درس نظامی اور وفاق (۵) - محمد دین جوہر

سوال نمبر ۱: ابھی درس نظامی سے متعلق میرے چند سوالات باقی ہیں۔ لیکن درمیانی عرصے میں جب تک آپ کے جوابات ملے، مطالعہ کرتے ہوئے میری توجہ چند اہم مسائل کی طرف منعطف ہوئی جو کہ براہ راست درسِ نظامی سے متعلق نہیں ہیں مگر میرے خیال میں درس نظامی میں کارفرما نظام تعلیم کو سمجھنے میں ان سے زبردست مدد ملے گی۔ ان کا تعلق ہمارے ملک میں موجود ایسی تعلیمی تنظیموں سے ہے جنہیں مدارس کے وفاق کہتے ہیں۔ وہ پاکستان میں موجود تقریباً تمام فرقوں کی سطح پر علیحدہ علیحدہ موجود ہیں، اور شاید اس میں اپنے مسالک کی ترجیحات بھی شامل ہوں گی۔ اس میں سب سے پہلا داعیہ یہ بھی تھا کہ حکومت ”حالات کے پیش نظر“ مدارس کے نظام میں دخل نہ دے سکے جو کہ یقیناً مدارس کی تعلیم میں خلل کا باعث بنتا۔ میں سوالات سے قبل ایک اقتباس نقل کرنا چاہتا ہوں جو کہ تقریباً تمام ایسی تنظیموں کی نمائندگی کرتا ہے جو مدارس کو کسی نا کسی تنظیمی سلسلے میں منسلک کرتی ہیں:

”ترکی میں اگرچہ مدارس کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن وہ غیر منظم تھے، ان میں تنظیم نہ تھی۔ جب معمولی ضرب لگی تو مدارس فنا ہو گئے۔ اب وہاں دس طلبہ علم دین کے نہیں ملتے، وہ اسلامی کرنیں مغربیت کی تاریکی میں دب گئیں۔ پاکستان میں بھی یہی خطرہ ہے، اس لیے وفاق کی تشکیل وقت کا اہم تقاضا ہے“۔

اب میرا پہلا سوال یہ ہے کہ عصر حاضر میں مدارس کی تنظیمی تشکیل کر کے ان کو اپنے مسالک کے وفاقوں کے تحت پرونے کی کوشش کی گئی ہے، آپ اس کو اسلامی تہذیب کے تعلیمی پس منظر میں کیسا دیکھتے ہیں؟

جواب: مجموعی طور پر حالات کی یہ تصویر کشی نہایت سادہ لوحی پر مبنی ہے، اور ترکی کے حالات پر تبصرہ مکمل بے خبری پر۔ جو شخص ترکی کے گزشتہ صد سالہ حالات کو ”معمولی ضرب قرار“ دے رہا ہے وہ بے خبر آدمی تو ہے ہی لیکن اس میں اہلیت کے ساتھ ساتھ دیانت داری کا مسئلہ بھی یقیناً ہے۔ میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہہ سکتا کیونکہ ترکی میں مدارس کی تاریخ اور وہاں سیاسی انقلابات کے ان پر مرتب ہونے والے اثرات میرا موضوع نہیں ہے۔ یہ فرمانا کہ ”اب وہاں دس طلبہ علمِ دین کے نہیں ملتے“ بھی نہایت بے خبری کی بات ہے۔ ہم نہ جانیں کہاں بیٹھ کر اس طرح کے بے سود اور خود ستائشی نتائج اخذ کرتے ہیں۔

ترکی میں مذہبی، سیاسی اور تہذیبی مسائل پر بالکل اخباری سطح کی گفتگو بھی ہمارے ہاں کی نام نہاد ”علمی گفتگو“ سے بہت بلند ہوتی ہے۔ ترک فوجی بغاوت کے وقت ہمارے ہاں دجالِ لعین فتح اللہ گولن پر جو داد سخن دی گئی وہی دیکھ لیں تو ہمارے صحافتی اور علمی معیارات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ حافظے سے ایک مثال دیتا ہوں کہ پچھلے دنوں ترکی کے ایک انگریزی اخبار میں ایک عام صحافی کا مضمون نظر سے گزرا۔ نہایت معنی خیز عنوان (War within Islam) کے تحت، زیربحث موضوع یہ تھا کہ ترکی کے کچھ حلقوں کی طرف سے سید حسین نصر اور ڈاکٹر فضل الرحمٰن میں سے کسی ایک کو قومی انتخاب کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے اور مذکورہ صحافی کے بقول ترکوں کو یہ صورت حال مسترد کر دینی چاہیے کیونکہ دونوں ہی یا دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب ان کے لیے مفید نہیں۔ ترکوں کو اپنی دینی اور ملی روایت سے ایسے مواقف سامنے لانے چاہئیں جو عصر حاضر کی ضرورت پوری کرتے ہوں، ان کے تاریخی اور تہذیبی تجربے کو بامعنی بناتے ہوں، اور دینی روایت سے ہم آہنگ بھی ہوں۔ یہ بات تو یہاں کسی کی سمجھ میں بھی نہیں آئے گی۔ بہرحال مجھے اس امر پر بہت خوشی ہوئی کہ صحافی اتنی بصیرت کا حامل ضرور تھا کہ اس نے سانپ کے منہ اور بچھو کی دم کے مابین انتخاب کا درست اندازہ کرتے ہوئے اس صورت حال ہی کو مسترد کرنے کا مشورہ دیا، اور روایت کے ساتھ ساتھ ترکوں کو اپنے تاریخی تجربے سے جڑنے پر زور دیا۔ میں دسیوں ایسے ترک عالموں سے باخبر ہوں جن کی نظری گہرائی اور تحقیقی سطح آج کے معروف علمی معیارات پر بھی بہت بلند ہے۔ ہمارے ہاں تو بھئی جھاڑو پھرا ہوا ہے۔

آپ نے مذہبی تعلیم کے وفاقوں کا سوال اٹھایا ہے۔ فرقہ واریت اور علمی مکالمے کی عدم موجودگی کے باعث اس پر بات کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ جو بات کہنا چاہتا ہوں بساط بھر کہہ دوں۔ اگر سمجھنا چاہیں تو بات بہت سادہ ہے۔ آقائے سرسید سے ہمارا جھگڑا کیا ہے؟ یہ کہ استعمار کے بالفعل قائم ہونے کے بعد انہوں نے پورے دین کو اس کی نہ صرف علمی اور فکری جواز سازی کے لیے جھونک دیا بلکہ انسانی، سماجی اور سیاسی عمل کی ہر استعماری ہیئت کو ہمارے ہاں قائم کرنے میں بہت محنت کی۔ تاریخ ان کے ساتھ تھی، حد درجہ مخلص اور سخت کوش تھے، لہذا کامیاب رہے۔ آقائے سرسید نے اپنا کام نہایت دیانتداری، غیرمعمولی محنت اور مکمل خودآگاہی میں کیا تھا۔ ہر تہذیب فکری موقف اور عملی ہیئت کے مجموعے کا نام ہے، اور آقائے سرسید نے جدیدیت اور استعمار کو بہت مضبوط بنیادوں پر ہمارے ہاں فکر اور عمل میں قائم کر دیا، اتنا مضبوطی سے کہ ابھی تک اسے ہلایا نہیں جا سکا اور ان کا کام آج تک ہماری قومی زندگی کے ہر پہلو میں مؤثر ہے۔

سنہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد، ہمارے مدارس نے استعمار گرفتہ قدیم دہلی کالج کے جدید ”تعلیمی عمل“ کو ماڈل کے طور پر اختیار کیا۔ قدیم دہلی کالج اپنے یورپی پرنسپل صاحبان کے ذریعے بہت حد تک استعمار کی ترجیحات پر تبدیل کیا جا چکا تھا۔ اس کو ماڈل کے طور پر اپناتے ہوئے اس عمل کے ساتھ جڑی ہوئی فکر کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی یا دانستہ بےخبری رہی۔ اب اس میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر ماورائے تہذیب سے کوئی غیر فکر اختیار کر لی جائے تو مرورِ وقت سے عمل ازخود اس کے مطابق ڈھل جاتا ہے۔ اور اگر ماورائے تہذیب سے کوئی غیر عمل اختیار کر لیا جائے تو مرور وقت سے فکر اس کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔ یہ تقدیری بات ہے، اس کے برعکس ہوتا نہیں ہے۔ مذہبی ہونے کا مطلب ایمانی مراد، ہیئت حکمی، اور عملی سانچے کو محفوظ رکھنا ہے۔ ان میں سے ایک شے جاتی رہے تو باقی کو نہیں بچایا جا سکتا۔ سنہ ۱۸۵۷ء کے معاً بعد مدارس کی تشکیل کو اس زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ دینی مدارس کا ماڈل یہی کالج تھا۔ اور علی گڑھ کالج کے لیے آقائے سرسید سانچہ اور سانچہ ساز دونوں ولایت سے لائے تھے۔

جدید تعلیم یا تعلیم عامہ ایک ہمہ گیر سیاسی اور سرکاری عمل ہے، جو مکمل طور پر ریاست کی فکری اور عملی ترجیحات پر قائم ہے۔ ہم نے ابتدا میں تعلیمی عمل کی جدید ہیئت کو انفرادی اور سماجی سطح پر اختیار کیا۔ وفاق اس سے اگلا مرحلہ ہے جس کا مطلب ہے مذہبی تعلیم کو جدید تعلیم عامہ کے ماڈل پر استوار کرنا۔ مذہبی تعلیم اگر انفرادی اور سماجی سطح پر جدید تعلیمی عمل کی ہیئت میں نہ ڈھلی ہوتی تو وفاق کا مرحلہ ممکن نہیں تھا۔ وفاق کا مطلب ہے مذہبی تعلیمی عمل کی ہیئت کو تعلیم عامہ پر منتقل کر دینا۔ یہ اصلاً مذہبی تعلیم ہی کا خاتمہ ہے۔ یہاں پر دو باتیں کہنا ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ درس نظامی کی روایتی عملی ہیئت ہی کو باقی رکھنا ضروری تھا اور نہ اسے باقی رکھا جا سکتا تھا۔ دوم، یہ بھی قطعاً ضروری نہیں تھا کہ اسے جدید تعلیمی ہیئت میں ٹھونسا جاتا جیسا کہ اس وقت ہو رہا ہے۔ درس نظامی کی روایتی ہیئت مقدس نہیں، اور نہ جدید تعلیمی ہیئت کفر ہے۔ صرف یہ کہ جدید تعلیمی ہیئت علیٰ حالہٖ درس نظامی سے ہم آہنگ نہیں کیونکہ وہ جن مقاصد کے لیے بنائی گئی تھی وہ مقاصد درس نظامی سے مختلف تھے۔

میں صرف یہ عرض کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ درس نظامی جدید تعلیمی ہیئت میں باقی نہیں رہ سکتا۔ جدید عہد میں تعلیمی مقصد اور اس کی ہیئت کا ہم آہنگ ہونا معروف ہے، لیکن ہمیں معلوم نہیں۔ اسی بے خبری میں ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ جدید تعلیم کی ہیئت درس نظامی میں بھی خوب کام دے گی۔ ادھار اور نقل کی تعلیمی ہیئت درس نظامی کے لیے پائے چوبیں ثابت ہوئی، اور اب تو اسے بیساکھیاں بھی لگائی جا رہی ہیں۔ لیکن کام چلے گا نہیں۔ آخر میں جدید تعلیمی ہیئت ہی باقی رہے گی اور درس نظامی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ یہی وہ بےخبری ہے جس میں نصاب، نصاب کا شور برپا ہے۔ یعنی درد گھٹنے میں ہے اور دوا کان میں انڈیلی جا رہی ہے۔

اب یہ مسئلہ اپنی جگہ تفصیل طلب ہے کہ جدید تعلیمی عمل کی ہیئت کیا ہے، وہ درس نظامی کے لیے کیوں موزوں نہیں، اور درس نظامی کی روایتی ہیئت کے خاتمے کے بعد اس کے لیے نئی اور جدید تعلیمی ہیئت کیا ہونی چاہیے تھی۔ اس میں فکری اور ٹیکنیکل دونوں طرح کے پہلو شامل ہیں۔ لیکن یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، کیونکہ اگر تعلیمی مقاصد اور تعلیمی ہیئت میں تلازمات معلوم ہوں تو نئی تشکیلات سامنے لانا مشکل نہیں ہوتا۔ ان پہلوؤں پر کوئی بات نہیں کرتا۔ درس نظامی کو تعلیمی فکر اور تعلیمی عمل دونوں میں تشکیل دینے کی ضرورت تھی، اور یہ کام کبھی نہ ہو سکا۔

ایک مذہبی آدمی کے لیے یہ بات سمجھنا بہت آسان ہے، لیکن بدنصیبی کا ایسا غلبہ ہے کہ پیش پا افتادہ باتیں بھی سمجھ نہیں آتیں۔ مثلاً نماز کی نیت ایک چیز ہے اور عمل نماز اور اس کی ہیئت دوسری چیز ہے۔ اگر کوئی نماز کی نیت کر کے فٹ بال کھیلنا شروع کر دے تو آپ کیا فرمائیں گے؟ درس نظامی کے ساتھ یہی ہوا ہے۔ یہ ایک extreme example ہے لیکن سمجھنے کے لیے مفید ہے۔ انسانی زندگی میں نیت/مقصد اور ہیئتِ عمل ایک دوسرے سے متعلق اور ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ آج کا عہد فکر کے گردباد اور عمل کے طوفان کا عہد ہے۔ اس میں ہدایت کو مستحضر رکھنے کے ساتھ ساتھ دینی عمل کی ہیئت کو محفوظ رکھنا بھی یکساں ضروری ہے، اور ہر ایسے عمل کو بھی جو ان دونوں سے ہم آہنگ ہو۔

وفاق تعلیم عامہ کے ریاستی نظام کی ایسی پست نقل ہیں جن کے پیچھے نہ کوئی فکر ہے، نہ کوئی معاشی وسائل ہیں اور نہ تنظیمی صلاحیت و بصیرت۔ جنگ آزادی کے بعد درس نظامی جس تعلیمی ہیئت میں نصب کیا گیا وہ جدید تھی، اور یہ وفاقوں کی صورت میں اب اپنے منطقی انجام کو پہنچی ہے۔ جدید سکول میں تدریس اور آموزش کا عمل نہایت ٹیکنیکل ہے، اور اس کے لیے سولو ٹیکسانومی اور معروضی سوالات کی بحث کو دیکھ لینا کافی ہے۔ درس نظامی اس سانچے میں نہیں آ سکتا، اس کے لیے سانچہ الگ بنانے کی ضرورت تھی۔ درس نظامی کے مردہ اور غیرمؤثر ہونے کی بڑی وجہ بھی یہ رہی ہے کہ اس نصاب کے پس منظر میں کارفرما تہذیبی اور تعلیمی فکر کبھی باقاعدہ اظہار نہ پا سکی، اور اس فکر کی عدم موجودگی میں تعلیمی ہیئت بھی ایسی اختیار کی گئی جس کے فکری نسب کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ نادانی اور بےخبری کے یہ دو پاٹ درس نظامی کو پیس دینے کے لیے کافی تھے۔ اب ہم ملبے کی پوٹلیاں ادھر ادھر کرنے کی جلدی میں ہیں۔

اس میں اہم بات کی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ آقائے سرسید کے فکری کام سے مذہبی روایت مشتبہ ہو کر ہمارے شعور سے غیرمتعلق ہو گئی۔ اور مدارس کے تعلیمی عمل کی ناکارہ جدید ہیئت سے مذہب کے عملی اور اخلاقی پہلو ہمارے کردار سے غیرمتعلق ہوئے۔ ہماری فکری موت اور کرداری ابتذال ہمگام ہیں، اور اس کے تاریخی اسباب بھی معلوم ہیں۔ یہ الگ بات کہ ہم ان سے آنکھیں نہیں ملا پاتے۔ آقائے سرسید نے جو کام بڑے سلیقے اور سبھاؤ سے ڈنکے کی چوٹ پر کیا تھا، عین وہی کام ہمارے اہل درس نظامی چپ چاپ ایک دزدیدہ نگاہی سے کر رہے ہیں۔ اب بقول انتظار حسین آگے سمندر ہے۔

سوال نمبر ۲۔ میں نے ابتدا میں ایک صاحبِ علم کا قول نقل کیا تھا کہ وفاق کا بننا ہماری تہذیبی شکست ہے، آپ نے اس کی تائید و توثیق فرمائی۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایسے کیسے ہو سکتا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر ممکن ہے، آخر وہ کون سی رکاوٹ ہے جو عصر حاضر میں ان تنظیموں کو تہذیبی بازیافت کی بجائے تہذیبی شکست کا باعث بناتی ہے؟

جواب: یہ قول جس کا بھی ہے، بصیرت پر مبنی ہے۔ صرف یہ کہ ”تہذیبی شکست“ کی ترکیب یہاں برمحل نہیں کیونکہ بہت بھاری بھرکم ہے۔ اگر تہذیبی شکست کا ادراک ڈیڑھ سو سال بعد وفاق کے بننے سے ہوا ہے تو سخت پریشانی کی بات ہے۔ وفاق بننے کا یہ مطلب ضرور ہو سکتا ہے کہ تہذیبی شکست کا جو تھوڑا بہت ملبہ بچ رہا تھا، اب وہ بھی صاف ہو رہا ہے۔

بات بہت سادہ ہے، لیکن ہم سمجھنا نہیں چاہتے۔ دیکھیں معاشروں کی واقعیت انفرادی، سماجی اور سیاسی عمل سے مملو ہوتی ہے، یعنی معاشرہ اور تاریخ عمل کی ہیئتوں کا مجموعہ ہے، یا عامیانہ انداز میں میدانِ عمل ہے یعنی یہ میدان ہمہ قسم عمل سے بھرا ہوا ہے خالی نہیں ہے۔ کسی تہذیب سے بنیادی فکر مستعار لینے اور بنیادی عمل مستعار لینے کے نتائج آخر میں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کا بنیادی ترین عمل ہے۔ چند ایک عبادتی اعمال و افعال کے علاوہ ہم نے بتدریج اپنے سارے انفرادی، اجتماعی اور سیاسی عمل کو مغربی عمل کے نمونے پر ڈھالا ہے۔ اور اس میں اب ہمارا مذہب بھی شامل ہے۔ وفاق کیا ہے؟ ہمارے تعلیمی بورڈوں کا نہایت پست چربہ۔ اور تعلیمی بورڈ کیا ہیں؟ کیمبرج امتحانی بورڈ کا انتہائی پست چربہ۔ اب تو ہم جس مرحلے میں ہیں وہاں تہذیبوں کی فتح و شکست کے تناظر باقی نہیں رہتے۔

میرے خیال میں مذہبی تعلیم کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا جسے سلجھایا نہ جا سکے۔ اس وقت اصل مقصد درس نظامی کو دفن کرنے کا ہے اور ساری برات اسی کی ہے۔ اس پر ڈھنگ کا کوئی سیمینار یا گفتگو اگر کہیں ہوئی ہو تو ناچیز کو ضرور بتائیے گا۔ درس نظامی والے بچارے صفائیاں دیتے دیتے گھگھیا گئے ہیں، اور اب حوصلہ بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔ شکست کے بعد لڑائی جاری رکھنے کے لیے عزم کے ساتھ ساتھ فراست بھی ضروری ہوتی ہے۔ شکست پر غصہ کھائے جانے سے حالات نہیں بدلتے۔ لیکن جدید دنیا میں مذہب مخالفین اس قدر سفاک ہیں کہ ہر دستیاب ذریعہ اپنے مقصد کے لیے استعمال میں لاتے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ مشکل حالات میں اپنی بات کہنے کا کوئی سلیقہ بھی ڈھونڈ نہیں پائے، اور بات ایسے کرتے ہیں کہ انتہا پسند، رجعت پسند، دقیانوسی، ترقی کے دشمن، ملائیت کے نمائندے، وغیرہ اور نہ جانے کیسے کیسے القابات میں دفن ہو کر رہ جاتے ہیں۔

سوال نمبر ۳: ان وفاقوں کی تنظیمی تشکیل کچھ یوں ہے کہ پہلے پہل ہر مسلک نےتعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تنظیم بنائی اور پھر ایک بڑی تنظیم بنا کر تمام مسالک کو اکٹھا کر لیا گیا اور یہ اس کی ماتحتی میں کام کرتے ہیں، آپ کے نزدیک یہ تنظیمی تشکیل کیسی ہے؟

جواب: امتحانی بورڈ کا انتظامی عمل ایک مقصد اور فکر کے تابع ہوتا ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ امتحان کیا ہے؟ کس کریکیولم سے جڑا ہوا ہے؟ تدریسی عمل کی نوعیت اور طریقہ کیا ہے؟ اس سے بچے میں کیا صلاحیت پیدا کرنا مقصود ہے؟ یعنی امتحانات کا پورا نظام کریکیولم، تدریس، آموزش وغیرہ سے براہ راست جڑا ہوتا ہے۔ جدید تعلیم سرمائے اور طاقت کی بین الاقوامی قوتوں کے لیے بھی غیرمعمولی طور پر اہمیت کی حامل ہے۔ دنیا بھر میں جدید تعلیم کے سارے مرحلوں میں یہ قوتیں ثقافتی وسائل اور معاشی امداد سے براہ راست شریک ہوتی ہیں۔ اور امتحانی نظام اس میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان بننے سے اب تک صرف تعلیم کے شعبے میں اربوں کی مغربی امداد ملی ہو گی۔ اس کا مقصد بھی یقیناً اسلام کا بول بالا ہی رہا ہو گا! تو وفاق بھی ان بورڈوں کی امامت میں ”امتحان، امتحان“ سیکھ رہا ہے اور اس سے پیشرفت کس طرف ہو رہی ہے وہ معلوم کرنا شاید ضروری نہیں ہے۔ اب میں ان کی تنظیمی تشکیل پر اور کیا عرض کروں؟

آپ کے اس سوال پر مجھے ایک دلچسپ بات یاد آ گئی۔ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں لیکن اندازہ ہے کہ جب سنہ ۲۰۰۵ میں ایشین یا ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے پنجاب ایجوکیشن کمیشن بنایا گیا تو ایک سرکلر بھی گھمایا گیا، جس کی ایک کاپی میرے ہاتھ بھی لگی۔ اس میں سولو ٹیکسانومی اور نئے امتحانات کا فلسفہ بیان کیا گیا تھا، جو میری دلچسپی کا موضوع تھا کیونکہ اس سے پہلے میں بلوم ٹیکسانومی پر کافی کچھ دیکھ چکا تھا۔ اس سرکلر میں مزید ہدایات کے لیے ایک دو نمبر بھی دیے گئے تھے۔ میں نے ایک دن فون کیا تو متعلقہ صاحب نے ایک اور نمبر دے دیا۔ اس طرح میں کوئی پانچ چھ نمبروں پر گردش کرتے ہوئے پھر اسی فون نمبر پر لوٹ آیا، تو جناب فرمانے لگے کہ کل فون کرنا۔ اگلے روز پھر یہی کچھ ہوا۔ میرا خیال ہے کہ چوتھے روز اس نے میری آواز سنتے ہی فرمایا کہ تم تو وہی ہو جس نے کل بھی فون کیا تھا۔ عرض کیا کہ جی ہاں۔ فرمانے لگے کہ بھئی تم کو کیا مصیبت پڑ گئی ہے کہ روز ہی فون کرتے ہو؟ کہا کہ فون کاری حسبِ ارشاد ہے۔ فرمانے لگے کہ تہمارے شوق کو دیکھ کر میں اندر کی بات بتا دیتا ہوں۔ عرض کیا جی ارشاد۔ فرمانے لگے کہ بینک (ورلڈ بینک یا ایشین بینک، ٹھیک سے یاد نہیں رہا) نے کچھ قرضہ دیا تھا اور اس کے بندوبست کے لیے ایک گورا صاحب بھی آیا تھا جس نے یہ سارا نظام بنا کر دیا ہے۔ یہاں جو لوگ نوکری کرتے ہیں وہ ایسی باتوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے، کیونکہ جو تم پوچھتے ہو یہاں کسی کو معلوم نہیں۔ لیکن لگتا ہے تم ہمیں تنگ کرتے رہو گے۔ تمہارے شوق کو دیکھ کر میں تمہیں اس گورے کا ای میل دے رہا ہوں، جو پوچھنا ہے وہاں لکھ بھیجو۔ آئندہ ہمیں فون مت کرنا۔ ہم نے حاضر جناب کہہ کر ای میل ایڈریس لکھا اور فون بند ہو گیا۔ بڑے بڑے کمیشنوں، بورڈوں اور اداروں کے پیچھے یہی کچھ ہے۔ تو وفاق جو ایک گھٹیا سی نقل ہے اس کے پیچھے کیا ہو گا؟

سوال نمبر ۴: آپ نے ایک جگہ تعلیم عامہ کا ذکر کیا ہے جو کہ تقریباً مرد ”نامعقول“ لارڈ ٹامس میکالے کے پیش کردہ نظام تعلیم کی اولین ترجیحات میں سے تھی۔ کیا آپ کو کسی بھی طرح وفاقوں کے پس منظر میں اس کے اثرات نظر آتے ہیں؟ کیا ان میں کوئی تعلق آپ کے پیش نظر ہے؟

جواب: ”کسی بھی طرح“ کا کیا مطلب؟ وفاق تو بھائی تعلیم عامہ کے ایک بہت ہی ظاہری پہلو کا انتہائی پست چربہ ہے۔ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ آخرکار مذہبی تعلیم نے بھی وہی چولا پہن لیا ہے جو لارڈ میکالے نے سیا تھا۔ ہم نے لارڈ میکالے کے تعلیمی فلسفے اور عمل پر ڈھیڑ سو سال تبریٰ بھیج کر دیکھ لیا۔ کیا فرق پڑا؟ یہ اس نظام نے ہماری تہذیب کی سب نشانیاں بھی صاف کر دیں۔ اگر ہم صورت حال کو سمجھ کر ہاتھ پاؤں مارتے تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا۔ مذہبی اور سیکولر تعلیم میں بنیادی فرق کو جاننا ضروری ہے۔ اس کی تفصیل ناچیز نے عرض کی ہے۔ وہ آپ دلیل ویب گاہ پر ملاحظہ فرما لیں جو ”سیکولر اور مذہبی تعلیم کے بنیادی تصورات“ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔

سوال نمبر ۵: کیا تعلیم کے نظام الاوقات کا تعلیم پر کسی پہلو سے اثر پڑ سکتا ہے؟ وفاقوں سے ملحق مدرسوں کا بھی ایک تعلیمی دورانیہ ہے جسے دیکھا جائے تو سال بھر میں کل سات سے ساڑھے آٹھ ماہ تک تقریبا کل پڑھائی ہوتی، اور جید مدرسین شکایت کناں ہوتے ہیں کہ اس سے تعلیم اور کتب کی تکمیل متاثر ہوتی ہے اور تعلیم تشنہ رہ جاتی ہے۔ آپ تعلیم کے اصولوں کی روشنی میں بتلا سکتے ہیں کہ یہ بات کہاں تک درست ہو سکتی ہے یا اس کا تعلیم کے بنیادی مقاصد سے کوئی خاص واسطہ نہیں؟

جواب: میں بار بار ایک ہی بات کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جدید تعلیم میں ہر عمل ایک تصور، مقصد اور فکر کے تابع ہے۔ نظام الاوقات فی نفسہٖ کچھ نہیں، ایک مقصد کے حصول کا آلہ اور ذریعہ ہے۔ پہلے بنیادی بات کرنی اور سمجھنی چاہیے۔ باقی فیصلے اسی سے جڑے ہوتے ہیں۔

سوال نمبر ۶: امتحانی نظام سے متعلق آپ کی رائے کو میں آپ کے ایک دو مضامین سے پڑھ چکا ہوں اور اس کو مناسب طریق پر سمجھ چکا ہوں۔ میری عرض ہے کہ آپ خاص وفاقوں کے طرزِ امتحان پر کیا رائے دیں گے؟ میں یہاں پر اپنا ایک ذاتی خیال پیش کرنا چاہوں گا کہ وفاقوں کی طرز پر مدارس میں امتحان وہاں استاد و تلمیذ کے خوبصورت اور تہذیبی تعلق اور اعتماد پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔ اگرچہ اس پہلو سے ہی کہ پڑھاتا کوئی ہے اور چیک کوئی اور کرتا ہے، اور اس سے پڑھانے والے استاد صاحب کی قابلیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے؟

جواب: اس سوال سے میں یہ ضرور اندازہ کر سکتا ہوں کہ آپ وفاق کی صورت میں جدید امتحانی نظام کے ایک نہایت چھوٹے سے تجربے سے گزرے ہیں۔ میں جو عرض کر رہا تھا کہ اگر غیر فکر لے لی جائے تو عمل اس کے مطابق ہو جاتا ہے اور اگر عمل لے لیا جائے تو فکر اس کے مطابق ہو جاتی ہے۔ آپ کی یہ بات اسی گزارش کا تجربہ اور ثبوت ہے کہ ماورائے تہذیب سے در آنے والا عمل ہمارے انسانی رشتوں کی نئی تشکیل کر رہا ہے اور جو مکمل طور پر سیکولر ہے۔ جدید امتحانی نظام میں استاد اور شاگرد کا کوئی تعلق قابل تصور ہی نہیں ہے۔ وہ نہ صرف ممکن ہی نہیں ہے بلکہ اس کی بات کرنے والا قابل مذمت ہے۔ جدید تعلیم کا پورا عمل اور خاص طور پر امتحانی نظام استاد اور شاگرد کے ہر تعلق کی نفی کر دیتا ہے کیونکہ جدید تنظیمی عمل مکمل impersonalization کے بغیر قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ آپ اس کا تھوڑی سی گہرائی میں تجزیہ کریں تو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ تعلیمی عمل کی ہیئت انسانی رشتوں کی ایک نئی تقویم کو جنم دے رہی ہے، جو اس فکر کے عین مطابق ہے جو جدید تعلیم کی بنیاد میں کارفرما ہے۔ انسانی رشتوں کی یہ نئی تقویم کوئی مذہبی یا انسانی وغیرہ بالکل بھی نہیں ہے۔ یہاں سے آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ عملِ مستعار ایک دن فکرِ غیر کو بھی محکم کر دیتا ہے اور اب یہ عمل درس نظامی کے اندر واقع ہو رہا ہے۔

سوال نمبر ۷: دوسری بات یہ ہے کہ تقریباً ایک سال قبل درس نظامی کے تعلیمی نظام پر ایک تنقیدی رپورٹ پڑھنے کو ملی جو کہ ایک تنظیم ”پیس، ایجوکیشن اینڈ ڈیولپمنٹ فاونڈیشن“ کی طرف سے شائع کی گئی تھی۔ اس میں درس نظامی کی مختصر اور ناقص معلومات دی گئی تھیں۔ پھر سب سے بڑی بات وفاق کے نصاب کو درس نظامی قرار دے کر اہلسنت کے علمائے دیوبند سے منتسب وفاق المدارس العربیہ پر بات کی گئی تھی، اور اس کے نصاب کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ میرے خیال میں کسی بھی نظام تعلیم پر ایسی ناقص رپورٹ ابھی تک میرے مطالعے میں نہیں آئی۔ میں ذاتی طور پر اس کے مرتب کرنے والوں کو دیانت دار تصور نہیں کرتا، اگرچہ اس میں کچھ معلومات درست بھی تھیں۔ یہ رپورٹ کچھ علما کی مدد سے ہی مرتب کی گئی تھی، اور یہ ان علما کی اپنے ہی نظام تعلیم سے بے وفائی اور ناقص تاریخی معلومات کا بین ثبوت ہے۔ عرض ہے کہ اگر آپ بھی اس رپورٹ کو ایک نظر دیکھ لیں تو میری توثیق ہو جائے گی وگرنہ میں کسی بھی غلطی سے رجوع کرنے کی ہمت ضرور رکھتا ہوں۔

جواب: آپ اپنی رائے کا حق رکھتے ہیں، میں کیا عرض کر سکتا ہوں۔ بہرحال میں نے بھی وہ رپورٹ دیکھی ہے۔ اس کے انتہائی ناقص ہونے میں مجھے بھی کوئی شک نہیں۔ جیسا کہ میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ جدید عہد میں تعلیم بنیادی طور پر ایک سیاسی اور ریاستی فیصلے ہی کی تفصیلات ہوتی ہیں۔ جدید ریاست ہر ایسی چیز کو بتدریج ختم کر دیتی ہے جو طاقت اور سرمائے کی خدمت میں بھرتی نہ ہو سکیں۔ یہ رپورٹ درس نظامی کو تعلیم کے طور پر زیربحث نہیں لاتی، بلکہ اسے ایک ”حل طلب“ سیاسی مسئلے کے طور پر دیکھتی ہے، اور اس کے لیے نئی تزویرات کی سفارش کرتی ہے۔ یعنی اس رپورٹ کا بنیادی تناظر تعلیم نہیں، بلکہ ریاست اور سرمائے کے تناظر میں ایک ”حل طلب“ مسئلہ ہے۔ پھر یہ کہ ایجنڈے کے تحت لکھی جانے والی رپورٹیں اسی طرح کی ہوتی ہیں۔ ایسی رپورٹوں میں مقصد پہلے سے طے ہوتا ہے، اور اس مقصد کو سہارا دینے کے لیے اعداد و شمار بھی جمع کر لیے جاتے ہیں۔ بعد میں ریاست کی قومی پالیسی بناتے ہوئے ایسی ہی رپورٹوں کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ اور چونکہ ایسی رپورٹیں قومی پالیسی کی بنیاد ہوتی ہیں، اس لیے مستند بھی خیال کی جاتی ہیں۔