رمضان المبارک اور خود احتسابی (1) - بشریٰ تسنیم

ایک مسلمان وہ مرد ہو یا عورت جب تک اپنا بے لاگ احتساب نہیں کرتا اس کی اصلاح کے مواقع سامنے نہیں آتے۔ کمی کہاں ہے؟ خطا کیا ہے؟ گناہ کیا ہیں؟ اور ان میں ہمارا نفس کتنا آلودہ ہے؟ یہ سب عوام الناس کی نظروں سے اوجهل رہتا ہے۔ صغیرہ، کبیرہ، ظاہر ی باطنی، جانے ان جانے کیے گئے گناہوں کی معافی مانگ تو لیتے ہیں لیکن اس جملے کی روح سے نابلد ہوتے ہیں۔ کوئی ندامت کا جذبہ اس جملے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ ہوائی باتیں اور زبان کی ورزش کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ نہ دل کی دنیا میں شرمندگی کا جوار بهاٹا اٹھتا ہے اور آنکھوں سے جواب دہی کے خوف کی برکھا تو کیا برسنی نمی تک نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی خطاؤں پہ نظر ہی نہیں ہوتی۔ نفس تسلی دیتا ہے کہ ہم نے نہ کوئی قتل کیا ہے، نہ ڈاکا ڈالا ہے، نہ زنا کیا ہے اور نہ ہی ملک وقوم سے غداری کی ہے۔ ہم ایک اللہ کو مانتے ہیں، اس کے محبوب نبی کریم کو آخری نبی مانتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھتے اور حج عمرہ کرتے اور زکٰوة ادا کرتے ہیں اور یہ سب اعمال کرنے کے باوجود ہم استغفار بهی کرتے ہیں۔

یقیناً یہ سب ایک مسلمان کی صفات ہیں اور جنت ایسے مسلمان کے لیے واجب ہے۔ مگر کیا ہم حقوق الله، حقوق العباد کی ادائگی میں معیار کا بهی خیال رکھتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ نیکی کے معاملے میں کمتر معیار پہ راضی ہونے کی عادت میں مبتلا ہیں اور دنیا کی خواہشات کے لیے معیار اعلیٰ ترین ہے؟ اور کیا یہ یاد رہتا ہے کہ اللہ رب العزت نے بندے سے یہ پوچھنا ہے کہ جو کچھ کر پانے کے وسائل، اختیارات، صلاحیتیں اور مہلت دی گئی تھی اس کے حساب سے کیا کرکے آئے ہو؟ جو کما کے لائے ہو وہ الگ بات ہے یہ دیکھا جائے گا کہ کیا کچھ کر سکتے تھے وہ کیوں نہیں کیا؟

میزان اسی لیے تو رکھی جائے گی کہ دنیا کی چاہت کے پلڑے میں وزن زیادہ ہے یا پهر آخرت کی چاہت میں وزن زیادہ ہے۔ دل کی سچی اور کهری چاہت پہ ہی اعمال کی درجہ بندی کی جائے گی۔ اللہ تعالىٰ نے مومنوں کو تلقین کی۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (سورۃ الحشر – 18)

یہ بھی پڑھیں:   ذاتی احتساب کامیابی کا راز - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

اے مومنو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر نفس یہ جائزہ لیتا رہے کہ وہ اپنی کل (آخرت )کے لیے کیا جمع کر رہا ہے، بے شک اللہ تمہارے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے (کہ وہ عمل کتنا معیاری ہے)

اور اگر مومن اس معیار کا جائزہ لینے سے غافل ہوتا ہے تو نتیجتاً یہ معاملہ سامنے آتا ہے۔

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (سورۃ الحشر – 19)

لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ (سورۃ الحشر – 20)

اور فاسق اور مؤمن کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسے اہل جنت اور اہل جہنم برابر نہیں ہو سکتے۔ اہل جنت میں شامل ہونے کے لیے آج اور ابهی اپنا احتساب بے لاگ کرنا ہوگا اور اپنی کل کے لیے معیاری نیکیاں کرنی ہوں گی۔

محاسبہ یا احتساب بہتر سے بہترین کا سفر ہے۔ ٹارگٹ، منزل یا نصب العین کو پورا کرنے کے لیے کماحقہ کوشش کرتے ہوئے جو کمی، کوتاہی ہوجائے اس کا بر وقت تدارک کرنا ہے جو غلطی ہوجائے اس کو آگے بڑھنے سے پہلے درست کر لینا ہے۔ تاکہ جب مالک کے سامنے کام کی رپورٹ پیش کرنے حاضر ہوں تو مالک خوش ہو جائے۔ اس کو قرآنی زبان میں تقویٰ اختیار کرنا کہتے ہیں۔ یہاں تو مالک رب کائنات ہے اور اس کے حضور پیشی کسی لمحے بهی متوقع ہے اور اس کی نگاہوں سے کسی لمحے بهی ہم اور ہمارے اعمال اوجهل نہیں ہو سکتے۔ اس رب کی عظمت کا احساس، اس کی ذات کی پہچان، اس رب کی رحمت کا عرفان جس قدر دل میں جاگزیں ہوگا اسی قدر مؤمن "ولتنظر نفس ما قدمت لغد" کی حقیقت سے واقف ہوگا۔

پہلا محاسبہ اپنے ایمان کا یہ ہے کہ توحید کا عرفان ہو۔ اللہ ایک ہے۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اس کی ذات پہ ایمان بالغیب کے تقاضے ہر شق اور ہر شرط کے ساتھ پورا کرناہی اس کو ایک ماننا ہے۔ شرک خفی اور جلی کا علم کما حقہ ہونا چاہئے۔ شرک تو کسی صورت معاف نہیں ہوگا۔ جب افکار و اقوال میں أعمال و معاملات میں اللہ رب العزت کی ذات سے تعلق رکھنے کا دعویٰ بهی ہو اور شک تزبزب بهی موجود ہو" دنیا کیا کہے گی"کا خو ف بهی ہو ؛روزی کے حصول میں کامیاب ہونے کے لیے " مروجہ دنیاوی اصول" بهی سہارا لگتے ہوں۔ مشکل کشا اللہ کی ذات بهی سمجھی جائےمگر واسطے کے لیے غیروں کے در پہ حاضری بهی ہو تو ایمان کی یہ کون سی شکل ہے؟ شرک کم ہو یا زیادہ توحید کو خالص نہیں رہنے دیتا۔ اور"ادخلوا فی السلم کافہ" اور "لله الدین الخالص" کا تقاضا بهی یہی ہے کہ ایمان وہی قابل قبول ہے جو خالص ہو اور ہمہ ہہلو مکمل ہو۔ ہم اپنے اعضاء و جوارح سے، زاتی پسند و ناپسند کے معیارسے، خاندان و برادری کے اصولوں سے، پرکھ سکتے ہیں کہ ہم صرف ایک اللہ کے کتنے فرماں بردار ہیں اس ایک اللہ کے سامنے اپنے ہر عمل کی جواب دہی کے لیے کتنے لرزاں ہیں۔ کیا واقعی ہم اللہ کو ایک مانتے ہیں؟ لیکن یہ کیسا ایمان ہے کیسی محبت ہے کہ اس وحدہ لا شریک کی ایک نہیں مانتے یا جو من کو پسند ہو وہ مانتے ہیں اور انفرادی و اجتماعی معاملات میں اپنے رب کو احکم الحاکمین تسلیم نہیں کرتے۔ اور اس رب کائنات کے حضور پیشی کو معمولی حاضری جانتے ہیں۔ ہر مومن اپنا خود محاسب بنے اور سوچے کہ اس نے اپنے رب کے حضور پیش ہوکر زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کو صرف اور صرف "ایک" تسلیم کرنے کےکیا ثبوت تیار کررکهے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   ذاتی احتساب کامیابی کا راز - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

"ولتنظر نفس ما قدمت لغد" کی تلقین سراسر ہمیں بہتر سے بہترین کی طرف راغب کرنا ہے ورنہ وہ مالک یوم الدین تو "علیم بذات الصدور" ہے۔ یہ سب ریکارڈ تو ہمیں ہی دکھانے مقصود ہیں اس دن جب زرہ برابر نیکی اور بدی سامنے لائی جائے گی اور کسی پہ ظلم نہ کیا جائے گا۔ جب حکم ہوگا پڑهو اپنے اعمال نامے کہ آج ہر نفس کو اپنے کرتوت دیکھ کر خود ہی اپنا مقام سمجھ آجائے گا۔ اس دن کی شرمندگی یاد رہنا بهی اللہ سبحانه وتعالىٰ کی ذات کو ایک ماننا ہے۔ دنیا کے انسانوں کے سامنے شرمندگی سے بچنے کے لیے جهوٹ بولنا، اللہ کی ذات کو بهلا دینا ہے۔ جو دنیا کی خاطر اللہ کو بهلا دیتا ہے تو پھر اللہ بهی اسے بهلا دیتا ہے اور اللہ کا کسی کو بهلا دینا یہ ہے کہ اس سے اپنی حالت بہتر کرنے کا احساس چهین لیا جائے اور اس کے لیے ہدایت کے راستے بند ہو جائیں۔

جاری ہے