کشمیر کا دل مرگھٹ بن گیا ہے - کمار پرشانت

وزیر اعظم نریندر مودی نے آدھے گھنٹے سے کچھ زیادہ ہی وقت تک ملک کو خطاب کیا لیکن ملک یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ وہ کس کو اور کیوں خطاب کر رہے تھے۔ اگر ان کے خطاب کا نتیجہ ہی کہنا ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے بہانے ملک کو اپنے اس قدم کا جواز بتا رہے تھے جس کو وہ خود بھی جانتے نہیں ہیں۔وہ ایسا خواب بیچنے کی کوشش کر رہے تھے جس کو وہ ملک میں کہیں بھی پورا نہیں کر پا رہے ہیں۔ کشمیر کو جس بندوق کی طاقت پر آج خاموش کرایا گیا ہے، اسی بندوق کو دوربین بناکر وزیر اعظم کشمیر کو دیکھ اور دکھا رہے تھے۔ ایسا کرنا حکومت کے لئے بدقسمتی اور ملک کے لئے بد شگونی ہے۔

وزیر اعظم نے نہیں کہا کہ ایسا کیوں ہوا ہے کہ دن دہاڑے ایک پوری ریاست ہی ملک کے نقشے سے غائب ہو گئی-ہندوستانی یونین کے 28 ریاست تھے، اب 27 ہی بچے! یہ کسی پی سی سرکار کا جادو نہیں ہے کہ حیران ہوکر ہم اس کا مزہ لیں، کیونکہ جادو کے کھیل میں ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ سچ نہیں ہے، جادو ہے، مایا ہے۔لیکن یہاں جو ہوا ہے وہ ایسی حقیقت ہے جو غیر تغیر پذیر-سا ہے، بدشکل ہے، بےرحم ہے، غیرجمہوری ہے اور ہماری جمہوری‎ سیاست کے کھوکھلے پن کا مظہر ہے۔

اندرا گاندھی نے بھی ایمرجنسی کے دوران لوک سبھا کی ایسی بے عزتی نہیں کی تھی، اور نہ تب کے حزب مخالف نے ایسی بے عزتی ہونے دی تھی جیسا پچھلے دنوں میں راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں ہوا اور ان دو دنوں میں ہم نے وزیر اعظم کو کچھ بھی کہتے نہیں سنا۔یہ جمہوری‎ زوال کی انتہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جمہوریت اکثریت سے ہی چلتی ہے، اور اکثریت ہمارے پاس ہے! لیکن’اکثریت’لفظ میں ہی یہ مطلب پنہاں ہے کہ وہاں کثیر رائے ہونی چاہیے، مختلف الرائے، سب کا صلاح مشورہ!

راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں کیا ان دو دنوں میں ووٹ کا کوئی لین دین ہوا؟ بس، ایک آدمی چیخ رہا تھا، تین سو سے زیادہ لوگ میز پیٹ رہے تھے اور باقی ناکام، سر جھکائے بیٹھے تھے۔ یہ اکثریت نہیں، کثیرتعداد ہے۔ آپ کے پاس ووٹ نہیں، گننے والے سر ہیں۔پچھلے سالوں میں ہم سے کہا جا رہا تھا کہ کشمیر کی ساری دہشت گردی سرحد پار سے چلائی جارہی ہے۔ اس لئے تو بار بار ہم پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر رہے تھ، آپ سرجیکل اسٹرائیک کر رہے تھے۔

اچانک وزیر داخلہ اور وزیر اعظم نے ملک کے پیروں تلے سے وہ زمین ہی کھسکا دی۔ اب پاکستان کہیں نہیں ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا اصلی ویلن دفعہ 370 تھا، اور تین فیملی تھی۔وہ دونوں تباہ ہو گئے ہیں اور اب دہشت گردی سے آزاد کشمیر ڈل جھیل کی خوشگوار ہوا میں سانس لینے کو آزاد ہے۔ کیسا مذاق ہے! ہم بھولے نہیں ہیں کہ یہی وزیر اعظم تھے اور ایسا ہی ایک بےسروپا فیصلہ تھا نوٹ بندی!اس کے جواز کی بات کہاں سے چلی تھی اور کتنی-کتنی بار بدلتی ہوئی کہاں پہنچائی گئی تھی! نقلی مدعے اسی طرح کھوکھلے ہوتے ہیں۔ یہی کشمیر کے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ کچھ مٹھی بھر لوگوں نے اور تین فیملی نے کشمیر میں ساری لوٹ مچا رکھی تھی! مچا رکھی ہوگی، تو ان کو پکڑ‌کے جیل میں ڈال دیں آپ ؛ یہاں تو آپ نے تو ساری ریاست کو جیل بنا دیا!کیا آپ کی حکومت، آپ کا گورنر، انتظامیہ، پولیس سب اتنے کمزور ہیں کہ تین فیملی کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے؟کل تک تو انہی فیملی کے ساتھ مل‌کرکانگریس نے، اٹل جی نے اور آپ نے حکومتیں چلائی تھیں، تب کیا اس لوٹ میں آپسی ساجھے داری چل رہی تھی؟

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ پورا سیاسی نظام بغیر لوٹ‌کے چل سکتا ہے؟ کون سا سرکاری منصوبہ ہے کہ جہاں مختص پوری رقم اسی میں خرچ ہوتی ہے؟ کون-سی ریاست ہے جو اس یا اُس مافیا کے ہاتھ میں گروی نہیں ہے؟ اب تو مافیا کی حکومتیں بنا رہے ہیں ہم!کوئی یہی بتا دے کہ سیاسی جماعتوں کی کمائی کے جو اعداد و شمار اخباروں میں ابھی ہی شائع ہوئے ہیں، ان میں یہ اربوں روپے حکمراں جماعت کے پاس کیسے آئے؟ ایسا کیوں ہے کہ جو حکومت میں ہوتا ہے پیسے کی گنگوتری اس کی طرف بہنے لگتی ہے؟

بات کشمیر کی نہیں ہے، نظام کی ہے۔ مہاتما گاندھی نے اس نظام کو ویسے ہی بد کردار نہیں کہا تھا۔ کشمیر ہمیں سونپا تھا تاریخ نے اس چیلنج کے ساتھ کہ ہم اس کو اپنے جغرافیہ میں شامل کریں۔ایسا دنیا میں کہیں اور ہوا تو مجھے معلوم نہیں کہ ایک بھری پری ریاست اقرارنامہ پر دستخط کرکے کسی ملک میں شرطیہ شریک ہوا ہو۔ کشمیر ایسے ہی ہمارے پاس آیا اور ہم نے اس کو منظور کیا۔ دفعہ 370 اسی معاہدہ کی وضع داری کا نام تھا جس کو عارضی نظام تب ہی مانا گیا تھا-تحریر میں بھی اور جواہرلال نہرو کے قول میں بھی۔

بہت مشکل چیلنج تھا، کیونکہ تاریخ نے کشمیر ہی نہیں سونپا تھا ہمیں، ساتھ ہی سونپی تھی بےقدروقیمت اقتدار کی بےایمانی، بغیر پالیسی والی سیاست کی لالچ، فرقہ پرستی کی قومی و بین الاقوامی بدنیتی اور پاکستان کے راستے سامراجی طاقتوں کی دخل اندازی!کشمیر بھلے جنت کہلاتا ہو، وہ ہمیں خود غرضی کے جہنم میں لتھڑا ملا تھا۔ اور تب ہم بھی کیا تھے؟ اپنا منقسم وجود سنبھالتے ہوئے، ایک ایسے خون کے دریا سے گزر رہے تھے جیسا تاریخ نے پہلے دیکھا نہیں تھا۔

بر صغیر کے وجود کا وہ سب سے نازک دور تھا۔ ایک غلط قدم، ایک چوک یا کہ ایک پھسلن ہمارا وجود ہی نگل جاتی! اس لئے ہم چاہتے تو کشمیر کے لئے اپنے دروازے بند کر ہی سکتے تھے۔ ہم نے وہ نہیں کیا۔سینکڑوں ریاستوں کے لئے نہیں کیا، جوناگڑھ اور حیدر آباد کے لئے نہیں کیا، تو کشمیر کے لئے بھی نہیں کیا۔ وہ ہمت تھی، ایک نیا ہی سیاسی تجربہ تھا۔آج تاریخ ہمیں اتنی دور لے آئی ہے کہ ہم یہ جان-پہچان نہیں پاتے ہیں کہ جواہرلال-سردار پٹیل-شیخ عبداللہ کی تثلیث نے کیسے وہ سارا سنبھالا، توازن بنایا اور اس کو ایک ساخت بھی دیا۔

ایسا کرنے میں غلطیاں بھی ہوئیں، اختلاف بھی ہوئے، سیاسی اندازے غلط نکلے اور بےایمانی بھی ہوئیں لیکن ایسا بھی ہوا کہ ہم کہہ سکیں کہ کشمیر ہمارا غیرمنقسم حصہ ہے ؛ اور جب ہم ایسا کہتے تھے تو کشمیر سے بھی اس کی گونج اٹھتی تھی۔ آج وہاں بالکل سناٹا ہے۔ کشمیر کا دل مرگھٹ بن گیا ہے۔ہم کشمیر کو اسی طرح بند تو رکھ نہیں سکیں‌گے۔ دروازے کھلیں‌گے، لوگ باہر نکلیں‌گے۔ ان کا طیش، غصہ سب پھوٹے‌گا۔ باہری طاقتیں پہلے سے زیادہ زہریلے طریقے سے ان کو اکسائیں‌گی۔ اور ہم نے بات چیت کے سارے پل جلا رکھے ہیں تو کیا ہوگا؟

تصویر خوشنما بنتی نہیں ہے۔ حکمراں جماعت کے لوگ جیسی تصویر دکھا رہے ہیں اور اب کشمیر کی چراگاہ میں ان کے چرنے کے لئے کیا-کیا دستیاب ہے، اس کی جیسی باتیں لکھی-پڑھی اور سنائی جا رہی ہیں، کیا وہ بہت نفرت انگیز نہیں ہیں؟وزیر اعظم نے ٹھیک کہا کہ یہ سینہ پھلانے جیسی بات نہیں ہے، نازک دور کو پار کرنے کی بات ہے۔ لیکن وزیر اعظم اسی بات کے لئے تو جانے جاتے ہیں کہ وہ کہتے کچھ ہیں اور ان کا اشارہ کچھ اور ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دو خبریں چار ممالک - حبیب الرحمن

آخر قانون سازمجلس کو روشن کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اپنے ملک کے ایک حصے پر ہمیں لاچار ہوکر سخت کارروائی کرنی پڑی اس میں جشن منانے جیسا کیا تھا؟ یہ زخم کو گہرا کرتا ہے۔جن سنگھ ہو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی-اس کے پاس ملک کے کسی بھی مسئلہ کے تناظر میں کبھی کوئی فکر رہی ہی نہیں ہے۔

رہا تو ان کا اپنا ایجنڈہ رہا ہے جو کبھی، کسی نے، کہیں تیار کر دیا تھا، ان کو اس کو پورا کرنا ہے۔ اس لئے یہ اقتدار میں جب بھی آتے ہیں، اپنا ایجنڈہ پورا کرنے دوڑ پڑتے ہیں۔ان کو پتہ ہے کہ پارلیامانی جمہوریت میں اقتدار کبھی بھی ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ جنتا پارٹی کے وقت یا پھر اٹل-دور میں، تین-تین بار اقتدار کو ہاتھ سے جاتے دیکھا ہے انہوں نے۔جمہوریت اقتدار دے تو بھلی ؛ اقتدار لے لے، یہ ہندوتوا کے فلسفہ کو پچتا نہیں ہے کیونکہ وہ اصل میں اجارہ داری کا فلسفہ ہے۔ اس لئے 2012 سے اس نئے سیاسی انداز کا جنم ہوا ہے جو ہر ممکن ہتھیار سے جمہوریت کو لنگڑا بنانے میں لگا ہے۔

اس کے راستے میں آنے والے لوگ، نظام، آئینی عمل اور جمہوری‎ اخلاقیات کی ہر رکاوٹ کو توڑ-پھوڑ دینے کا سلسلہ چل رہا ہے۔2014 سے ہمارے آئینی اداروں کے زوال کے ایک-پر-ایک مثاک بنتی جا رہی ہیں اور ہر نیا، پہلے والے کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ کشمیر کا معاملہ زوال کی اب تک کی انتہا ہے۔

ہندوستان میں انضمام کے ساتھ ہی کشمیر ہمیں کئی سطحوں پر پریشان کرتا رہا ہے۔آپ اس کو اس طرح سمجھیں کہ جواہرلال نہرو وزیر اعظم ہوں اور ان کے حکم سے ان کے خاص دوست شیخ عبداللہ کی گرفتاری ہو، ان کی حکومت کی برخاستگی ہو تو حالات کتنے سنگین رہے ہوں‌گے!یہ تو بھلا تھا کہ تب ملک کی عوامی زندگی میں جئے پرکاش نارائن، ونوبا بھاوے، رام منوہر لوہیا جیسی معزز ہستیاں فعال تھیں کہ جو حکومت اور سماج کو ایک ساتھ کٹہرے میں کھڑا کرتی رہتی تھیں اور سرکاری من مانی اور علیحدگی پسند منصوبوں کے پر کترے جاتے تھے۔ آج وہاں بھی ریگستان ہے۔

اس لیے ہندوستان کے لوگوں پر، جو ہندوستان کو پیار کرتے ہیں اور ہندوستان کی عزت میں جن کو اپنی عزت محسوس ہوتی ہے، آج کے صفر کو بھرنے کی سیدھی ذمہ داری ہے۔قانون سازمجلس میں جو ہوا ہے وہ مستقل نہیں ہے۔ کوئی بھی لائق قانون سازمجلس اس کو پلٹ سکتی ہے۔ اپنی خود مختاری پر اتراتی اندرا گاندھی کا زمانہ پلٹ دیا گیا تو یہ بھی پلٹا جا سکتا ہے۔ جو نہیں پلٹا جا سکے‌گا وہ ہے دل پر لگا زخم، دل میں گھر کر گیا عدم اعتماد!اس لئے اس بحران میں کشمیری کے ساتھ کھڑے رہنے کی ضرورت ہے۔ جو بندوق اور فوج کی طاقت پر گھروں میں بےیارومددگار بند کر دئے گئے ہیں، ان کو یہ بتانے کی سخت ضرورت ہے کہ ملک کا دل ان کے لئے کھلا ہوا ہے، ان کے لئے دھڑکتا ہے۔

(مضمون نگار گاندھی پیس فاؤنڈیشن کے صدر ہیں)