ذکر افضل ترین اور انتہائی آسان عبادت ہے

خطبہ جمعۃ المبارک 15 ذو الحجہ، 1440ھ بمطابق 16 اگست 2019ء
مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی حفظہ اللہ
ترجمہ: محمد عاطف الیاس

خطبے کے اہم نکات
1/ دن کے گزرنے میں بڑی عبرت ہے۔
2/ اللہ کا ذکر عام کرنا حج کا ایک عظیم مقصد ہے۔
3/ ذکر سے جنت میں پودے لگائے جاتے ہیں۔
4/ اللہ کا ذکر سراسر خیر ہی خیر ہے۔
5/ انسان جتنا ذکر سے غافل ہو گا، اتنا ہی اللہ سے دور ہو گا۔
6/ امن وسلامتی اور آسانی کے ساتھ مناسک حج کی ادائیگی ایک عظیم نعمت ہے۔
7/ نیکی کی قبولیت کی علامت۔

اقتباس
نیکی کی قبولیت کی علامت یہ ہے کہ اس کے بعد پھر نیکی کی توفیق نصیب ہو۔ فرمان برداری کے بعد پھر فرمان برداری نصیب ہو۔ اگر حج کے بابرکت دن گزر گئے ہیں تو عبادت تو کسی وقت یا کسی جگہ پر ختم نہیں ہوتی۔ تو اے وہ لوگو! جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشی والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے، جنہیں اپنی رحمت کے جھونکوں سے فائدہ اٹھانا نصیب فرمایا ہے، اللہ کی فرمان برداری پر قائم ہو جاؤ، اس کے دین پر ثابت قدم ہو جاؤ۔ خوب عمدگی کے ساتھ دھاگہ کاتنے کے بعد اسے کاٹ دینے والی کی طرح نہ بنیے۔

پہلا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی نے ہمیں اسلام کی راہ دکھائی ہے۔ بیت اللہ کا حج فرض کیا ہے، اسے سلامتی والی جنت کمانے، گناہ اور کوتاہیاں معاف کرانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ میں اللہ پاک کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں اور اسی کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اسی سے مدد مانگتا ہوں اور اسی سے معافی مانگتا ہوں۔ ساری خیر اسی کی طرف منسوب کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی بادشاہ ہے، انتہائی پاکیزہ اور سراسر سلامتی ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ نمازیوں، قربانی کرنے والوں، حاجیوں اور روزہ داروں میں افضل ترین ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت اورآل پر، جو بڑے معروف ائمہ ہیں، تابعین پر اور جب تک دن اور رات آنے کا سلسلہ جاری ہے، ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! اے مؤمنو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ پرہیزگاری کے ذریعے ہی نعمتیں مانگی جاتی ہیں، آزمائشیں دور کی جاتی ہیں، اعمال اور دلوں کی اصلاح ہوتی ہے، گناہوں اور غلطیوں کی معافی ملتی ہے۔

(اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو (70) اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی) [الاحزاب: 70 -71]۔

اے بیت اللہ کے حاجیو! دنوں کا گز رناکتنا تیز ہے، گھڑیاں اور سال کتنی تیزی سے گزر رہے ہیں۔ کچھ ہی دن پہلے ہم ایک عظیم عبادت کے وقت کے منتظر تھے، ایک انتہائی اہم فریضے کا بڑے شوق سے انتظار کر رہے تھے۔ دنیا کے افضل ترین دن کے انتظار میں تھے۔ عرفات کے دن کے، عید کے دن اور ٹرو کے دن کے منتظر تھے۔ اور آج حجاج کرام اللہ کے فضل وکرم اوراس کی رحمت سے خوشی خوشی واپس لوٹ رہے ہیں۔ تو اے وہ لوگو، جنہیں اللہ تعالیٰ نے حجِ بیت اللہ کا موقع دیا ہے، جنہیں دنیا کے لوگوں سے چن کر یہ موقع نصیب فرمایا ہے۔ اے وہ خوش نصیبو، جن پر رحمٰن اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے، جنہیں عرفات میں ٹھہرنے اور مزدلفہ میں رات گزارنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے، جنہوں نے بیت اللہ، کعبہ مشرفہ کا طواف کیا ہے، تلبیہ پڑھنے والوں کے ساتھ تلبیہ پڑھا ہے، ارحم الراحمین کی رحمت کے جھونکوں سے فائدہ اٹھایا ہے! یاد رکھو کہ آپ نے اس پروردگار کو پکارا ہے جو انتہائی کریم ہے، اس بادشاہ سے مانگا ہے جو بڑا عظیم ہے، جب وہ دیتا ہے تو بےنیاز کر دیتا ہے، جب نعمتوں کی بارش برساتا ہے تو خوب برساتا ہے۔ اس کی مغفرت کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں ہے! اس کے لیے کوئی عطا زیادہ نہیں ہے۔ آپ نے کیا خوب راتیں گزاری ہیں، اور کیا ہی بہترین دن گزارے ہیں۔

(اے نبی، کہو کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں) [یونس: 58]۔

اے امت اسلام! حج کا ایک عظیم مقصد اللہ کا ذکر عام کرنا ہے۔ ذکر واضح اور ظاہری عبادتوں میں سے ہے۔ یہ اتنا افضل ہے کہ عبادت گزاروں کے لیے اس سےبہتر کوئی عبادت نہیں ہے۔ حج کی عبادات کا مقصد اسی کو عام کرنا ہے۔ اس پرانے گھر کا طواف بھی اسی لیے ہوتا ہے، صفا اور مروہ کے درمیان سعی بھی اسی لیے ہوتی ہے، جمرات پر کنکریاں بھی اسی لیے ماری جاتی ہیں کہ اللہ کا ذکر عام ہو جائے۔

جب حجاج کرام حج کے کام مکمل کر لیتے ہیں تو پھر اللہ کا ذکر وہ آخری عمل ہوتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ ابن عباس بیان کرتے ہیں: ’’جاہلیت کے دور میں لوگ حج کے موقع پر جگہ جگہ کھڑے ہو کر کہتے تھے: میرے والد مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے، قرض داروں کے قرض ادا کرتے تھے اور دیت ادا کرنے میں لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ وہ بس اپنے آباء واجداد کی بڑائی ہی بیان کرتے رہتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی:

(پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا و اجداد کا ذکر کرتے تھے، اُس طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر) [البقرۃ: 200]،

اے مومنو! اس طرح حج کے دوران اور حج کے بعد اللہ کے ذکر کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ دین اسلام کی تمام عبادت اسی لیے بنائی گئی ہیں کہ اللہ کا ذکر عام ہو جائے۔ ذکر آسان ترین عبادت بھی ہے اور افضل ترین اور بلند ترین عبادت بھی ہے۔ یہ ہر چیز سے بڑی عبادت ہے۔

(اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو) [العنکبوت: 45]

، اللہ کے ذکر کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ بھی ذاکرین کو یاد رکھتا ہے، فرمان الٰہی ہے:

(لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو) [البقرۃ: 152]

، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے۔ فرمایا:

(زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں (190) جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں (وہ بے اختیار بو ل اٹھتے ہیں) "پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے) [آل عمران: 190 -191]۔

اللہ کے بندو! ذکر، جنت میں پودے لگانے کا طریقہ ہے، ذکر کرنے والوں کو ذکر کے نت نئے طریقے یوں الہام ہوتے رہتے ہیں جیسے انہیں سانس لینے کا طریقہ الہام ہوتا ہے۔ ، (سنن ترمذی) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس رات مجھے بیت المقدس لےجایا گیا، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا تو انہوں نے مجھے کہا: اے محمد! اپنی امت کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ جنت کی مٹی بڑی پاکیزہ ہے، اس کا پانی بڑا میٹھا ہے، اس کی زمین بڑی زرخیز ہے۔ وہاں پودا لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ ذکر کیا جائے: سبحان اللہ والحمد للہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر۔ اللہ پاکیزہ ہے ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں! اللہ سب سے بڑا ہے‘‘۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو ذکر کرتے رہنے کی نصیحت بھی فرمائی۔ (سنن ترمذی) میں ہے کہ ایک شخص نے کہا: ’’اے اللہ کے رسول! ’’عبادت کی مختلف شکلیں میرے لیے کافی زیادہ ہو گئی ہیں، مجھے ایسی کوئی ایک چیز بتا دیجیے جس پر میں مضبوطی سے قائم ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: ہمیشہ اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھنا‘‘، ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے معاذ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ’’اے معاذ! اللہ کی قسم! مجھے تم سے بڑی محبت ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے تم سے بڑی محبت ہے۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کسی نماز کے بعد یہ دعا کبھی نہ چھوڑنا‎: اللهم أعنني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك- اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، اپنا شکر کرنے اور بہترین طریقے سے اپنی عبادت میں میری مدد فرما!‘‘ (اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے)۔

جو کتاب وسنت کی عبارت پر غور کرتا ہے اسے ساری کی ساری خیر اللہ کے ذکر ہی میں نظر آتی ہے۔ اللہ کے ذکر سے پریشانی اور غم کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ رزق، خوشی اور مسرت حاصل ہو جاتی ہے۔ ذکر کرنے والے میں ہیبت اور خوبصورتی آ جاتی ہے۔ ﴿ایسے ہی لوگ ہیں وہ، جنہوں نے (اِس نبی کی دعوت کو) مان لیا، اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے، جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے﴾ [الرعد: 28]اسی طرح (سنن ترمذی) میں ہے کہ کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں وہ عبادت نہ بتاؤوں جو تمہاری عبادتوں میں بہترین ہے، تمہارے بادشاہ کے نزدیک پاکیزہ ترین ہے، تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرتی ہے، جو سونا اور چاندی کے صدقے سے بھی بہتر ہے، دشمن کے سامنے جا کر، ان کی گردنیں مارنے، اور شہید ہونے سے بھی بہتر ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! ضرور بتائیے۔ فرمایا: یہ عبادت اللہ کا ذکر ہے‘‘۔

قرآن کریم افضل ترین ذکر ہے۔ اس کے بعد سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، یہی وہ نیک عبادت ہے جس کا دیر پا اثر ہوتا ہے۔ جو شخص ایک دن میں سو مرتبہ سبحان الله، کہے، تو اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح ’’لا حول ولا قوۃ الا باللہ‘‘ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانا ہے۔ ، (صحیح بخاری) میں ہے کہ ’’دو مختصر جملے رحمٰن کو بڑے محبوب ہیں، زبان پر بڑے ہلکے ہیں، میزان میں بہت بھاری ہیں: سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم"۔

جو شخص اللہ کے ذکر سے منہ پھیر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے منہ پھیر لیتا ہے۔ جتنا وہ ذکر سے غافل ہو گا، اتنا ہی وہ اللہ سے بھی دور ہو گا۔ ذکر سے غفلت کرنے والا وحشت کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی وحشت ذکر الٰہی کے ذریعے ہی ختم ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: (اور جو میرے ذِکر(درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے (124) وہ کہے گا "پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟ (125) اللہ تعالیٰ فرمائے گا :ہاں! اِسی طرح تو ہماری آیات کو، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تُو نے بھُلا دیا تھا اُسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے) [طٰهٰ: 124 -126]تو اے اللہ! ہمیں شکر گزار بنا، ذکر کرنے والا بنا، رجوع کرنے والا بنا۔ عاجزی اور انکساری اپنانے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما! ہمیں ہدایت کی راہ دکھانے والا اور صاحب ہدایت بنا۔ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے! (بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے) [الاحزاب: 35]۔

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت سے برکت عطا فرمائے! اس میں آنے والی آیات، ذکر اور دانش کی باتوں سے فیض یاب فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ میں اپنی بات کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ اللہ سے اپنے لیے اور آپ کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو! یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

 

 

دوسرا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی کے کرم سے نیک کام مکمل ہوتے ہیں۔ دنیا وآخرت میں ہر طرح کی حمد وثنا اسی کے لیے ہے۔ زمین کے برابر، بلکہ آسمانوں کے برابر اس کے لیے حمد وثنا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر۔
بعدازاں! اے مؤمنو! مکمل امن وامان میں، سکون اور سلامتی کے ساتھ، آسانی اور آرام کے ساتھ حج کی عبادت مکمل ہو جانا بھی ایک عظیم نعمت ہے جس پر نعمتیں دینے والے کا شکر واجب ہے۔ شکر کا معنیٰ یہ ہے کہ پروردگار کے احکام کی پیروی کی جائے اور اس کی نافرمانی سے بچا جائے۔ یاد رکھو کہ اللہ کا عظیم ترین حکم اس پاکیزہ ناموں والے الٰہ کی توحید کا حکم ہے۔ سب سے بڑی نافرمانی شرک کا گناہ ہے۔ ﴿کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے (162) جس کا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں﴾ [الانعام: 162 -163]صحیح حدیث میں ہے: «جو لوگوں کا شکر یہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا»، اللہ خادم حرمین کو اور ان کے ولی عہد کو اجر عظیم عطا فرمائے! مکہ مکرمہ کے گورنر اور ان کے نائب کو جزائے خیر عطا فرمائے! اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے گھر کی نگہبانی کے شرف سے نوازا ہے۔ انہیں اپنے حرم کے مہمانوں کا خادم بنایا ہے۔ اللہ ان سب لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے اس سال حج کو کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ بالخصوص فوجی جوانوں کو۔ سرحدوں پر پہرہ دینے والوں کو۔ اللہ تعالیٰ ان سے قبول فرمائے! انہیں زیادتی کرنے والوں پر غلبہ نصیب فرمائے۔ ان کی حفاظت فرمائے! انہیں درست راستے دکھائے۔ خود انہیں اجر عظیم عطا فرمائے۔ اے بیت اللہ کے حاجیو! آپ کو مبارک ہو۔ حج کی عبادت پوری کرنے پر بہت مبارک ہو۔ قبولیت کے وعدے کی بھی مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کبھی نہیں توڑتا۔ اللہ کے بارے میں بھلا گمان رکھو۔ اللہ اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہے۔ اسی نے اس گھر کے ان حاجیوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ جو حج کے دوران کوئی بے حیائی کا کام یا کوئی گناہ نہیں کرے گا وہ یوں لوٹے گا گویا کہ وہ آج ہی پیدا ہوا ہو۔ تو اپنے حج کو ایک نیا آغاز بناؤ۔ اللہ کے ساتھ سچائی اپناؤ۔ جو نیکیاں کمائی ہیں، ان کی حفاظت کرو۔ کیونکہ نیکی کے مواقع غفلت اور اللہ سے دوری کو چھوڑ کر استقامت اور اس کی طرح متوجہ ہونے کا بہترین موقع ہوتے ہیں۔

نیکی کی قبولیت کی علامت یہ ہے کہ اس کے بعد پھر نیکی کی توفیق نصیب ہو۔ فرمان برداری کے بعد پھر فرمان برداری نصیب ہو۔ اگر حج کے بابرکت دن گزر گئے ہیں تو عبادت تو کسی وقت یا کسی جگہ پر ختم نہیں ہوتی۔ تو اے وہ لوگو! جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے خوشی والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے، جنہیں اپنی رحمت کے جھونکوں سے فائدہ اٹھانا نصیب فرمایا ہے، اللہ کی فرمان برداری پر قائم ہو جاؤ، اس کے دین پر ثابت قدم ہو جاؤ۔ خوب عمدگی کے ساتھ دھاگہ کاتنے کے بعد اسے کاٹ دینے والی کی طرح نہ بنو۔ یاد رکھو کہ قبولیت کا ترازو اخلاص اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہے۔ ، جیسا کہ (صحیح مسلم) میں سیدنا سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ ’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے دین اسلام کی کوئی ایسی بات بتائیے جس کے بعد مجھے کسی سے کچھ نہ پوچھنا پڑے۔ آپ ﷺ فرمایا: کہو: میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر ثابت قدم ہو جاؤ‘‘، ثابت قدمی کے باوجود انسان غلطی اور کوتاہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (تم سیدھے اُسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو) [فصلت: 6]، اس لیے جب بھی نیک بندے سے غلطی ہوتی ہے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور معافی مانگتا ہے۔ پھر نیکی پر قائم رہنے اور اس کے قریب قریب رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ نیک اعمال چاہے کم ہی کرے، مگر مستقل مزاجی کے ساتھ کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے پروردگار کے ساتھ جا ملتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بہترین طریقے سے نیکی کرنے کی کوشش کرو اور نیکی کے راستے سے قریب قریب رہنے کی کوشش کرو اور خوش ہو جاؤ کیونکہ کوئی شخص اپنے عمل کی بنیاد پر جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھی نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! میں بھی نہیں! الاّ یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم فرمائے‘‘یاد رکھو کہ اللہ کو وہ اعمال سب سے زیادہ پسند ہیں جو مستقل مزاجی کے ساتھ کیے جائیں چاہے وہ کم ہی ہوں

اے مؤمنو! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بابرکت حکم دیا ہے۔ جس میں اس نے پہلے اپنا ذکر کیا ہے۔ عزت والے کا فرمان ہے: ﴿اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو﴾ [الاحزاب: 56]، اے اللہ! رحمتیں نازل فرما محمد ﷺ پر، آپ کی بیویوں اور آپ کی اولاد پر، جس طرح تو نے آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ اسی طرح برکتیں نازل فرما، محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کی بیویوں اور آپ ﷺ کی اولاد پر، جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینًا! تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین ؛ ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا! تمام صحابہ کرام سے، تابعین عظام سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنا فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا کر دے! دین کے مرکز کی حفاظت فرما! اے اللہ! اس ملک کو امن وسلامتی نصیب فرما! اے اللہ! اسے اور تمام مسلمان ملکوں کو سکون اور چین نصیب فرما! اے اللہ! اے زندہ وجاوید! ہم تیری رحمت کی پناہ میں آتے ہیں۔ ہمارے سارے معاملات درست کر دے۔ اور لمحہ بھر کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے نہ فرما! اے اللہ! اپنی رحمت ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! جو ہمارے ملک کا برا چاہے، اس کی چال اسی پر لوٹا دے۔ اے پروردگار عالم! اسے برائی کے چکر میں گھیر دے۔
اے اللہ! خادم حرمین کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اسے نیکی اور پرہیزگاری کی طرف لا۔ اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہو۔ اے اللہ! حرمین کی اور یہاں آنے والوں کی خدمت پر انہیں جزائے خیر عطا فرما! اے اللہ! اپنے حاجیوں کے ہر خدمت گزار کو اجر عظیم عطا فرما! اپنے مہمانوں کا خیال رکھنے والوں کو جزائے خیر عطا فرما! اے اللہ! ان کے میزان نیکیوں سے بھر دے۔ اے اللہ! ان کے میزان نیکیوں سے بھر دے۔ ان کے کاموں میں برکت ڈال دے۔ اے رحمٰن ورحیم! اے رب ذو الجلال! اپنی رحمت اور کرم نوازی سے ان کی عمروں میں، نسلوں میں، گھر والوں میں برکت عطا فرما!
اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے اللہ! ہمارے گناہ معاف فرما! ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی فرما! ہمارے معاملات آسان فرما! ہماری نیک خواہشات پوری فرما! اے اللہ! حجاج اور معتمرین کو سلامتی نصیب فرما! اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت اور کرم نوازی سے انہیں سلامتی اور اجر عظیم کے ساتھ انھیں ان کے گھر والوں تک لوٹا۔
(اے اللہ! ہم سے قبول فرما! یقینًا! تو سننے والا اور جاننے والا ہے) [البقرۃ: 127]، (ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے) [البقرۃ: 128]پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں (180) اور سلام ہے مرسلین پر (181) اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے

Comments

محمد عاطف الیاس

محمد عاطف الیاس

عاطف الیاس مغل نے ام القریٰ یونیورسٹی، سعودی عرب سے گریجویشن جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔ اسلامی فکر وتہذیب میں ایم فل یو ایم ٹی، لاہور سے جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے لسانیات میں بھی ایم فل کیا۔ سعودی عرب میں پڑھنے اور بیس برس گزارنے کے باعث عربی زبان وادب اہل زبان کی طرح بولتے اور سمجھتے ہیں۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ سے بطور ریسرچ سکالر اور مترجم وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.