کیا سعودی عروج کے لیے ٹرمپ نے طالبان سے مذاکرات ختم کیے؟

پہاڑوں میں گھرے حد سے زیادہ خوبصورت ملک افغانستان کو جدید دور کے سب سے ہولناک انسانی سانحے کا سامنا ہے۔ افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری عدم استحکام اور جنگ نے ملک کے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ جنگ کی وجہ سے بڑی تعداد میں افغانستان کے شہری نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

ماضی میں افغانستان پر حکمرانی کرنے والے طالبان مسلسل افغان حکومت کے حفاظتی دستوں اور شہریوں کے ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیں۔ حال ہی میں بی بی سی کی ایک تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ صرف گذشتہ اگست کے مہینے میں افغانستان میں اوسطاً ہر دن 74 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا جب طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات جاری تھے۔ یعنی ایک طرف افغانستان میں جاری شورش کو ختم کرنے کے راستے تلاش کیے جارہے تھے لیکن دوسری جانب گولہ باری اور بم دھماکوں کا سلسلہ جاری تھا۔

امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان دوحہ میں بات چیت کے بعد ایک معاہدے پر رضا مندی ہوتی نظر آرہی تھی لیکن امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کر دیا۔ اس کی وجہ کابل میں ہونے والا وہ دھماکہ بتائی گئی جس میں امریکی فوجیوں سمیت 12 افراد کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

امریکہ پیچھے کیوں ہٹا؟

ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ مذاکرات کے دوران بھی طالبان حملے کر رہے تھے؟ گذشتہ ایک سال میں افغانستان میں ديگر حملوں میں اور بھی کئی امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ تو کیا پھر امریکہ کی امن مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کی وجہ کیا واقعی وہ حملہ تھا جس کی بات ٹرمپ کر رہے ہیں؟

افغانستان اور طالبان سے متعلق معاملات کی گہری سمجھ رکھنے والے پاکستان میں مقیم سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کا خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ خود اس بات پر متفق نہیں تھی کہ اس معاہدے پر دستخط کیے جائیں یا نہیں۔

ان کا کہنا ہے 'ایسی رپورٹس آئیں تھی کہ امریکی حکومت کے مختلف شعبے جیسے کہ سی آئی اے اور پینٹاگون میں اہلکار اس معاہدے سے خوش نہیں تھے۔ امریکہ نے طالبان کی یہ شرط قبول کرلی تھی کہ اس بات چیت میں افغان حکومت کو شامل نہیں کرنا ہے۔ ایک تو یہ وجہ ہوسکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ 15 مہینے جاری رہنے والے ان مذاکرات میں امریکہ وہ حاصل نہیں کرسکا جس کی اسے امید تھی۔'

عالمی امور کے تجزیہ کار اور امریکہ کی ڈیلوئر یونیورسٹی کے پروفیسر مقتدر خان اس کی دیگر وجوہات بھی بتاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس معاہدے پر دستخط کا جو وقت تھا وہ سیاسی اعتبار سے ٹرمپ انتظامیہ کو مشکل میں ڈال سکتا تھا۔


ان کا کہنا ہے 'ماہرین کا خیال ہے کہ دستخط کی تاریخ اس وقت پڑتی جب امریکہ پر ستمبر دو ہزار گیارہ میں ہونے والے حملے کی برسی تھی۔'

ایسے میں اسی موقع پر طالبان کو امریکی سرزمین پر لانا ایک پبلیسٹی ڈزازسٹر ہوسکتا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کو دیر سے اس بات کا احساس ہوا اور اسی لیے اس نے مذاکرات کو ختم کردیا۔'

دراصل امریکہ نے افغانستان میں داخل ہی تب ہوا تھا جب طالبان نے 9/11 کے حملوں کے بعد القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کو سونپنے سے بظاہر انکار کردیا تھا۔


امریکہ اور طالبان کے درمیان دشمنی کی تاریخ
1979 میں افغانستان میں داخل ہونے والی سویت فوجیں جب 1989 میں یہاں سے نکلیں تو امریکہ اور پاکستان کے حمایت یافتہ مجاہدین نے سویت یونین کے حامی صدر نجیب اللہ کو ہٹانے کی کوششیں شروع کردیں۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں خانہ جنگی کا دور شروع ہوگیا تھا۔ افغانستان میں عدم استحکام کا فائدہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر سرگرم طالبان کو ہوا۔ ’طالبان‘ لفظ طالب کی جمع ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کی طلب رکھنے والا جیسے کہ طالب علم۔ مذہبی تعلیم دینے سے شروعات کرنے والے طالبان نے 1996 میں کابل پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا اور پھر افغانستان میں سخت اسلامی نظام کا نفاذ کیا۔

اسی درمیان 11 ستمبر 2001 میں امریکہ میں ہائی جیک کیے جانے والے مسافر بردار جہازوں سے حملے کیے جن میں 3000 افراد مارے گئے۔ ان حملوں کے لیے امریکہ نے القاعدہ کو ذمہ دار بتایا اور طالبان سے کہا کہ وہ افغانستان میں موجود اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کر دیں۔ جب طالبان نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تو امریکہ کے اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان پر حملہ کرنے کا اعلان کردیا۔ امریکہ، اس کے عالمی اور افغان اتحادیوں کے حملوں کو طالبان برداشت نہیں کرسکے اور دو مہینے کے اندر اندر انہیں اقتدار سے ہٹنا پڑا۔ اس کے بعد افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داری نیٹو افواج نے سنبھال لی۔

2004 میں افغانستان میں نیا آئین تشکیل ہوا اور پھر اس وقت افغانستان کے عبوری صدر رہنے والے حامد کرزئی انتخابات کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ لیکن اس درمیان امریکہ کی اتحادی افواج اور طالبان کے درمیان جنگ جاری رہی۔


دس سال تک دھماکوں، حملوں، اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ بالآخر 2014 میں نیٹو افواج نے باقاعدہ طور پر افغانستان میں اپنے فوجی مشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور سکیورٹی کی ذمہ داری نئی تشکیل کردہ افغان افواج کو دے دی۔ مگر اس کے بعد صورتحال غیر مستحکم ہونے لگی اور دھیرے دھیرے طالبان پھر سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں قبضہ کرنے لگے۔ گذشتہ برس بی بی سی نے اپنی تفتیش سے معلوم کیا طالبان 70 فیصد افغانستان میں کھلے عام متحرک ہیں۔ مگر 2018 میں امریکہ اور طالبان نمائندوں کے درمیان افغانستان میں امن کے قیام کے مقصد سے مذاکرات شروع ہوئے۔ سب کچھ صحیح سمت میں جاتا ہوا نظر آرہا تھا مگر ایک بار پھر ساری کوششیں دھری کی دھری رہ گئیں۔


کن باتوں پر رضامندی ہو رہی تھی
ایسا کہا جارہا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور کے بعد معاہدے کا ایک مسودہ تیار کیا جا چکا تھا جس پر صرف دستخط ہونے باقی تھے۔ پروفیسر مقتدر خان کہتے ہیں کہ مذاکرات کے آخری دور میں چار شرائط تھیں جن کے بارے میں دونوں فریقوں کے درمیان رسہ کشی جاری تھی۔ وہ بتاتے ہیں 'پہلی شرط تو یہ تھی یہ کہ افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کی افواج پوری طرح نکل جائیں گی۔ دوسری شرط یہ تھی کہ طالبان گارنٹی دیں گے کہ وہ اپنے ملک میں دہشتگرد تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کو پناہ نہیں دیں گے۔ تیسری شرط یہ تھی کہ امریکہ کے نکلتے ہی طالبان افغان حکومت سے مذاکرات کریں گے۔ اور چوتھی شرط یہ تھی کہ امریکہ یہ چاہتا تھا کہ افغانستان میں اس کا ایک چھوٹا سا انسداد دہشت گردی کا یونٹ ہو جس کا کام ان شدت پسند تنظیموں کو روکنا ہے جو امریکہ کی حفاظت کے لیے خطرہ پیدا کرسکتی ہیں۔'

امریکہ کی پہلے ہی اس بات پر تنقید ہو رہی ہے کہ اس نے ان مذاکرات میں افغان سرکار کو شامل نہ کرنے کی طالبان کی شرط کو قبول کرلیا تھا۔ اور اس شرط کو لے کر بھی تشویش ظاہر کی جارہی تھی کہ اگر امریکہ افغانستان سے پوری طرح باہر نکل آیا تو یہ اس کے مفاد میں نہیں ہوگا۔


ایران سعودی عرب کے درمیان کشیدگی اور مذاکرات کی ناکامی سے اس کا تعلق

پروفیسر مقتدر کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکہ کے فوجی کمانڈر مکمل طور سے افغانستان سے انخلا نہیں کریں گے۔ حال ہی میں سعودی عرب کی تیل کی کمپنی آرامکو پر ہوئے ڈرون حملے کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہنے لگے کہ 'افغانستان میں امریکی فوجیوں کا موجود رہنا اور اس کے فوجی اڈوں کی سٹریٹیجک طور پر موجودگی اہم ہے۔'

ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے اور جنگ کی تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو امریکہ اپنے اتحادی سعودی عرب کی حمایت کے لیے آئے گا۔ تب افغانستان میں اس کی افواج کی موجودگی اس کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایران اور افغانستان کی سرحدیں آپس میں متصل ہیں۔ ایسے میں جنگ کی صورتحال میں امریکہ اپنے فوجیوں کو افغانستان میں اتار کر ایران پر زمینی کارروائی کرسکتا ہے۔

پروفیسر مقتدر خان بتاتے ہیں کہ 'امریکہ میں جو ایران پر نظر رکھنے والے اہلکار ہیں وہ نہیں چاہیں گے کہ امریکی فوجی افغانستان سے انخلا کریں کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ کی صورتحال میں افغانستان وہی کردار ادا کرسکتا ہے جو عراق کی جنگ کے دوران قطر نے کی تھی۔ جنگ کے دوران زمینی حملہ کرنے کا ہمیشہ اپنا فائدہ ہوتا ہے۔'

تشدد بڑھنے کا خدشہ

امریکہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوتے ہی طالبان نے حملے تیز کردیے ہیں۔ افغانستان میں 28 ستمبر کو صدراتی انتخابات ہونے ہیں اور طالبان نے کہا ہے کہ وہ اس میں رخنہ ڈالیں گے۔ سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں افغانستان کی جنگ مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔


وہ کہتے ہیں 'چالیس سال سے زیادہ جنگ کی زد میں رہنے والے افغانستان کو اب امن چاہیے۔ بات چیت ہو نہیں رہی اور ٹرمپ نے کہہ دیا کہ وہ ختم ہوچکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جنگ بڑھے گی۔ ٹرمپ اور مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں طالبان پر بڑے حملے کیے ہیں۔ بے شک طالبان ان دعوؤں کو قبول نہیں کر رہے لیکن آنے والے وقت میں خون خرابہ ہوگا کیونکہ امریکہ، افغان حکومت اور طالبان سبھی حملے کریں گے۔' یوسفزئی کہتے ہیں اس سے ایسے حالات بن جائیں گے کہ بات چیت ہو نہیں سکے گی اور پھر پہلے کی طرح جنگ ہوگی اور بے شمار ہلاکتیں ہوں گیں۔

روس کا کردار کیا ہے؟

روس ماضی میں بھی طالبان کے نمائندوں کی میزبانی کرچکا ہے اور افغانستان میں امن کے قیام سے متعلق بعض منصوبوں کا اختتام بھی کرچکا ہے۔ لیکن اس بار جب امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے تو طالبان نمائندوں نے فوراً روس کا رخ کرلیا۔ طالبان کے نمائندوں نے ماسکو میں افغانستان کے لیے روس کے خصوصی ایلچی زامر کبولو سے ملاقات کی۔

عالمی امور کے تجزیہ کار پروفیسر مقتدر خان کہتے ہیں طالبان ایک حکمت عملی کے تحت ایسا کر رہے ہیں تاکہ امریکہ پر مذاکرات کا دباؤ ڈالا جاسکے۔ وہ کہتے ہیں 'چار پانچ سال سے روس کی خارجہ پالیسی جارحانہ ہوئی ہے۔ اس نے کریمیا کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ وہ مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم ہے اور شام میں موجود ہے۔ اس دوران یہ دیکھیے کہ جب مسلمان ممالک کسی بات پر امریکہ کی نہیں سنتے ہیں تو روس کی جانب رخ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ترکی۔ سرد جنگ کے دوران جو حکمت عملی امریکہ اور سویت یونین کے لیے عمل میں لائی جاتی تھی بہت سے چھوٹے ممالک وہ پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں آپ ہماری مدد نہیں کریں گے تو ہم روس کے پاس چلے جائیں گے۔'


حالانکہ روس نے اس معاملے پر یہی کہا ہے کہ مذاکرات پھر سے شروع کیے جائیں۔ لیکن نہ تو اس نے کوئی متبادل پیش کیا ہے اور نہیں ہی کوئی مخصوص اقدامات کی بات کہی ہے۔

پروفیسر مقتدر خان مزید کہتے ہیں کہ طالبان کے روس کے پاس جانے سے اس کی تھوڑی عالمی سطح پر پروفائیل بہتر ہوگی لیکن امریکہ روس کو افغانستان میں کوئی اہم کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

باقی ممالک کیا کرسکتے ہیں؟


امریکہ اور روس ہی صرف دو ایسے ممالک نہیں ہیں جو افغانستان میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس فہرست میں پاکستان اور انڈیا بھی شامل ہیں۔ ایران، چین، سعودی عرب اور ترکی کا بھی کچھ حد تک افغانستان میں دخل ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ افغانستان میں امن کے لیے ديگر ممالک کو بھی مثبت کردار ادا کرنا ہوگا اور امن مذاکرات کی پیروی کرنی ہوگی۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ان ممالک میں کسی ایک نے بھی امن کی کوششوں میں رخنہ ڈالا تو پورا معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔

'افغانستان کا معاملہ بہت قدیم اور پیچیدہ ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ امن کے لیے کوششیں ہونی چاہیں۔ امریکہ، افغانستان اور طالبان تین اہم فریق ہیں۔ مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ ان میں آپس میں اعتماد پیدا ہو اور جو ديگر ممالک ہیں ان سب کا پاکستان میں بھی کچھ نہ کچھ دخل ہے تو ان سب کو امن مذاکرات کی حمایت کرنی چاہیے۔'

اس معاملے کا حل کیا ہے؟

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان سے اسلحہ اور منشیات کو بھی ہٹانے کی ضرورت ہے۔ جب تک افغانستان میں ایک مستحکم اور مضبوط حکومت نہیں آئے گی تب تک مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ بیرونی مداخلت بھی روکنی ہوگی۔ اورجیسے ہی امن مذاکرات شروع ہوں سبھی فریقین کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے مذاکرات روکنے نہیں چاہئیں۔ تبھی مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔' ان کا مزید کہنا ہے کہ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں۔ ديگر ماہرین کا خیال بھی یہی ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ شروع سے ہی افغانسان سے مکمل انخلا کا منصوبہ بنارہی ہے۔


تو ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو کیا وہ کامیاب ہوں گے؟ افعانستان میں تقریباً اٹھارہ سال سے جاری جنگ یہ بتاتی ہے تشدد کی بنیاد پر تو وہ امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ امن کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ بات چیت کے ذریعے باہمی رضامندی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ناکام ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔