شاعری علامہ شبلیؔ نعمانی کی نظر میں - امتیاز عبد القادر

ناقدین اور ارباب علم و معنی نے اس کو مختلف پیرایوں میں سمجھایا ہے۔ علامہ شبلیؔ نعمانی کسی قدر شاعرانہ انداز میں شعر کی حقیقت کو سمجھاتے ہیں: ’’حیوانات پر جب کوئی جذبہ طاری ہوتا ہے تو مختلف قسم کی آوازوں یا حرکتوں کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے مثلاً کویل کوکتی ہے، طاؤس ناچتا ہے، سانپ لہراتے ہیں۔ انسان کے جذبات بھی حرکات کے ذریعے سے ادا ہوتے ہیں لیکن اس کو جانوروں سے بڑھ کر ایک اور قوت دی گئی ہے، یعنی نطق اور گویائی، اس لیے جب اس پر کوئی قوی جذبہ طاری ہوتا ہے تو بےساختہ اس کی زبان سے موزوں الفاظ نکلتے ہیں، اسی کانام شعر ہے‘‘۔ (شعرالعجم جلد۴۔ص ۳۔۲)

علامہ شبلیؔ نعمانی اپنے تنقیدی نظریات کے پیش کرنے میں جو مباحث سامنے لاتے ہیں، ان میں مشرقی معیار نقد کا رنگ زیادہ گہرا نظر آتا ہے۔ وہ حالیؔ کی طرح صرف مغرب سے مستعار لیے ہوئے تصورات کا اپنے نقطہ ٔنظر کی تشکیل میں استعمال نہیں کرتے۔ شبلی ؔکی ارسطوؔ کے خیالات تک رسائی عربی زبان و ادب کے توسط سے ہوئی تھی، چنانچہ وہ رقم طراز ہیں: ’’ارسطو نے اس (شاعری) پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے، جس کا ترجمہ عربی میں ابن رشدؔ نے کیا اور اس کا بڑا حصہ چھپ کر شائع ہوا ہے۔ ابن رشیق قیروانی اور ابن خلدون نے بھی اس پر بحث کی ہے‘‘۔ (موازنۂ انیس ودبیرؔ۔ص۲)

محاکات، مصوری اور واقعہ نگاری پر شبلی ؔکی ساری بحث ارسطوؔ سے کسب فیض کا نتیجہ ہے۔ شبلی ؔجب شاعری کی حقیقت سے بحث کرتے ہیں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے نفسیات انسانی کے عناصر کو خاص طور سے ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ چنانچہ وہ قوت ادراک اور قوت احساس کو دنیا کے تمام علوم و فنون اور تحقیقات و انکشاف کی بنیاد قرار دیتے ہیں، لکھتے ہیں: ’’خدا نے انسان کو مختلف اعضاء اور مختلف قوتیں دی ہیں، ان میں سے ہر ایک کے فرائض اور تعلقات الگ ہیں۔ ان میں سے دو قوتیں تمام افعال اور وارادات کا سرچشمہ ہیں، ادراک اور احساس۔ ادراک کا کام اشیاء کو معلوم کرنا اور استدلال اور استنباط سے کام لینا ہے۔ ہر قسم کی ایجادات، تحقیقات، انکشافات اور تمام علوم و فنون اسی کے نتائج کا عمل ہے‘‘۔ ( شعرالعجم ۔جلد ۴،ص ۱)

شبلی ؔشاعری کو ذوقی اور وجدانی چیز بتاتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’یہی قوت جس کو احساس، انفعال یا فیلنگ سے تعبیر کر سکتے ہیں، شاعری کا دوسرا نام ہے، یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہے تو شعر بن جاتا ہے‘‘۔ (ایضا)

شبلی ؔکے نظریہ ٔشعر کے مأخذ کے سلسلے میں انھوں نے خود جن مشاہیر کے نام گنائے ہیں، ان میں ارسطو ؔ، ابن رشیق ؔ، ابن خلدون ؔ اور بعض مغربی مصنفین یعنی مِلؔ اور ہنری لوئس ؔقابل ذکر ہیں۔ ان مختلف الخیال شخصیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے شبلی ؔ نے اپنے نظریۂ شعر کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، اس کا ماحصل یہ ہے کہ شاعری ایک طرح کی مصوری کا نام ہے۔ جذبات انسانی اور مناظر قدرت کی مصوری ہی شاعر کا وظیفہ ہے۔ جذبات انسانی کے اظہار کی نوعیت کیا ہے؟ شبلیؔ اس کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ جذبات کا اظہار حیوانات کے فطری اظہار کے مماثل ہوتا ہے۔ جیسے ’’شیر کا دھاڑنا‘‘، ’’ہاتھی کا چنگھاڑنا‘‘ ،’’کوئل کا کوکنا‘‘، ’’طاؤس کا رقص کرنا‘‘ اور ’’سانپ کالہرانا‘‘۔

علامہ شبلی ؔکی اس رائے سے کلیم الدین احمد اتفاق نہیں کرتے، وہ اس لیے کہ حیوانات اپنے فطری اظہار کے لیے مجبور ہوتے ہیں جبکہ شاعر جذبات کے اظہار کے لیے مجبور نہیں ہوتا۔ دوسرے فطری اظہار میں حیوانات کی ہر نوع کا ہر فرد شریک ہوتا ہے۔ مثلاً رقص اگر مور کا فطری اظہار ہے تو ایک یا چند موروں کا نہیں بلکہ ہر مور اس میں شریک ہے۔ لیکن شاعری انسان کے بعض افراد کے ساتھ خاص ہے۔ لہٰذا علامہ شبلی ؔ کا تصور کہ انسانی شاعری حیوانات کے فطری اظہار کے مماثل ہے، غلط ہے۔ اس سلسلے میں ایک دوسرے ناقد ظفر احمد صدیقی کی رائے ملاحظہ ہو: ’’کلیم الدین احمد، شبلی کی مراد سمجھ نہیں سکے۔ شبلی ؔنے متذکرہ بالا تشبیہہ و تمثیل کے ذریعے غالباً یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ شعر گوئی کا محرک انسان کا کوئی اندرونی جذبہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ زور دکھاتا ہے تو انسان شعر گوئی پر آمادہ ہو جاتا ہے، جس طرح حیوانات اپنے فطری اظہار پر کسی اندرونی جذبے ہی کی بنا پر آمادہ ہوتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر یوں کہیے کہ جس طرح مور کو رقص پر کسی بیرونی دباؤ کے ذریعے آمادہ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح حقیقی شاعر کسی خارجی ترغیب و ترتیب کی بنا پر شعر نہیں کہتا اور جو شعراء ایسا کرتے ہیں، ان کی شاعری مصنوعی، پرتکلف اور اثر سے خالی ہوتی ہے‘‘۔ (تنقیدی معروضات۔ص ۸۵)

علامہ شبلی ؔ کے خیال میں سارا عالم شعر کے مانند ہے اور اس کے ذرے ذرے میں شعریت پائی جاتی ہے۔ ایک یورپین مصنف کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ: ’’ہر چیز جو دل پر استعجاب یا حیرت یا جوش یا اور کسی قسم کا اثر پیدا کرتی ہے، شعر ہے ،اس بنا پر فلک نیلگوں، نجم درخشاں، نسیم سحر، گلگونۂ شفق، تبسم گل، خرام صبا، نالۂ بلبل، ویرانیٔ دشت، شادابی چمن، غرض تمام عالم شعر ہے‘‘۔ (شعرالعجم ۔جلدچہارم،ص ۳)

شبلیؔ کے نزدیک شاعری کے لیے محاکات اور تخیل کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے تصویر کشی کے لیے ’محاکات‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا اور یہ ارسطوؔ سے ماخوذ ہے، البتہ شبلی ؔ نے اس پر تخیل کو بھی لازم قرار دیا۔ اس کی وضاحت وہ یوں کرتے ہیں: ’’شاعری اگرچہ محاکات کا نام ہے لیکن محاکات کی روح تخیل ہے۔ اگر محض کسی چیز کی تصویر کھینچ کر رکھ دی جائے تو شاید اس میں کشش نہ ہوگی، لیکن چونکہ شاعر کسی شے کی محاکات کے وقت اپنی قوت تخیل کے ذریعے اس کے بعض عناصر کو نمایاں اور بعض کو دھندلا دھندلا کر دیتا ہے، اس لیے ہم اس میں ایک طرح سے لطف محسوس کرتے ہیں..... (ایضاً۔ص ۱۰)

شبلیؔ کے یہاں محاکات دراصل ایک جمالیاتی اظہارہے اور محاکات کے تحت وہ ان تمام باتوں کو شامل کر لیتے ہیں جن سے شاعری کی تشکیل ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک محاکات کی تکمیل مختلف چیزوں سے ہوتی ہے۔ ان میں سب سے مقدم شعر کا وزن اور آہنگ ہے۔ شاعری کے لیے دوسری چیز تخیل ہے۔ مشرق و مغرب کے سبھی علماء تخیل کی اہمیت کے قائل ہیں۔ شبلی ؔنے محاکات اور تخیل پر جو بحث کی ہے، اس میں انھوں نے عربی اور فارسی کی تنقیدی روایت کی طرف کلی طور پر رجوع نہیں کیا بلکہ ان کے خیالات ارسطوؔ سے ماخوذ ہیں، اس سلسلے میں وہ کولرج کے تخیل کی بحث سے بھی متاثر ہیں۔ وہ تخیل کی تعریف کرتے ہوئے سب سے پہلے ہینری لوئس ؔکا حوالہ دیتے ہیں اور اس کی تعریف کے محاسن و معائب پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں۔ شبلی ؔ کے خیال میں ’’تخیل دراصل قوت اختراع کا نام ہے‘‘۔ تخیل وہ شے ہے جو بات سے بات نکال لیتی ہے اور وہ چیزیں جو آنکھ سے اوجھل ہیں، انہیں سامنے لا کر کھڑا کرتی ہے۔ اسی کے ذریعے ماضی اور مستقبل ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ تخیل کا یہ وہی نظریہ ہے جسے بڑے بڑے مشرقی و مغربی نقادوں نے پیش کیا ہے۔

اس بات پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ تخیل انسان کی حیرت انگیز صلاحیت ہے، جو زندگی اور اس کے حقائق کے سمجھنے میں معاون ہوتی ہے۔ اس لیے شاعری میں یہ قوت حقائق آشکارا کرتی ہے اور اس کو جمالیاتی انداز میں پیش کرتی ہے تاکہ انسان کے دل پر اس کا اثر ہو، اسی کو شبلیؔ نے جذبات انسانی تحریک سے تعبیر کیا ہے، یہ تحریک فلسفہ اور سائنس کے ذریعہ نہیں ہوتی، اس میں کسی علمی مسٔلہ کو صرف حل کر دیا جاتا ہے، اس بارے میں شبلی ؔ اپنی رائے کااظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’فلسفہ اور سائنس میں قوت تخیل کا استعمال اس غرض سے ہوتا ہے کہ ایک علمی مسٔلہ حل کر دیا جائے، لیکن شاعری میں تخیل سے یہ کام لیا جاتا ہے کہ جذبات انسان کو تحریک ہو، فلسفی کو صرف ان موجودات سے غرض ہے کہ جو واقع میں موجود ہیں، بخلاف اس کے ان موجودات سے بھی کام لیتا ہے جو مطلق موجود نہیں۔ فلسفہ کے دربار میں ہما، سیمرغ، گاؤ زمین، تخت سلیمان کی مطلق قدر نہیں لیکن یہی چیزیں ایوان شاعری کے نقش و نگار ہیں‘‘...... (شعرالعجم۔جلد۴۔ص ۸)

غرض شبلی ؔ نے فلسفہ اور سائنس دونوں کو سامنے رکھ کر تخیل پر بڑی بصیرت افروز بحث کی ہے۔ اس سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ تخیل شاعری کا نہایت اہم عنصر ہے۔ اس کے بغیر شاعری کا وجود موہوم ہے۔ ’لفظ و معنی‘ میں کس کو ترجیح اور اولیت حاصل ہے، یہ شعر و ادب کا بڑا دلچسپ اور معرکۃ الآراء مسٔلہ ہے، اس سلسلے میں شبلی ؔ نے لفظ و معنی کے رشتے پر جو بحث کی ہے، وہ بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ حالی ؔ نے بھی ’’مقدمہ شعر و شاعری ‘‘ میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ شبلی ؔ بھی اس روایت کی تقلید کرتے ہیں اور عرب علماء کے نزدیک لفظ و معنی کے درمیان طویل مباحثے کو وہ ابن رشیق قیروانی ؔ کی کتاب ’’العمدہ‘‘ کے ایک اقتباس سے نقل کرتے ہیں، پھر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں۔

شبلی ؔ، جاحظ ؔ کے خیال کی تائید خود بھی کرتے ہیں اور اسے پیش تر اصل فن کا مذہب بھی بتاتے ہیں۔ بقول ان کے: ’’زیادہ تر اہل فن کا یہی مذہب ہے کہ ’لفظ‘ کو ’مضمون‘ پر ترجیح دیتے ہیں‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ مضمون تو سب پیدا کر سکتے ہیں لیکن شاعری کا معیار کمال یہی ہے کہ مضمون ادا کن الفاظ میں کیا گیا ہے اور بندش کیسی ہے۔ شبلیؔ ’لفظ‘ کا معیار کمال بتانے والے اور ’معنی‘ کو اہمیت دینے والے عرب نقادوں کی رایوں سے گفتگو کرنے کے بعداپنی رائے بہت وثوق کے ساتھ پیش کرتے ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ شاعری یا انشا پردازی کا مدار زیادہ تر الفاظ ہی پر ہے، گلستان میں جو مضامین اور خیالات ہیں، ایسے اچھوتے اور نادرنہیں، لیکن الفاظ کی فصاحت اور ترتیب اور تناسب نے ان میں سحر پیدا کر دیا ہے ۔انھیں مضامین اور خیالات کو معمولی الفاظ میں ادا کیا جائے تو سارا اثر جاتا رہے گا‘‘۔ (ایضاً۔۴۰)

شبلی ؔاپنی رائے کو یقینی بنانے کے لیے شیخ سعدی کی کتاب ’’گلستان‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں اور شاعری میں الفاظ کی متانت، شان و شوکت اور بندش کی پختگی کی وجہ سے ’’اسکندر نامہ‘‘ کے ایک ایک شعر کو ظہوری ؔ کے ’ساقی نامہ‘ کی نازک خیالی اور مضمون بندی پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح شبلی ؔ عربی کے ہیئت پسند علماء کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد آگے چل کر معنی کو اہمیت دینے والے عرب نقادوں سے اتنا اتفاق ضرور کرتے ہیں کہ شاعروں کو لفاظی سے صرف نظر کرنا چاہیے۔ وہ شعر میں تاثیر کا سبب معانی کے لیے مناسب ترین الفاظ بتاتے ہیں۔ دراصل شبلی الفاظ و معنی کے سلسلے میں معتدل رویہ رکھتے ہیں، انہوں نے لفظ و معنی کے سلسلے میں مختلف قسم کی باتیں کہی ہیں جیسے (۱) شاعری یا انشاء پردازی کا مدار زیادہ تر الفاظ پر ہے۔ (۲) اس تقریر کا مطلب یہ نہیں کہ شاعر کو صرف الفاظ سے غرض رکھنی چاہیے اور معنی سے بالکل بے پروا ہونا چاہیے۔ (۳) شاعری کا اصل مدار الفاظ کی معنوی حالت پر ہے۔ شبلی ؔکی ان تینوں آراء میں تضاد کی کیفیت نمایاں ہے، لیکن پروفیسر ابوالکلام قاسمی ؔان میں تطبیق دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’شبلی چونکہ ایک خلاقانہ ذہن رکھتے ہیں، اس لیے کوئی ایک فیصلہ صادر کر کے اس پر مطمئن نہیں ہو جاتے۔ وہ شاعری کے صوری اور معنوی مسائل کا پورا شعور رکھتے ہیں، اس لیے کبھی ان کو ایک پہلو زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے اور کبھی دوسرا پہلو‘‘۔ (مشرقی شعریات اور اردو تنقید کی روایت۔ص ۲۳۷)

لفظ و معنی کی اس بحث کا لب لباب یہ ہے کہ شبلی ؔ لفظ و معنی دونوں کی اہمیت کے قائل ہیں۔ مگر ان کے نزدیک معنی کے مقابلے میں لفظ کا پلہ بھاری ہے۔ اسی خیال کی بنیاد پر وہ شاعری کے صوری پہلو کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے جدت ادا، تشبیہہ و استعارہ اور سادگی پر مفصل بحث کی ہے، جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ شاعری کے فن اور جمالیاتی پہلوؤں پر زیادہ توجہ دی جائے۔ اس قسم کے مباحث سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شبلی مزاجاً مشرقی تھے، اس لیے انھوں نے مشرقی تنقید کی اصلاحات پر زیادہ زور دیا ہے۔

مختصراً یہ ہے کہ جن اصولوں کو شبلی نے شاعری کے لیے ضروری سمجھا ہے، عملی تنقید کی حیثیت سے ایران کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے شعر العجم میں انھیں پیش کر دیا ہے۔ چونکہ شبلی ؔ فطرت انسانی کے مختلف پہلوؤں اور شاعری کو ایک دوسرے سے متعلق سمجھتے ہیں، اسی لیے انھوں نے فارسی شاعری کے محاسن سے بحث کے لیے عربی شاعری کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری سمجھا۔ اس میں شروع سے آخر تک ایک منطقی ربط پایا جاتا ہے۔ شبلیؔ اپنے خیالات کی وضاحت کے لیے عربی و فارسی شاعری سے مثالیں بھی دیتے ہیں جس سے شعر و شاعری کی بعض پیچیدہ مسائل کی گتھیاں سلجھتی ہیں اور قاری کو روشنی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ مولانا ماہرالقادری ؔکے بقول: ’’یہ نہیں کہ شعرالعجم میں صرف زبان و ادب کا لطف اور شعر و شاعری کا چٹخارہ ملتا ہے، اس کتاب کی علمی حیثیت بھی بہت بلند ہے۔ عوفی یزدی ؔ کے ’’لب اللباب‘‘ سے لے کر ہدایت علی خاںؔ کی ’’مجمع الفصحاء‘‘ تک فارسی شعراء کے تمام قابل ذکر تذکرے مصنف کے سامنے رہے ہیں اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جرمنی کے پروفیسر دارمسٹیٹرؔ، روس کے ناقد والن ٹن ژو کوسکی ؔ اور دوسرے یورپین تذکرہ نگاروں نولدیکی، سرگوراوسلی ؔ اور براؤن نے فارسی شعر و ادب پر کیا لکھا ہے۔ ارسطو کی کتاب کے تنقیدی مضامین اور حمیدالدین فراہی کی ’جمہرۃ البلاغتہ‘، ان سب سے صاحب شعرالعجم نے استفادہ کیا ہے۔ عربی شعر و ادب میں مصنف کے تبحّر نے ’’شعرالعجم‘‘ کی علمی سطح کو بلند کر دیا .....‘‘ (ماہنامہ ادیب، شبلی نمبر، ص۔۱۲۴،ستمبر ۱۹۶۰ء)

علامہ شبلیؔ نعمانی نے ’شعر العجم‘ میں یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عشقیہ شاعری ایرانی نسل، ایران کی آب و ہوا اور وہاں کے خصوصی ماحول کی دین ہے۔ عربی شاعری کا ایک بڑا میدان مفاخرت یعنی جاں بازی، مخاطرۂ نفس، اندھادھند دلیری کے خیالات، عربی نسل، عرب کے جغرافیائی حالات اور وہاں کے خاص ماحول کے زیر اثر پیدا ہوا۔ شبلی ؔکی نظر میں شیکسپئیرؔ، ملٹنؔ اور براؤننگ ؔکی طرح خیّام، حافظ ،مولانا روم، عطارؔ، سعدیؔ اور خسروؔ بھی مخصوص صورت حال کی پیداوار ہیں۔ جس انداز سے تین ؔ نے رائسنؔ کے ڈرامے اور شاعری کو فرانسیسی آب و ہوا اور اٹھارویں صدی کے تاریخی احوال کا عطیہ بتایا ہے، ٹھیک اسی انداز سے شبلی ؔبھی فردوسیؔ کے شاہنامے کو ایرانی نسل، ایرانی آب و ہوا اور ایران کے مخصوص تاریخی احوال کا عطیہ بتاتے ہیں۔ شبلیؔ کا یہ تاریخی تجزیہ صرف عشقیہ شاعری، مفاخرت اور مذکورہ بالا شعراء اور فردوسیؔ کے ’شاہنامہ‘ تک ہی محدود نہیں بلکہ اس طرح کے بےشمار نتائج ’شعر العجم‘ اور ان کے مقالات میں موجود ہیں، جو تینؔ کے تاریخی نقطۂ نظر کے اثر کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں یا اس کے مماثل نظرآتے ہیں: ’’ایک نقطہ سنج کا یہ فرض ہے کہ ہر دور کی خصوصیتوں کا پتہ لگائے، نہ صرف ان کا جو سطح پر نظر آتے ہیں بلکہ ان کا بھی جو تہہ میں ہیں اور جن پر عام نگاہیں نہیں پڑ سکتیں۔ اس کے ساتھ ان خصوصیتوں کے وجوہ اور اسباب بتائے یعنی کیوں کر پیدا ہوئیں اور کس طرح ایک رنگ دوسرے رنگ سے بدلتا گیا‘‘۔ (بحوالہ ماضی آگاہ مستقبل نگاہ، شبلی نعمانی ۔ص ۸۰، مرتب: پروفسیر اختر الواسع)

’شعر العجم‘ میں شبلی ؔ کا تاریخی اور سماجی شعور عروج پر نظر آتا ہے اور نتائج میں شعور فرانسیسی نقاد تینؔ کے تاریخی نظریہ تنقید سے جا ملتا ہے۔ ’شعر العجم‘ کی تصنیف سے پہلے شبلی ؔ فرنچ زبان سیکھ رہے تھے۔ آرنلڈ سے ملنے پر انھیں اس کا اندازہ ہو چکا تھا کہ فرانسیسی زبان میں اس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ شبلی ؔنے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ فرنچ کی کئی کتابیں ان کی نظر سے گزر چکی ہیں، انھوں نے کچھ مصنفوں کے نام بھی گنوائے ہیں مگر ان میں تین ؔکا ذکر نہیں ہے۔ اگر تین ؔکی کتاب شبلی ؔ کے پیش نظر رہی بھی ہوں، تب بھی یہ شبلی ؔ کا ایک بڑا کارنامہ ہے کہ انھوں نے تینؔ کے معیاروں پر پوری عجمی شاعری کا مدلل تنقیدی جائزہ پیش کیا اور اگر یہ معیار شبلی نے خود بنائے ہوں تو شبلی کا یہ کارنامہ اور بھی بڑا اور وقیع ہو جاتا ہے۔