جامع القرآن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

مذاہب عالم میں اسلام، یہودیت اور مسیحیت کا شمار الہامی مذاہب میں ہوتا ہے، جبکہ زرتشت،بدھ مت، کنفیوشس اور مہاویر کے مذاہب کے علاوہ ہندو مت اور سکھ مت کو غیر الہامی مذاہب کہا جا تا ہے۔ اہل علم میں ایک طبقہ اس رائے کا بھی حامل ہے نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل زرتشت اور سدھارتھ وغیرہ بھی وحی الٰہی کے نور سے منور تھے، البتہ مرور زمانہ سے ان کی تعلیمات اصل حالت میں باقی نہ رہ سکیں۔ تمام مذاہب کا موجودہ مذہبی ادب ان مذاہب کے بانیان یا مقدس شخصیات کی زندگی میں مرتب نہیں کیا گیا۔ بدھ مت کی’ تری پتا کا‘ ہو یا زرتشت کی ’اوستا‘، یہودیت کا عہد نامہ قدیم ہو یا مسیحیت کا عہد نامہ جدید، بیاس کی ’مہابھارت‘ ہو یا برہما کی ’وید' کسی بھی کتاب کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کتب اپنی اصل حالت میں موجود ہیں اور ان مذاہب کے بانیان یا حقیقی رہنماؤں نے انہیں اپنی حیات میں ہی محفوظ کر لیا تھا ۔بائبل کے بارے میں تو مسیحی اپنے رسالے ’اویک‘ میں خود یہ اعتراف کرتے ہیں کہ بائبل میں پچاس ہزار سے زائد غلطیاں موجود ہیں۔ (اویک (AWAKE) : جلد : XXXVIII،۸ ستمبر ۱۹۵۷ء، نمبر ۱۷) بائبل میں تحریف کی واضح مثالیں انگریزی نسخے میں دیے گئے پاورقی حواشی میں بار بار اس بات کے ذکر کیے جانے کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں کہ ان آیات کو بائبل کے بعض نسخہ جات سے نکالا جا چکا ہے۔ (مثال کے طور پر انجیل مرقس کا باب۱۶ دیکھا جائے جس کے آخر میں دو مختلف اختتامیے ذکر ہیں۔ ان کے ذکر کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے: Some manuscripts and ancient translations do not have this ending to the Gospel(Verses 9 -20))

اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر کتب و صحائف کا نزول رمضان میں ہی فرمایا (رازی، فخر الدین ، تفسیر کبیر ،دار الحدیث قاہرہ،۱۴۳۳ھ،ج:۳/ص:۹۲) اور ’اسلام‘ کا اکمال و اتمام خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ سلم پر قرآن مجید کے نزول کی صورت میں مکمل فرمایا۔ قرآن کریم اللہ رب العزت کا کلام اور کتاب ہدایت ہے ۔جس میں تمام آسمانی کتب و صحائف کو جمع کر دیا گیا ۔اسی لیےاللہ رب العزت نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے دین’ اسلام‘ کی حفاظت اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کی جامعیت، ابدیت، آفاقیت، خاتمیت اور اکملیت کی صیانت کے اس کتاب حکمت کی حفاظت کا وعدہ خود فرمایا ہے ۔نبی کریم ﷺ اسلام کے بانی نہیں ہیں کیونکہ اسلام کوئی نیا دین نہیں اور نہ ہی محمد رسول اللہ ﷺ کوئی نئے رسول، قل ما کنت بدعا من الرسل ’’آپ فرما دیں کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں آیا۔'' (الاحقاف:۹) اللہ رب العزت کے تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اسی دین کی تبلیغ فرمائی اور اس کی تکمیل خاتم النبیین ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں ہی قرات کتاب، تلاوت کتاب، تعلیم کتاب، کتابت کتاب، جمع و بیان و تبیین کتاب کو مکمل فرما دیا تھا جو یقینا صرف قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔

۲۱ جولائی ۲۰۱۵ء کو برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی نے اعلان کیا کہ ان کی لائبریری میں موجود مشرق وسطیٰ کی کتب کے قدیم خزانے میں قرآن مجید کے نسخے کے قدیم ترین اجزاء دریافت ہوئے ہیں۔ برٹش لائبریری کے مخطوطات کے ماہر ڈاکٹر محمد عیسیٰ ویلی نے بتایا کہ Oxford University Radiocarbon Accelerator Unit کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ یہ نسخہ آج سے تقریبا ۱۳۷۰ سال پرانا ہے جسے ۵۶۸ء سے ۶۴۵ء کے درمیان میں لکھا گیا۔ یہ نسخہ بکری یا بھیڑ کی کھال پر لکھا ہے۔ انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کے نزول کا زمانہ ۶۱۰ء سے ۶۳۲ء تک ہے۔ یہ نسخہ خط حجازی میں ہے اور جس شخص نے بھی اسے لکھا ہے، اس نے یقینا محمدرسول اللہ ﷺ کی زیارت کی ہوگی اور آپ ﷺ کے کلام کو سنا ہوگا۔ قدیم خط حجازی میں لکھی ہوئی سورۃ طٰہٰ کی جب تلاوت کی گئی تو وہ مکمل طور پر موجودہ قرآن مجید کے موجودہ نسخہ جات کے مطابق تھی۔ (ملاحظہ فرمائیں : (http://www.bbc.com/news/business-33436021)

اس دریافت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ نسخہ یا تو نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں لکھا گیا یا پھر یہ انہی نسخہ جات میں سے ہے جو خلفائے راشدین کے عہد میں تیار کیا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے دریافت ہونے والے تمام اجزاء و نسخہ جات کے تناظر میں ’تاریخ المصاحف‘ پر ایک جامع تحقیق سامنے لائی جائے تاکہ اس طرح کی جدید مغربی تحقیقات سے نفع اٹھاتے ہوئے ان کے مضر اثرات سے انسانیت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ شرق تا غرب، شمال تا جنوب تمام اہل ایمان عہد رسالت سے تاحال ایک ہی قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور قیامت تک یہ سلسلہ اسی طرح سے جاری رہے گا۔ تمام تر فرقہ بندیوں کے باوجود کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی طرح قرآن مجید کے نہ تو مختلف ورژن ہیں اور نہ ہی اس کے متن میں اختلاف ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے بھی اپنے ایک مضمون ’تاریخ القرآن‘میں بیان فرمایا ہے کہ جرمنی کے عیسائی پادریوں نے ارادہ کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے دور میں موجود آرامی زبان میں انجیل دنیا میں اب موجود نہیں، اس وقت انجیل کا سب سے قدیم نسخہ یونانی زبان میں ہے جس سے دیگر زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا۔ اس لیے تمام قدیم یونانی نسخہ جات کا تقابل کیا جائے۔ جب ایک ایک لفظ کا باہم تقابل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان نسخہ جات میں دو لاکھ اختلافی روایات موجود ہیں۔ اس حقیقت کو جاننے کے بعد جرمنی کی میونخ یونیورسٹی میں اک ادارہ قائم کیا گیا تاکہ اسی نوعیت کی تحقیقات قرآن مجید کے بارے میں کی جائیں۔ تین نسلوں تک قرآن مجید کے دستیاب شدہ قدیم ترین بیالیس ہزار سے زائد نسخہ جات کا باہم تقابل کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کی ملاقات ۱۹۳۳ء میں اس ادارے کے تیسرے ڈائریکٹر پرتیسل سے بھی ہوئی۔ جب اس ادارے کی ابتدائی رپورٹ شائع ہوئی تو اس میں یہ لکھا گیا کہ ابتدائی نتیجہ ہم نے یہ برآمد کیا ہے کہ قرآن مجید کے ان نسخوں میں کتابت کی غلطیاں تو ہیں لیکن اختلافی روایت ایک بھی نہیں ہے۔ (حمیداللہ، ڈاکٹر محمد، نگارشات ڈاکٹر محمد حمید اللہ، مرتب محمد عالم مختار،بیکن بکس، اردو بازار لاہور،۲۰۱۳ء،ص:۳۶)

عمومی طور پر جامع القرآن کی اصطلاح حضرت سیدنا عثمان غنی ذو النورین رضی اللہ عنہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے جبکہ خلیفۃ رسول اللہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی جامع القرآن کہا جاتا ہے، حالانکہ اگر قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے عہد مبارک میں قرآن مجید کے جمع و بیان کے کام کو خود ہی مکمل فرما دیا تھا، اور اس مجموعے پر مصحف کا اطلاق بھی ہوتا تھا۔ عہد رسالت میں کثیر تعداد میں کاتبین وحی کو رسم القرآن کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے ان نفوس قدسیہ نے نبی کریم ﷺ کی زیر نگرانی بحسن خوبی ادا کیا۔ ان کاتبین کے علاوہ متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس بعض سورتوں کے اجزاء اور اور بعض کے پاس مکمل قرآن مجید کے مصاحف موجود تھے۔ آپ ﷺ نے وحی الٰہی کے آغاز سے ہی اس کے حفظ کے ساتھ ساتھ اس کی کتابت کا بھی خصوصی اہتمام فرمایا تھا، اسی لیے قرآن مجید کا بصورت حفظ سینوں میں اور بصورت کتابت مصاحف میں جمع ہونا عہد رسالت میں ہی مکمل ہو چکا تھا، جبکہ خلفائے راشدین کے عہد میں انہی مصاحف اور صدور کی مدد سے نقول تیار کرتے ہوئے جمع قرآن اور نشر قرآن کے سلسلہ کو مزید آگے بڑھایا گیا۔ اسی لیے حقیقی طور پر جامع القرآن خود صاحب قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں۔

جمع قرآن مجید عہد رسالت میں
قرآن مجید اللہ کی وحی اور اس کا کلام ہے۔ اسی لیے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اس کی تلاوت کرے اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے عہد مبارک میں ’جمع قرآن‘ کا اہتمام اصلا ً دو اعتبارات سے فرمایا، یعنی کلام الٰہی کی کتابت اور اس کا سینوں میں حفظ کی صورت میں جمع ہونا۔ کتاب ہدایت کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدت کے علاوہ اس کا ریاستی قانون و عمدہ کلام ہونا، دینی و دنیاوی منفعت کے حامل ہونے کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا حافظ، قاری اور متعلم و معلم کے فضائل بیان فرمانا، قرآن مجید بھولنے پر وعید سنانا، بعض سورتوں کی تلاوت کی ترغیب دینا، پنج وقتہ نمازوں اور قیام اللیل میں قرات کا فرض ہونا، یہ وہ تمام عوامل تھے جنھوں نے عہد رسالت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے جمع غفیر کو اپنے سینوں میں حفظ قرآن کی صورت میں جمع قرآن کی ترغیب دی۔ خاص طور پر آپ ﷺ کا تلاوت کتاب اور تعلیم کتاب فرمانا ایسا عمل تھا جس نے سینوں میں جمع کتاب کے عمل کو آسان بنا دیا۔ حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنے عہد میں نبی کریم ﷺ کے عمل کی بنیاد پر تمام اسلامی خلافت میں نماز تراویح کو با جماعت شروع کروانے میں بڑی حکمت بھی یہی تھی کہ تمام مسلمان ہر سال رمضان مبارک میں اپنے اپنے خطوں میں تکمیل قرآن مجید کے ساتھ اس کی حفاظت کا بھی اہتمام کرتے رہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں حفاظ و قراء کی کثرت تعداد کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چار ہجری میں اہل نجد کے اصرار پر ۷۰ قراء کرام (بخاری،محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری،دار ابن کثیر،دمشق۔بیروت، طبعہ اولیٰ ۲۰۰۲ء،رقم الحدیث:۴۰۷۸،ص:۱۰۰۱) کو تعلیم قرآن کے لیے ارسال فرمایا جنھیں بئر معونہ کے مقام پر شہید کر دیا گیا۔

عہد رسالت میں کثیر تعداد میں اصحاب رسول ﷺ نے قرآن مجید کو مکمل حفط فرمایا جبکہ مختلف سورتوں کو یاد کرنے والوں کی تعداد کا شمار نہیں۔ ان حفاظ میں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے علاوہ مردوں میں حضرت ابی ،حضرت معاذ،حضرت سالم،حضرت زید بن ثابت، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت ابو زید، حضرت ابوسالم، حضرت مجمع، حضرت ابو درداء، حضرت سعد بن عبید، حضرت تمیم داری، حضرت ابو ایوب انصاری، حضرت عبادہ بن صامت اور عورتوں میں حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ، ام المؤمنین حضرت حفصہ اور حضرت ام ورقہ رضوان اللہ علیہم اجمعین زیادہ مشہور ہیں۔ (باقلانی، قاضی ابو بکرمحمد بن طیب، الانتصار للقرآن، دار الکتب العلمیۃ، بیروت،لبنان۲۰۱۲ء،ص:۱۶۱) حضرت ام ورقہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے بارے میں طبقات کبریٰ میں ہے کہ آپ ان صحابیات میں سے ہیں جنہوں نے قرآن مجید کو جمع فرمایا ۔نبی کریم ﷺ آپ سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے تھے اور آپ کو ’شہیدہ‘ کہا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کے حکم پر آپ اپنے اہل خانہ کو نماز کی امامت بھی کروایا کرتی تھیں۔ (زہری،محمد بن سعد،طبقات کبریٰ ،:دار صادر،بیروت،۱۹۶۸ء ،جزء:۸،ص:۴۵۷) ان کے علاوہ امام ابو عبید قاسم بن سلام نے ’کتاب القرات‘ کے آغاز میں حفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد کے اسماء بھی ذکر کیے ہیں۔ (زرکشی،بدر الدین محمد بن عبد اللہ، البرھان فی علوم القرآن، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان ،۲۰۱۱ء ،ص:۱۴۰)

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہجرت سے قبل اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنائی ہوئی تھی جہاں آپ روزانہ رات کو قیام اللیل میں تلاوت کلام مجید فرمایا کرتے تھے۔ رات کو آپ کی تلاوت اور گریہ و زاری کو سننے کے لیے مشرکین کی عورتیں اور بچے جمع ہو جاتے۔ حالت قیام میں تلاوت کلام الٰہی کی کیفیت یہ تھی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز فجر میں سورۃ البقرۃ کی تلاوت فرمائی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’لو طلعت لم تجدنا غافلین‘ اگر سورج طلوع ہونے لگا تو تم ہمیں غافل نہیں پاؤ گے۔ اسی طرح حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نمازوں میں طوال کی تلاوت فرماتے اور انصار و مہاجرین کو قرآن مجید ایسے سکھاتے جیسے استاذ طلبہ کو سکھا تا ہے۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پورا قرآن مجید حالت نماز میں مکمل کر لیا کرتے تھے۔ جب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ رات کتنی باقی ہے تو فرمایا: ’انظروا این بلغ عثمان من القرآن‘ یہ دیکھو کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی تلاوت میں کہاں تک پہنچے ہیں۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ رمضان مبارک میں دس دس آیات کے ساتھ قرآن مجید مکمل فرماتے تھے۔ (باقلانی، قاضی ابو بکرمحمد بن طیب، الانتصار للقرآن ،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،لبنان۲۰۱۲ء،ص:۱۶۹ ۔۱۷۲۔۱۷۴۔۱۷۷) ایک مرتبہ ایک شخص حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: ان ابنی ھذا یقرأ المصحف بالنھار و یبیت باللیل میرا یہ بیٹا دن بھر مصحف کی تلاوت کرتا ہے اور اسی مصحف کی تلاوت میں رات بھر جاگتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا بیٹا دن ذکر میں اور رات سلامتی میں گزارتا ہے۔ (شیبانی، احمد بن حنبل، مسند امام احمد بن حنبل: مسند عبد اللہ بن عمرو بن عاص، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، طبعہ اولیٰ ۲۰۰۱ء، رقم الحدیث: ۶۶۱۴، ج:۱۱/ ص:۱۸۶) ان چند روایات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کس طرح سے قرآن مجید کے ساتھ لگاؤ رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   خصوصیاتِ نبی الرحمۃ ﷺ - مفتی محمد مبشر بدر

عہد رسالت میں کتابت قرآن مجید
نبی کریم ﷺ نے ۴۰ سال کی عمر مبارک میں اعلان نبوت فرمایا۔ وحی کا آغاز غار حراسے ہوا اور تقریبا ۲۳ برس کے عرصہ تک نجما نجما قرآن مجید کے نزول کا سلسلہ جاری رہا۔ آپ ﷺ نے قرآن مجید کے حفظ کے ساتھ ساتھ اول دور سے ہی مردوں اور عورتوں کو قرآن کی تعلیم دینے کا اہتمام بھی فرمایا۔ تعلیم و تربیت کے اس سلسلے کے لیے صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین مختص تھے۔ اس اہتمام کا اندازہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ آپ سے قبل آپ کی ہمیشیرہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ جب آپ رضی اللہ تعالی ٰعنہ ان کے گھر گئے تو حضرت خباب رضی اللہ عنہ ان دونوں کو قرآن مجید کی تعلیم دے رہے تھے۔ سورۃ واقعہ نازل ہو چکی تھی۔ آپ نے انہیں خوب زدوکوب کیا۔ جب بہن کے سر سے خون جاری ہوا تو آپ کا دل بہت متاثر ہوا۔ آپ نے کہا مجھے وہ کتاب دکھاؤ جس کی تم تلاوت کر رہے تھے۔ آپ کی ہمشیرہ نے فرمایا: انک رجس و انہ لا یمسہ الا المطھرون، بے شک تم ناپاک ہو اور حکم یہ ہے کہ اس کتاب کو نہ چھوئیں مگر وہ جو پاک ہوں۔ پس آپ کھڑے ہوں غسل کریں اور وضو کریں، تو آپ کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور اس کو لے کر تلاوت کی۔ (دارقطنی، علی بن عمر،سنن الدار قطنی،دارالمعرفۃ، بیروت، لبنان، طبعہ اولیٰ ۲۰۰۱ء، ج:۱/ص:۳۰۲) اس حدیث سے بغیر پاکی کے قرآن مجید کو چھونے کے حکم کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی آپ ﷺ نے قرآن مجید کے لکھوانے کا اہتمام فرمایا تھا اور اس کے اجزا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس تھے جن سے وہ خود بھی ان کی تلاوت کرتے تھے اور دیگر کو بھی سکھاتے۔

نبی کریم ﷺ کے ’کُتَّاب‘ کی تعداد چالیس سے زیادہ تھی۔ ان میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت، حضرت خالدبن سعید، حضرت حنظلہ، حضرت شرحبیل بن حسنہ، حضرت امیر معاویہ، حضرت عامر، حضرت ثابت بن قیس، حضر ت عبد اللہ ابن ارقم، حضرت طلحہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت علاء ابن حضرمی، حضرت عبد اللہ بن رواحہ، حضرت خالد بن ولید، حضرت حاطب، حضرت حذیفہ، حضرت عمرو بن عاص، حضرت ابو ایوب انصاری، حضرت عامر بن فہیرہ، حضرت عبداللہ بن عبداللہ، حضرت معیقب بن ابی فاطمہ دوسی، حضرت مغیرہ بن شعبہ، حضرت جہیم بن صلت، حضرت محمد بن مسلمہ، حضرت عبد اللہ بن سعید،،حضرت ابان بن سعید، حضر ت جابر بن سعید رضوان اللہ علیہم اجمعین زیادہ مشہور ہیں۔ بعض علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ ان میں سے تمام کتابت وحی کی خدمت پر مامور نہ تھے۔ (کتانی، محمد عبد الحی،کتاب التراتیب الادراریۃ ،دار البشائر الاسلامیۃ ،طبعہ ثانیہ ۱۹۸۳ھ، جزء اول، ص:۲۶۰ تا ۲۶۱) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کتابت قرآن کا واضح ذکر فرمایا ہے۔ قرآن مجید کے متعدد اسماء جو خود قرآن میں ذکر ہوئے ان میں ایک اسم مبارک’الکتاب‘بھی ہے۔ تقریبا ۶۴ مقامات پر قرآن کو ’الکتاب‘ کہا گیا۔ جس یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس کتاب عظیم کو لکھے جانے کی وجہ سے ’الکتاب‘ اور سب سے زیادہ پڑھے جانے کی وجہ سے ’قرآن‘ کہا گیا۔ اس کے علاوہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا: و قالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملیٰ علیہ بکرۃ و اصیلا ’’اور کہتے ہیں (یہ قرآن) اگلوں کے افسانے ہیں جن کو اس شخص نے لکھوا رکھا ہے پھر وہ (افسانے) اسے صبح و شام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔‘‘ (الفرقان۲۵:۵)

کفار یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ نعوذ باللہ یہ قرآن مجید سابقہ افسانوں کی طرح سے ہے جنھیں نعوذ باللہ آپ ﷺ نے لکھوایا ہے اور پھر ان افسانوں کی صبح و شام تلاوت بھی کرواتے ہیں تاکہ یہ محفوظ ہو جائیں۔ اس نص سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ نبی کریم ﷺ قرآن مجید کو خود لکھوایا کرتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کی تلاوت بھی کیا کرتے تھے۔ عہد رسالت میں قرآن مجید رقاع (کھال)، لخاف (پتھروں کی تختیاں)، عسب (کھجور کے پتے) اقتاب (خشک لکڑیاں) اور اکتاف (شانوں کی ہڈیاں) پر لکھا گیا۔ (بخاری،محمد بن اسماعیل ،صحیح البخاری ،دار ابن کثیر،دمشق۔بیروت، طبعہ اولیٰ ۲۰۰۲ء،رقم الحدیث ۴۳۱۱،ص: ۱۷۷۷) نبی کریم ﷺ نے خود ارشاد فرمایا: لا تکتبوا عنی و من کتب عنی غیر القرآن فلیمحہ ’’مجھ سے کچھ نہ لکھو اور جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ جو کچھ بھی لکھا ہے وہ اسے مٹا دے۔‘‘ (قشیری، مسلم بن حجاج ،صحیح مسلم،دار الحضارۃ للنشر و التوزیع، ریاض، طبعہ ثانیہ، ۲۰۱۵ء، رقم الحدیث: ۵۳۲۶، ص:۹۴۹)

قرآن مجید جب کبھی نازل ہوتا آپ ﷺ اسے اپنی زیر نگرانی خود لکھوایا کرتے تھے۔ ابن سعد نے طبقات میں ’ذکر من جمع القرآن علی عھد رسول اللہ ﷺ‘ کے نام سے ایک باب رقم کیا ہے۔ اس باب میں آپ نے حضرت ابی بن کعب، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو درداء، حضرت زید بن ثابت، حضرت سعد بن عبید، حضرت ابو زید، حضرت عثمان بن عفان، حضرت تمیم داری، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم کا ذکر کیا ہے۔ (زہری، محمد بن سعد،طبقات کبریٰ:دار صادر،بیروت،۱۹۶۸ء ،جزء:۲،ص:۳۵۵) حضرت امام ترمذی علیہ الرحمۃ نے اسی بات کو مزید وضاحت کے ساتھ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: کنا عند رسول اللہ ﷺ نؤلف القرآن من الرقاع ’’ہم رسول اللہ ﷺ کے سامنے رقاع یعنی کھال پر لکھے ہوئے قرآن کو جمع کیا کرتے تھے۔‘‘ (ترمذی،ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ،جامع الترمذی،وزارۃ الشؤون الاسلامیۃ و الاوقاف،مملکہ عربیہ سعودیہ،طبعہ ثانیہ ۲۰۰۰ء،ص:۸۸۸) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عہد صدیقی و عثمانی میں جمع قرآن کے حوالے سے خدمات معلوم و مشہور ہیں، آپ کا یہ فرمان اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن مجید پہلی مرتبہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں ہی جمع کیا گیا۔ حضرت امام حاکم اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین و لم یخرجاہ و فیہ الدلیل الواضح ان القرآن انما جمع فی عھد رسول اللہ ﷺ ’’یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور ان دونوں نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔ اور اس میں واضح دلیل ہے کہ قرآن مجید نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں جمع ہوا۔'' (نیشاپوری، محمد بن عبد اللہ حاکم ،المستدرک علی الصحیحین،،دارالکتب العلمیۃ ،بیروت،لبنان ،طبعہ ثانیہ ۲۰۰۲ء،رقم الحدیث :۷۱۲۴،ج:۲/ص:۶۶۸)

قرآن مجید کا عہد صدیقی یا عہد عثمانی میں لکھا جانا بدعت نہیں تھا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے خود قرآن مجید لکھوانے اور عورتوں اور مردوں کو صدوراور سطور میں محفوظ کرنے کا حکم دیا تھا۔ جب آپ ﷺ کا وصال ہوا تو صحابہ کرام رضو ان اللہ علیہم اجمعین میں حفاظ کرام کا ایک جمع غفیر تھا جبکہ صحابہ کرام کے پاس کتاب حکیم کے اپنے ذاتی مصاحف بھی موجود تھے۔ خلافت راشدہ کے عہد میں جب قرآن مجید کو صحابہ کے مصاحف، رقاع (کھال)، لخاف (پتھروں کی تختیاں)، عسب (کھجور کے پتے) اقتاب(خشک لکڑیاں) اور اکتاف (شانوں کی ہڈیاں) سے دو لوحوں کے درمیان جمع کرتے ہوئے ایک سرکاری نسخہ تیار کرنے کا کام کیا گیا تو اس میں بات کا اہتمام کیا گیا کہ قرآن مجید کی ہر سورت مبارکہ پر دو گواہ یعنی صحابہ کے عہد رسالت میں تیار کردہ مصاحف کی کتابت اور ان کا حفظ، کو قائم کیا جائے۔ (سیوطی ، جلال الدین ،الاتقان فی علوم القرآن ،دار الکتب العلمیۃ،بیروت لبنان،۲۰۰۷ء،ص:۹۱ و سجستانی،ابن ابی داؤد،کتاب المصاحف،دار البشائر ،بیروت لبنان،طبعہ ثانیہ ۱۴۲۳ھ ،ج:۱/صـ۱۵۹)

عہد رسالت میں قرآن مجید پر مصحف کا اطلاق اور المصاحف
مصحف’صحف‘ سے ہے۔ جس کے معنی کسی شے میں انبساط اور وسعت کے ہوتے ہیں۔ اسی لیے سطح زمین کو’صحیف‘ کہا جاتا ہے ۔’صحفۃ‘ اس بڑے پھیلے ہوئے پیالے کو کہتے ہیں جو زیادہ آدمیوں کے لیے کھانے میں کفایت کرتا ہو۔ اسی سے ’صحاف‘ ہے یعنی زمین پر پھیلا ہوا پانی کا چشمہ۔ اسی انبساط کے معنی ’صحیفۃ الوجہ‘ یعنی چہرے کی کھال میں پائے جاتے ہیں۔ لکھے ہوئے کاغذ یا کسی شے پر منثور تحریر کو ’صحیفہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی جمع ’صحف‘ اور ’صحائف‘ آتی ہے۔ ’مصحف‘ کو مصحف اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ تحریر شدہ صحیفوں کو جمع کرتا ہے۔ (فراہیدی، خلیل، کتاب العین: مؤسسۃ دار الھجرۃ ،طبعہ ثانیہ فی ایران، ۱۴۰۹ھ،ج:۳/ص:۱۲۰ ) قرآن مجید پر صحف یا مصحف کا اطلاق اس لیے کیا جا تا ہے کہ یہ کتاب آیات و سور کو شامل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے قرآن مجید کو لکھوانے کا اہتمام فرمایا اور عہد رسالت میں ہی اس پر صحف اور مصحف کا اطلاق ہوا، جیسا کہ قرآن مجید و حدیث میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں دو مقامات پر اللہ رب العزت نے قرآن مجید کا وصف ’صحف‘ بیان کیا ہے۔ سورۃ البینۃ میں اللہ نے ارشاد فرمایا: رسول من اللہ یتلو صحفا مطھرۃ فیھا کتب قیمۃ ’’(وہ دلیل) اللہ کی طرف سے رسول (ﷺ)ہیں جو ان پاکیزہ اوراق کی تلاوت فرماتے ہیں۔ ان میں سیدھی باتیں لکھی ہیں۔‘‘ (البینۃ:۲۔۳) ایک اور مقام پر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: کلا انھاتذکرۃ فمن شاء ذکرہ فی صحف مکرمۃ مرفوعۃ مطھرۃ بایدی سفرۃ کرام بررۃ ’’جو شخص چاہے اسے یاد کرے۔ان صحیفوں میں کہ عزت والے ہیں ۔بلندی والے پاکی والے۔ایسوں کے ہاتھ لکھے ہوئے ۔جو کرم والے پیکران طاعت ہیں۔‘‘ (عبس:۱۱ تا ۱۶)

ان آیات میں قرآن مجید کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ عزت والے اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ پھر ان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ بلندی و پاکی والے صحیفے ہیں۔ ان کو لکھنے والے باکرامت اور محمد رسول اللہ ﷺ کے اطاعت گزار اصحاب ہیں۔ اللہ نے فرمایا: و الطور و کتاب مسطور و رق منشور ’’طور کی قسم۔ اور لکھی ہوئی کتاب کی قسم ۔جو کھلے دفتر میں لکھا ہے۔‘‘ (الطور :۱ تا ۳) یہاں کتاب مسطور سے مراد قرآن مجید ہے جسے نکرہ اس لیے بنایا گیا کہ یہ دیگر تمام کتب کے درمیان مخصوص ہے ۔پھر فرمایا کہ یہ کھلے ہوئے ’رق‘میں لکھی ہے۔ ’رق‘سے مراد وہ پتلی کھال ہے جو زمانہ قدیم میں تحریر کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔ایک اور مقام پر اللہ رب العزت نے ازواج مطہرات کو امت کی مائیں قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ رشتے والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہیں۔ پھر فرمایا: کان ذلک فی الکتاب مسطورا ’’یہ (حکم) کتاب (الٰہی )میں لکھا ہوا ہے۔‘‘ (الاحزاب:۶) یہ تمام آیات مبارک اس بات پر دلیل ہیں قرآن مجید میں ہی اس کے لکھنے جانے کا ذکر کیا گیا اور اسی وجہ اسے ’الکتاب‘اور’صحف‘بھی کہا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   خصوصیاتِ نبی الرحمۃ ﷺ - مفتی محمد مبشر بدر

ان آیات کے علاوہ متعدد احادیث ایسی ہیں جن میں واضح طور پر اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ عہد رسالت میں ہی قرآن مجید پر ’مصحف‘ کا اطلاق ہوتا تھا اور کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس اپنے مصاحف موجود تھے۔

۱۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ روایت فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: ان ابنی ھذا یقرأ المصحف بالنھار و یبیت باللیل میرا یہ بیٹا دن بھر مصحف کی تلاوت کرتا ہے اور اسی مصحف کی تلاوت میں رات بھر جاگتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا بیٹا دن ذکر میں اور رات سلامتی میں گزارتا ہے۔ (شیبانی،امام احمدبن حنبل ،مسند امام احمد بن حنبل:مسند عبد اللہ بن عمرو بن عاص ،مؤسسۃ الرسالۃ ،بیروت، طبعہ اولیٰ ۲۰۰۱ء،رقم الحدیث :۶۶۱۴،ج:۱۱/ص:۱۸۶)

۲۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! علم حاصل کرو قبل اس کے کہ اسے اٹھا لیا جائے اور قبل اس کے کہ وہ زمین سے بلند کر دیا جائے۔ ایک اعرابی نے عرض کی: ’یا نبی اللہ یرفع العلم منا و بین اظھرنا المصاحف و قد تعلمنا ما فیھا و علمنا ھا نسائنا و ابنائنا و خدمنا ‘اے اللہ کے نبی ﷺ! کیا علم ہمارے درمیان میں سے اٹھا لیا جائے گا جبکہ ہمارے درمیان ’مصاحف‘ موجود ہیں۔ ہم نے جو کچھ اس میں ہے اسے سیکھا ہے اور اپنی عورتوں، بچوں اور خادموں کو سکھایا ہے۔ آپ ﷺ نے غضب کی حالت میں اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور فرمایا: ھذہ الیھود و النصاریٰ بین ایدیھم المصاحف لم یتعلقوا منھا بشی مما جاءھم بہ انبیاؤھم۔ ''یہودو نصاریٰ کے ساتھ بھی مصاحف تھے، انہوں نے ان سے کوئی تعلق نہیں رکھا جو ان کے انبیاء کرام علیہم السلام ان کی طرف لے کر آئے تھے۔'' (شیبانی،امام احمدبن حنبل ،مسند امام احمد بن حنبل، مؤسسۃ الرسالۃ ،بیروت، طبعہ اولیٰ ۲۰۰۱ء،رقم الحدیث : ۲۲۲۹۰،ج:۳۶/ص:۶۲۲)

۳۔ حضرت امام بیہقی رحمہ اللہ روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کانت المصاحف لا تباع کان الرجل یاتی بورقۃ عند النبی ﷺ فیقوم الرجل فیحتسب فیکتب ثم یقوم آخر فیکتب حتی یفرغ من المصحف ’’مصاحف کی خرید و فروخت نہیں کی جاتی تھی۔ کوئی شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ایک ورقہ لے کر آتا تھا، پھر وہ کھڑا ہوتا شمار کرتا اور لکھتا۔ پھر دوسرا شخص کھڑا ہوتا یہاں تک کہ وہ مصحف سے فارغ ہوجاتا۔‘‘ (بیہقی،الامام ابو بکر احمد بن حسین بن علی،السنن الکبریٰ، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان،۲۰۰۳ء،باب ما جاء فی کراھیۃ بیع المصاحف ،رقم الحدیث: ۱۱۰۶۵،ج:۶/ص:۲۷)

۴۔ امام بیہقی رحمہ اللہ شعب الایمان میں روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : من قرأ القرآن فی المصحف کتب لہ الفا حسنۃ ’’جس نے قرآن کی مصحف میں تلاوت کی، اسے دو ہزار نیکیاں ملتی ہیں۔‘‘ (بیہقی،الامام ابو بکر احمد بن حسین بن علی،شعب الایمان ،مکتبہ رشد،ریاض ،مملکہ عربیہ سعودیہ،طبعہ اولیٰ ۲۰۰۳ء:رقم الحدیث: ۲۰۲۵،ج:۳/ص:۵۰۷)

۵۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من سرہ ان یعلم انہ یحب اللہ و رسولہ فلیقرأ فی المصحف ’’جس کو یہ بات خوشی دیتی ہو کہ وہ یہ جانے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ مصحف میں تلاوت کرے۔‘‘ (بیہقی، الامام ابو بکر احمد بن حسین بن علی، شعب الایمان، مکتبہ رشد، ریاض، مملکہ عربیہ سعودیہ، طبعہ اولیٰ ۲۰۰۳ء: رقم الحدیث: ۲۰۲۷، ج:۳/ ص:۵۰۸)

۶۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اعطوا اعینکم حظھا من العبادۃ ،قیل یا رسول اللہ ﷺ و ما حظھا من العبادۃ ؟قال: النظر فی المصحف و التفکر فیہ و الاعتبار عند عجائبہ ’’اپنی آنکھوں کو عبادت کا حصہ دو۔عرض کی گئی یا رسو ل اللہ ﷺ آنکھوں کے لیے عبادت کا حصہ کیا ہے؟ فریاما : مصحف میں دیکھنا اور اس میں تفکر کرنا اور اس کے عجائب سے عبرت پکڑنا۔‘‘ (بیہقی، الامام ابوبکر احمد بن حسین بن علی، شعب الایمان، مکتبہ رشد، ریاض، مملکہ عربیہ سعودیہ، طبعہ اولیٰ ۲۰۰۳ء: رقم الحدیث: ۲۰۳۰، ج:۳/ ص:۵۰۹)

۷۔ حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں آپ ثقیف کے لوگوں کے ساتھ حاضر ہوئے۔ وہ سب حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور مجھ سے کہا کہ تم ہمارے سامان اور سواری کی حفاظت کرو۔ آپ نے فرمایا اس شرط پر کہ جب تم آپ ﷺ کے پاس سے آجاؤ گے تو میرا انتظار کرنا، یہاں تک کہ میں بھی حاضر ہو کر واپس آجاؤں۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے ’’مصحف‘‘کا سوال کیا جو آپ ﷺ کے پاس تھا۔ آپ ﷺ نے مجھے وہ عطا فرمایا اور مجھے ثقیف کا امام بنا دیا۔ میں ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ (طبرانی، سليمان بن احمد، المعجم الکبیر، مکتبہ ابن تیمیہ قاہرہ : رقم الحدیث: ۸۳۱۱، ج:۷/ص:۴۴۶)

۸۔ حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے جن باتوں کا عہد لیا ان میں یہ ہے: لا تمس المصحف و انت غیر طاھر ’’تم مصحف کو ہاتھ مت لگانا اس حالت میں کہ تم غیر طاہر ہو۔‘‘ ( سجستانی،ابن ابو داؤدعبد اللہ بن سلیمان بن اشعث، کتاب المصاحف: دار البشائر الاسلامیۃ، بیروت لبنان، طبعہ ثانیہ ۱۴۲۳ھ، ج:۲/ص:۶۳۷)

۹۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنی مسند میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں: سمعت رسول اللہ ﷺ ینھی ان یسافر بالمصحف الی ارض العدو۔ ''میں نے رسول اللہ ﷺ کو دشمن کی زمین کی طرف مصحف لے جانے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔'' (شیبانی، امام احمدبن حنبل، مسند امام احمد بن حنبل، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، طبعہ اولیٰ ۲۰۰۱ء، رقم الحدیث: ۵۴۶۵، ج:۹/ ص:۳۳۵)

۱۰۔حضرت رافع بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب ہجرت سے قبل بیعت عقبہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں ۱۰ سال میں نازل ہونے والی تمام قرآن مجید کی سورتوں کا مجموعہ عطا فرما دیا۔ آپ اسے لے کر مدینہ منورہ تشریف فرما ہوئے اور قوم پر اس کی تلاوت کی۔ اس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی قرآن مجید کے لکھنے کا کام مکمل ہوا اوربعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس اپنے مصاحف موجود تھے۔ (عسقلانی، ابن حجر، الاصابہ فی تمییز الصحابۃ، المکتبۃ العصریۃ بیروت لبنان ۲۰۱۲ء:ص:۴۴۹)

۱۱۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سبع یجری للعبد اجرھن بعد موتہ و ھو فی قبرہ:من علم علمہ،او اکری نھرا و حفر بئرا و غرس نخلا او بنی مسجدا او ترک ولدا یستغفر لہ بعد موتہ او ورث مصحفا۔ ’’سات چیزیں ایسی ہیں جن کا اجر بندے کے لیے اس کی موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے اس حال میں کہ وہ قبر میں ہو۔جس نے علم سکھایا یا نہر کھدوائی اور کنواں کھد وایا اور کھجور کا درخت لگایا یا مسجد بنائی یا ایسی اولاد چھوڑی جو اس کے لیے استغفار کرے یا مصحف کو ورثے میں چھوڑا۔‘‘ (سجستانی،ابن ابو داؤدعبد اللہ بن سلیمان بن اشعث، کتاب المصاحف، دار البشائر الاسلامیۃ، بیروت لبنان، طبعہ ثانیہ ۱۴۲۳ھ، ج:۲/ص:۶۶۴)

۱۲۔ قاضی ابو بکر ابن العربی معافری رحمہ اللہ کی مسلسلات میں مرقوم ہے کہ جب حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو آشوب چشم ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انظر فی المصحفٖ ''مصحف میں دیکھو۔'' (کتانی، محمد عبد الحی، کتاب التراتیب الادراریۃ، دارالبشائر الاسلامیۃ، طبعہ ثانیہ ۱۹۸۳ھ،ج:۲/، ص:۳۴۹)

ان مصاحف کے علاوہ حضرت ابی بن کعب، حضرت عبد اللہ بن عمرو اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے مصاحف کا بھی ذکر ملتا ہے (سجستانی،ابن ابو داؤدعبد اللہ بن سلیمان بن اشعث،کتاب المصاحف:دار البشائر الاسلامیۃ،بیروت لبنان، طبعہ ثانیہ ۱۴۲۳ھ، ج:۲/ ص: ۲۲۲۔۲۲۴) المصاحف اور دیگر کتب میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب دیگر صحابہ کے مصاحف کو دفن کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنا مصحف دینے سے انکار کر دیا اور دیگر صحابہ کو اس کی ترغیب بھی دی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس اپنے اپنے مصاحف تھے۔ (سجستانی، ابن ابو داؤدعبد اللہ بن سلیمان بن اشعث، کتاب المصاحف: دار البشائر الاسلامیۃ، بیروت لبنان، طبعہ ثانیہ ۱۴۲۳ھ، ج:۱/ص:۲۳۸)

خلاصہ
اس تمام بحث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی قرآن مجیدکی قرات، تلاوت، کتابت، تعلیم، جمع و بیان و تبیین اور تیسیر کا فریضہ مکمل فرمایا۔ قرآن مجید کی آخری آیت مبارکہ مدنی سورت سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۸۱ ہے جس میں اللہ رب العزت نے’ربا ‘کا معاملہ کرنے والوں کے لیے فرمایا: و اتقوا یوماترجعون فیہ الی اللہ ثم یتوفی کل نفس ما کسبت و ھم لا یظلمون۔ ’’اور ڈرو اس دن سے جس میں اللہ کی طرف پھرو گے اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر دی جائے گی۔‘‘ اس آیت مبارکہ کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ کے انفاس قدسیہ سے مزید ۸۱ دن یہ عالم مہکتا رہا۔ (رازی، فخر الدین، تفسیر کبیر، دارالحدیث قاہرہ،۱۴۳۳ھ،ج:۴/ص:۱۰۶)

اس عہد مبارک میں اکابر صحابہ کے علاوہ بھی کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے پاس قرآن پاک کے مصاحف موجود تھے اور اس عہد میں بھی کتاب اللہ پر صحف اور مصحف کا اطلاق بھی ہوتا تھا۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے وقت حفاظ و قراء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک جمع غفیر موجود تھا جو قرآن مجید کے تعلم اور تعلیم میں مصروف تھے اور قرآن پاک کے مواقع اور مواضع کو بخوبی جانتے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں ہی قرآن مجید کو صدور اور سطور میں جمع فرما دیا تھا اور یوں اللہ کا فرمان: ان علینا جمعہ و قرآنہ یعنی ’’بے شک اسے جمع کرنا اور اسے پڑھانا ہمارا ذمہ ہے‘ ‘مکمل ہوا۔ قرآن پاک اسی ترتیب سے آج ہمارے پاس موجود ہے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے صدور سے حفظاً اور ان کے مصاحف اور رقاع (کھال)، لخاف (پتھروں کی تختیاں)، عسب (کھجور کے پتے) اقتاب (خشک لکڑیاں) اور اکتاف (شانوں کی ہڈیاں) سے کتابتاً قرآن مجید کا ایک سرکاری نسخہ تیار کیا گیا تاکہ ریاستی سطح پر حفظ قرآن مجید کو عمل میں لایا جا سکے۔ اسی طرح حضرت سیدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے عہد میں اکابر صحابہ کے تعاون سے قرآن مجید کی نشرواشاعت، درست نسخہ جات کی کتابت اور صحیح قرات پر جمع کرنے کاعظیم الشان کام سرانجام دیا گیا۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ قرآن مجید کی کتابت یا اس کا مصحف میں جمع کیا جانا نعوذ باللہ بدعت ہے کیونکہ قرآن مجید کی کتابت اور اس کا جمع کیا جانا عہد رسالت سے ثابت ہے۔ گویا کہ عہد خلافت میں جمع و حفظ قرآن پاک کا دوسرا اور تیسرا دور مکمل ہوا۔ پس حقیقی معنی میں’’جامع القرآن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ‘‘ ہی ہیں۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.