغذ و قلم ان کو امر کرتے

مصنف اسے اپنی کتاب کہتے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */