"گے پرائیڈ"، میڈیکل کمیونٹی اور سیکولرازم - ڈاکٹر رضوان اسد خان

28 جون 1969؛ امریکہ کے شہر نیویارک کے جوار میں ایک گاؤں گرینِچ (Greenwich) کا واقعہ. یہ وہ دور ہے جب امریکہ میں شراب اور ہم جنسوں کے آزادانہ اختلاط دونوں پر قانونی پابندی تھی. مختلف کلبز اور ریستورانوں میں یہ دونوں کام غیر قانونی طریقے سے کیے جاتے. پولیس کو بھاری رشوت دی جاتی تاکہ چھاپہ پڑنے کی اطلاع پہلے سے ہی مل جائے اور شراب اور "عجوبے" دونوں کو پہلے ہی چھپا دیا جائے.

اس دور میں ہم جنسوں کے لیے "کوئیر" کی اصطلاح عام تھی (اب بھی ایک مخصوص معنی میں مستعمل ہے) جس کا لفظی ترجمہ "عجیب" کا ہے. اور اسی مناسبت سے ہم جنس پرستوں کو اس تحریر میں "عجوبہ" کے نام سے موسوم کیا گیا ہے. تو قارئین، اسی طرح کا ایک کلب تھا "سٹون وال ان". یہ ایک مقامی مافیا کی ملکیت تھا جس نے اسے عجوبوں کے لیے خصوصی طور پر پر کشش بنا رکھا تھا. لہٰذا یہاں پر راتوں میں عجوبے 3 ڈالر کی نہایت مہنگی داخلہ ٹکٹ کے باوجود بڑی تعداد میں حاضر ہوتے اور ہم جنسوں کے ساتھ رقص و سرود میں حصہ لیتے. یہ البتہ کوئی باقاعدہ قحبہ خانہ نہیں تھا اور جسم فروشی تو نہیں ہوتی تھی، البتہ سودے ضرور ہوتے اور پارٹنر (محبوب) تلاش کرنے میں آسانی رہتی.

تو جناب، 27 جون کو پولیس نے منظم طریقے سے یہاں دھاوا بولنے کا منصوبہ بنایا. کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ "منتھلی" میں اضافے کی ڈیمانڈ پوری نہ ہونا اس کا اہم محرک تھا. بہرحال، پلان کے مطابق 4 پولیس والے شام میں ہی سادہ لباس میں کلب میں داخل ہوگئے اور وقتاً فوقتاً اپنے ساتھیوں کو پبلک فون کے ذریعے صورتحال سے آگاہ کرتے رہے. حالانکہ پولیس کے خفیہ داخلے کو روکنے کے لیے کلب والوں نے خصوصی کوڈ ورڈز اور دیگر اشاروں کا بندوبست کر رکھا تھا. لیکن پولیس تو پھر پولیس ہوتی ہے.. سو، رات میں عین اس وقت جب محفل اپنے عروج پر تھی، پولیس کا چھاپہ پڑ گیا. یہ رات تقریباً ڈیڑھ بجے کا وقت تھا. پولیس والے غالباً غصے میں تھے. لہٰذا عجوبوں کی گرفتاری کے دوران کچھ زیادہ ہی سختی سے پیش آئے. مینجمنٹ کو تو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا. اس کے علاوہ جو لوگ عجوبے کی نشانیوں پر پورا اترتے انھیں اندر ہی ہتھکڑیاں لگا دی گئیں اور باقیوں کو باہر نکال دیا گیا. یوں بہت سے عجوبے نشانیاں پوری نہ ہونے کی وجہ سے بچ نکلے.

یہاں یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ زنانہ ہم جنسوں کی تعداد محض 2 فیصد ہوتی تھی اور خواتین کے لیے لباس کے 3 مخصوص زنانہ اجزاء کا ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا اور اس میں سے کسی ایک کی بھی غیر موجودگی عجوبہ قرار دینے کے لیے کافی سمجھی جاتی. اس کے علاوہ قانوناً خواتین کے اعضاء صرف زنانہ پولیس، علیحدگی میں چیک کرنے کی مجاز تھی. مبینہ طور پر اس قاعدے کی خلاف ورزی بھی مجمع کو بھڑکانے کی وجہ بنی. علاوہ ازیں "عجوبہ پن" کے معیار پر پورا نہ اترنے والوں کو جب باہر "پھینکا گیا" تو وہ غصے میں وہیں جمع ہونا شروع ہو گئے اور پولیس کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی. اور یوں بات بڑھتے بڑھتے پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی اور باقاعدہ تصادم میں تبدیل ہو گئی اور دونوں طرف کے بہت سے لوگ شدید زخمی ہو گئے.

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی. اس دور میں عجوبوں کے حقوق کے لیے دو بڑی تنظیمیں وجود میں آ چکی تھیں. وہ فوراً میدان میں کودیں اور کئی شہروں میں مظاہرے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی اور عجوبوں کے لیے برابری کے حقوق کا مطالبہ کر دیا. یوں اس واقعے کو عجوبوں کی معاشرتی قبولیت کی جدوجہد میں نہایت اہم سنگ میل، بلکہ "ٹرننگ پوائنٹ" سمجھا جاتا ہے اور ہر سال پوری دنیا کے عجوبے جوش و خروش سے اس کی یاد مناتے ہیں اور اسے "گے پرائیڈ" کے نام سے یاد کرتے ہیں.

پرائیڈ کا مطلب "فخر" ہے اور پرانے دور میں "شیم" یعنی شرمندگی کے مقابلے میں اس کے متضاد لفظ کا انتخاب اسی لیے کیا گیا ہے کہ دنیا کو بتایا جائے کہ پہلے جس کام پر ہمیں شرم اور عار دلائی جاتی تھی، وہی کام اب ہم فخر کے ساتھ ڈنکے کی چوٹ پر کریں گے. کچھ سالوں سے جون کے پورے مہینے کو "پرائیڈ منتھ" قرار دے کر پورے 30 دن اس بے غیرتی کی ترویج کی جاتی ہے. اس سے متعلق فلموں، کتابوں اور آرٹ کے دیگر مظاہر کو خوب پروموٹ کیا جاتا ہے. ریلیاں اور سیمینار منعقد ہوتے ہیں. وغیرہ وغیرہ...

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سارے قصے میں میڈیکل کمیونٹی کا کیا قصور؟ آئیے اسکا بھی جائزہ لیتے ہیں: 1973 سے پہلے نفسیاتی امراض کی عالمی ریفرنس بک "ڈی ایس ایم" میں ہم جنسیت کو ایک نفسیاتی بیماری سمجھا جاتا تھا اور اس کے علاج کے مختلف طریقے رائج تھے. اس وقت اسے نفسیاتی عارضہ سمجھنے کے مخالف ماہرین نفسیات کی تعداد بہت کم تھی. اس دور میں اس کی وجوہات اور نوعیت کے بارے میں 3 تھیوریاں رائج تھیں:

1. پہلی تھیوری کے مطابق یہ کسی بھی دوسری بیماری کی طرح ایک مکمل بیماری اور پیتھالوجی ہے اور ممکنہ طور پر اس کا تعلق کسی جینیاتی عارضے سے ہے.

2. دوسری تھیوری کے مطابق ہر انسان میں ایک سٹیج آتی ہے جس دوران وہ ہم جنسوں میں کشش محسوس کرتا ہے. لیکن عمر کے بڑھنے اور ذہنی بلوغت کے ساتھ یہ دور گزر جاتا ہے. البتہ عجوبوں میں یہ سٹیج برقرار رہتی ہے اور اس طرح یہ گویا ایک دماغی کم سنی (ام میچورٹی) کی قسم ہے.

3. تیسری تھیوری کے مطابق یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ انسانی فطرت کے تنوع کا ایک مظہر ہے اور بس.

1969 کے ہنگاموں کے بعد "ہوموفائل" (عجوبوں کے حق میں) تنظیمیں بہت فعال ہو گئی تھیں . ان کے نمائندوں نے مختلف ہتھکنڈوں سے امریکن ایسوسی ایشن آف سائکاٹرسٹس کے سالانہ اجلاسوں میں گھس کر عجوبوں سے تفریق پر مبنی معاشرتی رویے کا رونا رویا. انھوں نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں نے اسے بیماری قرار دے رکھا ہے اور اسے ایک "سوشل سٹگما" (کلنک کا ٹیکہ) بنا کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں. اس وقت یہ لوگ ملکی سطح پر ایک مؤثر سیاسی پریشر گروپ کے طور پر اپنے آپ کو منوا چکے تھے. لہٰذا ایسوسی ایشن بھی اپنے آپ کو اس دباؤ سے محفوظ نہ رکھ سکی اور اس کے بارے میں تھیوریز پر نظرثانی کر کے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کا عندیہ دے دیا. ایسوسی ایشن کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ یہ غالباً واحد بیماری ہے جس کا فیصلہ کسی ٹھوس سائنٹفک تحقیق کے بجائے ووٹنگ کے ذریعے کیا گیا. اور یوں 1973ء میں 42 کے مقابلے میں صرف 58 فیصد ووٹوں کی برتری سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے اسے نفسیاتی بیماری قرار نہیں دیا جائے گا. اور 1974ء کے ایڈیشن میں اسے کتاب سے خارج کر دیا گیا.! اس کے بعد تو پھر اس طوفان نفس پرستی اور لبرل ازم کے شتر بے مہار کے آگے کوئی بند اور کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی. اور آج مغرب میں یہ حال ہے کہ اسے بیماری قرار دینے والے اور اس کا علاج کرنے والے کا میڈیکل لائسینس کینسل کر دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف بولنے والوں کو عدالتی مقدموں میں گھسیٹا جاتا ہے.

افسوس کا مقام یہ ہے کہ وطن عزیز میں بھی اب یہ لوگ نہایت دیدہ دلیری سے سوشل میڈیا پر "ایل جی بی ٹی پلس" کے حقوق کی صدائیں بلند کرتے نظر آتے ہیں اور بہت سے سیکولر مزاج ماہرین نفسیات اب نہ اسے بیماری سمجھتے ہیں اور نہ اس کے علاج کی ضرورت محسوس کرتے ہیں. اور بطور مسلمان اسے محض مریض کا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں. حالانکہ بہت سارے نفسیاتی امراض میں مریض اپنے آپ کو مریض نہیں سمجھ رہا ہوتا لیکن گھر والوں کے کہنے پر اس کا علاج کیا جاتا ہے... بلکہ بسا اوقات مریض کو بتائے بغیر اسے خفیہ طریقوں سے دوا دی جاتی ہے. لیکن اگر آج آپ کسی سائکاٹرسٹ کے پاس جا کر کہیں کہ میرا بھائی ہم جنس پرستی کے "مرض" میں مبتلا ہے اور میں اس کا علاج کروانا چاہتا ہوں، تو ڈاکٹر صاحب آپ کو مسکرا کر فارغ کر دیں گے کہ یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں وغیرہ وغیرہ....!!!

یہ تو تھا اس لعنت کے آگے "طبی بند" جو کہ تقریباً ڈھے چکا ہے. دوسرا ہے مذہبی بند. لیکن ہمارے ہاں کے مولوی حضرات ابھی تک اس خطرے کی شدت کو بھانپنے سے قاصر ہیں. کچھ کے خیال میں تو یہ مسئلہ یہاں ویسے ہی نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ کہ میرے جیسے پاگل بس مبالغہ آرائی کرتے رہتے ہیں... لہٰذا ان سے بھی ان عجوبوں کو فی الحال کوئی (نظریاتی) خطرہ نہیں.! اللہ کا شکر ہے کہ تیسرا بند یعنی قانونی بند تا دم تحریر کم از کم تحریری اور دستاویزی حد تک تو قائم ہے. البتہ عملاً کبھی اس "جرم" پر کسی عجوبے کو سزا ہوئی ہو تو میرے علم میں نہیں. لیکن مغربی آقاؤں اور یو این او کو انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی پر مبنی ہمارے اس قانون پر سخت تشویش ہے. اور کچھ بعید نہیں کہ آئندہ کسی امداد کو اس کے خاتمے سے مشروط کر دیا جائے اور پھر ہمارے یہاں کے اہل المورد اور "قرآن اونلی مخلوق" اٹھ کر ثابت کرے کہ ہمارے یہاں تو لوط علیہ السلام کی طرح کسی نبی نے کیونکہ ابھی تک عجوبوں کے خلاف "اتمام حجت" نہیں کیا اور نہ ہی قرآن میں ان کی سزا کا کوئی ذکر ہے، لہٰذا یہ گناہ تو ہے لیکن ریاست کو اس پر سزا دینے کا کوئی حق نہیں کیوں کہ یہ ایک فرد کا "ذاتی معاملہ" ہے.!

گویا حاصلِ کلام یہ ہوا کہ یہ سیکولرازم نامی وائرس جس نظام میں بھی داخل ہو وہاں سے اسلام کو نکال کر ہی دم لیتا ہے، یا پھر اگر "جسم" میں کچھ "قوت مدافعت" باقی ہو تو خود مر کھپ جاتا ہے... لیکن دونوں کا بیک وقت زندہ رہنا ناممکن ہے.!

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.