قسطنطنیہ میں پہلا دن-انورغازی

استنبول ”سلطان محمد فاتح“ کا شہر کہلاتا ہے۔ ترکش ایرلائن کے طیارے ”TK 0709“ میں بیٹھے ہوئے ایک موٹی عینک والے ادھیڑ عمر شخص نے اپنی پچھلی سیٹ پر براجمان لڑکے سے کہا۔ میں اس کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا سفر کی دعائیں پڑھنے میں مشغول تھا۔

یہ 30 اپریل 2018ءکی صبح 5 بج کر 35 منٹ کی بات ہے۔میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ترکی دیکھنے جارہا تھا۔ ترکش ایرلائن کا جہاز اُڑنے کو تیار تھا۔ طیارے کے عملے کی جانب سے حفاظتی تدابیر اناﺅسمنٹ کی جارہی تھیں۔ میں ابھی مسنون دعائیں پڑھنے میں مصروف تھا کہ جہاز نے رینگنا شروع کردیا۔

آپ جانتے ہیں کہ انسان جب کسی لمبے سفر پر وانہ ہوتا ہے تو اس کے دل میں وسوسے، اندیشے، خدشات، امیدیں، امنگیں، شوق، خوشی اور غمی کے ملے جلے جذبات ہوتے ہیں۔ ایک طرف اپنے گھر والوں، بیوی بچوں، ماں باپ، بہن بھائیوں اور دوستوں عزیزوں سے دوری کا احساس دامن گیر ہوتا ہے تو دوسری طرف نئی دنیا دیکھنے کی خوشی، نئے ماحول سے سیکھنے کی تڑپ، سفر کا شوق اور نئے لوگوں سے ملنے کی امنگیں ہوتی ہیں۔ ایک عجیب سی کیفیت ہوتی ہے۔

اس مرتبہ میں 5 ملکوں کے طویل سفر پر روانہ ہورہا تھا۔ ایک طویل اور قدرے مشکل سفر درپیش تھا۔ میں اتنے لمبے سفر کے لیے اب تک گھر سے باہر نہیں گیا تھا۔ ان دنوں والد محترم بھی بیمار تھے۔ ایک بچے کو بھی بخار ہورہا تھا۔ مجموعی حالات کشیدہ کشیدہ تھے۔ میری اپنی طبیعت بھی ٹھیک نہ تھی۔ معدے کے مسائل چل رہے تھے۔ ایسے میں ہمیشہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مسنون دعائیں سہارا دیتی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہونے سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ ان دعاﺅں میں وہ تمام احوال اور ضروریات آجاتی ہیں جو ایک مسافر کو درپیش ہوتی ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ ایک انسان کی ضروریات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کون جان سکتا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کا کوئی گوشتہ نہیں چھوڑا جس میں ان دعاﺅں میں احاطہ نہ کیا گیا ہو۔ ہماری عادت ہے کہ ہم جب بھی کسی چھوٹے یا بڑے سفر پر وانہ ہوتے ہیں تو سوار ہوتے ہی ان مسنون دعاﺅں کو پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کا ہم نے بہت فائدہ محسوس کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان مسنون اور پراَثر دعاﺅں اور مناجات کی برکت سے ہمیشہ سفر کی سختیوں، تکلیفوں، مشقتوں اور مشکلوں سے محفوظ اور مامون رکھنا ہے۔ زندگی کے کسی بھی سفر میں کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی ہے۔ قارئین! آپ بھی یہ مسنون دعائیں اور مناجات پڑھنے کا اہتمام کیا کریں، اس کے اثرات اور ثمرات ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔

مصنف جامع مسجد سلطان احمد کے سامنے

میں یہ مسنون دعائیں پڑھ کر جیسے ہی فارغ ہوا تو ترکش ایرلائن کے جہاز نے رَن وے پر دوڑنا شروع کردیا۔ تمام مسافر بیلٹ باندھ کرخاموش تھے۔ اکثر مسافر دل ہی دل میں دعائیں اور آیة الکرسی وغیرہ پڑھتے محسوس ہورہے تھے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جہاز کے ”ٹیک آف“ کا مرحلہ بہت اہم ہوتا ہے۔ جہاز فلائی کرجاتا ہے یا پھر گرجاتا ہے، اس لیے اس نازک موقع پر جہاز میں بالکل سکوت، خاموشی اور بے چارگی کا ماحول ہوتا ہے۔

جہاز نے جیسے ہی اُڑان بھری، تو مسافروں نے اپنا سر سامنے والی سیٹ کی پشت پر رکھ لیا۔ چند نے الٹی کی۔ بعض کا دل متلانے لگا۔ 15 منٹ کے بعد جہاز جیسے ہی ہموار ہوا۔ بلندی پر پہنچا تو جہاز کے اندر کا ماحول خوشگوار ہوگیا۔ مسافروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھرنے لگیں۔ مسافر مختلف کاموں میں مشغول ہوگئے۔ کوئی ہینڈ کیری سے کتاب نکال کر پڑھنے لگا تو کوئی اپنے موبائل سے ویڈیو نکال کر دیکھنے لگا۔

ہم نے اپنی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے دانشور نما بابے سے گپ شپ کا فیصلہ کیا۔ علیک سلیک کے بعد میں نے استنبول شہر کا موضوع چھیڑدیا، کیوں کہ میں استنبول شہر کے بارے میں مزید معلومات چاہتا تھا۔ اگرچہ استنبول پر میں پہلے بھی کافی مطالعہ کرچکا تھا اور میرے بیگ میں بھی استنبول شہر پر لکھی گئی دو کتابیں موجود تھیں۔ موٹی عینک والے بابا نے وہ پہلے والا جملہ ہی دوھرایا کہ ”بیٹا! استنبول کو ”سلطان فاتح محمد“ کا شہر کہا جاتا ہے۔“ کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کی تاریخ تو آپ کو معلوم ہوگئی نا۔ اگر نہیں معلوم تو میں دوہرائے دیتا ہوں۔“

میں نے کہا: ”جی! مجھے معلوم ہے۔“ پھر کہنے لگے: ”استنبول شہر اپنے جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے دنیا کا ایک انوکھا اور منفرد شہر ہے۔ یہ شہر بیسیوں خصوصیات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کا حامل ہے۔“

میں نے پوچھا: ”باباجی! استنبول شہر کو شروع سے استنبول ہی کہا جاتا رہا ہے یا پھر اس کے کئی نام رہے ہیں؟“ باباجی نے اپنی آنکھوں سے موٹی عینک اتارتے ہوئے کہا:
”اس شہر کے نام بھی دیگر بڑے اور اہم شہروں کی طرح نام بدلتے رہے ہیں۔ اس شہر کے بے شمار نام رہے ہیں۔ تیسری صدی عیسوی میں جب رومی بادشاہ ”قسطنطین“ نے اس شہر کو اپنا دارالحکومت بنایا تو اس کا نام ”قسطنطنیہ“ ہوگیا تھا۔ یہ شہر 11 سو سال تک سلطنتِ روما کو پایہ ¿ تخت رہا ہے۔ قدیم عربی کتب تاریخ میں اس کا نام ”مدینة الروم“ ملتا ہے۔ اس طرح مختلف کتابوں میں اس کے کئی اور نام بھی ملتے ہیں۔

آدھے پون گھنٹے کے سفر کے بعد ترکش ایرلائن کے میزبانوں کی طرف سے ریفریشمنٹ پیش کیا جانے لگا تو باباجی ادھر متوجہ ہوگئے اور میں اپنے ہینڈ کیری سے استنبول کے موضوع پر لکھی ہوئی کتاب نکال کر مطالعہ کرنے لگا۔ مطالعہ کرتے کرتے مجھے معلوم ہوا کہ ”قسطنطنیہ“ اس قدر اہمیت کا شہر ہے کہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شہر پر جہاد کرنے والے لشکر کو مغفرت کی عظیم بشارت دی تھی۔ حضرت بشیر بن سحیمؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ضرور قسطنطنیہ فتح کرلوگے، پس بہتر امیر اس کا امیر ہوگا اور بہتر لشکر وہ لشکر ہوگا۔“
حضرت انسؓ کی خالہ ام حرام بنت ملحانؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی رشتہ دار تھیں۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں دوپہر کے وقت سوئے ہوئے تھے۔ اچانک بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرئہ مبارک پر تبسم تھا۔ ام حرامؓ نے تبسم کی وجہ پوچھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواب میں مجھے اپنی اُمت کے لوگ دکھائے گئے جو جہاد کے لیے سمندروں کی موجود پر اس طرح سفر کریں گے جیسے تخت پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔“

حضرت اُم حرامؓ سے عرض کیا: ”یارسول اللہ! دعا فرمادیجیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی شامل فرمالے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمالی اور دوبارہ سوگئے۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر بیدار ہوئے تو چہرئہ مبارک تبسم سے کھلا ہوا تھا۔ حضرت اُمّ حرامؓ نے وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اُمت کا پہلا لشکر جو قسطنطنیہ پر جہاد کرے گا، اس کی مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔“

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانوں کا مغرب سے تعلق اور فلسفہ اردگان - سجاد سلیم

اس کتاب میں استنبول شہر کو فتح کرنے والوں کے لیے بے شمار فضیلتیں اور بشارتیں بیان کی گئی تھیں۔ میں پڑھتا گیا اور سوچتا کہ یہ کس قدر عظیم لوگ ہوں گے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓ نے قسطنطنیہ یعنی استنبول کو فتح کرنے کی مہمات کا آغاز کیا۔

حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں حضرت امیر معاویہؓ نے قبرص پر حملہ کیا۔ اہلِ قبرص نے مسلمانوں سے صلح کرلی۔ یوں یہ پہلی بحری مہم کامیاب رہی۔ جب حضرت امیر معاویہؓ خلیفہ بنے تو آپ نے اپنے بیٹے حضرت یزید کی نگرانی میں قسطنطنیہ پر پہلا حملہ کیا۔
اس حملے میں حضرت ابوایوب انصاریؓ سمیت بہت سارے جلیل القدر صحابہ کرامؓ بھی شامل تھے۔ یہ محاصرہ کافی دنوں تک جاری رہا۔ اس محاصرے میں قسطنطنیہ فتح نہ ہوسکا۔ اسی محاصرے کے دوران حضرت ابوایوب انصاریؓ بیمار ہوئے اور وفات پاگئے اور استنبول میں بھی دفن ہوئے۔ مسلمانوں کے دل میں یہ خواہش تھی کہ ہم ہر حال میں استنبول فتح کریں گے۔
اس کے بعد بھی اس شہر کے کئی محاصرے ہوئے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے بھی کوششیں کیں۔ ان کے بعد ہشام بن عبدالملک، عباسی خلیفہ مہدی، ہارون رشید اور دیگر حضرات نے بھی کوششیں اور جدوجہد جاری رکھی کہ قسطنطنیہ فتح ہو، لیکن فتح نہ مل سکی۔

اس کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اس شہر کا محل وقوع کچھ ایسا تھا کہ اس کے اردگرد سمندری خلیجوں نے حصار قائم کیا ہوا ہے۔ یہ سرد پہاڑی علاقہ تھا۔ اس شہر کے گرد تین بڑی فصیلیں تھیں۔ ہر ایک فصیل بہت ہی مضبوط اور مستحکم تھی۔ سو سو فٹ کے فاصلے پر بُرج بنے ہوئے تھے، ان بُرجوں پر ماہر نگران متعین ہوتے تھے۔ ایک فصیل سے دوسری فصیل کے درمیان بڑی خندق بنی ہوئی تھی۔ یہ خندق 60 فٹ چوڑی اور ایک سو فٹ سے زیادہ گہری تھی۔

شاید ان وجوہات کی بناءپر قسطنطنیہ فتح ہوکر نہیں دے رہا تھا، لیکن مسلمان بھی ہمت ہارنے والے نہیں تھے۔ مسلمان سلاطین نے کوششیں جاری رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت انہیں استنبول فتح کرنے پر اُبھارتی رہتی تھیں۔ کم و بیش ہر مسلمان حکمران نے قسطنطنیہ فتح کرنے کی جدوجہد ضرورکی۔ وہ الگ بات ہے کہ فتح نہ ہوسکا۔

29 مئی کے دن قسطنطنیہ فتح ہوا تھا۔ سفرنامے کی یہ تحریر بھی 29 مئی کو لکھی جارہی ہے۔ اسی دن لیکن کئی صدیاں پہلے 1453 عیسوی میں سلطنتِ عثمانیہ کے ایک بہادر سپوت اور خلیفہ ”سلطان محمد فاتح“ نے یہ شہر فتح کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت حاصل کی تھی۔ اس وقت سلطان محمد فاتح کی عمر 22 سال تھی۔

سلطان محمد فاتح نے خلافت سنبھالتے ہی قسطنطنیہ کو فتح کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ سوچنے اور غور و فکر کرنے لگا۔ ان تمام اسباب، رکاوٹوں اور وجوہات کا جائزہ لیا جن کی بناءپر اب تک قسطنطنیہ فتح نہیں ہوسکا تھا۔
سلطان محمد فاتح نے جب ہر اعتبار سے غور کیا تو انہیں کئی چیزیں معلوم ہوئیں۔ انہیں معلوم ہوا کہ بازنطینی بادشاہ قسطنطین کو لڑائی اور جنگ کے موقع پر یورپ والوں سے جو کمک اور امداد ملت ہے۔ وہ بحیرئہ اسود سے ابنائے باسفورس میں داخل ہوکر قسطنطنیہ پہنچتی ہے، چنانچہ سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو اس کے حلیفوں سے کاٹنے اور دور کرنے کے لیے باسفورس پر مکمل قبضے کی منصوبہ بندی کی، اور باسفورس کے دونوں طرف مضبوط قلعے تعمیر کروائے تاکہ یہاں سے گزرنے والا ہر جہاز عثمانی فوجوں کی توپوں کی زد میں آسکے۔ اسی طرح قسطنطنیہ مضبوط فصیلوں کو توڑنے کے لیے پیتل کی اچھی اور پائیدار توپیں بنوائیں۔

ایک طاقت ور بحری بیڑہ بھی تیار کروایا۔ یہ بحری بیڑہ 140 جنگی کشتیوں پر مشتمل تھا۔ ان سب کے ساتھ ساتھ سلطان محمد فاتح نے دنیا کی تاریخ کا ایک انوکھا فیصلہ کیا۔ وہ یہ کہ جہازوں کو گولڈن ہارن میں پہنچانے کے لیے انہیں خشکی پر چلایا جائے گا۔ یہ تقریباً 10 سے 12 میل لمبا سخت اور دشوار راستہ تھا۔ خشکی پر بحری جہاز چلانے کے لیے سلطان محمد فاتح نے اس 10 میل کے فاصلے پر لکڑی کے تختے بچھوائے۔ تختوں کو چکنا کرنے کے لیے ان پر اعلیٰ قسم کی چربی ملوائی۔ جب یہ سب کچھ تیار ہوگیا تو پھر ان 70 جہاز نما کشتیوں کو یکے بعد دیگر ے ان لکڑیوں کے تختوں پر چڑھادیا۔

مورخین کے مطابق ہر ایک کشتی میں دو افراد سوار تھے۔ ایک ملاح اور دوسرا اس کا معاون۔ ان جہاز نما کشتیوں کو بہادر آدمی اور تکڑے بیل وغیرہ کھینچتے ہوئے اوپر پہاڑی پر لے گئے، اور پھر وہاں سے گولڈن ہارن میں داخل ہوگئے۔ گولڈن ہارن میں یہ جہاز نما کشتیاں پہنچ گئی تو بندرگاہ کی جانب سے بھی قسطنطنیہ شہر کا محاصرہ مکمل ہوگیا۔ ہر طرف سے شہر کا محاصرہ مکمل ہونے کے بعد سلطان محمد فاتح کی توپوں نے دونوں طرف سے قسطنطنیہ کی بھاری بھرکم فیصلوں پر گولہ باری شروع کردی۔

عثمانی فوجوں کی جانب سے لگاتار حملوں کی وجہ سے فصیلوں کی دیواروں میں کئی مقامات سے بڑے بڑے شگاف پڑگئے۔ سلطان محمد فاتح کا منصوبہ کامیاب جارہا تھا۔ انہیں کامیابی اور فتح کا یقین ہوچکا تھا۔ وہ اب کی بار ہر حال میں قسطنطنیہ کو فتح کرنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ہر اعتبار سے مکمل منصوبہ بندی کرکے مشرق اور جنوب دونوں طرف سے حملہ کیا تھا، اور ایک ایسی نئی تکنیک کا استعمال کیا تھا کہ دنیا کے لیے حیران کن تھی۔ وہ تھا خشکی پر بحری جہاز چلانے کا کامیاب تجربہ۔

آخری کامیاب حملے سے 3 دن پہلے سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کے بادشاہ کو پیغام بھیجا کہ وہ ازخود ہی یہ شہر ہمارے حوالے کردے۔ یہ پیغام24 مئی 1453 عیسوی بمطابق 15 جمادی الاولیٰ 857 ہجری کو بھیجا گیا تھا۔ انہیں سوچنے کے لیے 3 دن کی مہلت دی گئی، اور اسے کہا گیا کہ اگر وہ ہتھیار ڈال کر قسطنطنیہ ہمارے حوالے کردے تو اسے اور ان کے ساتھیوں سمیت عوام کی جان مال کی امان دی جائے گی، لیکن قسطنطنیہ کے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے سلطان محمد فاتح کی یہ پیشکش قبول نہ کی اور لڑائی کے لیے برسرپیکار رہا، چنانچہ سلطان محمد فاتح نے آخری وار اور فیصلہ کن حملے کے لیے تیاریاں شروع کردیں۔
سلطان محمد فاتح نے اپنی فوجوں سے کہا کہ وہ رات بھر نماز، ذکر و اَزکار اور دعاﺅں میں مشغول رہیں۔ 29 مئی 1453 عیسوی بمطابق 20 جمادی الاول 857 ہجری کی صبح سویرے سلطان محمد فاتح نے عام حملے کا حکم دے دیا، اور اعلان کیا کہ ظہر کی نماز قسطنطنیہ کے سب سے بڑے گرجے ”آیاصوفیا “میں ادا کریں گے۔ اس اعلان کے بعد عثمانی فوجیں مختلف سمتوں سے حملہ آور ہوئیں۔ آگے بڑھتے رہے۔ سلطان کے جانبازوں نے پہلی فصیل کے بعد خندق کو اوپر سے عبور کرکے سیڑھیاں اور کمندیں ڈال دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانوں کا مغرب سے تعلق اور فلسفہ اردگان - سجاد سلیم

آگ اور خون کا زبردست معرکہ جاری تھا۔ مسلمان ”اللہ اکبر“ کے نعرے لگاتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھ رہے تھے۔ فتح یا شہادت کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ ان کے ذہنوں میں نہ تھا۔ سلطان محمد فاتح اپنی خصوصی افواج کے ساتھ آگے بڑھا اور اس کے ساتھیوں نے بے جگری سے لڑتے ہوئے دیوار قسطنطنیہ پر سرخ ہلالی پرچ لہرادیا۔یہ جھنڈا آغا حسن نامی مجاہد نے لہرایا تھا۔ اس کے بعد ”اللہ اکبر، اللہ اکبر“ کے نعروں کی گونج سے قسطنطنیہ کا بادشاہ قسطنطین حواس باختہ ہوگیا، اور پھر تھوڑی دیر بعد لڑتا ہوا مارا گیا۔ اس کی موت پر 1100 سال قدیم روما کی سلطنت کا خاتمہ ہوا۔

مو رخین کے مطابق ظہر کے قریب سلطان محمد فاتح اپنے جانباز ساتھیوں کے ساتھ ”سینٹ رومانس“ کے دروازے سے شہر میں داخل ہوا۔

قسطنطنیہ کے سب سے بڑے اور
مشہور کلیسے ”آیا صوفیا“ پہنچا۔ کلیسا کی دیواروں سے تصویریں اُتاریں۔ کلیسا کو پانی کے ساتھ دھوایا۔ سلطان محمد فاتح کے حکم پر ظہر کی اذان دی گئی۔ اس کے بعد سلطان محمد فاتح نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ظہر کی نماز بڑے اطمینان کے ساتھ ادا کی۔

قسطنطنیہ فتح ہونے کے بعد اس کا نام بدل کر ”استنبول “رکھا گیا۔ خلافتِ عثمانیہ کا اس کو مرکز بنایا گیا۔ سلاطین عثمان یہاں بیٹھ کر دنیا کے 3 براعظموں پر حکمرانی کرتے تھے۔

میرے ذہن کے نہاں خانوں پر تاریخ کے یہ ورق گردش کررہے تھے کہ نجانے کب آنکھ لگ گئی۔ ترکش ایرلائن کی ایرہوسٹس کی آواز سے آنکھ کھلی کہ بیلٹ باندھ لیں۔ جہاز تھوڑی دیر میں استنبول ایرپورٹ پر لینڈ کرنے والا ہے۔

یہ تقریباً 5 گھنٹے کی فلائٹ تھی۔ پاکستانی وقت کے مطابق صبح سوا پانچ بجے کراچی ایرپورٹ سے جہاز اُڑا تھا۔ یہ 5 صبح سوا پانچ بجے کراچی ایرپورٹ سے جہاز اُڑا تھا۔ یہ 5 گھنٹوں کا طویل سفر یوں محسوس ہوا جیسے لمحہ میں کٹ گیا ہوں۔

یہ دراصل محبت کا سفر تھا اور محبت بھرا سفر یونہی لمحوں میں کٹ جایا کرتا ہے۔ جہاز جب استنبول شہر کی حدود میں داخل ہوا تو میں نے جہاز کی کھڑکی سے باہر جھانکنا شروع کردیا۔ میرے سامنے سرسبز و شاداب جزیروں اور ان کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی ہوئیں سمندری خلیجوں اور لہروں کا ایک جال سا بچھا ہوا نظر آیا۔
پھر لمحہ بہ لمحہ جہاز کی بلندی کم ہورہی تھی۔ دور سے نظر آنے والی چیزیں بدستور بڑی ہوتی اور پھیلتی گئیں۔ ان میں چھپی ہوئی قدرت کی خوبصورتیاں اور رعانیاں نمایاں ہوتی چلی گئیں۔ بادلوں سے اَٹھکیلیاں کرتی ہوئی آبشاریں معلوم ہورہی تھیں۔ ترکش ایرلائن کا بڑا جہاز استنبول شہر کے اوپر چکر کاٹ رہا تھا۔ اوپر سے استنبول شہر بڑا ہی خوبصورت منظر پیش کررہا تھا۔ جہاز نے پہلے ایک لمبا سا چکر کاٹا۔ پھر ترچھا ہوا۔ رفتہ رفتہ زمین کے قریب تر ہوتا چلاگیا۔
میں چونکہ سلطان محمد فاتح کے شہر میں پہلی مرتبہ آرہا تھا۔ جس استنبول کو میں تاریخ کے اوراق میں پڑھتا رہا تھا۔ آج اس کا اپنی گناہ گار آنکھوں سے مشاہدہ کررہا تھا۔

استنبول کی ایک ایک چیز سے محبت تھی، اس لیے میں طیارے میں کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھا تھا تاکہ نگاہ بھر کر دیکھ سکوں اور کوئی منظر میری نگاہ سے رہ نہ جائے۔ ابھی قلب و نظر اسی حسین منظر و نظارے میں محو تھے کہ اناﺅنسر نے اناﺅسمنٹ کی کہ ہم استنبول ایرپورٹ پر لینڈ کررہے ہیں۔ چند ہی لمحوں کے بعد ترکش ایرلائن بڑے سے بڑے طیارے کے ٹائروں نے رن وے کو چھالیا۔ ایک ہلکا سا جھٹکا لگا اور ہمارا جہاز استنبول کے ہوائی اڈے پر اُترگیا۔

میں نے دور سے دیکھا تو اس ایرپورٹ کی عمارت پر ”مصطفی کمال اتاترک ایرپورٹ“ لکھا ہوا نظر آیا۔ یہ بہت بڑا ایرپورٹ معلوم ہورہا تھا۔ ایرپورٹ پر طیارے ہی طیارے کھڑے تھے۔ دنیا بھر کی ایرلائن کے طیارے تھے۔ معلوم ہو اکہ استنبول ایرپورٹ دنیا میں جانے والوں کے لیے جنکشن شمار ہوتا ہے۔ یہاں سے پوری دنیا میں فلائٹیں جاتی اور آتی ہیں۔ یہ جدید انداز کا خوبصورت ایرپورٹ تھا۔
اتنی دیر میں جہاز کا دروازہ کھل گیا۔ باہر نکلے تو شدید ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں نے استقبال کیا، حالانکہ آج 30 اپریل تھا، اور پاکستان میں اپریل میں خاصی گرمی ہوجاتی ہے، لیکن استنبول میں ہمارے اعتبار سے کافی ٹھنڈ تھی۔

ہینڈکیری سے جلدی سے گرم ٹوپا نکال کر پہنا۔ میں نے مڑکر جہاز کی طرف دیکھا تو جہاز کا پائلٹ مسافروں کو ہاتھ ہلاکر خدا حافظ کرتے نظر آیا۔
ہم نے اپنے ہینڈ کیری سے پاکستان کا جھنڈا نکالا اور لہراکر ”کادرش“ پکار کر مخاطب کیا۔ جواباً انہوں نے دونوں ہاتھ پائلٹ ونڈو سے باہر نکال کر ”پاکستان زندہ آباد“ کہا تو ہم نے ”پاک ترک دوستی زندہ آباد“ کا بلند آواز سے نعرہ لگادیا۔

ادھر ادھر کھڑے دوسرے مسافر ہمیں دیکھ کر مسکرانے لگے۔ یوں ایک دوستانہ ماحول بن گیا۔ استنبول ایرپورٹ پر پہلا اچھا تا ¿ثر قائم ہوگیا۔ ایرپورٹ کے اندر امیگریشن آفیسر کے پاس پہنچے تو انہوں نے مسکراکر سلام کیا اور انٹری کی مہر لگاکر پاسپورٹ واپس کردیا۔

استنبول ایرپورٹ کے اندر جہاں سے سامان ملتا ہے، اسے اصطلاح میں ”کنویئر بیلٹ“ کہتے ہیں۔ یہاں پر تاحدِ نگاہ کنویئر بیلٹس دکھائی دے رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوا ہوا نمبر 8 پر کراچی سے آنے والی فلائٹ کا سامان ہوتا ہے، چنانچہ ہم سامان اٹھانے والی ٹرالی لے کر کھڑے ہوگئے۔
ابھی 7 منٹ ہی گزرے تھے کہ سامان آنا شروع ہوگیا۔ تیسرے نمبر پر میرا بیگ تھا۔ ہم سامان لے کر باہر نکل رہے تھے کہ میں نے اپنے ہمسفر حضرت مفتی صاحب سے پوچھا کہ یہ ایرپورٹ استنبول کے کون سے حصے میں واقع ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ استنبول دنیا کا واحد شہر ہے۔ دنیا کے دو براعظموں میں واقع ہے۔ استنبول کا ایک حصہ براعظم ایشیا میں ہے اور استنبول کا دوسرا حصہ براعظم یورپ میں ہے، اور ان دونوں حصوں کے درمیان ”آبنائے باسفورس“ بہتی ہے۔

مفتی صاحب نے بتایا کہ یہ ایرپورٹ استنبول کے یورپی حصے میں واقع ہے، اور جہاں ہمارا قیام ہوگا، وہ جگہ بھی اس کے یورپی حصے میں ہی ہے۔ میرے منہ سے فوراً نکلا: ”گویا ہم اس وقت یورپ میں کھڑے ہیں۔“ اور
پھر ہم ایرپورٹ سے ایک خوبصورت، آرام دہ گاڑی میں سوار ہوکر اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ ہماری رہائش گاہ ”گولڈن ہارن“ کے کنارے پر واقع تھی۔ گولڈن ہارن میں چلتی ہوئی چھوٹی بڑی کشتیاں نظر آرہی تھیں۔ جس کمرے میں ہمارا قیام تھا، اس کی کھڑکی سے گولڈن ہارن کا نیلگوں پانی بڑا خوبصورت منظر پیش کررہا تھا۔ یہ ایک ناقابلِ فراموش منظر تھا جس کی حسین یاد یںذہن پر نقش ہوکر رہ گئی ہے۔
آج دوپہر کے بعد ہم نے پورے استنبول کی سیر کرنی تھی۔ استنبول کے تاریخی اور مقدس مقامات کا وزٹ کرنا تھا۔ ہمارا گائیڈ ہمیں لینے کے لیے پہنچ چکا تھا، چنانچہ ہم نے جلدی جلدی سامان سمیٹ کر چلنے کی تیاری شروع کردی، تاکہ ”سلطان محمد فاتح“ کے شہر کو دیکھ سکیں۔
(جاری ہے)