اپنی اصلاح آپ کیسے کریں - راحیلہ چوہدری

دنیا کے مشکل ترین کاموں میں ایک کام اپنی اصلاح آپ کرنا ہے۔ بلکہ یوں کہنا بےجا نہ ہوگا کہ فتنوں کے اس دور میں سب سے مشکل کام ہی اپنے آپ کو درست سمت میں رکھنا ہے۔ ہر انسان اپنی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں جانتا ہے لیکن اپنی خامیوں کو دور کیسے کرنا ہے؟ یہ کوئی کوئی جانتا ہے۔

اپنی اصلاح کیسے کی جائے؟ یہ سوال انسان اکثر اپنے آ پ سے کرتا ہے لیکن جب جواب نہیں ملتا تو پریشانی اور مایوسی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے، اور نتیجہ کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کی صورت میں نکلتا ہے۔ ٓآ ج ہم دیکھیں گے کہ اپنی اصلاح کے لیے وہ کون سی چند ایسی چیزیں ہیں جنھیں اپنا کر ہم ہمیشہ درست سمت میں رہنے کی کوشیش کر سکتے ہیں۔

اپنی اصلاح کے لیے سب سے پہلے جس چیز کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے، وہ ہے ’’نماز‘‘، اگر آپ نماز پابندی سے نہیں پڑھتے تو نماز کو پابندی سے ادا کرنے کی کوشش کیجیے۔ دوسری اہم چیز اگر نماز کا ترجمہ یاد نہیں تو ترجیحی بنیادوں پر نماز کے ترجمہ کو یاد کیجیے۔ نماز پڑھتے ہوئے اگر لاشعور میں نماز کو سمجھ کے نہ پڑھا جائے تو اس کے بغیر نماز کی اصل روح کو نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی تعلق باللہ مضبوط کیا جا سکتا ہے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘‘ اس آیت کی روشنی میں ہم سب کو اپنا اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہماری نماز ایسی ہے جو ہمیں واقعی ہی برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے؟

اصلاح کے لیے دوسری اہم چیز’’ دعا ‘‘ہے۔ روزانہ کی بنیادوں پر اپنی دعا کے الفاظ پر غور کریں کہ میں اللہ سے کیا مانگ رہا ہوں۔ اور مجھے اللہ سے کیا مانگنا چاہیے۔ دعا میں صرف اللہ سے اپنی دنیاوی ضروریات کا مطالبہ مت کیجیے بلکہ بار بار اپنے مقصد حیات کو مانگیے۔ اللہ سے بار بار یہ سوال کریں کہ میرا مقصدِحیات کیا ہے؟ میں دنیا میں کس کام کے لیے آیا ہوں۔ یہ دعا آپ کو اپنے مقصدِ حیات کی طرف توجہ دلائے گی۔ اور مقصدِ حیات کی جستجو ہی آپ کو دنیا اور آخرت میں کامیابی دلائے گی۔ اپنی اصلاح کے لیے یہ ایک انتہائی ضروری امر ہے کہ انسان کو اپنا مقصدِ حیات پتہ ہو۔ اگر آپ کو اپنا مقصدِ حیات پتہ نہیں یا مقصدِ حیات بنایا نہیں ۔تو آج ہی سے اپنے مقصدِ حیات کو تلاش کیجیے۔ واصف علی واصف کہتے ہیں: ’’بے مقصد زندگی چاہے کتنی طویل کیوں نہ ہو، موت سے بد تر ہے ۔‘‘ مقصدِ حیات کے لیے ضروری ہے کہ آپ کبھی کبھی تہجد کا اہتمام کیجیے اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے پورے خشو ع وخضوع کے ساتھ دعا کیجیے۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نماز کیوں پڑھوں؟ - ناصر محمود بیگ

نماز اور دعا کی درستگی کا جائزہ لینے کے بعد تیسری اہم چیز جو ہمیں اپنی زندگیوں میں شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے، وہ ہے’’ روزہ‘‘۔ ہر ماہ تقریباََ تین نفلی روزوں کا خاص طور پر اہتمام کیجیے۔ نفلی روزوں اور نفلی عبادتوں کے بغیر عمل کی پختگی ممکن نہیں اور نہ ہی نفس کی درستگی۔ نفلی عبادتوں کے بغیر خود شناسی سے خدا شناسی تک کے سفر کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا۔ آج کل بیسیا ر خوری ایک فیشن بن چکا ہے۔ افسوس کے ساتھ خاص طور پر نوجوان نسل نے اپنا مقصدِ حیات اور خوشی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہی اچھا کھانے پینے کو بنا لیا ہے۔ نوجوانو ں میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی اور زنا با الجبر کے بڑھتے ہوئے واقعات کی اصل وجہ بھی یہی بیسار خوری کی عادت اور نفلی عبادات سے دوری ہے۔ اس سلسلے میں شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں: ’’ جب انسان کا پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے تو اس کے اعضا بھوکے ہوتے ہیں (یعنی اس میں جنسی حس زیادہ ہوتی ہے)، اس وقت اس پر حیوانیت طاری ہوتی ہے۔ اور اگر اس کا پیٹ خالی ہو تو اس کے اعضا سیر ہوتے ہیں (یعنی جنسی جذبات سرد پڑ جاتے ہیں)۔‘‘

اس قول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میری خاص طور پر ماؤں سے درخواست ہے کہ وہ فرض روزوں کے ساتھ نفلی روزوں کو اپنے گھروں میں سختی سے رواج دیں، تاکہ ہم اپنے بچوں کو گناہِ کبیرہ کے پاس بھی پھٹکنے سے بچا سکیں۔ جب میری آنکھوں کے سامنے سے یونیورسٹی اور کالجز میں زنا با لجبر کے واقعات کی خبریں گزرتی ہیں تو میری روح کانپ کے رہ جاتی ہے۔ ہمارا آج کا مسلمان نوجوان کیا کر رہا ہے؟ کیا یہ ہمارے بچے ہیں؟ اور یہ کس کی ذمہ داری ہیں؟ آج کا نوجوان یہ تربیت کہاں سے لے کر آ رہا ہے؟ افسوس کہ آج کے اساتذہ اور والدین نے بچوں اور نوجوانوں کی روحانی تربیت کے حوالے سے اپنی آنکھیں بلکل بند کر لی ہیں۔

اپنی اصلاح کے لیے چوتھی اور اہم چیز ’’ذکر الہٰی‘‘ ہے۔ نبیؐ نے فرمایا: دل دو چیزوں غفلت اور گناہ سے زنگ پکڑ تا ہے اور دو چیزوں سے ہی زنگ دور کیا جاسکتا ہے۔’’استغفار اور ذکرِ الہٰی۔‘‘ نماز، روزہ، حج، زکوۃ، یہ سب عبادتیں تو ذکرِ الہٰی ہیں ہی لیکن کچھ تسبیحات ایسی ہیں جن کو پڑھنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار جگہ بڑی تاکید فرمائی ہے، ان تسبیحات کو زندگی میں قطرہ قطرہ روزانہ کی بنیاد پر شامل کرنے سے انسان بہت سے گناہ کرنے سے بچ جاتا ہے اور انسان تھوڑے وقت میں زیادہ اجر اکھٹا کر لیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذکر کرنے سے انسان کوئی بھی عمل کرتے ہوئے ہمیشہ اللہ کو اپنے سامنے اور ساتھ پاتا ہے اور نفس کو درست سمت میں رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔ سورۃ الا عراف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ اور تو اپنے رب کو صبح شام اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ یاد کیا کراور اُونچی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ اور غافلوں میں سے نہ ہو جانا‘‘، یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور عاجزی کے ساتھ صبح اور شام اپنے نفس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر اور اس کی یاد سے غفلت مت برت۔ اس آیت سے ہمیں ذکرِ الہٰی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کے نفس کو درست سمت میں رکھنے کے لیے ذکر کتنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نیل آرٹ سے دل کے غلاف تک - فرح رضوان

ایک دفعہ آپؐ کی لختِ جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے چکی کی مشقت اور دیگر معمولات کی زیادتی و تکالیف کی شکایت کرتے ہوئے آپؐ سے خادم طلب فرمایا۔’’توآپؐ نے سیدہ فاطمہ کو خادم دینے کی بجائے رات کو سوتے وقت۳۳ مرتبہ سبحان اللہ،۳۳ مرتبہ الحمدللہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔اور فرمایا خادم کی بجائے یہ کلمے تمہارے لیے بہتر ہیں۔‘‘ ایک دوسری جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیںجس شخص نے اللہ اکبر،الحمدللہ،لا الہ الا اللہ اور استغفراللہ کہا، اور لوگوں کے راستے سے پتھر یا کانٹے یا ہڈی کو دور کر دیا یا نیکی کا حکم یا برائی سے منع کیا اور یہ کام تین سو ساٹھ عدد کے برابر کیا تو وہ اس روز اس طرح چلتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم سے بچا لیا۔‘‘ اگر ہم اپنی اس مصروف زندگی میں صرف اس ایک تسبیح کو اپنا لیں ۔اور روزانہ اس کو اطمینان اور سکون سے پڑھ لیں ۔میرے خیال سے ہم پچاس فیصد اپنے نفس کو درست رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔

اپنی اصلاح کے لیے زندگی میں دو چیزوں کو ہمیشہ کے لیے اپنا لیجیے۔ پہلی چیز گرمیوں میں ہر وقت وضو کی حالت میں رہنے کی کوشیش کیجیے۔ اور دوسرا سردیوں میں زیادہ سے زیادہ روزے کی حالت میں رہنے کی کوشیش کیجیے۔ ان دو اصولوں کو اپنانے سے ان شاءاللہ باقی دین پہ عمل کرنا آسان ہو جائے گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ کو قلب ِسلیم اور عقلِ سلیم عطا فرمائیں۔ہمیں زیا دہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔