غلط پروپیگنڈے کی تردیداور، غلط فہمیوں کا ازالہ بھی اہم کام- مولانا عبدالحمید نعمانی

اگر غورسے دیکھاجائے تو چاہے منفی ہو یا مثبت، دونوں صورت میں اسلام اور اور مسلم نام میں بڑی برکت نظرآتی ہے، جس نے مثبت سوچ کے تحت اسلام کو اپنایاہے ، اسے اسلام نے آئینہ بناڈالاہے، لیکن جو منفی ذہنیت کے تحت، اسلام اور اس کے شعائر و احکام کے خلاف نفرت و مخالفت کا اظہارکرتے ہیں، ان کے لیے اسلام خود آئینہ بن جاتاہے کہ اپنی صورت دیکھ لیں کہ کیسی ہورہی ہے؟، اسلام کے مخالفین کا وجود بس اسلام اور اس کے متعلق چیزوں کو غلط طورپر پیش کرنے کی بنیاد پر قائم ہے، اس ذیل میں دیگر ہندوتووادی تنظیموں کی طرح، ہندومہاسبھا تنظیم بھی آتی ہے۔اس نے بھی اب گھر واپسی ،کعبہ اور کچھ مساجد کو مندر بتاکر قابل توجہ بننے کی کوشش شروع کردی ہے۔

آرایس ایس کے قیام سے پہلے اور اس کے قیام کے بعد میں کم ازکم 1944,1945تک ملک میں ہندومہاسبھا کا چرچا اور بول بالا تھا۔ ہندومہاسبھاکے لوگوں نے آج تک غورنہیں کیا کہ ہم آر ایس ایس سے کیوں پیچھے رہ گئے؟، جب کہ ہندوراشٹر کے معاملے میں دونوں یکساں مقصد اور نظریہ رکھتے ہیں، گرچہ سوامی چکرپانی جی جسے حضرات نے بڑی کوشش کی کہ غلط تشریح سے مہاسبھا ‘‘ کوالگ کرکے تنظیم کی مثبت و معتدل شبیہ سماج کے سامنے پیش کی جائے۔سوامی چکرپانی جی نے گوڈسے کے نام پر مندربنانے، گاندھی جی قتل معاملے میں گوڈسے کی تحسین و تائید سے خود کو الگ کرکے اپنی تنظیم کی شبیہ قدرے بہتر طورسے پیش کرکے ملک کی اکثریت کے افراد کو مہا سبھا سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، چکرپانی جی کوبارہا، دیکھاگیاکہ وہ اپنی رائے و موقف پر قائم رکھتے ہوئے، باتوں کو ایسے طرز میں پیش کرتے ہیں کہ مسئلہ ہندومسلم نہیں بن پاتاہے ، مگر دقت یہ ہے کہ ہندومہاسبھاکئی حصوں میں تقسیم ہوگیاہے اور ایک گروہ کے افراد دیگر گروہوں کے افراد کے برعکس طورپر، ایسی باتیں کرتے ہیں کہ میڈیا میں چرچا کے ساتھ، ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی معرض خطر میں پڑجاتی ہے۔

دوسری طرف اس پر توجہ نہ دے کر غیر قابل توجہ بنانے کی پالیسی پر عمل کیاجاتاہے، جس کے نتیجہ میں کوئی ایک چھوٹی سی چنگاری آگے چل کر شعلہ بن جاتاہے اور کچھ نہ کچھ مکانات زد میں آکر راکھ میں تبدیل ہوجاتے ہیں، مسئلہ آرایس ایس اور ہندومہاسبھا کا نہیں ہے، بلکہ دونوں یا دونوں میں سے ایک کے غلط دعوے اور شرانگیزمسلم پر ہندو سماج میں واپس آجائے، تبشیری مہم سے دیگر افراد متاثر ہوکر نفرت وفساد کی راہ کے راہی بن جاتے ہیں۔

اب یہی دیکھیے کہ ہندومہاسبھا کے ایک گروپ نے یہ دعوی پھر اچھال دیاہے مکہ مکرمہ ہمارا مکیشور مندر ہے۔ہندومہاسبھا کی علی گڑھ اکائی نے ہندو نئے سال کا ایک کلینڈر جاری کیا ہے، جس میں تاج محل سمیت 7 مساجد اور مغلیہ دور کی عمارتوں کی تصاویر دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیاہے کہ یہ تمام عمارتیں حقیقت میں ہندوعمارتیں ہیں۔پی ، این ،اوک جیسے اپنے انداز کے انوکھے مورخ تاج محل، قطب مینار، بابری مسجد ، جون پور کی اٹالہ مسجد، متھرا، کاشی، مدھیہ پردیش کی مولا مساجد وغیرہم کو برسوں سے ہندوعمارت و عبادت گاہ باورکرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاج محل وغیرہ کو ہندومندر یا عمارت بتانے کی مہم کو بڑی تعداد میں لوگ قابل توجہ نہیں سمجھتے ہیں۔مکہ مکرمہ کو مکیشور مندر بتانے کو تو اور بھی ناقابل التفات توجہ معاملہ سمجھتے ہیں۔ تاہم ملک کی ایک تعداد پروپیگنڈا کو حقیقت سمجھ کر نفرت کی سیاست کا شکار ہوجاتی ہے۔

اس تناظر میں نظر، انداز یا گریز کی پالیسی زیادہ مفید نہیں ہے، اگر کوئی دعویٰ یا غلط پروپیگنڈے کی خبر پرنٹ یا الکٹرانک میڈیا میں نہ آئے تو نظرانداز کرنے یا گریز کرنے کی پالیسی کسی درجے میں مفید ہوسکتی تھی، لیکن اگر میڈیا میں غلط پروپیگنڈے کو جگہ مل جائے تو دعوے اور تشہیر کی تردید و وضاحت اور دعوے سے متعلق بنیادی سوالات اٹھانا، ضروری اور وقت کا تقاضا ہو جاتاہے۔

20؍مارچ 2018ء کو مختلف ذرائع سے شائع خبر میں ہندومہاسبھا کی نمائندہ پوجاکے حوالے سے بتایا گیاہے کہ بیرون حملہ آوروں نے ملک کے ہمارے مذہبی مقامات کو لوٹا اور ان کے نام تبدیل کرکے انہیں مسجد میں تبدیل کردیا۔اب مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہندوؤں کے مذہبی مقامات کو واپس کردیں، اگر مسلمان دریا دلی دکھاتے ہیں تو ہم لوگ واپس ملے مذہبی مقامات کے نام پھر سے تبدیل کرلیں گے، یہ دعوے تو ہندستان کے تناظر میں ہیں، اس سے بہت آگے کا دعویٰ یہ ہے کہ جب مسلمان مکہ میں حج کے لیے جاتے ہیں تو سفید پوشاک پہنتے ہیں ،جل چڑھاتے ہیں۔ اسے آپ مسلم روایت کا حصہ نہیں مان سکتے بلکہ ہندوتو سے جڑے ہیں، ہندوتو کی تحریکات سے وابستہ افراد چاہے وہ کسی بھی تنظیم کے ہوں، اگر ان کے دعوؤں میں دلیل اور ثبوت کو تلاش کریں گے تو آپ کو عموماََ محرومی ہی ہاتھ لگے گی۔ ان کی ایک کوشش تو یہ ہوتی ہے۔ کسی خاص مقصدسے اپنے دعوے کو ہی دلیل و ثبوت باور کرادیاجائے، دوسرے یہ کہ ملک کے آئین قوانین کو نظرانداز کرکے ان کے دعوے کے مطابق اقدامات کئے جائیں۔

آزادی کے فوراََ بعد گاندھی جی کے نظریہ کے تحت یہ طے کیاگیاتھا کہ اب ملک میں عبادت گاہوں کی اگست 1947ء سے پہلی والی حیثیت میں تبدیلی نہیں کی جائے گی، ان کی جوں کی توں حالت بحال و برقرار رکھی جائے گی۔ یہاں یہ کہاجاسکتاہے کہ ہندومہاسبھا والے تو گاندھی جی کو مانتے ہی نہیں، یہاں مسئلہ صرف گاندھی جی کا نہیں ہے بلکہ ملک اور اس کی اکثریت کا ہے، جمہوری سیکولر نظام کو ماننے والوں کی طرف سے کوئی مخالفت سامنے نہیں آئی تھی، اگر اسے تسلیم نہ کیاجائے تو ملک کی پارلیمنٹ کا بنایاہوا قانون تو اس کے قانون پسند شہری ہونے کے ناتے تسلیم کرنا ہی چاہئے۔ آج کی تاریخ میں تحفط عبادت گاہ قانون بن چکاہے جس میں مختلف عبادت گاہوں کی 15؍اگست 1947ء کی پہلی والی حیثیت کو باقی رکھنے کی بات ہے۔، ایسی حالت میں بار بار کچھ مسجدوں یا عمارتوں کو ہندومذہبی مقامات اور عمارتیں ہونے کا دعویٰ کرکے واپسی کے مطالبے کا کوئی معنیٰ و مطلب نہیں رہ جاتاہے۔

رہی ملک سے باہر مکہ مکرمہ کی مسجد حرام ،مکیشور مندر ہونے کی بات تو یہ کوئی بھی سنجیدہ آدمی یا تنظیم کہنا تو دور سوچنا تک گوارہ نہیں کرے گی، مکہ مکرمہ اور مسجد حرام کی قدیم و جدید مسلسل تاریخ ہے، وہ کوئی خیالی وجود اور افسانہ نہیں ہے کہ کوئی بھی کچھ کہہ کر کام چلاسکتاہے، کعبہ تصور توحید پر مبنی قائم عبادت گاہ و مرکز ہے،حضرت آدم ؑ اور ابراہیمؑ اور آنحضرت ﷺ کے کچھ درمیانی زمانے میں اس میں مورتیاں رکھ کر اسے بت خانہ بنانے کی عملاََ کوشش ہوئی تھی، لیکن کعبہ کی اصل حیثیت کو کسی عہد میں بدلانہیں جاسکا ہے۔کعبہ اوراس میں رکھے حجر اسود کے متعلق ہندومہاسبھا کے علاوہ دیگربھی ادھر ادھر کی بہت سی باتیں کرتے ہیں، کچھ دنوں پہلے ہمیں مکہ مکرمہ سے ہی کچھ تعلق والے نے ایک ویڈیو بھیجاتھا، جس میں حجر اسود کو شیو لنگ باور کرانے کی سعی کی گئی ہے، مسجد حرام کی طرح حجر اسود کے متعلق بھی اسلامی تاریخ تصور ہے۔

اس کے برعکس کوئی راہ اختیار کرنے کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں ہے۔امت مسلمہ کا یہ امتیاز ہے کہ اس نے تاریخ اور اپنے دین و عمل کے طریقوں کو محفوظ کرنے میں بے مثال جدوجہد اور کارنامہ انجام دیاہے۔گرچہ غلط عناصر نے ان میں بھی ملاوٹوں کی کوششیں کیں، تاہم ان کو بہت زیادہ کامیابی نہیں ملی۔

آج بھی کوئی بھی سنجیدہ طالب علم بآسانی، سچائی اور اصل حقیقت تک رسائی حاصل کرسکتاہے۔ اور اس کا راستہ عالمی طورپر ہموارہے، چاہے ہندو مہاسبھا والے ہوں یا کوئی اور،کسی کو بھی غلط پروپیگنڈا اور تک بندیوں سے اسلام اور امت مسلمہ کے نظریاتی و عملی توارث کی روشن نقوش و روایات کو مٹانے اور منہدم کرنے میں کامیابی نہیں مل سکتی ہے۔

حج کے سفید پوشاک پہنے سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ مکہ ، مکیشور مندرہے۔ احرام اور سفید پوشاک اسلامی اسلامی شریعت میں ایک پسندیدہ عمل ہے حتی کہ مردے کاکفن تک سفید کپڑے کا ہوتا ہے، اسے ہندوتو کی روایت کا کسی طرح سے حصہ قرار نہیں دیاجاسکتا ہے۔کعبہ میں کہاں جل چڑھایا جاتاہے مسلمان سے گھر واپسی کی بات کا مطلب کیاہے، اصل سوال تو یہ ہے کہ لنگایت والے خود کو الگ کیوں کررہے ہیں،اس سے پہلے جین،بدھ، سکھ وغیرہ بھی کیوں الگ کرچکے ہیں۔

ہم برسوں سے چاہتے رہے ہیں کہ مسلم اہل علم مختلف طرف سے جاری پروپیگنڈے کو اپنی تقریر وتحریرکاموضوع بنائیں، تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ کے ساتھ تردید بھی ہوجائے اور لوگ غلط فہمیوں کے شکار ہونے سے بھی بچ جائیں۔
مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔