یوں ہی کوئی مل گیا تھا (اندرا گاندھی سے ملاقات کا احوال) - محمد اقبال دیوان

اکتوبر 77ء کے دم توڑتے ایام تھے۔ اسلام آباد کی خنکی میں ایک کوٹ یا سینٹ مائیکل کا سوئٹر پہن کرہمارا سول سروس کا دوست احمد حسین باجوہ جسے ہم کوتاہ قد ہونے کے باعث نکا باجوہ کہتے تھے۔ وہ بھی خود کو اداکار راجیش کھنہ سمجھنے پر آمادہ ہوجاتا تھا۔ اس وقت وہی مشہور ہیرو تھے۔ جنرل ضیاء الحق خیر سے قوم سے نوے دن میں انتخابات کرانے کا اپنا پہلا وعدہ توڑ چکے تھے۔ جس کا فائدہ یہ ہوا کہ وہاں سے ایم این اے صاحبان رخصت ہوگئے تھے۔ آب پارہ سے کچھ پرے ایم این اے ہاسٹل ہم نووارد آٹھ دس افسران کو سر چھپانے کا آسرا ہوگیا تھا۔ روزانہ دوپہر ہم جمع ہوجاتے تھے کسی چھوٹے موٹے ہوٹل میں کھانا کھاتے۔ گھنٹوں بحث کرتے اور کم تنخواہ میں خوش رہتے تھے۔

جب اہل خانہ ادھر اُدھر ہوتے تو جھنگ کے سیالوں کی چن جی (ضویا قمر) سے بھی ملاقات ہوجاتی تھی۔ ہمارے دوستوں میں سب اسے ائیر مارشل چن جی کہتے تھے۔ اس لیے کہ وہ ان میں سے کسی سے بات چیت نہیں کرتی تھی۔ ان کے آتے ہی یہ رفو چکر ہوجاتی تھی۔ وہ جھنگ سے اپنی بہن بہنوئی کے پاس انگریزی سیکھنے اسلام آباد آئی تھی۔ اس نادان کو یہ بدگمانی تھی کہ اسلام آباد والوں کو بہت انگریزی آتی ہے۔ ہم آپ کو وثوق سے کہتے ہیں کہ چن جی کا تعلق سیالوں کے اسی خاندان سے تھا جس کی رشک قمر رانجھے کی ہیر تھی۔ اس کے حسن دل آرا کی سج دھج دیکھ کر کئی انگریز اپنی انگریزی بھول جاتے۔ اپنے پاسپورٹ جلا ڈالتے۔ ہندوستان کی تقسیم کرکے یہاں سے جانے کا ارادہ ملتوی کردیتے۔

ہمارا دوست شاہ نواز جو اب اس دنیا میں نہیں رہا، وہ ڈیوڈ گلمور کی The Ruling Caste: Imperial Lives in the Victorian Raj نامی کتاب پڑھے بیٹھا تھا۔ وہ اس کی دل فریب اداؤں،نیم خوابیدہ آنکھوں، سرو قد اور بہتے جھرنوں جیسی چال دیکھ کر یہ انکشافات بھی کرتا کہ کہ بعید نہیں اس کی پرنانی یا پر دادی بھی ان نازنیان باکرہ میں شامل رہی ہو وہ جو مقامی قائدین کی جانب سے ڈالی (تحفے کی ٹوکری) میں انگریز ڈپٹی کمشنر جھنگ کو پیش کی گئی ہو اور تبادلے کے بعد وہ اس عورت کو وہ اپنی بیٹی سمیت لوٹا دیا گیا ہو۔ یہاں پاکستان ہندوستان میں جو آج بڑے معتبر جاگیردار اور سردار بنے رہتے ہیں وہ برطانوی حاکمین کے آگے غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ نوابوں اور جاگیرداروں کے ہاں سے سالانہ ڈالی جس میں مال و منال غلہ، مویشی اور ان کا چارے کے علاوہ حسین و جمیل مقامی دیسی خواتین بھی ہوتی تھیں، وہ پیش کی جاتی تھیں۔ اس کا احوال آپ کو شہاب نامہ میں بھی شاید مل جائے ہماری یاداشت ذرا متزلزل ہے اور نیویارک میں ہمارے پاس شہاب نامہ برائے تصدیق نہیں۔

ڈیوڈ گلمور کی کتاب

برطانوی راج میں یہاں ایک صاحب لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ آکٹر لونی ہوتے تھے۔ حضرت نے ہندوستان میں بڑی شان و شوکت سے نوکری کی۔ جب وہ دہلی میں تھے توان سے ملنے پرانا دوست برطانیہ کا پادری بشپ ہربر آیا۔ وہ حیران ہوگیا کہ حضرت اپنی تیرہ عدد دیسی بیگمات یا رکھیلوں کے ساتھ چوغہ پگڑی پہنے بیٹھے تھے انہیں مورچھل سے ہوا دی جارہی تھی۔ ان بیگمات میں سب سے اہم ماہ رتن مبارک النساء بیگم ہوتی تھیں جو قربت کی وجہ سے جرنیلی بیگم کہلاتی تھیں۔ یہ اصلاً برہمن ذات کی ہوتی تھیں، ناچتی بہت عمدہ تھیں مگر اللہ جانے دل میں کیا آئی کہ مسلمان ہوگئیں؟ دین ہدایت پر قدم رکھ کر یہ لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ آکٹر لونی کی آغوش میں جا پہنچیں جن سے ان کے کئی بچے تھے۔ یہ حج پر جانے کی بہت خواہشمند تھیں مگر جرنیل صاحب کو خوف تھا کہ وہاں جدہ اور عدن کے راستے میں یہ کسی عرب کے ہاتھ چڑھ جائیں گی۔ سو ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو پائی۔

لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ آکٹر لونی

ایک دن ہم پانچ افسر دوپہر کو جمیل کے پاس پہنچے۔ خیال تھا کھانا کھائیں گے اور میلوڈی سنیما میں فلم دیکھیں گے۔ وہ وزارت مذہبی امور میں سیکشن افسر تھا۔ مقابلے کے امتحان کی بجائے سیاسی بھرتی تھا۔ کے پی کے سے اسے بھٹو کے کسی دوست نے یویورسٹی کے آخری سال میں صوبائی ملازمت میں اور بعد میں کسی اہم فوجی افسر نے اسے اسلام آباد پہنچا دیا تھا۔ نوکری سے نکالے جانے کے خوف سے ان دنوں اسلام آباد کی گمنام بیوروکریسی کا حصہ بن گیا تھا ورنہ اس کی منزل تو ایف آئی اے تھی۔ بدلے ہوئے سیاسی منظر نامے کی وجہ سے اس میں وہ اکڑ فوں نہ تھی کیوں کہ اس کے سیاسی مہربان و مربی خود بھی دم دبائے بھاگے پھرتے تھے۔ ان دنوں وزارت مذہبی امور کا دفتر ایک ایسا بنگلے میں تھا جو بمشکل دو کنال کا اور نسبتاً ایک کم ٹونی علاقے میں تھا۔ آدمی بہت کشادہ دل تھا وہ کمینگی، تعصب اور چھوٹا پن نہ تھا جو آپ کو ڈی ایم جی کے افسران میں ٹھونس ٹھونس کر بھرا ہوا ملتا ہے۔

جمیل اس دوپہر ہراساں اور سر پکڑے بیٹھا تھا۔ وزارت خارجہ نے اسی صبح وزارت مذہبی امور کو حضرت امیر خسرو کے عرس کے لیے بھارت کی منظوری کی اطلاع دی تھی۔ یہ منظوری اس حاکمانہ اصرار کے ساتھ سی ایم ایل اے یعنی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر (C.M.L.A جنہیں ٹوبہ ٹیک سنگھ کا یونس پنجابی میں کملا بمعنی پاگل کہتا تھا) کی جانب سے موصول ہوئی تھی کہ چونکہ مارشل لا لگنے کے بعد یہ پہلا خیر سگالی وفد ہوگا لہٰذا سے ہر قیمت پر جانا چاہیے۔ یہ فوجی جب اقتدار میں ہوں تو بھارت سے عمدہ تعلقات اور جب یہ بیرکوں میں ہوں تو ان کو لائن آف کنٹرول پر کھلواڑ کا شوق ہوجاتا ہے۔ کیبنٹ سیکرٹریٹ نے احکامات کی ترسیل کے وقت یہ وضاحت بھی کردی تھی کہ وقت کی کمی کو بہانہ نہ بنایا جائے۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ پچھلے سال سے موجود درخواستوں کی وجہ سے پرائیوٹ ممبران جن کی تعداد ساٹھ کے قریب بنتی تھی انہیں اطلاع دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ان کے لیے سات آٹھ سرکاری افسران رابطہ کہاں سے مہیا کیے جائیں۔ محکموں کو نامزدگی کا لکھا جائے تو بہت دیر ہوجائے گی۔

ریلوے کے پختون افسر شفیق نے تجویز پیش کی کہ ہفتے بھر کی بات ہے۔ اگر وزارت خرچہ اٹھائے تو افسران رابطہ تو اس کے سامنے بیٹھے ہیں۔ اس خرچے میں آج کا کھانا اور فلم بھی شامل ہوگی۔ میکن جو ہم سب میں جگاڑو تھا اس نے جمیل کو سجھاؤنی دی کہ سیکرٹری صاحب کے پاس ہم سب کے ناموں کی منظوری کا نوٹ بناکر لے جاؤ۔ سیکرٹری اسٹبلشمنٹ کے نام ڈی او لیٹر بناکر لے آؤ۔

ان دنوں سیکرٹری محترمہ ادا جعفری کے شوہر جو اکاؤنٹس گروپ کے افسر تھے، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ تھے نام تو نور الحسن جعفری تھا مگر لکھتے این-ایچ-جعفری تھے طبیعت میں چھوٹا پن ہونے کی وجہ سے بیوروکریسی ان سے نالاں رہتی تھی، اس لیے افسران انہیں Never Happy, Never Healthy, Never Helpful جعفری کہتے تھے۔ بہت قالین طبع (یہ اس پیاری سی ریسرچ افسر کی اصطلاح تھی جس کی اسکالرشپ پر بیرون ملک روانگی وہ دو دفعہ مسترد کرچکے تھے) اکاؤنٹس گروپ کا ہونے کے ناطے ڈی ایم جی والے ان سے بہت دل گرفتہ اور رنجور رہتے تھے۔ چیف سیکرٹری، سیکرٹری فنانس، پرنسپل سیکرٹری صاحبان، ہوم سیکرٹری اور خود سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا عہدہ ڈی ایم جی افسران یہ سمجھتے تھے کہ ان کی والدہ جہیز میں لے کر آئی ہیں۔ ایسے میں اکاؤنٹس یا کسی اور گروپ کے افسر کا وہاں تعینات ہونا یہ ڈی ایم جی ایسے ہی سمجھتے جیسے مسجد میں کسی سؤر کا داخل ہوجانا۔

این ایچ جعفری فائلوں پر ایسے پھونک پھونک کر قلم چلاتے جیسے غریب نابینا فقیر ریزگاری گنتا ہو۔ سیکرٹری صاحب نے منظور کردیا اور خط بھی سائین کردیا تو مذہبی امور میں تعینات پختون جوائینٹ سیکرٹری صاحب کو اس سلسلے میں ہماری تجویز پر شفیق کے ذریعے اعتماد میں لیا گیا وہ فون پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تعینات خفیہ ایجنسی والے پختون بریگیڈئیر ریاض کے ذریعے این ایچ جعفری سے منظوری لے کر نوٹی فکیشن جاری کردیں۔ خط کل صبح دستی طور پر مل جائے گا۔ ہم اس نوٹیفکشن کے اجرا کے بعد لاہور پہنچ گئے کہ ہندوستان روانہ ہوجائیں۔

لاہور میں ہماری ایک عزیزہ کو اصرار ہوا کہ فیروزہ ان کی بچپن کی دوست ہے۔ جاپانی کرنکل شفون کی ساڑھیوں کا بہت شوق ہے وہ ہم لے جائیں۔ بے چاری کو تازہ طلاق ہوگئی ہے۔ بہت اداس ہے۔ دیکھو گے تو دیکھتے رہ جاؤ گے ایسی حسین ہے۔ تازہ مطلقہ عورتوں کے متعلق سیانے کہتے ہیں کہ ان سے ذرا بچ کر رہا کرو یہ Bounce Back پر ہوتی ہیں اور بقول فراز

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہوگئے

پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہوگئے

ہم نے جمیل کو یہ بتایا تو اس کے دماغ میں یہ کاروباری نقطہ سمجھایا گیا کہ کسٹم سے بچنے کے لیے ان سادہ لوح زائرین کے سامان میں ایک ایک کرکے بیس پچیس جاپانی سلک اور شفون ساڑھیاں یہ سمجھا کر رکھ لیتے ہیں کہ یہ مزار کے لیے چڑھانے کی سرکاری چادریں ہیں۔ چھ ساڑھیاں البتہ فیروزہ کی ہیں۔ چار پانچ اصلی چادریں کسی بوڑھے مرد زائر کے سامان میں دے مار، باقی دہلی سے خرید لیں گے۔ عرس والے دن چڑھادیں گے۔ چادریں دہلی میں بیچ کر عیاشی کریں گے۔ کراچی سے آئے ہوئے ایک آدھ زائر نے اعتراض کیا تو اس نے یہ کہہ کر اسے ڈرایا کہ اس کا نام آئندہ کسی وفد میں شامل نہیں کیا جائے گا کیوں کہ وہ گفتگو میں بہت بے احتیاط ہے اور زیارتوں سے زیادہ فلمیں دیکھنے میں دل چسپی ہے۔ اس کی بیگم کے بکس میں تین ساڑھیاں بطور چادر دیکھ کر سکھ کسٹم افسر نے اعتراض کیا تو بیگم پھٹ پڑی اور جتلانے لگی ’’اے لو کیا بولی جاریا ہے سمجھ نہیں رہیا کہ جو ہم خود پہنیں وہی مزار پہ چڑھاویں۔ ہمارے بادشاہ کے موسیقار امیر خسرو تھے کوئی تیرے سادھو سنت نہیں کہ قبر پر پرانی لنگوٹ ڈال کر لوٹ جائیں۔‘‘ سکھ انہیں چھیڑ کے مذاق سے بہت محظوظ ہوا۔

روانہ ہوئے تو مرحلہ بہت آسان تھا۔ امرتسر تک بس لے گئی۔ دہلی جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہونے مرحلے میں یونس کو پلیٹ فارم پر جو دو سکھ ملے وہ بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھے۔ وہ انہیں ٹوبے کی باتیں کرکے رُلاتا رہا۔ ہمیں حیرت ہوئی کہ ان کے خوابوں کا آج بھی ہر حوالہ صرف ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی ہے۔ ہم نے پوچھا کہ کیا ٹوبہ واقعی اتنا اچھا قصبہ ہے؟ تو کہنے لگا کہ نہیں! لعنت بھیجو۔ رونا اس بات پر آرہا ہے کہ تیس سال ہونے کو آئے مگر اس طرف کے پنجابیوں نے بھی grow کرنا چھوڑ دیا ہے۔

میکن کو یہ جملہ برا لگا تو وہ کہنے لگا کہ ایدے وچ میاں گرو کرن دی کہیڑی گل اے؟ جس پر جمیل بابر جو ہزارہ کا تھا، کہنے لگا کہ دنیا میں کوئی بھی میوزک بجے، پنجابی انگلی کھڑی کرکے بھنگڑا ہی ڈالے گا اور پنجابی کتنا ہی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو جب انگریزی زبان بولے گا تو لگے گا کہ جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ سب سن میکن دہلی تک چپ رہا۔

پرانی دلّی میں ہمیں ایک بڑے سے کیمپ میں ٹہرایا گیا۔ نگرانی کے لیے بھارت کے جو افسر خفیہ متعین کیے گئے تھے۔ انہوں نے اپنا تعارف مہیت شکلا فرام چندی گڑھ کہہ کر کرایا تو سرگودھے کے سکندر میکن صاحب نے اس سے پنجابی بگھارنا شروع کردی۔ جس پر وہ سلیقے سے دامن چھڑا کر ایک طرف ہوگئے۔

شام کو جب بستی نظام الدین کھانے کے لیے ہم دوست جارہے تھے تو وہ بھی ہمیں ٹیل (Tail) کررہے تھے۔ جب نگاہ پڑی تو ذرا لجانے لگے۔ ہم نے سکندر صاحب کو بتادیا تھا اپنے پاجامے اور انگریزی کے حساب سے یہ گجراتی بابو ہیں۔ کندھے پر ہاتھ رکھ کرہم نے جب گجراتی میں کہا کہ ’’گجراتی ہو تو بلاوجہ پنجابی بننے کا کیا فائدہ؟ پنجابی گجراتیوں سے نہ تو زیادہ ذہین ہیں، نہ مالدار۔ ان سے زیادہ امپر یس مت ہوا کرو۔ افسر افسر سے جھوٹ تھوڑی بولتا ہے۔ ہم بھی سرکاری کام سے تمہاری سرکار کی منظوری سے آئے ہیں تو اس نے بہت آہستہ سے بتایا کہ اس کا نام ششی کانت پٹیل ہے اور وہ ہم پر نگرانی کے لیے مامور ہے‘‘۔ کھانے کی دعوت دی تو بے چارہ ضد کرنے پر شامل طعام ہوگیا۔

عمر رسیدہ آدمی تھا، ریٹائرمنٹ میں سال بھر باقی تھا۔ ہم نے کہا اپنے مین مقصد کے علاوہ ہمارا کام تاریخی مقامات کی سیر، ہوٹلوں میں کھانا کھانے چاؤڑی بازار اور چاندنی چوک کی سیر فلم کبھی کبھی اور ستیم شیوم سندرم دیکھنا ہے۔

اگلے دن جمیل نے زائرین سے وہ ساڑھیاں لے کر خفیہ افسر پٹیل کے حوالے کردیں کہ انہیں بیچ کر پانچ فیصد کمیشن خود رکھ لے اسی رقم میں سے چالیس چادریں بل سمیت لے آئے۔ ششی کانت پٹیل کی مرضی تھی کہ کچھ کمیشن اس میں سے بھی رکھ لے مگر جمیل اڑ گیا کہ وہ سرکار کا پیسہ ہے اس میں وہ بے ایمانی نہیں ہونے دے گا اس پر اس کا ساڑھیوں کی فروخت میں منافع کا کمیشن دس فیصد کردیا گیا۔

سوچیے سن 77ء میں بیوروکریسی کا کیا معیار تھا۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ اسی وزارت میں غریب حاجیوں کو ڈی ایم جی افسر راؤ شکیل اور مولوی وزیر نے چاروں ہاتھوں سے لوٹا۔ جمیل کو ساڑھیوں کی فروخت میں بھارتی روپے میں ڈبل قیمت ملی تو اس کا شمار دھیرو بھائی پٹیل (مکیشن اور انیل امبانی کے والد) کے ہم پلّہ مالدار افراد میں ہونے لگا۔

ہمیں یہ پٹیل ہی کی کارستانی لگتی ہے کہ عرس پر جب اندرا گاندھی کے صاحبزادے آنجہانی سنجے گاندھی تشریف لائے تو وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر سیدھا ہم افسروں کی جانب لے آیا۔ ہم سے رسمی گفتگو کے بعد انہوں نے ہمیں اپنے گھر ایک دن چھوڑ کرصبح کی چائے پر بلالیا۔ چلتے ہوئے یہ پٹیل ہی تھے، جنہوں نے بہت واضح طور پر سنجے گاندھی کو باآواز بلند جتلایا کہ’’ صاحب ٹرانسپورٹ‘‘ جس پر انہوں نے کہا Don't worry. I will send the car. we have only one car so it has to make two trips.

آپ کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو کہ دیویگوڑا نرسمہا راؤ کے بیٹوں اور راجیو کے علاوہ کسی بھارتی وزیر اعظم پر کرپشن کے کوئی الزام نہیں لگے جب کہ ہمارے ہاں تو لیاقت علی خان کے مختصر دورانیے کے بعد جو بھی آیا وہ کرپشن کے معاملے میں مرے کو مارے شاہ مدار نکلا ہے۔

شام کو اپنے آپ کو شامل کرکے فیروزہ کو بااہتمام حجت سامنے رکھ کر ستییم شیوم سندرم کی تین ٹکٹیں بک کرالیں تھیں۔ باقی ساتھی بغیر ویزہ آگرہ روانہ ہوگئے تھے، موڈ تو ہمارا بھی بہت تھا مگر ہمیں اور جمیل کو پٹیل نے یہ کہہ کر روک لیا کہ میں گجراتی ہونے کے ناطے کوئی چانس نہ لوں اور جمیل تو وفد کے لیڈر ہیں لہٰذا ان کی غیر موجودگی کو ان کا عملہ نوٹ کرلے گا۔ کیا خبر اس عملے کا کوئی رکن کسی اور ادراے کو بھی رپورٹ کررہا ہو؟ فیروزہ کو ساڑھیاں ملی تو مچل گئی کہ کھانے پر لے جائے گی۔ ہم نے اس شرط پر کھانے کی دعوت قبول کی کہ وہ ہمارے ساتھ فلم دیکھے گی۔ فلم کا نام سن کر دویدا میں پڑگئی۔ کچھ دیر دیکھنے کے بعد ہماری عزیزہ نیلوفر کے نام سے کہنے لگی OK I trust Neelo ۔ پٹیل صاحب نے بہت مارا ماری کرکے اس کی اچانک شمولیت کی وجہ سے چوتھے ٹکٹ کا بندوبست کیا تھا جب سنیما میں ہم داخل ہورہے تھے تو پٹیل نے زینت امان کا قد آدم نیم عریاں پوسٹر دیکھ کر انگریزی میں بہت زور سے ارشاد کیا No one should ever trust me ever for Zeenat Aman.

تیسرے دن ہم ایک صفدر جنگ مارگ (ہندی بمعنی روڈ) پر اندرا گاندھی کی رہائش گاہ پر موجود تھے۔ اندرا گاندھی کی اس رہائش گاہ کو ان کے صاحب زادے راجیو نے، جو ان کے قتل کے بعد وزیر اعظم بنے تھے اُن کے نام سے موسوم کرکے ایک یادگاری عجائب گھر بنادیا۔ صفدر جنگ روڈ پر سرکاری بنگلوز کا ایک سلسلہ ہے۔ ایک نمبر میں اندرا گاندھی رہتی تھیں۔ سات نمبر میں پرمود مہاجن بعد میں رہائش پذیر ہوئے وہ بی جے پی کے سیکرٹری جنرل تھے لیکن انہیں ان کے بھائی نے گولی مار کر ہلاک کردیا تو صفدر جنگ مارگ کو بھی منحوس سمجھا جانے لگا۔

اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی

ہندوستان کے سبھی سابق وزارئے اعظم کو ٹائپ آٹھ بنگلہ سرکار کی جانب سے تحفے میں ملتا ہے۔ یہ ہندوستان میں اعلیٰ ترین سرکاری رہائش گاہ سمجھا جاتا ہے۔ من موہن سنگھ بہت بعد میں انیس نمبر بنگلے میں رہائش پذیر ہوئے۔

اندرا گاندھی اور ان کا خانوادہ اسی رعایت سے یہاں قیام پذیر تھا گو الیکشن میں دھاندلی کے الزام میں سن 1975 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ان کا لوک سبھا کا انتخاب راج نرائین صاحب کی انتخابی عذرداری کو تسلیم کرتے ہوئے ناجائز قراد دے دیا تھا۔ اس فیصلے کا بھیانک پہلو یہ تھا کہ اندرا گاندھی صاحبہ چھ سال تک لوک سبھا کی ممبر بننے کا انتخاب تو لڑ سکتی ہیں مگر بدیانتی ثابت ہونے کی وجہ سے اس اثناء میں کسی سرکاری عہدے کی اہل نہیں ہوسکتیں۔

دوبارہ انتخابات ہوئے تو سن 1977 میں موصوف نے انہیں رائے بریلی یوپی سے شکست دی۔ 1980 میں البتہ وہ دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوگئی تھیں، وہ چار سال وزیر اعظم رہیں اسی دوران انہیں اکتوبر میں اپنی اسی رہائش گاہ کے عقب میں واقع کانگریس کے ہیڈ کوارٹر ایک اکبر روڈ پیدل جاتے ہوئے ان کے دو سکھ گارڈز ستونت سنگھ اور بیونت سنگھ نے قتل کردیا تھا۔ ہندوستان کے تمام سکھ بشمول خوشونت سنگھ کے اندرا گاندھی کے امرتسر میں گردوارہ ہری مندر صاحب اکال تخت پر آپریشن بلیو اسٹار کے ذریعے حملہ کرنے کے مخالف تھے۔ اس کے تمام کرداروں بشمول اندارا گاندھی اور ایک میجر جنرل کو قتل کرکے لیا گیا۔ اس عمارت میں وہ جس چھوٹی سی پگڈنڈی پر ہلاک ہوئیں وہاں اب شیشے اور کرسٹل کا ایک ایسا راستہ بنادیا گیا جو بہتے دریا کا شاعرانہ منظر پیش کرتا ہے۔

اندرا گاندھی اس پگڈنڈی پر قتل ہوئیں، جہاں اب شیشے اور کرسٹل کا راستہ ہے

سنجے گاندھی نے سفید ایمبیسڈر کار بھیجی تھی۔ اسلام آباد میں چونکہ ان دنوں ڈپٹی سیکرٹری بھی ویگن سے آیا جایا کرتے تھے، سرکاری گاڑی تو دور دراز کی بات ہے بلکہ قدرت اللہ شہاب صاحب تو صدر کا سیکرٹری ہوتے ہوئے بھی رکشہ پر ایسے ہی آتے جاتے تھے جیسے اب بڑے سیکرٹری چارٹر جہازوں پر باہر کی کھیپ لگاتے ہیں۔ کار کو دو پھیرے کرنے پڑے، کیوں کہ ہم کل چھ افسر تھے، ششی کانت پٹیل اور ان کا انسپکٹر بھی لازمہ تھے۔ یوں کل آٹھ مسافر بنے۔ ہمیں لگا کہ ان کے بود بو باش اور زندگی میں واقعی سادگی ہے۔ صفدر جنگ روڈ پر سرکاری رہائش گاہوں کی قطار ہے۔ اندرا گاندھی یہاں مقیم تھیں۔ پہلے وفد کو ایک افسر نے بہت غیر رسمی انداز میں خوش آمدید کہا۔ لان میں رکھی کرسیوں پر بٹھادیا۔ اسی دوران ان کے ٹوائلٹ کی صفائی شروع ہوگئی اور لان کی نالیوں سے گندگی کا ایک ایسا طوفان بہہ نکلا کہ دماغ کی جھلیوں تک پر ورم آگیا۔ تھوڑی دیر میں دوسرا گروپ بھی آگیا تو ہمیں ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ سنجے گاندھی کا دور دور تک پتہ نہ تھا اور پٹیل صاحب کمرے کے باہر ہی رک گئے تھے۔ کمرے کا فرنیچر پرانا، فرش پر بچھی بڑی سی دری قدرے میلی، کھڑکیاں بڑی، پردے ندارد۔ ہمیں بیٹھے کچھ ہی لمحات ہوئے ہوں گے۔ آپ کو جو فرنیچر اور صفائی اس تصویر میں دکھائی دیتی ہے وہ ان دنوں موجود نہ تھی۔

استقبالیہ کمرہ

اس ہی رہائش گاہ میں اب ایک بورڈ پر اندرا گاندھی کے سات اہم قومی فیصلے درج ہیں۔ ایمرجنسی کا نفاذ اس میں چھٹے نمبر پر ہے۔ باقی اہم فیصلوں میں بنگلہ دیش کا قیام۔ بنکوں کو قومیانہ، غریبی ہٹاؤ پروگرام اور 1977 میں لوک چناؤ کا اعلان۔ تب یہ سب کچھ نہ تھا۔

باہر لان مین منتظر افسران کو اشارہ ہوا کہ آجائیں، میڈم آرہی ہیں تو ہم سب لان سے ڈرائینگ روم میں آگئے۔ اچانک ایک بڑے سے بسکٹی رنگ کے کتے جنہیں انگریزی میں Great Dane کی رفاقت میں محترمہ اندرا گاندھی اور سنجے گاندھی داخل ہوئے۔ وہ بہت باوقار خاتون تھیں۔ انہیں اپنے وجود کا، اپنی طاقت کا بہت احساس تھا اور یہ احساس ان کے ارد گرد ایک ہالہ، ایک حصار سا کھینچ دیتا تھا۔ ہندوستان میں گورا رنگ خال خال دکھائی دیتا ہے وہ دونوں ماں بیٹا بہت اجلی رنگت اور بہت سادہ سماجی مزاج کے حامل تھے۔ سنجے میں ہمیں پہلی ملاقات میں بہت جلد بازی دکھائی دی جب کہ مسز اندرا گاندھی میں اس طاقتور ہستی کا ٹہراؤ تھا جو اپنی باری کا تحمل سے انتظار کرنا جانتی ہو۔ ان کی خود اعتمادی سے خوف آتا تھا۔

اندرا گاندھی اپنے Great Dane کتے کی رفاقت میں

کتا کمرے میں چکر لگا رہا تھا اور اندرا گاندھی سنجے سے آہستہ آہستہ کچھ سرگوشیاں کر رہی تھیں۔ کتے کے قد و قامت سے سیکشن افسر سکندر خوف زدہ ہوگیا تھا اس نے دبے لفظوں میں جب ریلوے کے افسر شفیق کو کہا کہ میں اپنی ساری زندگی اینا وڈا کتا کدی نئیوں ویخیا (میں نے ساری زندگی اپنی اتنا بڑا کتا نہیں دیکھا) جس پر شفیق نے کہا فکر نہ کر اسلام آباد وچ تیرا اے گلہ جلدی ختم ہوجائے گا۔ اندرا گاندھی نے سکندر کا خوف بھانپ لیا اور کتے کو انگریزی میں Duke! You Now Go Away کہا تو وہ کمرے سے رنجور ہوکر چلا گیا۔ اسی دوران سنجے نے ہم سے معذرت کی کہ چکمہ گلور کرناٹک سے کچھ لوگ آئے ہیں ایک وفد کی صورت میں۔ اپ امی سے بات کرو، ہم پھر ملیں گے۔ اندرا گاندھی نے سب سے سوال کرکے تفصیلی تعارف حاصل کیا۔ پاکستان کی سول سروس پر کئی سوالات کیے۔ وہ اپنی سول سروس سے بھی کچھ زیادہ خوش نہ تھیں مگر انگریزی میں کہنے لگیں کہ ان کے پاس جو رپورٹ اور بیرونی دوروں میں تاثرات جمع ہوتے ہیں اس لگتا ہے کہ پاکستانی سول سروس اب بھی اس انگریز راج والے مائنڈ فریم میں ہے، لوگوں سے دور ہے، اس میں وژن اور لیڈر شپ کا وہ معیار نہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے لیے لازم ہوتا ہے۔ انہیں لگا کہ بات کچھ کڑواہٹ کا شکار ہوگئی ہے تو مسکراکر کہنے لگیں چلو! فوجی حکومت کی وجہ سے ایک لمبے عرصے کے لیے تم لوگوں کی جان کمزور اور کنفیوژڈ سیاست دانوں سے چھوٹ گئی۔ اپنی سول سروس کے بارے میں جمیل کے سوال کے جواب میں وہ کہنے لگیں کہ ہاں ہمارے ہاں علاقائیت بہت زوروں پر ہے۔ ساؤتھ نارتھ تقسیم بھی بہت دیکھی جاسکتی ہے مگر چونکہ ہمارے ہاں سیاسی نظام ایک تسلسل اور عدالتی نظام پر عزم اور خود سے بہت باضمیر ہے، ہمارا پریس بھی بہت قابل اور بے رحم ہے (بہت باضمیر اور بے رحم والے الفاظ پر ان کے پتلے سنگدل ہونٹوں پر خود بخود ایک دبی سی طنزیہ مسکراہٹ آگئی) لہٰذا بیوروکریسی کی علاقائیت دہلی آن کر مرکزی پالیسی کی تابع ہوجاتی ہے۔ میرے بدترین نقاد بھی ان کے نزدیک میرے ناپسندیدہ دور (ایمرجینسی، دیکھا ان کا الفاظ کا انتخاب) میں بڑے ترقیاتی پروگراموں پر تعصب، کرپشن اور جنتا دشمنی کا الزام نہیں لگا سکتے۔ ہم نے انہیں مشرقی پاکستان پر انہیں آڑے ہاتھوں لیا تو وہ کہنے لگیں کہ

"ہم بھارت سے محبت کے خواب کیوں دیکھتے ہیں، ہمارے عزائم تو گلوبل ہیں۔ ہمارا خواب تو Empire of Ashoka and More۔"

ہم نے کہا "کیا اس میں تھائی لینڈ، تبت بھی شامل ہیں؟" تو کھلکھلا کر ہنس پڑیں اور کہنے لگیں

Lets put Norway in your list too.. If that be soon You would be my first governor there" (تمہاری اس فہرست میں ناروے شامل کرلیتے ہیں، ایسا ہوا تو تم میری جانب سے وہاں پہلے گورنر ہوگے)

ہم نے انگریزی میں کہا On the contrary My Mom would love me to see as first Pakistani Muslim Governor of Mahrashtra (میری والدہ کا خواب ہے کہ میں مہارشٹرا کا پہلا پاکستانی مسلمان گورنر بنوں)

"Ah a Mother's Dream (ہائے ایک ماں کا خواب!)" انہوں نے ناگواری سے بھویں سکیڑ کر دبے دبے سے طنزیہ لہجے میں جملہ کسا

Legitimate Though (جائز تو ہے نا؟)

Indeed. As long as it stays a dream

ہمارے دل میں بہت آیا کہ کہہ دیں کہ کشمیر اور ہمارے والدین کا جوناگڑھ اور کاٹھیا واڑ ہمیں لوٹا دیں اور اشوکا ایمپائر کو اٹاری تک ہی سمیٹ کر رکھیں۔

قتل کے وقت اندرا گاندھی نے یہ ساڑھی زیب تن کر رکھی تھی۔ ان کا جوتا اور بیگ بھی ساتھ ہے

ان کی اس "بے شک" اور اس "بے شک" میں ایک اداسی اور اپنے خواب جو انہوں نے سنجے گاندھی کے حوالے سے دیکھے تھے وہ سبھی شامل تھے۔ انہوں نے اس موقع پر کھڑے ہوکر سنجے گاندھی کو لان میں دیکھا اور وہ انہیں کھڑکی میں دیکھ کر اس طرف آگیا، وہ کہہ رہا تھا کچھ بڑی امید لے کر آئے ہیں۔ چکمہ گلور کی بعد میں ان کی زندگی میں بڑی اہمیت ہوگئی وہ یہاں سے 1978 میں انتخاب جیتیں اس انتخاب کے بعد ان کے لیے دو سال بعد جنوری کے عام انتخابات جیت کر وزیر اعظم بننا آسان ہوگیا۔ لیکن ٹھیک چھ ماہ بعد سنجے گاندھی ایک فضائی حادثے کا شکار ہوگئے۔ چلتے وقت انہوں نے سوال کرنے کے لیے اکسایا تو ہم نے ان سے پوچھا کہ "ان کے خاندانی پس منظر، امتیازی حوالوں اور شہرت و تجربات کی روشنی کو سامنے رکھتے وقت کیا وہ بھی کسی سے متاثر ہوتی ہیں؟ وہ کہنے لگیں کہ کچھ دن پہلے سنجو بابا نے بھی مجھ سے یہی سوال پوچھا تھا تو وہی جواب آپ حضرات کے لیے بھی ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا نہیں جس سے آپ کچھ سیکھ نہ سکیں، نہ کوئی ایسا ہے جسے آپ کچھ سکھا نہ سکیں۔" ملاقات ختم ہوئی، باہر نکل کر ہم نے پہلے تو اکبر روڈ پر لذیز چاٹ کھائی اور بعد میں کریم جواہر ہوٹل پر بادامی قورمہ اور زعفرانی کھیر اور کمپلمنٹری مسالہ چائے۔ وہاں ایک صفدر جنگ مارگ پر تو کسی کو چائے پلانے کا خیال تک نہیں آیا تھا۔

بہت بعد میں لیو کوان یو، سنگاپور کے مرد بے مثال، نے مسز اندرا گاندھی کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہی ہمارے بھی تاثرات ہیں۔ لی کوان یو ان کے والد پنڈت جواہر لال نہرو سے بہت متاثر تھے۔ وہ انہیں حقیقی رہنما مانتے تھے مگر وہ اندرا گاندھی کو بے رحم اور آتشی مزاج سمجھتے اور ان میں سری لنکا کی وزیر اعظم مسز بندرانائیکے اور برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کی طرح ظالمانہ حد تک عمل پسند رہنما سمجھتے تھے۔ مسز اندرا گاندھی کو خود اسرائیل کی وزیر اعظم گولڈا میئر بہت پسند تھیں۔ اندرا گاندھی ہندوستان کی بہت سخت گیر خاتون وزیر اعظم تھیں۔ وہ عورت ضرور تھیں مگر نسوانیت ان کے قریب سے بھی نہ گزری تھی۔ وہ مارگریٹ تھیچر سے زیادہ بے رحم تھیں۔ انہوں نے غریبوں کے حق میں نعرے تو بہت لگوائے مگر ان کے لیے کوئی خاص پروگرام بنانے سے وہ محروم رہیں۔ ان کا رجحان اور جھکاؤ بائیں بازو کی جانب تھا، گو وہ ان کے پروگراموں میں وہ معاشی وابستگی اور بہتری دکھائی نہ دیتی تھی۔

ہمیں لگا کہ اس دن وہ سول سروس کے ممبرز ہونے اور ان کے صاحبزادے کے لائے ہوئے مہمانوں کی مناسبت سے دو مقامات عالیہ سے ہم سے مخاطب تھیں۔ ایک کنٹرولنگ وزیر اعظم، ایک فتح یاب دشمن اور کبھی کبھار ایک مادر مہرباں!

Comments

اقبال دیوان

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان صوبائی سیکریٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے اور سندھ سول سروسز اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ آپ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کے افسانے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ مطالعہ، مصوری اور سفر کے شوقین ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.