شہید وفا: میر قاسم علی! حافظ محمد ادریس

تین سال بیت گئے‘ اسلام کے بہادر سپوت میر قاسم علی کو ڈھاکہ میں جرمِ بے گناہی میں تختۂ دار پہ لٹکا دیا گیا۔ کیا وہ مرگیا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں‘ شہید زندہ ہوتے ہیں! پیارے بھائی میر قاسم علی! دنیا میں جو بھی آیا‘ اسے یہاں سے جانا ہے۔ تم نے منزل پہ جا ڈیرے لگائے ۔ ہم بھی تمہارے پیچھے پیچھے آرہے ۔ یہاں کون ہمیشہ رہا ہے اور کون رہے گا۔ رہے نام اللہ کا۔ اللہ بس‘ باقی ہوس!کچھ خوش نصیب روحیں ایسی ہوتی ہیں ‘جنہیں موت بھی فنا نہیں کرسکتی۔ موت آنے پر بھی وہ مسکراتے ہیں۔ شہادت کو سینے سے لگاتے ہوئے ایک بے بہا شوق ان کے رگ و ریشے میں سرایت کر جاتا ہے۔ تم قاتل‘ حسینہ واجد کے خیال میں فنا کے گھاٹ اتر گئے‘ مگر نہیں‘ خدا کی قسم تم زندہ ہو! میرا رب ذوالجلال خود کہتا ہے کہ شہداء مرا نہیں کرتے۔ تم شہید وفا ہو‘ تم نے اسلام اور پاکستان کی محبت میں اپنی جان فدا کر دی۔ ہم تمہیں کبھی نہ بھول سکیں گے۔ از راہ کرم روز حشر تم بھی ہمیں بھول نہ جانا۔؎

چلے وہ غنچوں کی مانند مسکرا کے چلے
پر اپنے چاہنے والوں کو خوں رلا کے چلے
میر قاسم سے تعلق بنگلہ دیش بننے کے بعد قائم ہوا۔ شہید بچپن ہی سے اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے؛ البتہ وہ ہم سے کافی جونیئر تھے۔ دورِ طالب علمی میں ان کا نام کم کم ہی سنا تھا۔ جب وہ میدان عمل میں آئے تو حق و صداقت کا عَلَم تھام لیا۔ وہ ایک درخشندہ ستارہ تھا‘ جو بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی ہی نہیں‘ پورے بنگلہ دیش‘ بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے روشنی فراہم کرتا تھا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے علم و حلم عطا فرمایا‘ حکمت و دانش سے نوازا‘ مال و دولت کی فراوانی مقدر کی اور سب سے بڑی بات یہ کہ اسے عثمانِ غنیؓ اور عبدالرحمن ابن عوفؓ کا دل بھی عنایت فرمایا۔ اس نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے میں حاصل کی۔ میر قاسم علی کے والد میر طیّب علی ایک دینی اور علمی شخصیت تھے‘ جو اپنے قصبے منشی ڈانگی ستا لوری (ضلع مانک گنج) میں ایک معزز شہری کے طور پر ہر خاص و عام کے نزدیک ہر دل عزیز تھے۔ وہ اپنے علاقے کے بچوں کو اعزازی طور پر دینی تعلیم دیتے تھے۔ میر قاسم علی کی والدہ رابعہ بیگم بھی بہت متقی خاتون تھیں‘ جنہوں نے کئی بچیوں کو قرآن پڑھایا۔

میر قاسم علی کے گھر کا ماحول بہت اچھا تھا۔ وہ بچپن ہی سے ذہین اور سنجیدہ تھے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ جرأت و بہادری سے نوازا تھا۔ میٹرک کرنے کے بعد اپنے گاؤں سے چٹا گانگ آئے اور چٹاگانگ کالج میں 1971ء میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا۔ یہاں سے ایف ایس سی کرنے کے بعد انہوں نے فزکس میں گریجوایشن کی۔ جب چٹاگانگ یونیورسٹی میں گئے تو وہاں کی مقامی اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم منتخب ہوئے۔ اسلامی چھاترو شنگھو‘ جس کا نام میر قاسم علی کے دور میں اسلامی چھاترو شبر ہوگیا تھا‘ کے مختلف مناصب پر کام کیا اور اپنی قابلیت اور محنت سے تنظیم میں اپنے لیے بڑا مقام بنایا۔ جب بنگلہ دیش مشرقی پاکستان تھا تو میر قاسم علی اسلامی جمعیت طلبہ کی صوبائی شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے‘ اسی دوران جب بھارتی فوجوں نے مشرقی پاکستان پر چڑھائی کی تو میر قاسم علی نے پاکستان کی سالمیت کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ بھارتی فوج کا مقابلہ کیا۔ میر قاسم علی نے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد دیگر پرو پاکستان شخصیات کی طرح بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا۔ انہوں نے مکتی باہنی اور بھارتی فوج کا مقابلہ تو ضرور کیا تھا‘ مگر ان پر لگنے والے تمام لغو اور بے ہودہ الزامات انتہائی غلط اور جھوٹ کا پلندہ تھے۔ میر قاسم علی نے کسی کی عزت نہیں لوٹی‘ بلکہ دخترانِ مشرقی پاکستان کی عزتوں کا محافظ بن کر میدان میں ڈٹا رہا۔ اس نے کسی کو قتل نہیں کیا۔ رہا یہ معاملہ کہ اس نے کہیں آگ لگائی ہو یا لوٹ مار کی ہو تو اسے میر قاسم علی کو جاننے والا کوئی شخص کبھی بھی قبول نہیں کرسکتا۔ ریپ (Rape)کے الزامات تو اتنے ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہیں کہ بچپن سے پوری قوم کے سامنے پاکیزہ زندگی گزارنے والا یہ بندۂ مومن اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔

بنگلہ دیش بن جانے کے بعد میر قاسم علی نے اس سرزمین اور اس کے باشندوں کی جو خدمات سرانجام دی ہیں‘ انہیں تاریخکبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ روزِ حشر جب انسانوں کے اعمال سامنے لائے جائیں گے تو انسانیت کا یہ محسن اس روز انشاء اللہ نمایاں مقام پر فائز ہوگا۔ اسے شہادت مبارک! جنت مبارک! دیدار محمد ؐ مصطفی مبارک! شہدا ء کا استقبال مبارک! وہ شہدا کے تذکرے کرتا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آجایا کرتے تھے‘ مگر جب اپنی شہادت کی منزل آئی تو آفرین ہے کہ اس پروانۂ حق کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ آنکھوں میں کوئی نمی نظر نہیں آئی۔ عدالت ِ عظمیٰ سے میر قاسم علی کی نظر ثانی کی پٹیشن مسترد ہوئی تو انہیں کہا گیا کہ آپ صدر سے رحم کی اپیل کرسکتے ہیں۔ سبحان اللہ کیا عاشقانِ صادق کا مقام ہوتا ہے۔ فرمانے لگے ''میں ہر گز کوئی رحم کی اپیل نہیں کروں گا۔ میں اپنی منزل سے ہمکنار ہونے کے لیے بے تاب ہوں۔ ‘‘ پھر اپنے بیوی بچوں سے ملے تو اس آخری ملاقات کی جو رپورٹ نظر سے گزری ‘ اس نے اس عظیم فرزند اسلام کا مقام بلند‘ بہت بلند کر دیا۔

ظلم کی دیوی اور مودی کے سب یاروں کو اس شہید وفا نے پیغام دے دیا کہ یہ سر کٹ سکتا ہے‘ جھک نہیں سکتا۔ اس نے ایک بار پھر سید مودودیؒ ‘ سید قطب شہیدؒ‘ عبدالقادر عودہ شہیدؒ‘ عبدالقادر ملا شہیدؒ‘ قمر الزمان شہیدؒ‘ علی احسن محمد مجاہد شہیدؒ‘ مولانا مطیع الرحمن نظامی شہیدؒاور صلاح الدین قادرشہیدؒ کی یادیں تازہ کر دیں۔ یہ شہدائے اسلام‘ شہدائے پاکستان‘ مسافرانِ راہ وفا کتنے عظیم ہیں! انہیں موت کا کیا ڈر کہ رحمت کے فرشتے ان کی مقدس روحوں کا استقبال کرنے کے لیے ان کی آنکھوں کے سامنے انہیں نظر آگئے۔ قرآن نے کیا خوب نقشہ کھینچا ہے : ''متقیوں کے لیے دائمی قیام کی جنتیں‘ جن میں وہ داخل ہوں گے‘ نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی‘ اور سب کچھ وہاں عین ان کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ یہ جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو۔ ان متقیوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں؛ سلام ہو تم پر‘ جنت میں داخل ہوجاؤ اپنے اعمال کے بدلے‘‘۔ (النحل۱۶:۳۰-۳۱)

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

آپ کو ایک عجیب بات بتاتا چلوں کہ جس رات کو میرے پیارے بھائی میر قاسم علی کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا‘ اس روز آدھی رات کے وقت ایک لمبے سفر کے بعد میں اسلام آباد پہنچا۔ سارا دن سفر میں گزرنے کی وجہ سے میر قاسم شہید کی شہادت کی خبر نہ سن سکا۔ دل میں خلش تھی کہ میر قاسم کو کسی بھی لمحے شہادت سے ہمکنار کر دیا جائے گا۔ میں بہت تھکا ہوا تھا‘ جب ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد بستر پر دراز ہوا تو خیال تھا کہ فوراً نیند کی آغوش میں چلا جاؤں گا‘ مگر خدا گواہ ہے کہ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور چلی گئی۔ مجھے بالکل معلوم نہیں تھا کہ میر قاسم کو پھانسی لگ چکی ہے۔ میں کیوں بے چین ہوں‘ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ میرے میزبان برادرم خالد صاحب میرے پہنچنے سے پہلے سو چکے تھے اور اپنے بیٹے عبداللہ کو کہہ دیا تھا کہ جب مہمان آجائیں تو مجھے جگا دینا‘ مگر میں نے عبداللہ کو سختی کے ساتھ منع کر دیا کہ انہیں بے آرام نہ کریں‘ صبح ملاقات ہوجائے گی۔

میں نے قرآن پاک کی تلاوت‘ جہاں تک سفر میں کر چکا تھا‘ وہاں سے آگے شروع کر دی۔ سورہ فتح پر پہنچا تو مرزا صاحب سحری سے ذرا پہلے دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آئے۔ میں ابھی تک جاگ رہا تھا۔ ان سے صرف علیک سلیک ہوئی تو میں نے کہا: فجر کی نماز میں انشاء اللہ ملیں گے۔ وہ چلے گئے تو میں اٹھا‘ وضو کیا اور اللہ کے سامنے رویا۔ پھر لیٹ گیا۔ سورۃ الواقعہ کی تلاوت تک پہنچ کر میرے اوپر غنودگی طاری ہوگئی۔ گہری نیند نہیں تھی‘ مگر اب میری زبان خاموش تھی۔ اچانک دیکھا کہ میں کسی ویرانے میں پتوں کی ایک چٹائی پر بیٹھا ہوا رو رہا ہوں ‘ میری آنکھوں سے آنسو گر رہے ہیں۔ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ مسکراتے روشن چہرے کے ساتھ میر قاسم علی میرے سامنے آگئے ہیں۔ انہوں نے میری آنکھوں پر ہاتھ رکھا‘ اپنی نرم انگلیوں سے آنسو خشک کیے اور کہنے لگے: ''آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘ آج بھی ان کا مسکراتا چہرہ میرے تصور میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا ''ہمت کرو ‘ تمہیں رونا نہیں ہے‘ بلکہ رونے والوں کو چپ کرانا ہے۔ یہ سودا اللہ کے ساتھ ہے اور اللہ کبھی کسی کو خسارے میں نہیں رکھتا۔‘‘ اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ مسجد سے اذانِ فجر کی صدا بلند ہوئی۔ میری زبان پر بے ساختہ شاعر مشرق علامہ محمداقبالؔ کا شعر آگیا۔؎

مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا
صلۂ شہید کیا ہے؟ تب و تابِ جاودانہ!