مقامِ کار کی اخلاقیات - عبداللہ فیضی

پیشہ ورانہ زندگی ہمارے لیے معاشی آسودگی، تجربہ، علم اور نئی نئی مہارتیں سیکھنے کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ یہیں سے سیکھا عملی میدان کا تجربہ اور علم، ہمیں زندگی میں مزید مواقع سے استفادہ کرنے اور ترقی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس حوالے سے کام کرنے کی جگہ / دفتر / ادارہ /(Work Place) کا ماحول نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ لہذا ادارہ کا ماحول جتنا سازگار اور پرسکون ہوگا، ملازمین کی کارکردگی بھی اتنی ہی نمایاں اور مؤثر ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں کام کرنے والوں کے لیے کشش اور سیکھنے کا جذبہ بھی بڑھے گا۔ کسی بھی ادارے کا مجموعی ماحول انتظامیہ/ ایڈ مینسٹریشن اور ملازمین جیسے دو کرداروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ زیر نظر مضمون ادارے کے بہتر ماحول کے حوالے سے ملازمین کے کردار کو سامنے رکھ کر مرتب کیا گیا ہے۔

افسوس کے ساتھ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ملک عزیز میں سرکاری و نجی اداروں میں Work Place Ethics کے حوالے سے تربیت اور آگاہی تسلی بخش نہیں ہے۔ اس کے باجود بنیادی اخلاقیات سے متعلق کچھ اسباق ایسے ہیں کہ انہیں ہر فرد اپنی اپنی سطح پر لاگو کرکے کم از کم اپنے گرد ایک پرسکون ماحول مہیا کرسکتا ہے۔ یہ بات تمام پروفیشنلز کے سمجھنے کی ہے کہ ان کا اپنے کام کرنے کی جگہ/ دفتر میں اصولوں کا خیال رکھنا نہ صرف ان کی انفرادی ذمہ داری ہے بلکہ ان اصولوں کی پابندی خود ان کے کیرئیر اور ذات کے حوالے سے ایک مثبت تاثر پیدا کرتی ہے۔

ذیل میں اپنے محدود علم اور مشاہدہ کی بنیاد پر پیشہ ورانہ اخلاقیات سے متعلق چند نکات پیش خدمت ہیں:

1- اپنے کام اور پیشہ کے ساتھ اخلاص
ہمیشہ اپنی ذمہ داری کے ساتھ پورا انصاف کیجیے، دیا گیا کام مقررہ وقت پر مکمل کیجیے اور اس حوالے سے کبھی شارٹ کٹ یا کوئی نامناسب طریقہ مت ڈھونڈیے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ دفاتر میں بعض لوگ اپنے حصے کا کام بھی دوسروں کو سونپنے کی کوشش کرتے ہیں، یا دیاگیا کام ٹالنے کے انداز میں سرانجام دیتے ہیں۔ یادرکھیے کہ ایسا کرنے سے شاید وقتی طور پر تو آپ کامیاب ہوجائیں، لیکن یہ رویہ آپ کے متعلق ایک کام چور اور کاہل فرد کا تاثر پیدا کرے گا۔

2- خود احتسابی
اپنے کام اور رویہ کا خود ناقدانہ انداز میں جائزہ لیجیے، خود سے سوال کیجیِے کیا واقعی آپ کا کام مقررہ معیار کے مطابق ہے؟ کیا آپ خود اپنے کام سے مطمئن ہیں؟ اپنی کارکردگی اور رویہ کو پرکھیے کہ آیا آپ کی کارکردگی ادارے کی مجموعی ترقی اور آپ کے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے سود مند ثابت ہو رہی ہے یا نہیں۔ ایسا کرنے سے آپ ہمیشہ آپ نے کام کو احسن طریقے سے سرانجام دینے اور رویہ کو بہتر کرنے پر آمادہ رہیں گے۔

3- ذمہ داری لیجیے
اپنے کام کو اپنا ذاتی کام سمجھیے، اس حوالے سے کسی بھی کوتاہی یا غلطی کی ذمہ داری لیجیے، اور آئندہ محتاط طرز عمل اختیار کیجیے۔ اپنے اچھے کام اور کارکردگی پر خوش ہوئیے دوسروں سے شیئر کیجیے لیکن دوسروں کے کام کا کریڈیٹ کبھی خود مت لیجیے۔ یہ دیکھنے میِں آیا ہے کہ ہمارے ہاں لوگ جب کوئی اچھا کام ہوجائے تو اس کا کریڈیٹ لینے کے لیے تو آگے آگے ہوتے ہیں لیکن اپنی غلطی/کوتاہی کی ذمہ داری لینے پر آمادہ نہیں ہوتے، بلکہ اپنی غلطی بھی دوسروں کے سر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یاد رکھیے دوسروں کے کام کا کریڈیٹ خود لینے سے نہ صرف آپ متعلقہ فرد کی نظروں میں برے بنیں گے بلکہ آپ کی یہ حقیقت کبھی نہ کبھی لوگوں کے سامنے آ جائے گی۔ اسی طرح دوسروں کو ان کے اچھے کام کا کریڈیٹ دینے میں کنجوسی نہ کریں، بلکہ دل سے تعریف کریں۔

4- اپنے کولیگز کا خیال رکھیے
یہ دیکھیے کہ آپ کی کسی عادت سے آپ کے ساتھ کام کرنے والے تنگ تو نہیں؟ بعض اوقات آپ کی کسی عادت سے آپ کے ساتھ کام کرنے والے تنگ ہو رہے ہوتے ہیں، لیکن آپ کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے درج ذیل ضمنی امور کا خصوصی خیال رکھیے۔
i- شور شرابہ/ اونچی آواز سے بات۔ آپ کی اونچی آواز یا شورشرابہ پورے دفتر کے لیے دقت کا باعث ہے، لہذا دفتر میں آہستہ آواز سے بات کیجیے تاکہ دوسرے متاثر نہ ہوں۔
ii- موبائل کی گھنٹی، لمبی گفتگو۔ دفتری اوقات میں اپنا موبائل ہمیشہ سائلنٹ موڈ پر رکھیے۔ تیز یا اونچی آواز کی گھنٹی نہ صرف بری لگتی ہے بلکہ یہ دوسروں کی توجہ کام سے منتشر کرتی ہے۔ اسی طرح آفس کے اندر فون پر لمبی لمبی گفتگو کرنا بھی نہایت نامناسب ہے، اگر آپ کو کوئی لمبی بات کرنا ہے تو اپنا فون لے کر کام کی جگہ سے دور چلے جائیے اور وہاں جا کر بات کیجیے۔ دفتر میں خاندان اور دوست احباب کو لمبی لمبی (اچھا تو اور سنائیں والی) کالز نہ کیجیے۔

اس حوالے سے یہاں ملائیشیا میں بہت مثبت رویے دیکھنے میں آئے۔ اول تو اکثر لوگ موبائل فون سائلنٹ پر ہی رکھتے ہیں اور اگر کال وغیرہ لینی پڑے تو کمرے سے فورا باہر نکل جاتے ہیں، اگر آپ کے سامنے بیٹھے کام کرتے فرد کی کال آجائے تو معذرت کرتے ہیں۔ مدھم آواز میں بات کرتے ہیں ، یہاں کسی کو ٹرین یا پبلک مقام پر بھی اونچی آواز سے بات کرتے نہیں دیکھا۔
iii- صفائی ستھرائی کا خیال رکھیے، دفتر میں مناسب اور صاف ستھرا لباس زیب تن کیجیے۔ نہا دھو کر اور اچھی طرح دانت برش کرکے آئیے ورنہ آپ کے ساتھ کام کرنے والے ایک مستقل آزمائش سے دوچار رہیں گے۔
iv- دوسر ے کولیگ کی ٹیبل پر جاکر خوش گپیاں نہ کیجیے، بات مختصر کیجیے۔ بامعنی اور جامع بات زیادہ اثر رکھتی ہے۔ خوش گپیوں کے لیے لنچ ٹائم یا ٹی بریک مختص کیجیے۔
v- دفتر میں (دفتر کے باہر بھی) غیبت نہ کیجیے۔ Gossips اور سازش، دفتری سیاست، گروپ بازی کا حصہ کبھی بھی نہ بنیے یہ صرف آپ کے تعلقات میں خرابی اور ذہنی پسماندگی کا سبب بنے گی۔
vi- دفتر میں دوستوں اور خاندان کو غیر ضروری طور پر مدعو نہ کیجیے۔ بعض اوقات افراد اپنے بچے بھی (سکول وغیرہ سے واپسی پر) دفتر لے آتے ہیں، کبھی کبھار کے علاوہ بچوں کو دفتر لانا عادت نہ بنائیے۔
vii- کام کی جگہ پر گندگی نہ پھیلائیے، اپنا ٹیبل اور کام کی جگہ بلکل صاف رکھیے، غیر ضروری کاغذ تلف کردیجیے۔ اپنے ٹیبل پر لنچ نہ کیجیے بلکہ کھانے کی مختص جگہ پر جا کر کھائیے۔
viii- جب کسی کولیگ سے کوئی چیز عاریتا لیں تو وقت پر (صحیح سلامت) واپس کیجیے اور شکریہ ادا کرنا نہ بھولیے۔ کسی کی چیز بنا اجازت کبھی بھِی استمعال نا کیجیے۔ اسی طرح کسی سے مدد کی درخواست کرتے وقت بھی اچھے انداز میں درخواست کیجیے اور بعد ازاں شکریہ ادا کیجیے تاکہ وہ آئندہ بھی آپ کی مدد کرتے رہیں۔
ix- دفتر میں بحث مباحثہ سے اجتناب کیجیے، اختلاف احسن انداز میں کیجیے اور اسے تلخی میں کبھی نہ بدلنے دیجیے، اس حوالے دوسروں کی مختلف آرا کو بھی ایک رائے کی حیثیت سے قبول کیجیے، خود کو عقل کل مت سمجھیے۔ جھوٹ سے پرہیز کیجیے۔ اسی طرح گفتگو میں بازاری الفاظ، ذومعنی باتیں ، فضول طنز و مزاح یا جگت بازی کبھی نہ آنے دیجیے۔
x- حسد اور بغض سے بچیے، اپنے ساتھیوں کی ترقی پر خوش ہوئیے، ہر انسان اپنے نصیب کا حاصل کرتا ہے۔ اپنی حالت پر مطمیئن رہیے۔ یہ چیز خود آپ کے ذہنی سکون کے لیے ضروری ہے۔
xi- کام کے وقت صرف کام کیجیے، دفتری وسائِل کو ذاتی استمعال میں نا لائیے، دفتری انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا یا یوٹیوب ویڈیوز وغیرہ نہ دیکھیے۔
xii- ایک دوسرے کی مدد کیجیے اور ٹیم ورک پر یقین رکھیے۔

Work Place Ethics ایک مستقل عنوان ہے، اس حوالے سے مزید تفصیل اور مشاہدات وقتا فوقتا پیش کیے جاتے رہیں گے۔ یاد رکھیے کہ اپنے اردگرد کا ماحول بہتر کرنا خود ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اچھا ماحول ایک اچھی شخصیت کا عکاس ہے۔

Comments

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی ملائشیا میں بین الاقوامی قانون میں ڈاکٹریٹ کے مرحلے سے نبرد آزما ہیں۔ قانون، انسانی حقوق، شخصی آزادی اور اس سے جڑے سیاسی و مذہبی خدشات و امکانات دلچسپی کا خاص موضوع ہیں۔ خود کو پرو پاکستان کہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.