نادرہ اور جماعتِ اسلامی کا نادر مظاہرہ - معلمہ ریاضی

کل قبول ہے گھر تشریف لائے اور بڑے غصے سے بتایا کہ جماعتِ اسلامی نے عوامی مرکز نادرہ پہ احتجاجی مظاہرے کا پروگرام بنایا ہے اور ایجنڈا ایسا شاندار رکھا ہے کہ مت پوچھو!!
ہم نے سعادت مندی سے کہا، ’اوکے! نہیں پوچھتے‘
مگر قبول ہے نے پھر بھی بتانا جاری رکھا، ’مطالبہ ہے کہ کراچی میں مزید پندرہ میگا سینٹرز بنائیں جائیں‘
واللہ! ہم نے حقیقتاً سر پیٹ لیا۔۔۔
کون لوگ ہو بھائی؟
کراچی میں رہتے نہیں کیا؟
بتیاں دیکھنے آئے ہو شہر، جو اصل مسئلہ نہیں معلوم کراچی کا؟
کبھی شناختی کارڈ بنوایا نہیں کیا؟
کون بناتا ہے جماعت کی ایسی اونگی بونگی پالیسی؟
ــــــــــــــــــــــــ
مسئلہ میگا سینٹر کی تعداد نہیں ہے۔۔۔۔
مسئلہ ہے وہاں موجود عملے کا حاکمانہ طرزِ عمل
مسئلہ ہے غیر ضروری کاغذات کا مطالبہ
مسئلہ ہے آنکھ بند کر کے پاکستانیوں کے کارڈ بلاکڈ کرنے کا سلسلہ
مسئلہ ہے ساٹھ ستر سال کے بزرگوں کو کارڈ کے حصول کے لئے دھکے کھلوانا
مسئلہ ہے نادرہ عملے کی تاریخ سے ناواقفیت
مسئلہ ہے سن چوہتر کا قومی شناختی کارڈ رکھنے والے اور پاکستان کی جانب دہری ہجرت کرنے والے پاکستانیوں سے ری پارٹیشن کاغذات مانگنے کا
مسئلہ ہے افغانی و پاکستانی پختونوں کی شناخت کا
مسئلہ ہے ایک علاقے کے سینٹر کا دوسرے علاقے کے رہائشی کا کارڈ بنانے سے انکار
مسئلہ ہے پاکستان کی پیدائش رکھنے والے بچوں سے دادا/ نانا حتی کہ پردادا/پرنانا کے شناختی کاغذات منگوانے کا
یہ مسائل موجود رہیں تو آپ پندرہ کیا پندرہ کروڑ میگا سینٹرز بنالیں حاصل کچھ نہیں ہونا
ـــــــــــــــــــ
میگا سینٹر فائف اسٹار چورنگی کے ڈائریکٹر صاحب نے ایک صاحب سے کہا کہ آپ اپنے ایریا کے میگا سینٹر جا کر کارڈ بنوائیں‘
انہوں نے کہا، ’سینٹر پہ تو اطلاعی بینر لگا ہے کہ کسی بھی علاقے کا فرد کسی بھی میگا سینٹر سے کارڈ بنوا سکتا ہے اور میری وائف کا کارڈ بھی یہی سے بنا تھا تو میں یہاں آگیا‘
ڈائریکٹر صاحب نے نخوت سے کہا، ’پھر آپ کی وائف کا کارڈ بھی بلاکڈ کردیتے ہیں‘
اس جہالت کا کوئی جواب ہے کسی کے پاس؟؟؟؟
ــــــــــــــــ
ایک صاحب سے انکے دادا کے ری پارٹیشن کاغذات طلب کئے۔ انہوں نے فوٹو کاپی فراہم کی تو احمقانہ سوال کیا،’اس کے اوریجنل کہاں ہیں؟‘
ان کو سمجھایا گیا کہ ’بھائی! اوریجنل اس گروپ لیڈر کے پاس ہونگے جو سقوطِ ڈھاکہ کے بعد دادا کو لیکر آیا تھا، اب وہ صاحب کہاں ہیں، ہمیں کیا معلوم؟ حیات ہیں یا نہیں حیات ہونگے تو کاغذات کے حساب سے انکی عمر نوے سال سے اوپر ہوگی‘
تاریخی واقعات اور اس سانحے کے بعد کے حالات سے ناواقف نادرہ کے ملازم نے حونقوں کی طرح آنکھیں جھپکائیں اور اپنے آفیسر کو کاغذات دکھانے لے گیا اور مزے کی بات کہ پورے نادرہ سینٹر میں وہ کاغذات گھما دیے گئے مگر کسی افلاطون کو انکی سمجھ نہیں آئی۔ نادرہ آفیسرز کو بس یہ بتادیا گیا ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان کے مہاجروں سے ری پارٹیشن کاغذات طلب کرنے ہیں۔ تقریباً نصف صدی پرانے کاغذات کس کے پاس ہوتے ہیں! نناوے فیصد افراد منع کردیتے ہیں۔ جو ایک فیصد کاغذات فراہم کرتے ہیں انکو سمجھنے والا سینٹر میں کوئی نہیں ہوتا۔۔۔۔
نادرہ حکام کو بتایا جائے کہ کراچی میں ایک آفس کیبنٹ ڈیویژن ریلیف اینڈ ری پارٹیشن ونگ، حکومتِ پاکستان کا بھی ہے۔ جہاں سابقہ مشرقی پاکستان سے ہجرت کرنے والے افراد کا ڈیٹا موجود ہے۔ بجائے محبِ وطن پاکستانیوں کے کارڈ بلاکڈ کر کے انہیں ذلیل کرنے کے، اس ڈیٹا کو اپنے سسٹم میں ڈالا جائے۔
ـــــــــــــــــ
سب سے ذیادہ رش میگا سینٹر سیمنز چورنگی پہ ہوتا ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان سے ہجرت کرنے والوں نیز پختونوں کی اکثریت اس کے قرب و جوار میں رہائش پزیر ہے۔
مگر یہاں بھی کسی کو کاغذات کی سمجھ نہیں اور اپنی جہالت کی سزا یہاں کا عملہ پاکستانیوں کے کارڈ فارم کو ’ویریفیکیشن‘ میں ڈال کر دیتا ہے۔
ـــــــــــــــــ
ایک تقریباً اسی سال عمر کے صاحب کا کارڈ تمام کاغذات کی کاپی لگانے کے باوجود ’ویریفیکیشن‘ میں ڈال دیا گیا۔ جب کے ان صاحب کے صاحبزادے اپنے کارڈ بنواتے ہوئے پہلے ہی ویریفیکیشن کروا چکے تھے۔ جب سیمینز چورنگی کے ڈائریکٹر کو یہ بات بتائی تو جھڑک کر رعونیت سے جواب ملا، ’دوبارہ کروائو‘
ویریفیکیشن کے لئے زونل آفس پاک کالونی برانچ بھیجا جاتا ہے اور جہاں بلاکڈ کارڈ سے پریشان پختونوں اور سابقہ مشرقی پاکستان کے مہاجروں یا انکی اولادوں کا جلوس نظر آتا ہے۔
یہاں کے آفیسر کو ان صاحب کے صاحبزادے نے ایک ایک کاغذ کی تفصیل بمعہ تاریخی پس نظر سمجھائی اور ان آفیسر کو صرف اس لئے سمجھ آگئی کے صاحبزادے نے انہیں پورے اسٹاف کے سامنے یاد دلادیا تھا کہ ’پہلے آپ ہی نے میرا کارڈ ویریفائی کیا تھا‘۔
ـــــــــــــــــــــ
ایک اور غنڈہ گردی جو سیمینز چورنگی سینٹر میں کی جاتی ہے وہ دو بجے کے بعد اور ہفتہ اتوار کے دن آنے والے افراد کو ایکزیکیٹو کارڈ بنانے کی پابندی ہے یعنی چار سو کے بجائے سولہ سو روپے کی وصولی۔۔۔
کاروباری افراد تو کسی بھی دن جا سکتے ہیں مگر ملازمت پیشہ کو ایک/دو دن چھٹی کے ملتے ہیں۔ مگر چھٹی کے دن جائو تو چار گنا ذیادہ فیس بھرو اور ملازمت سے چھٹی کر کے جائو تو تنخواہ کٹوائو۔۔۔
ظلم ہے یا نہیں!!!
ــــــــــــــــــ
کارڈ فارم کے ساتھ اوریجنل کارڈ جمع کرلیا جاتا ہے اور لوگوں کے ہاتھ پیر کٹ جاتے ہیں۔
ساٹھ ستر سالہ والد/والدہ کو انکے بچوں کے کارڈ کی تصدیق کے لئے بلایا جاتا ہے جبکہ یہ کام سگے بھائی/بہن سے بھی لیا جاسکتا ہے
ــــــــــــــــ
یہ ہیں وہ مسائل جن کے لئے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے نا کہ میگا سینٹرز بڑھانے کی۔۔۔
میگا سینٹرز تو ہفتے کے سات دن صبح سے رات تک کام کر ہی رہے ہیں مگر اندر جو کچھ ہو رہا ہے، لوگ کارڈ بنوانے کے لئے جانے سے خوف کھانے لگے ہیں۔
ہم مانتے ہیں کہ جماعت کے علاوہ کوئی شہر کراچی کا ’اپنا‘ یہ اذیت ناک مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں مگر طریقہ کار تو ’طریقے‘ کا ہو۔
معلمہ نے مختصراً تقریباً تمام ہی بنیادی مسائل کا اس تحریر میں احاطہ کر لیا ہے۔ اب یہ جماعت کا کام ہے کہ موثر طریقے سے نادرہ کے متعلقہ ہائی افسران تک یہ مسائل پہنچائے اور ان کے حل کے لئے ان پر زور ڈالے نا کہ لایعنی و بے مقصد مظاہرے کرکے اپنی توانائی ضائع کرے۔
ورنہ معلمہ کے قبول ہے جیسے انتہائی غیر جانبدار افراد بھی زچ ہوکر پوچھیں گے، ’یہ جماعتِ اسلامی والے کھسک گئے ہیں کیا؟‘

Comments

معلمہ ریاضی

معلمہ ریاضی

معلمہ ریاضی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، 15 سال سے ریاضی پڑھاتی ہیں۔ سیاسی، مذہبی اور معاشرتی مسائل پر لکھنا پسند ہے۔ ان کے خیال میں اصل نام کے بجائے "معلمہ" کی شناخت ان کی مذہبی اور پیشہ ورانہ آسودگی کا باعث ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com