لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

مجھے بچپن ہی سے پتہ چل گیا کہ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں۔ جب میں نے اپنی ماں کو گاڑی میں بیٹھے بیٹھے فاتحہ پڑھتے دیکھا۔ ہم بچے تھے والدین کے ساتھ ددھیالی شہر قصور جاتے۔ ددھیالی گھر آنے سے پہلے رستے میں قبرستان آتا تھا، جہاں دادی اماں اور دیگر عزیزوں کی قبریں تھیں، وقت کے ساتھ جہاں دادا، تایا، چچا اور چچی کی قبروں کا اضافہ ہوا۔ قبرستان کے درمیان سے سڑک گزرتی تھی، بالکل لاہور کے میانی صاحب کی طرح درمیان میں سڑک چل رہی ہے اور دائیں بائیں شہر خموشاں کی حدود ہیں۔ امی بآواز بلند "السلام علیکم یااہل القبور" پڑھتیں اور ہم سب دہرایا کرتے۔

ابو راستے میں سائیڈ پر کار پارک کر دیتے۔ دونوں بھائی ابو کے ساتھ کار سے اترتے اور سب سے پہلے جنت آشیانی دادی اماں کی قبر پر حاضری دیتے۔ فاتحہ اور درود و سلام کے بعد باری باری تمام قبور پر حاضری ہوتی۔ امی ڈھکے سر کے ساتھ کار میں ہی دعا و فاتحہ پڑھتیں۔ ہم چھوٹی چھوٹی بچیاں دوپٹہ نہیں لیتی تھیں لیکن قبرستان سے گزرتے ہوئے سر ڈھانپنا اور باادب خاموشی ہمیں سکھائی گئی تھی۔ سو امی دعا کرتیں اور ہم ابو اور بھائیوں کو دیکھتے رہتے۔ کیونکہ قبور بلندی پر ہیں اور سڑک گہرائی میں تو قبرستان باؤنڈری وال سے اونچا ہونے کی وجہ سے تمام نقل و حرکت واضح نظر آتی۔ ایک دفعہ میں نے ابو سے پوچھا کہ آپ پہلے یہاں کیوں رکتے ہیں، گھر کیوں نہیں جاتے؟ بعد میں چچا کے ساتھ آ جایا کریں۔ تو ابو نے کہا کہ پہلے میں اپنی والدہ سے ملتا ہوں، دعا لیتا ہوں، پھر گھر جاتا ہوں۔

دوران سفر جتنی بھی طویل مسافت کیوں نہ ہوتی، اگر راستے میں جنازہ نظر آ جاتا تو ابو کار روک دیتے۔ دونوں بھائیوں کو ساتھ لیتے۔ سر پر رومال باندھتے اور چالیس قدم تک جنازے کو کندھا دیتے۔ اب یاد کر رہی ہوں تو کسی بالکل اجنبی مسلم کے جنازے کے سر والی بائیں سائیڈ کا بانس ابو کے بائیں کندھے پر نظر آ رہا ہے۔ بھائی بھی چھوٹے تھے، جزبز ہوتے گرمی سے، دھوپ یا تھکن سے، تو امی پیار سے سمجھاتیں کہ بیٹا یہ ایک مسلمان بھائی کا دوسرے مسلمان بھائی پر حق ہے۔ جائیں بھائی کا حق انھیں دے کے آئیں۔ چالیس قدم کے بعد ابو اور بھائی واپس آتے، امی تینوں کو باری باری واٹر کولر سے پانی پلاتیں اور دیر تک بھید بھری چپ کے ساتھ سفر طے کیا جاتا۔

زندگی یونہی چلتی رہی، قبرستان جانا میرے لیے ایک مکمل طور پر منع شدہ امر تھا جب تک میڈیکل کالج میں داخل نہ ہوئی۔ میڈیکل کالج کے پہلے ہی دن ہماری تعلیم کی ابتدا ایک ایسے قبرستان میں ہوئی جہاں نعشیں قبور کے اندر نہیں بلکہ ٹیبلز کے اوپر موجود تھیں۔ لیکن مجھے وہاں یہ بات کبھی یاد نہیں آئی کہ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں اور مغرب کے بعد قبرستان جانا مکمل منع ہے۔ وہ کالج تھا اور نعشیں، باڈیز یا "کےڈےورز " کہلاتی تھیں، ایناٹومی ہال جیتے جاگتے سفید اوور آل پہنے نوجوان، پرامید میڈیکل اسٹوڈنٹس سے بھرا ہوتا۔ ہاں چند بےسانس نفوس بھی وہیں سفید چادروں میں لپٹے، لیٹے ہوتے یا شیشے کے مرتبانوں میں پائے جاتے۔ کسی کا بازو کسی کے ہاتھ میں ہوتا تو کسی کی کھوپڑی کوئی لے کے بیٹھا ہوتا اور کہیں دماغ کا معائنہ چل رہا ہوتا، بس قبرستان وہاں کہیں نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک کشمیری والد کا سکول میں داخلہ کے منتظر ننھے بیٹے کے نام خط - ابو لقمان

تھرڈ ائیر میں فارینزک میڈیسن میں موت کے طریقے اور چہرے دیکھے۔ زہر، نشہ، تیزاب، گیس، ڈوبنا، جلنا، دم گھٹنا، غرض ہر قسم کی طبعی اور غیر طبعی موت دیکھی، سیکھی اور سمجھی۔ موت کے بعد جسم میں در آنے والی تبدیلیاں جانیں۔ پوسٹ مارٹم دیکھے بھی کیے بھی۔ پہلا پوسٹ مارٹم اپنی ہم نام بچی کا دیکھا جو بسنت پر ہوائی فائرنگ کا نشانہ بنی تھی، اس موت نے ذہن کے حساس گوشوں کو شدید متاثر کیا اور پہلا شعر سرزد ہوا۔
اک ضرب خونچکاں سر پر

جاں لے گئی اک فرشتے کی

امیر نے منا لی اپنی بسنت

صف بچھ گئی فرشتے کی

وہاں موت تھی، موت کی ارزانی تھی، جسم تھے اور جسم کی بےبسی و بےوقعتی تھی۔ بڑے بڑے سرد مہر ڈیپ فریزرز اور اسٹیل ٹیبلز تھے لیکن قبرستان وہاں بھی نہیں تھا۔ کہ زندگی موت کے پہلو میں مسکراتی تھی۔

پھر ہم وہاں سے نکل آئے۔ میو اسپتال اور لیڈی ولنگڈن اسپتال میں جیتے جاگتے انسانوں کو پلک جھپکتے میں نعشوں میں تبدیل ہوتے دیکھتے یا پریشان حال وارث زندگی کی امید میں ڈیڈ باڈیز لیے آتے اور ریسیوڈ ڈیڈ کا سرٹیفیکیٹ لے کے روتے بلکتے لوٹ جاتے۔ زندگی کی بھیک مانگتی چھ جوان بیٹیوں کی ماں کو سیپسس سے مرتے دیکھنا، زندگی کو موت کی گود میں چھپتے دیکھنے کا میرا پہلا تجربہ تھا۔ حساس دل ہاؤس سرجن تمام رات اس اجنبی عورت کی موت کا ماتم کرتی رہی۔ وہاں بھی زندگی اور موت شانہ بشانہ چل رہی تھی۔ لیکن زندگی کی طاقت زیادہ تھی۔ لمحہ پہلے جو بیڈ، ڈیڈ باڈی کے وجود سے بھرا ہوتا، خالی ہوتے ہی کسی زندہ نفس کے زیر استعمال آ جاتا۔ رش اور افراتفری میں تو کئی بار بیڈ شیٹ بھی تبدیل نہ کی جا سکتی ۔ لیکن قبرستان وہاں بھی نہیں تھا۔

زندگی کچھ اور آگے بڑھی۔ میں پرائیویٹ پریکٹس میں آ گئی۔ والدین پیچھے رہ گئے، گھر بار، شہر، رشتے تبدیل ہوگئے۔ والدین پکارتے اور میں پکار پر کھنچی چلی جاتی۔ وقت کا کام چلنا ہے۔ رکنا اس کی سرشت میں نہیں۔ سو نہ یہ تھمتا ہے نہ سانس لیتے وجود کو آخری سانس لینے تک تھمنے دیتا ہے۔ کبھی رات دو بجے اطلاع ملتی ڈاکٹر صاحب! ایمرجنسی آئی ہے ۔ بھاگم بھاگ معمر مریضہ تک پہنچتے ابھی یہ جملہ میرے منہ میں ہے "جی ماں جی آج اس وقت کیسے آنا ہوا ؟" ماں جی مجھے دیکھتی ہیں، مسکراتی ہیں اور جوان بیٹے کے ہاتھوں میں بیٹھے بیٹھے ڈھلک جاتی ہیں۔ بہو کے چیک اپ کے لیے ساتھ آئی ساس اٹینڈنٹ چیئر پر بیٹھی ہیں۔ بات کرتے کرتے ہچکی لے کر خاموش ہو جاتی ہیں۔ بہو ڈرتی ہے۔ ڈاکٹر ساس کو دیکھتی ہے تو بی پی لیس، پلس لیس، سی پی آر ہوتا ہے، دل کو جھٹکا لگایا جاتا ہے اور ساس واپس آ جاتی ہیں، ٹوٹا سلسلۂ کلام جوڑتی ہیں "جی تو میں یہ کہہ رہی تھی کہ میری بہو کچھ کھاتی پیتی نہیں"۔ انھیں کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کس آسمان تک پرواز کر کے واپس آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک کشمیری والد کا سکول میں داخلہ کے منتظر ننھے بیٹے کے نام خط - ابو لقمان

ہاں! ایک روز جب میں اپنے کولیگ اور اسسٹنٹ کے ساتھ ایمرجنسی سی پی آر کر رہی تھی۔ مریض جانبر نہ ہو پایا تو کولیگ روم سے باہر اٹینڈنٹس کو صورتحال بتانے کے لیے گئے۔ تب میں نے اسسٹنٹ سے بس اتنا کہا۔ ابھی ابھی اس کمرے میں عزرائیل ع تشریف لائے تھے، بس ان کے پاس پروانہ ہمارے نام کا نہیں تھا۔ اس جملے پر ہم دونوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ لیکن قبرستان کی فیلنگ یہاں بھی نہیں تھی کہ زندگی موت سے زیادہ دلچسپ اور مضبوط جذبہ ہے۔

پھر14 ستمبر 2009ء کا چاند نکلا۔ ابو کافی روز سے طبیعت کی گرانی اور وزن میں کمی کی شکایت کر رہے تھے۔ انہیں الٹرا ساؤنڈ کروانے کا کہا تھا، اس روز رات گئے ان کا فون آیا۔ میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ راؤنڈ پر تھی۔ ابو فون پر رپورٹ سنا رہے تھے اور میری جان نکل رہی تھی۔ میں نے فون ڈاکٹر صاحب کو دے دیا۔ رپورٹ سن کر ڈاکٹر صاحب نے مجھے بس اتنا کہا، رابعہ تم صبح لاہور چلی جاؤ۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور آنسو ضبط کرنے لگی۔ انسٹھ دنوں کی ایک تیز ترین رولرکوسٹر رائڈ شروع ہوئی جس میں امید و بیم، بےبسی، رنج، دکھ، غم، دھوکا اور خودغرض فطرت انسانی کے انگنت رخ وا ہوئے۔ یہ زندگی تھی، یہی زندگی ہے جو ہمہ دم موت کے مدمقابل رہتی ہے۔

پھر ابو چلے گئے اور ان کی شہزادی بیٹی تنہا رہ گئی، بھرے میلے میں تنہا اور سہمی ہوئی جسے صبر نہیں آتا تھا۔ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں سو میں کبھی قبرستان نہیں گئی تھی، لیکن جب مجھے صبر آتا نظر نہ آیا، تب بالآخر مجھے میرے پیارے ابو سے ملانے کے لیے قبرستان لے جایا گیا۔ قبرستان میں سفیدے کے اونچے درخت لہرا رہے تھے، سنہری دھوپ تھی، دسمبر یا شاید جنوری کا موسم تھا۔ میں ابو کی قبر پر گئی۔ جی چاہتا تھا کہ ابو کے پہلو میں لیٹ کر ان سے لپٹ کر سو جاؤں۔ لیکن میں بس جھک کر ان کی قبر کو چھو سکی، اور بلک دی۔ وہ میرے دل میں پہلی قبر تھی۔ آج تک وہ پہلی قبر میرے دل موجود ہے۔ اس کے ساتھ اب امی کی قبر بھی ہے، مام (ساس) کی قبر بھی۔ چند اور پیارے بھی یہیں مدفون ہیں۔ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں لیکن اپنے بچھڑنے والے پیاروں کا قبرستان اپنے دل میں بسا لیتی ہیں۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.